আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৪৭০৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ عَنِ الْبَهِيِّ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ و قَالَ أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ أَسْوَدُ وَقَالَ مَرَّةً السُّدِّيُّ أَوْ زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ وَذَاكَ أَنَّ ابْنَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ لَهُ فِي الْبَيْتِ إِنَّهُمْ يَذْكُرُونَهُ عَنْكَ عَنْ السُّدِّيِّ فَقَالَ السُّدِّيِّ أَوْ زِيَادٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭০৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ السَّائِبِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ السَّائِبِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے ثواب سے نصف ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَلَيْثٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ السَّائِبِ عَنْ عَائِشَةَ رَفَعَتْهُ قَالَتْ قَالَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ غَيْرَ مُتَرَبِّعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات زینب بنت جحش کے پاس رک کر ان کے یہاں شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے یہ معاہدہ کرلیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی ﷺ آئیں، وہ یہ کہہ دے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے، چناچہ نبی ﷺ ان میں سے ایک کے پاس جب گئے تو اس نے یہ بات کہہ دی، نبی ﷺ نے فرمایا میں نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور آئندہ کبھی نہیں پیوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ اپنے اوپر ان چیزوں کو کیوں حرام کرتے ہیں جنہیں اللہ نے حلال قرار دے رکھا ہے۔۔۔۔۔ " اگر تم دونوں (عائشہ اور حفصہ) توبہ کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِنْ تَتُوبَا لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات صبح کے وقت جنبی ہوتے تو غسل فرماتے اور مسجد کی طرف چل پڑتے، اس وقت نبی ﷺ کے سر مبارک سے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور نبی ﷺ اس دن کے روزے کی نیت فرما لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ رات کو " تخلیہ " کیا اور وجوب غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ ثُمَّ نَامَ وَهُوَ جُنُبٌ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ اغْتَسَلَ وَصَامَ يَوْمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن کہا : کیا میں آپ کو اپنی اور اپنی ماں کے ساتھ بیتی ہوئی بات نہ سناؤں ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ فرمایا نبی ﷺ میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ ﷺ اتنی دیر ٹھہرے کہ آپ نے گمان کرلیا کہ میں سو چکی ہوں۔ آپ ﷺ نے آہستہ سے جوتا پہنا اور آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو اہستہ سے بند کردیا۔ میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور کھڑے ہونے کو طویل کیا پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا۔ پھر واپس لوٹے اور میں بھی لوٹی آپ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی۔ آپ دوڑے تو میں بھی دوڑی۔ آپ پہنچے تو میں بھی پہنچی۔ میں آپ ﷺ سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی۔ آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا : اے عائشہ ! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے۔ میں نے کہا کچھ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے باریک بین خبردار یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ کو دے دی۔ فرمایا میں اپنے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تو تھی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں ! تو آپ ﷺ نے میرے سینہ پر (از راہ محبت) مارا جس کی مجھے تکلیف ہوئی پھر فرمایا تو نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا۔ فرماتی ہیں جب لوگ کوئی چیز چھپاتے ہیں تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے جب تو نے دیکھا تو مجھے پکارا اور تجھ سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس لئے نہیں آئے کہ تو نے اپنے کپڑے اتار دیئے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تو سو چکی ہے اور میں نے تجھے بیدار کرنا پسند نہ کیا میں نے یہ بھی خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لئے مغفرت مانگیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں کیسے کہوں ؟ آپ نے فرمایا :۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو : " اللہ ہم سے جانے والوں پر رحمت فرمائے اور پیچھے جانے والوں پر، ہم انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں "۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ قَالَتْ عَائِشَةُ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى أَثَرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ انْحَرَفَ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنْ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَاءَ رَائِبَةً قَالَتْ قُلْتُ لَا شَيْءَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَتُخْبِرِنَّنِي أَوْ لَيُخْبِرَنِّي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرَتْهُ قَالَ فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي قُلْتُ نَعَمْ فَلَهَزَنِي فِي ظَهْرِي لَهْزَةً فَأَوْجَعَتْنِي وَقَالَ أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ عَلَيْكِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ قَالَ نَعَمْ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ خُفْيَتَهُ مِنْكِ وَلَمْ يَكُنْ لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ جَلَّ وَعَزَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَتْ فَكَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ (رض) بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر (رض) ان کے آزاد کردہ غلام فہیرہ اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی ﷺ سے اجازت لی، نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر (رض) سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں ؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے "۔ پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں بلال سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے ! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فح " میں رات گزار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی۔ " حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اس طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةُ فِي عِيَادَتِهِمْ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تَجِدُكَ فَقَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَسَأَلْتُ عَامِرًا فَقَالَ وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ وَسَأَلْتُ بِلَالًا فَقَالَ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةٍ وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پہلے آٹھ رکعتیں، پھر وتر، پھر بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے اور جب رکوع میں جانا چاہتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، پھر فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً تِسْعًا قَائِمًا وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى مِنْ الصُّبْحِ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں فجر کی دو رکعتوں کے ساتھ پڑھتے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ مَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭১৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھرا ہوا دیکھا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّمِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنًا دَمًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭২০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
بنو سوارہ کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ قيسِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَرَاةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ قَالَتْ بَلْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭২১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید دروازے کی چوکھٹ پر لڑکھڑا کر گر پڑھے اور ان کے خون نکل آیا، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اس کی گندگی صاف کردو، مجھے وہ کام اچھا نہ لگا تو خود نبی ﷺ انہیں چوسنے اور فرمانے لگے لڑکی ہوتی تو میں اسے خوب زیورات اور عمدہ کپڑے پہناتا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَثَرَ بِأُسْكُفَّةِ أَوْ عَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِيطِي عَنْهُ أَوْ نَحِّي عَنْهُ الْأَذَى قَالَتْ فَتَقَذَّرْتُهُ قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّهُ ثُمَّ يَمُجُّهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَكَسَوْتُهُ وَحَلَّيْتُهُ حَتَّى أُنْفِقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭২২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
شریخ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ کوئی شعر پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! حضرت عبداللہ بن رواحہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ " اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا "۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ الشِّعْرَ قَالَتْ رُبَّمَا تَمَثَّلَ شِعْرَ ابْنِ رَوَاحَةَ وَيَقُولُ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مِنْ لَمْ تُزَوِّدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭২৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
شریخ حارثی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ دیہات میں جاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی ﷺ ان ٹیلوں تک جاتے تھے، ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے ایک ایسی اوٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْحَارِثِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو قَالَتْ نَعَمْ إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ قَالَتْ فَبَدَا مَرَّةً فَبَعَثَ إِلَيَّ نَعَمَ الصَّدَقَةِ فَأَعْطَانِي نَاقَةً مُحَرَّمَةً قَالَ حَجَّاجٌ لَمْ تُرْكَبْ وَقَالَ يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ الرِّفْقُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭২৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب آسمان کے کنارے پر کوئی بادل دیکھتے تو ہر کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز ہی میں ہوتے اور یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ ! میں اس کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، جب وہ کھل جاتا تو شکر ادا کرتے اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ ! موسلا دھار ہو اور نفع بخش۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا فِي السَّمَاءِ سَحَابًا أَوْ رِيحًا اسْتَقْبَلَهُ مِنْ حَيْثُ كَانَ وَإِنْ كَانَ فِي الصَّلَاةِ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَرِّهِ فَإِذَا أَمْطَرَتْ قَالَ اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭২৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد نبی ﷺ حضرت خدیجہ (رض) کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور گھر میں داخل ہوتے ہی فرمایا مجھے کوئی چیز اوڑھا دو ، چناچہ نبی ﷺ کو ایک کمبل اوڑھا دیا گیا، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی ﷺ نے فرمایا خدیجہ ! مجھے تو اپنے اوپر کسی مصیبت کے نازل ہونے کا خطرہ ہونے لگا تھا، دو مرتبہ فرمایا : حضرت خدیجہ (رض) نے عرض کیا کہ آپ بشارت قبول کیجئے واللہ آپ کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ بٹاتے ہیں، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ (رض) نبی ﷺ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، انہوں نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور بہت بوڑھے اور نابینا ہوچکے تھے اور عربی زبان میں انجیل پڑھ چکے تھے، حضرت خدیجہ (رض) نے ان سے کہا کہ چچا جان ! اپنے بھتیجے کی بات سنیئے، ورقہ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ بھتیجے ! آپ کیا دیکھتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے وہ تمام چیزیں بیان کردیں جو انہوں نے دیکھی تھیں، روقہ نے کہا کہ یہ تو وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا، اے کاش ! اس وقت مجھ میں طاقت ہو اور میں زندہ ہوں جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی، نبی ﷺ نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا جی ہاں ! جو شخص بھی آپ جیسی دعوت لے کر آیا لوگوں نے اس سے عداوت کی اور اگر مجھے آپ کا زمانہ ملا تو میں آپ کی مضبوط مدد کروں گا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزُمِّلَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ يَا خَدِيجَةُ لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي بَلَاءً لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي بَلَاءً قَالَتْ خَدِيجَةُ أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِي خَدِيجَةُ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدٍ وَكَانَ رَجُلًا قَدْ تَنَصَّرَ شَيْخًا أَعْمَى يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي رَأَى مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَلَ عَلَى مُوسَى يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ قَالَ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ قَطُّ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৭২৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات قضاء حاجت کے لئے خالی میدانوں کی طرف رات کے وقت نکلا کرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت سودہ قضاء حاجت کیلئے نکلیں چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر (رض) مل گئے، انہوں نے حضرت سودہ کو دیکھ کر دور ہی سے پکارا سودہ ! ہم نے تمہیں پہچان لیا اور یہ بات انہوں نے حجاب کا حکم نازل ہونے کی امید میں کہی تھی، چناچہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْجُبْ نِسَاءَكَ فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي عِشَاءً وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ
tahqiq

তাহকীক: