আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৪৬৮৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ایک خاتون کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین ! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے مارتی ہوں، کیونکہ نبی ﷺ نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَإِذَا رُمْحٌ مَنْصُوبٌ فَقَالَتْ مَا هَذَا الرُّمْحُ فَقَالَتْ نَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ ثُمَّ حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ جَعَلَتْ الدَّوَابُّ كُلُّهَا تُطْفِئُ عَنْهُ إِلَّا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَنْفُخُهَا عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৮৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ اس آیت " یوم تبدل الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ " کے متعلق نبی ﷺ سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا پل صراط پر۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا بُدِّلَتْ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الصِّرَاطِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৮৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا مفصلات۔ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کیا نبی ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد پڑھنے لگے تھے۔ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، الاّ یہ کہ وہ کسی سفر سے واپس آئے ہوں۔ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کیا نبی ﷺ کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے رمضان کے علاوہ کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس کے پورے روزے نبی ﷺ نے رکھے ہوں اور مجھے کوئی ایسا مہنیہ بھی معلوم نہیں ہے جس میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا نبی ﷺ کو اپنے صحابہ اکرام میں سب سے زیادہ محبوب کون تھا ؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوبکر (رض) میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا عمر، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ تو وہ خاموش رہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَيَزِيدُ الْمَعْنَى قَالَا أَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ السُّوَرَ قَالَتْ الْمُفَصَّلَ قُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا قَالَتْ نَعَمْ بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ قُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ قُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا تَامًّا سِوَى رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا قُلْتُ أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ قَالَتْ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ ثُمَّ عُمَرُ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَتْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ قَالَ يَزِيدُ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ فَسَكَتَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر نبی ﷺ کی (دعائیں حاصل کرنے کی نیت اور) بناء پر کنواری لڑکیوں کو بھی ان کی پردہ نشینی کے باوجود عیدگاہ لے جایا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ أَبِي قِلَابَةَ خُرُوجَ النِّسَاءِ فِي الْعِيدِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَتْ الْكِعَابُ تَخْرُجُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خِدْرِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ سے ناملنے کی ناپسندیدگی کا مطلب اگر موت سے نفرت ہے تو ہم میں واللہ ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، یہ مراد نہیں بلکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ مومن کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس نے اپنے یہاں اس کے لئے جو ثواب اور عزت تیار کر رکھی ہوتی ہے وہ اس کے سامنے منکشف فرما دیتا ہے چناچہ جس وقت وہ مرتا ہے تو اسے اللہ سے ملنے کی چاہت ہوتی ہے اور اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کافر کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس نے اپنے یہاں اس کے لئے جو عذاب اور ذلت تیار کر رکھی ہوتی ہے، وہ اس کے سامنے منکشف فرما دیتا ہے چناچہ جس وقت وہ مرتا ہے تو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ لِقَاءِ اللَّهِ أَنْ يَكْرَهَ الْمَوْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَكْرَهُهُ فَقَالَ لَا لَيْسَ بِذَاكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهُ فَرَّجَ لَهُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ ثَوَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَرَامَتِهِ فَيَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ يُحِبُّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ وَالْمُنَافِقَ إِذَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهُ فَرَّجَ لَهُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهَوَانِهِ فَيَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ يَكْرَهُ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ يَكْرَهُ لِقَاءَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادہ بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی ﷺ کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) یہاں تک کہ حاجی واپس آجاتے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی بالغ لڑکی کی دوپٹے کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَيُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی لڑکی کی دوپٹے کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
امیر سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے ان دو آیتوں کا مطلب پوچھا " اگر تم اپنے دلوں کی باتوں کو ظاہر کردیا یا چھپاؤ، دونوں صورتوں میں اللہ تم سے اس کا محاسبہ کرے گا " اور یہ کہ جو " شخص کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بد لہ دیا جائے گا " تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے نبی ﷺ سے ان آیتوں کے متعلق پوچھا ہے آج تک کسی نے مجھ سے ان کے متعلق نہیں پوچھا، نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اے عائشہ ! اس سے مراد وہ پے درپے آنے والی مصیبتیں ہیں جو اللہ اپنے بندے پر مسلط کرتا ہے، مثلاً کسی جانور کا ڈس لینا، تکلیف پہنچ جانا اور کانٹا چبھ جانا، یا وہ سامان جو آدمی آستین میں رکھے اور اسے گم کر بیٹھے، پھر گھبرا کر تلاش کرے تو اسے اپنے پہلو کے درمیان پائے حتیٰ کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آتا ہے، جیسے بھٹی سے سرخ سونے کی ڈلی نکل آتی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمَيَّةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فَقَالَتْ مَا سَأَلَنِي عَنْهُمَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ هَذِهِ مُتَابَعَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنْ الْحُمَّةِ وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنْ الْكِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ ایسا کرتے ہیں ؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ اسْتِقْبَالَ الْقِبْلَةِ بِالْفُرُوجِ فَقَالَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ قَالَتْ عَائِشَةُ ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوهَا حَوِّلُوا مَقْعَدَتِي نَحْوَ الْقِبْلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی ﷺ تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ ! کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش ! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی ﷺ نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں حج کے ساتھ واپس جاؤں گی ؟ چناچہ نبی ﷺ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفٍ حِضْتُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ قُلْتُ حِضْتُ لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَتْ وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةَ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ فَقَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّيْتُ بِعُمْرَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৯৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، نبی ﷺ نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی ﷺ کو پسینہ آیا اور اون کی بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی ﷺ نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی ﷺ اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا جَعَلَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ فَوَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
یزید بن بابنوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ساتھی کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اجازت طلب کی، انہوں نے ہمارے لئے تکیہ رکھا اور خود اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، پھر میرے ساتھی نے پوچھا کہ اے ام المومنین ! " عراک " کے متعلق آپ کیا فرماتی ہیں ! انہوں نے فرمایا عراک کیا ہوتا ہے ؟ میں نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مارا، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے روکتے ہوئے فرمایا تم نے اپنے بھائی کو ایذا پہنچائی، پھر فرمایا عراک سے کیا مراد ہے ؟ حیض، تو سیدھا سیدھا وہ لفظ بولو جو اللہ نے استعمال کیا ہے، یعنی حیض، بعض اوقات میں حائضہ ہوتی تھی لیکن پھر بھی نبی ﷺ مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کو بوسہ دے دیا کرتے تھے اور میرے اور نبی ﷺ کے درمیان پردہ حائل ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا فَأَلْقَتْ لَنَا وَسَادَةً وَجَذَبَتْ إِلَيْهَا الْحِجَابَ فَقَالَ صَاحِبِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَقُولِينَ فِي الْعِرَاكِ قَالَتْ وَمَا الْعِرَاكُ وَضَرَبْتُ مَنْكِبَ صَاحِبِي فَقَالَتْ مَهْ آذَيْتَ أَخَاكَ ثُمَّ قَالَتْ مَا الْعِرَاكُ الْمَحِيضُ قُولُوا مَا قَالَ اللَّهُ الْمَحِيضُ ثُمَّ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ ثَوْبٌ وَأَنَا حَائِضٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
پھر فرمایا کہ نبی ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب میرے گھر کے دروازے سے گزرتے تھے تو کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے تھے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچا دیتے تھے، ایک دن نبی ﷺ وہاں سے گزرے تو کچھ نہیں کہا، دو تین مرتبہ جب اسی طرح ہوا تو میں نے اپنی باندی سے کہا کہ میرے لئے دروازے پر تکیہ لگا دو اور میں اپنے سر پر پٹی باندھ کر وہاں بیٹھ گئی، جب نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا عائشہ ! کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا میرے سر میں درد ہو رہا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا میرے بھی سر میں درد ہو رہا ہے، پھر نبی ﷺ چلے گئے، تھوڑی دیر گزری تھی کہ نبی ﷺ کو لوگ چادر میں لپیٹ کر اٹھائے چلے آئے، نبی ﷺ میرے یہاں رہے اور دیگر ازواج کے پاس یہ پیغام بھجوا دیا کہ میں بیمار ہوں اور تم میں سے ہر ایک کے پاس باری باری آنے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے اس لئے تم اگر مجھے اجازت دے دو تو میں عائشہ کے یہاں رک جاؤں ؟ ان سب نے اجازت دے دی اور میں نبی ﷺ کی تیمارداری کرنے لگی حالانکہ اس سے پہلے میں نے کبھی کسی کی تیماداری نہیں کی تھی۔ ایک دن نبی ﷺ نے اپنا سر مبارک میرے کندھے پر رکھا ہوا تھا کہ اچانک سر مبارک میرے سر کی جانب ڈھک گیا میں سمجھی کہ شاید آپ میرے سر کو بوسہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسی دوران نبی ﷺ کے منہ سے لعاب کا ایک قطرہ نکلا اور میرے سینے پر آٹپکا، میرے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میں سمجھی کہ شاید نبی ﷺ پر غشی طاری ہوگئی ہے چناچہ میں نے نبی ﷺ کو ایک چادر اوڑھا دی، اسی دوران حضرت عمر اور مغیرہ بن شعبہ (رض) آگئے، انہوں نے اجازت طلب کی، میں نے انہیں اجازت دے دی اور اپنی طرف پردہ کھینچ لیا، حضرت عمر (رض) نے نبی ﷺ کو دیکھ کر کہا ہائے غشی ! نبی ﷺ پر غشی کی شدت کتنی ہے، تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کھڑے ہوئے جب وہ دونوں دروازے کے قریب پہنچے تو مغیرہ بن شعبہ کہنے لگے اے عمر ! نبی ﷺ کا وصال ہوگیا ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم غلط کہتے ہو، بلکہ تم فتنہ پرور آدمی ہو، نبی ﷺ کا وصال اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ منافقین کی ختم نہ کر دے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر (رض) بھی آگئے، میں نے حجاب اٹھا دیا، انہوں نے نبی ﷺ کی طرف دیکھ کر " اناللہ وانا الیہ راجعون " پڑھا اور کہنے لگے کہ نبی ﷺ کا وصال ہوگیا ہے۔ پھر سرہانے کی جانب سے آئے اور منہ مبارک پر جھک کر پیشانی کو بوسہ دیا اور کہنے لگے ہائے میرے نبی ﷺ ! تین مرتبہ اسی طرح کیا اور دوسری مرتبہ ہائے میرے دوست اور تیسری مرتبہ ہائے میرے خلیل کہا، پھر مسجد کی طرف نکلے، اس وقت حضرت عمر (رض) لوگوں کے سامنے تقریر اور گفتگو کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ نبی ﷺ کا وصال اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ منافقین کو ختم نہ فرما دے۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے گفتگو شروع کی اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " آپ بھی دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں "۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ " محمد ﷺ تو اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بھی بہت رسول گذر چکے ہیں، کیا اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو تم ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے "۔۔۔۔۔ سو جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں، مذکورہ آیات سن کر حضرت عمر (رض) نے کہا کیا یہ آیات کتاب اللہ میں موجود ہیں ؟ میرا شعور ہی اس طرف نہیں جاسکا کہ یہ آیت بھی کتاب اللہ میں ہی موجود ہے، پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا لوگو ! یہ ابوبکر ہیں اور مسلمانوں کے بزرگ ہیں اس لئے ان کی بیعت کرلو، چناچہ لوگوں نے ان کی بیعت کرلی۔
ثُمَّ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِبَابِي مِمَّا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قُلْتُ يَا جَارِيَةُ ضَعِي لِي وِسَادَةً عَلَى الْبَابِ وَعَصَبْتُ رَأْسِي فَمَرَّ بِي فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا شَأْنُكِ فَقُلْتُ أَشْتَكِي رَأْسِي فَقَالَ أَنَا وَا رَأْسَاهْ فَذَهَبَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جِيءَ بِهِ مَحْمُولًا فِي كِسَاءٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَبَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ فَقَالَ إِنِّي قَدْ اشْتَكَيْتُ وَإِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ فَأْذَنَّ لِي فَلْأَكُنْ عِنْدَ عَائِشَةَ أَوْ صَفِيَّةَ وَلَمْ أُمَرِّضْ أَحَدًا قَبْلَهُ فَبَيْنَمَا رَأْسُهُ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مَنْكِبَيَّ إِذْ مَالَ رَأْسُهُ نَحْوَ رَأْسِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأْسِي حَاجَةً فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا فَجَاءَ عُمَرُ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَاسْتَأْذَنَا فَأَذِنْتُ لَهُمَا وَجَذَبْتُ إِلَيَّ الْحِجَابَ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ فَقَالَ وَا غَشْيَاهْ مَا أَشَدُّ غَشْيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَا فَلَمَّا دَنَوَا مِنْ الْبَابِ قَالَ الْمُغِيرَةُ يَا عُمَرُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَذَبْتَ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَرَفَعْتُ الْحِجَابَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَا نَبِيَّاهْ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ ثُمَّ قَالَ وَا صَفِيَّاهْ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَحَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ وَقَالَ وَا خَلِيلَاهْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُنَافِقِينَ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ فَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ فَقَالَ عُمَرُ وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ فَبَايِعُوهُ فَبَايَعُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی ﷺ کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا عائشہ صدیقہ پر ہوتا اور نبی ﷺ نماز پڑھتے رہتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب موٹے تازے، صحت مند، سینگدار، خوبصورت اور خصی ہوتے تھے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو توحید کے اقرار پر قائم ہوئے اور اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ نبی ﷺ نے پیغام الٰہی پہنچا دیا اور دوسرا جانور محمد ﷺ و آل محمد کر طرف سے قربان کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوأَيْنِ قَالَ فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ وَيَذْبَحُ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو کسی چیز کی طرف اور کسی غنیمت کی تلاش میں اتنی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَيْءٍ أَسْرَعُ مِنْهُ إِلَى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَلَا إِلَى غَنِيمَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক: