আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৪৬৪৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بریرہ ان کے پاس آئی، وہ مکاتبہ تھی اور اپنے بدل کتابت کی ادائیگی کے سلسلے میں مدد کی درخواست لے کر آئی تھی، حضرت عائشہ (رض) نے اس سے پوچھا کیا تمہارے مالک تمہیں بیچنا چاہتے ہیں ؟ اگر وہ چاہیں تو میں تمہارا بدل کتابت ادا کردیتی ہوں لیکن تمہاری ولاء مجھے ملے گی، وہ اپنے مالک کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ کہنے لگے کہ اس وقت تک نہیں جب تک وہ یہ شرط تسلیم نہ کرلیں کہ تمہاری وراثت ہمیں ملے گی، نبی ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا تم اسے خرید کر آزاد کردو، کیونکہ ولاء یعنی غلام کی وراثت تو اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرے پھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں موجود نہیں ہیں، جو شخص کوئی ایسی شرط لگائے جس کی اجازت کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہیں اگرچہ سینکڑوں مرتبہ شرط لگا لے، اللہ تعالیٰ کی شرط ہی زیادہ حقدار اور مضبوط ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْهَا وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ قَدْ كَاتَبَهَا أَهْلُهَا عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فَقَالَتْ لَهَا إِنْ شَاءَ أَهْلُكِ عَدَدْتُهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً وَكَانَ الْوَلَاءُ لِي فَأَتَتْ أَهْلَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُمْ وَأَبَوْا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ لَهُمْ فَذَكَرَتْهُ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلِي فَفَعَلَتْ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ وَشَرْطُهُ أَوْثَقُ وَالْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جو شخص تم سے یہ بات کرے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، تو تم اسے سچا نہ سمجھنا کیونکہ جب سے ان پر قرآن نازل ہوا، انہوں نے بلا عذر کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَعْنَى عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا بَعْدَمَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ فَلَا تُصَدِّقْهُ مَا بَالَ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ مَا بَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْفُرْقَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں، کاش ! میں نے بھی اس سے اجازت لے لی ہوتی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَوْدَةَ كَانَتْ امْرَأَةً ثَبْطَةً ثَقِيلَةً اسْتَأْذَنَتْ النَّبِيَّ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ دَفْعِهِ مِنْ جَمْعٍ فَأَذِنَ لَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سفر سے واپس آئے تو میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکایا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی ﷺ نے اسے ہٹا دیا، پھر میں نے اس کے دو تکیے بنا لئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ سُتِرْتُ بِنَمَطٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ قَالَتْ فَنَحَّاهُ قَالَتْ وَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی ﷺ کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی ﷺ احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔
وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ عِنْدَ إِحْرَامِهِ وَحِينَ رَمَى قَبْلَ أَنْ يَزُورَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی ﷺ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ میرا رضاعی بھائی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے ( جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے) ۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَتْ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا مَنْ تُرْضِعُونَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
اسود بن یزید کو حضرت عائشہ (رض) نے نبی ﷺ کو رات کی نماز کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ نبی ﷺ رات کے پہلے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے، پھر اگر اہلیہ کی طرف حاجت محسوس ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے، پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے کھڑے ہوتے، جب پہلی اذان ہوتی تو نبی ﷺ تیزی سے جاتے اور اپنے جسم پر پانی بہاتے اور اگر جنبی نہ ہوتے تو صرف نماز والا وضو ہی فرما لیتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد کی طرف چلے جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ فَإِذَا قَامَ تَوَضَّأَ وَصَلَّى مَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ أَتَى أَهْلَهُ وَإِلَّا مَالَ إِلَى فِرَاشِهِ فَإِنْ كَانَ أَتَى أَهْلَهُ نَامَ كَهَيْئَتِهِ لَمْ يَمَسَّ مَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ أَوَّلِ الْأَذَانِ وَثَبَ وَاللَّهِ مَا قَالَتْ قَامَ وَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ وَاللَّهِ مَا قَالَتْ اغْتَسَلَ وَلَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی ﷺ اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اس طرح میں ایک ہڈی پکڑ کا اس کا گوشت کھاتی اور نبی ﷺ اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ الْمَعْنَى عَنْ الْمِقْدَامِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَكُونُ حَائِضًا فَآخُذُ الْعَرْقَ فَأَتَعَرَّقُهُ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَأَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ فَأُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں، الاّ یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرنا، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہوجانا، یا کسی شخص کو قتل کرنا جس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا رَجُلٍ قَتَلَ فَقُتِلَ أَوْ رَجُلٍ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ أَوْ رَجُلٍ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو تین سحولی کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں کوئی قمیص اور عمامہ نہ تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قُبِضَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ يَمَانِيَةٍ بِيضٍ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَالْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ عَنِ الْبَهِيِّ قَالَ شَرِيكٌ قَالَ الْعَبَّاسُ عَنْ عَائِشَةَ وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مرض الوفات میں نبی ﷺ نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے پاس بلاؤ، میں نے عرض کیا ابوبکر کو ؟ نبی ﷺ خاموش رہے، میں نے عرض کیا عمر کو، نبی ﷺ خاموش رہے، میں نے عرض کیا علی کو ؟ وہ پھر خاموش رہے، میں نے عرض کیا عثمان کو بلاؤں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! جب وہ آئے تو نبی ﷺ نے مجھے وہاں سے ہٹ جانے کے لئے فرمایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اس دوران حضرت عثمان (رض) کے چہرے کا رنگ بدلتا رہا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ فَسَكَتَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ فَسَكَتَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ عَلِيًّا فَسَكَتَ قُلْنَا أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ قَالَ بَلَى قَالَ أَرْسَلْنَا إِلَى عُثْمَانَ فَجَاءَ فَخَلَا بِهِ فَجَعَلَ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৫৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر میں کسی چور نے چوری کی، انہوں نے اسے بد دعائیں دیں، تو نبی ﷺ سے فرمایا تم اس کا گناہ ہلکا نہ کرو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُرِقَتْ مِخْنَقَتِي فَدَعَوْتُ عَلَى صَاحِبِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَبِّخِي عَلَيْهِ دَعِيهِ بِذَنْبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৬০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) اور ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دس ذی الحجہ کے دن طواف زیارت کو رات تک کے لئے مؤخر کردیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৬১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ دے دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৬২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کجھور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৬৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا فَإِنَّ هَذَا الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৬৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس عورت کے متعلق فرمایا " جو ایام سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بعد کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں مبتلا کر دے " کہ یہ رگ کا خون ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ قَالَ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ أَوْ قَالَ عُرُوقٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৬৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ رات کے وقت بیمار تھے، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے باربار کروٹیں بدلنے لگے، حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی شخص اس طرح کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ نیک لوگوں پر سختیاں آتی رہتی ہیں اور کسی مسلمان کو کانٹے یا اس سے بھی کم درجے چیز سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شَيْبَةَ خَازِنَ الْبَيْتِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجِدْتَ عَلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُهُ نَكْبَةٌ شَوْكَةٌ وَلَا وَجَعٌ إِلَّا رَفَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৬৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن پہلی اذان دے کر فارغ ہوتا تو وہ مختصر پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی ﷺ کو نماز کی اطلاع دیتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُسَمُّونَ أَوْ تَدْعُونَ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ سَجْدَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ فِي سُبْحَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَيَأْتِيهِ الْمُؤَذِّنُ فَيَخْرُجُ مَعَهُ
tahqiq

তাহকীক: