আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ام سلمہ کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬০ টি
হাদীস নং: ২৫৫৩০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت سفینہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگادی کہ تاحیات نبی ﷺ کی خدمت کرتا رہوں گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ وہ اور نبی ﷺ ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی ﷺ کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کی وجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ پہنچیں تو بیمار تھیں انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا نبی ﷺ نے فرمایا تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے رہتے ہوئے طواف کر لوحضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو خانہ کعبہ کے قریب سورت طور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَدِمَتْ وَهِيَ مَرِيضَةٌ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ قَالَتْ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ بِالطُّورِ قَالَ أَبِي وَقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي بِجَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے، حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے تھے کہ وضع حمل کے بعد وہ نکاح کرسکتی ہے، حضرت ابن عباس کا کہنا تھا کہ وہ دو میں سے ایک طویل مدت کی عدت گزارے گی، پھر انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہوگئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا پھر دو آدمیوں نے سبیعہ کے پاس پیغام نکاح بھیجا اور ایک آدمی کی طرف ان کا جھکاؤ بھی ہوگیا، جب لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوجائے گی تو وہ کہنے لگے کہ ابھی تم حلال نہیں ہوئیں، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہونکاح کرسکتی ہو۔
قَالَ قُرَّأتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالْآخَرُ كَهْلٌ فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ فَقَالَ الْكَهْلُ لَمْ تَحِلَّ وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ بنت حبیش (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا وہ حیض نہیں ہے، وہ تو کسی رگ کا خون ہوگا، تمہیں چاہئے کہ اپنے ایام کا اندازہ کر کے بیٹھ جایا کرو، پھر غسل کر کے کپڑا باندھ لیا کرو اور نماز پڑھا کرو۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنْ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا فَلْتَتْرُكْ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنْ الشَّهْرِ فَإِذَا بَلَغَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دوانصاری میراث کے مسئلے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس پر ان کے پاس گواہ بھی نہ تھا، نبی ﷺ نے نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے پاس اپنے مقدمات لے کر آتے ہو، ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل ایسی فصاحت و بلاغت کے ساتھ پیش کردے کہ میں اس کی دلیل کی روشنی میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں (اس لئے یاد رکھو) میں جس شخص کی بات تسلیم کر کے اس کے بھائی کے کسی حق کا اس کے لئے فیصلہ کرتا ہوں تو سمجھ لو کہ میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر اسے دے رہا ہوں، جسے وہ قیامت کے دن اپنے گلے میں لٹکا کر لائے گا، یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا کہ یہ میرے بھائی کا حق ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو جا کر اسے تقسیم کرلو اور حق طریقے سے قرعہ اندازی کرلو اور ہر ایک دوسرے سے اپنے لئے حلال کروالو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَاءَ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دُرِسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ أَوْ قَدْ قَالَ لِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقِّي لِأَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِذْ قُلْتُمَا فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت عائشہ اور ام سلمہ (رض) سے کسی نے پوچھا کہ نبی ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا تھا انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مجھے روزہ کی حالت میں بوسہ دیدیتے تھے جب کہ میں بھی روزے سے ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَنَا صَائِمَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৩৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ولا یعصینک فی معروف سے مراد یہ ہے عورتیں اس شرط پر بیعت کریں کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ النَّوْحُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی ﷺ نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چناچہ نبی ﷺ نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی ﷺ جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی ﷺ کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی ﷺ یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی ﷺ کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی ﷺ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی ﷺ نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ قَالَتْ وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ قَالَ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهِبُ عَنْكِ غَيْرَتَكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ قَالَ هُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَأَتَاهَا فَقَالَ حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ قَالَ فَأَخَذَهَا فَاسْتَرْضَعَ لَهَا فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ زُنَابُ يَعْنِي زَيْنَبَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَهَا عَمَّارٌ فَدَخَلَ بِهَا وَقَالَ إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً قَالَ فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي وَإِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَكِ قَالَتْ لَا بَلْ اقْسِمْ لِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی ﷺ نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چناچہ نبی ﷺ نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی ﷺ جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی ﷺ کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی ﷺ یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی ﷺ کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی ﷺ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی ﷺ نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ قَالَتْ وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ قَالَ أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ قَالَ هُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا قَالَ فَأَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ فَانْصَرَفَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَأَتَاهَا فَقَالَ حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ قَالَ فَأَخَذَهَا فَاسْتَرْضَعَ لَهَا فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ زُنَابُ يَعْنِي زَيْنَبَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَهَا عَمَّارٌ فَدَخَلَ بِهَا فَقَالَ إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً قَالَ فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي وَإِنْ شِئْتِ قَسَمْتُ لَكِ قَالَتْ لَا بَلْ اقْسِمْ لِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ ! مجھے اس مصیبت پر اجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پر اجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی اور عدت گزرنے کے بعد نبی ﷺ نے ان کے پاس پیغام نکاح بھیج دیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ عَلَيَّ بِخَيْرٍ مِنْهَا إِلَّا فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ قَالَتْ فَقُلْتُ هَذَا فَآجَرَنِي اللَّهُ فِي مُصِيبَتِي فَمَنْ يَخْلُفُ عَلَيَّ مَكَانَ أَبِي سَلَمَةَ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
محمد بن طحلاء کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے کہا کہ آپ کی دائی کا شوہر سلیم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نیا وضو نہیں کرتا، تو انہوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں حضرت ام سلمہ جو کہ نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی ﷺ کے متعلق آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی شہادت دیتی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ إِنَّ ظِئْرَكَ سُلَيْمًا لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ وَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْهَا كَانَتْ تَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ خَمْسٍ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِكَلَامٍ وَلَا تَسْلِيمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال ہوا تو آپ ﷺ کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ وَكَانَ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی ﷺ کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِهَا وَمَا يَفِيضُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَعْرِفُونَ وَيُنْكِرُونَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُقَاتِلُ مَجَارَّهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ قَالَ شُعْبَةُ أَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَدْ قَالَهَا قَالَ وَقَدْ ذَكَرَهُ سُفْيَانُ عَنْهُ وَلَيْسَ فِي بَقِيَّتِهِ شَكٌّ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৫৪৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال ہوا تو آپ ﷺ کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ قَاعِدًا غَيْرَ الْفَرِيضَةِ وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ
তাহকীক: