আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ام سلمہ کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬০ টি

হাদীস নং: ২৫৫১০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سلام پھیرتے تو نبی ﷺ کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی ﷺ کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي هِنْدُ ابْنَةُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنْ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں نئے خلیفہ کے متعلق اختلاف پیدا ہوجائے گا اس موقع پر ایک آدمی مدینہ منورہ سے بھاگ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اسے اس کی خواہش کے بر خلاف اسے باہر نکال کر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کرلیں گے، پھر ان سے لڑنے کے لئے شام سے ایک لشکر روانہ ہوگا جسے مقام بیداء میں دھنسا دیا جائے گا جب لوگ یہ دیکھیں گے تو ان کے پاس شام کے ابدال اور اعراض کے عصائب (اولیاء کا ایک درجہ) آ کر ان سے بیعت کرلیں گے۔ پھر قریش میں سے ایک آدمی نکل کر سامنے آئے گا جس کے اخوال بنوکلب ہوں گے، وہ مکی اس قریشی کی طرف ایک لشکر بھیجے گا جو اس قریشی پر غالب آجائے گا اس لشکر یا جنگ کو بعث کلب کہا جائے گا اور وہ شخص محرم ہوگا جو اس غزوے کے مال غنیمت کی تقسم کے موقع پر موجود نہ ہوگا وہ مالت و دولت تقسم کرے گا اور نبی ﷺ کی سنت کے مطابق عمل کرے گا اور اسلام زمین پر اپنی گردن ڈال دے گا اور وہ آدمی نوسال تک زمین میں رہے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَرَمِيٌّ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ صَاحِبٍ لَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ الْمَدِينَةِ هَارِبٌ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَتْهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَكِّيُّ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيُعْمِلُ فِي النَّاسِ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ يَمْكُثُ تِسْعَ سِنِينَ قَالَ حَرَمِيٌّ أَوْ سَبْعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہوا نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے ایک گروہ کو زمین میں دھنسادیا جائے گا پھر وہ لوگ ایک لشکر مکہ مکرمہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجیں گے، اللہ اس آدمی کی ان سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں زمین میں دھنسا دے گا، وہ سب ایک ہی جگہ پچھاڑے جائیں گے، لیکن ان کے اٹھائے جانے کی جگہیں مختلف ہوں گی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوگا ؟ فرمایا ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں زبردستی لشکر میں شامل کیا گیا ہوگا تو اسی حال میں آئیں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُكَ قَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُخْسَفُ بِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ إِلَى رَجُلٍ فَيَأْتِي مَكَّةَ فَيَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ وَيُخْسَفُ بِهِمْ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدٌ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَكُونُ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدًا وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ يُكْرَهُ فَيَجِيءُ مُكْرَهًا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
ابوقیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو نے حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ کیا نبی ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ دیتے تھے ؟ اگر وہ نفی میں جواب دیں تو ان سے کہنا کہ حضرت عائشہ تو لوگوں کو بتاتی ہیں کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا کرتے تھے ؟ چناچہ ابوقیس نے یہ سوال ان سے پوچھا تو انہوں نے نفی میں جواب دیا ابوقیس نے حضرت عائشہ کا حوالہ دیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں بوسہ دیا ہو کیونکہ نبی ﷺ ان سے بہت جذباتی محبت فرمایا کرتے تھے البتہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ لَا قُلْتُ فَإِنَّ عَائِشَةَ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ قُلْتُ لَعَلَّهُ أَنْ كَانَ لَا يَتَمَالَكُ عَنْهَا حُبًّا أَمَّا أَنَا فَلَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے آل محمد ﷺ ! تم میں سے جس نے حج کرنا ہو وہ حج کا احرام باندھ لے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ قَالَ قَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا آلَ مُحَمَّدٍ مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ فِي حَجِّهِ أَوْ فِي حَجَّتِهِ شَكَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَتْ أَنْفِقْ يَا بُنَيَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَتَاهَا فَقَالَ بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ قَالَتْ اللَّهُمَّ لَا وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے نزدیک قمیص سے زیادہ اچھا کوئی کپڑا نہ تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانے کا گوشت تناول فرمایا : اسی دوران نبی ﷺ پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ قَالَ مَرْوَانُ كَيْفَ نَسْأَلُ أَحَدًا وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَنَشَلَتْ لَهُ كَتِفًا مِنْ قِدْرٍ فَأَكَلَهَا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ ! مجھے اس مصیبت پر اجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پر اجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی، عدت گزرنے کے بعد حضرات ابوبکر اور عمر نے باری باری پیغام نکاح بھیجا لیکن انہوں نے حامی نہ بھری، پھر نبی ﷺ نے حضرت عمر کو ان کے پاس اپنے لئے پیغام نکاح دے کر بھیجا انہوں نے عرض کیا کہ نبی ﷺ کو بتا دیجئے کہ میں بہت غیور عورت ہوں، میرے بچے بھی ہیں اور میرا تو کوئی ولی بھی یہاں موجود نہیں ہے، حضرت عمر نے آ کر یہ باتیں نبی ﷺ کو بتادیں، نبی ﷺ نے فرمایا ان سے جا کر کہہ دو کہ میں اللہ سے دعا کردوں گا اور تمہاری غیرت دور ہو جائیگی باقی رہے بچے تو تم ان کی کفایت کرتی رہنا اور باقی رہا ولی تو تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قُلْتُ فِي نَفْسِي وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ثُمَّ قُلْتُهَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا فَلَمْ تَزَوَّجْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ لَهَا أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى فَأَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ فَسَتُكْفَيْنَ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدًا فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫১৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ انصار کے مرد اپنی عورتوں کے پاس پچھلے حصے سے نہیں آتے تھے، کیونکہ یہودی کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی جانب سے آتا ہے اس کی اولاد بھینگی ہوتی ہے، جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے انصاری عورتوں سے بھی نکاح کیا اور پچھلی جانب سے ان کے پاس آتے، لیکن ایک عورت نے اس معاملے میں اپنے شوہر کی بات ماننے سے انکار کردیا اور کہنے لگی کہ جب تک میں نبی ﷺ سے اس کا حکم نہ پوچھ لوں اس وقت تک تم یہ کام نہیں کرسکتے۔ چناچہ وہ عورت حضرت ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، نبی ﷺ آتے ہی ہوں گے، جب نبی ﷺ تشریف لائے تو اس عورت کو یہ سوال پوچھتے ہوئے شرم آئی لہذا وہ یوں ہی واپس چلی گئی، بعد میں حضرت ام سلمہ نے نبی ﷺ کو یہ بات بتائی تو نبی ﷺ نے فرمایا اس انصاریہ کو بلاؤ ! چناچہ اسے بلایا گیا اور نبی ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو، آسکتے ہو " اور فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى الْأَنْصَارِ تَزَوَّجُوا مِنْ نِسَائِهِمْ وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يُجَبُّونَ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ لَا تُجَبِّي فَأَرَادَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ امْرَأَتَهُ عَلَى ذَلِكَ فَأَبَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَتَتْهُ فَاسْتَحْيَتْ أَنْ تَسْأَلَهُ فَسَأَلَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَنَزَلَتْ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَالَ لَا إِلَّا فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ و قَالَ وَكِيعٌ ابْنُ سَابِطٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہاں ایک مخنث اور عبداللہ بن ابی امیہ جو حضرت ام سلمہ کے بھائی تھے بھی موجود تھے وہ ہیجڑا عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ بن ابی امیہ اگر کل کو اللہ تمہیں طائف پر فتح عطاء فرمائے تو تم بنت غیلان کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ واپس جاتی ہے نبی ﷺ نے اس کی یہ بات سن لی اور حضرت ام سلمہ (رض) سے فرمایا آئندہ یہ تمہارے گھر میں نہیں آنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ قَالَ مُخَنَّثٌ لَأَخِيهَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْرِجُوا هَؤُلَاءِ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَلَا يَدْخُلُوا عَلَيْكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز فجر کے بعد یہ دعاء فرماتے تھے، اے للہ میں تجھ سے علم نافع عمل مقبول اور اور رزق حلال کا سوال کرتا ہوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ عَمَّنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الْفَجْرِ إِذَا صَلَّى اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ فَذَكَرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اس لشکر کا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی ﷺ نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي يُونُسَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُهَاجِرًا الْمَكِّيَّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو جَيْشٌ البَيْتَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنْ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْمُكْرَهَ مِنْهُمْ قَالَ يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے، میں کھسکنے لگی تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے، میں نے کہا جی یا رسول اللہ پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھ لیا پھر آ کر نبی ﷺ کے لحاف میں گھس گئی اور میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتی تھی اور نبی ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ بھی دیدیتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ بَيْنَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنُفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ وَكَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ مِنْ الْجَنَابَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاه هُدْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ وَمَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ بِاسْمِكَ رَبِّي إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے منبر کے پائے جنت میں گاڑھے جائیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں سو تم اپنے کھیت میں جس طرح آنا چاہو آسکتے ہو، فرمایا کہ اگلے سوراخ میں ہو (خواہ مرد پیچھے سے آئے یا آگے سے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ ابْنِ سَابِطٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ قَالَ صِمَامًا وَاحِدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزہ کی حالت میں انہیں بوسہ دیدیا کرتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال ہوا تو فرائض کے علاوہ آپ ﷺ کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں نبی ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ الْعَبْدُ عَلَيْهِ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫২৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانے کا گوشت تناول فرمایا اسی دوران حضرت بلال آگئے اور نبی علیہ السلا پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَوْنٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ أَوْ ذَكَرَ ذَلِكَ لِمَرْوَانَ فَقَالَ مَا أَدْرِي مَنْ نَسْأَلُ كَيْفَ وَفِينَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَنِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَنَاوَلَ عَرْقًا فَانْتَهَسَ عَظْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক: