আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ام سلمہ کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬০ টি
হাদীস নং: ২৫৩৯০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بیت المقدس سے احرام باندھ کر آئے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْرَمَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بیت المقدس سے حج یا عمرے کا احرام باندھ کر آئے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، اسی حدیث کی بناء پر ام حکیم نے بیت المقدس جا کر عمرے کا احرام باندھا تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلِ جُبَيْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْأَخْنَسِيِّ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ حَكِيمٍ ابْنَةِ أُمَيَّةَ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَهَلَّ مِنْ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِعُمْرَةٍ أَوْ بِحَجَّةٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ فَرَكِبَتْ أُمُّ حَكِيمٍ عِنْدَ ذَلِكَ الْحَدِيثِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى أَهَلَّتْ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد تم پر جو شخص مہربانی کرے گا وہ یقینا سچا اور نیک آدمی ہوگا، اے اللہ عبدا لرحمن بن عوف کو جنت کی سلسبیل کے پانی سے سیراب فرما۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
ابوبکربن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میرے والد نے عمرے کا ارادہ کیا جب روانگی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا بیٹا آؤ امیر کے پاس چل کر ان سے رخصت لیتے ہیں، میں نے کہا جیسے آپ کی مرضی چناچہ ہم مروان کے پاس پہنچے اس کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے جن میں حضرت عبداللہ بن زیر بھی موجود تھے اور ان دو رکعتوں کا تذکرہ ہو رہا تھا جو حضرت عبداللہ بن زیبر نماز عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے مروان نے ان سے پوچھا کہ اے ابن زبیر آپ نے یہ دو رکعتیں کس سے اخذ کی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کے متعلق مجھے حضرت ابوہریرہ (رض) نے حضرت عائشہ کے حوالے سے بتایا ہے۔ مروان نے حضرت عائشہ کے پاس ایک قاصد بھیج کر پوچھا کہ ابن زیبر حضرت ابوہریرہ (رض) آپ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی ﷺ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے یہ کیسی دو رکعتیں ہیں ؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ اس کے متعلق مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا تھا مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس قاصد کو بھیج دیا کہ حضرت عائشہ کے مطابق آپ نے انہیں بتایا ہے کہ نبی ﷺ نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ کیسی رکعتیں ہیں ؟ حضرت ام سلمہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عائشہ کی مغفرت فرمائے، انہوں نے میری بات کو اس کے صحیح محمل پر محمول نہیں کیا، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی ﷺ اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دو مختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی ﷺ نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے ؟ واللہ میں نہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا اور حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ اس واقعے سے پہلے میں نے نبی ﷺ کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نہ اس کے بعد۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ أَجْمَعَ أَبِي عَلَى الْعُمْرَةِ فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُ قَالَ أَيْ بُنَيَّ لَوْ دَخَلْنَا عَلَى الْأَمِيرِ فَوَدَّعْنَاهُ قُلْتُ مَا شِئْتَ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَذَكَرُوا الرَّكْعَتَيْنِ الَّتِي يُصَلِّيهِمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ مِمَّنْ أَخَذْتَهُمَا يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ أَخْبَرَنِي بِهِمَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى عَائِشَةَ مَا رَكْعَتَانِ يَذْكُرُهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ عَنْكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَتْ عَائِشَةُ أَنَّكِ أَخْبَرْتِيهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ لَقَدْ وَضَعَتْ أَمْرِي عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهِ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَقَدْ أُتِيَ بِمَالٍ فَقَعَدَ يَقْسِمُهُ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَكَانَ يَوْمِي فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ فَقُلْتُ مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمِرْتَ بِهِمَا قَالَ لَا وَلَكِنَّهُمَا رَكْعَتَانِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَشَغَلَنِي قَسْمُ هَذَا الْمَالِ حَتَّى جَاءَنِي الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَدَعَهُمَا فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ اللَّهُ أَكْبَرُ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً وَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهُمَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں عورتیں بچوں کی پیدائش کے بعد چالیس دن تک نفاس شمار کر کے بیٹھتی تھیں اور ہم لوگ چہروں پر چھائیاں پڑجانے کی وجہ سے اپنے چہروں پر ورس ملا کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ يَعْنِي زُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِي سَهْلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ مُسَّةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً شَكَّ أَبُو خَيْثَمَةَ وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ مِنْ الْكَلَفِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، البتہ نبی ﷺ شعبان کو رمضان کے روزے سے ملا دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عمار کو دیکھا تو فرمایا ابن سمیہ افسوس تمہیں ایک باغی گروہ قتل کردے گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ أَوْ أَيُّوبَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّنَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ (رض) سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا تم کہاں اور نبی ﷺ کی نماز اور قرأت کہاں ؟ نبی ﷺ جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی ﷺ کی قرأت کی جو کیفیت انہوں نے بیان فرمائی وہ ایک ایک حرف کی وضاحت کے ساتھ تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ قَالَتْ مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ قَدْ كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا قِرَاءَةٌ مُفَسَّرَةٌ حَرْفًا حَرْفًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ جس ذات کی قسم کھائی جاسکتی ہے میں اس کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ دوسرے لوگوں کی نسبت حضرت علی کا نبی ﷺ کے آخری وقت میں زیادہ قرب رہا ہے، ہم لوگ روزانہ نبی ﷺ کی عیادت کے لئے حاضر ہوتے تو نبی ﷺ بارباریہی پوچھتے کہ علی آگئے ؟ غالبا نبی ﷺ نے انہیں کسی کام سے بھیج دیا تھا تھوڑی دیر بعد حضرت علی آگئے، میں سمجھ گئی کہ نبی ﷺ ان سے خلوت میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں چناچہ ہم لوگ گھر سے باہر آکر دروازے میں بیٹھ گئے اور ان میں سے دروازے کے سب سے زیادہ قریب میں ہی تھی، حضرت علی نبی ﷺ کی طرف جھک گئے نبی ﷺ نے انہیں اپنی بائیں جانب بٹھالیا اور ان سے سرگوشی میں باتیں کرنے لگے اور اسی دن نبی ﷺ کا وصال ہوگیا، اس اعتبار سے آخری لمحات میں حضرت علی کو نبی ﷺ کا سب سے زیادہ قرب حاصل رہا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أُمِّ مُوسَى عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً بَعْدَ غَدَاةٍ يَقُولُ جَاءَ عَلِيٌّ مِرَارًا قَالَتْ وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ قَالَتْ فَجَاءَ بَعْدُ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً فَخَرَجْنَا مِنْ الْبَيْتِ فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَابِ فَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ فَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک لحاف میں تھی کہ مجھے ایام شروع ہوگئے میں کھسکنے لگی تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں ایام آنے لگے میں نے کہا جی یا رسول اللہ پھر میں وہاں سے چلی گئی اپنی حالت درست کی اور کپڑا باندھا پھر آکر نبی ﷺ کے لحاف میں گھس گئی اور میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل کرلیا کرتی تھی اور نبی ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ بھی دیدیتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْنَا مِنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمِّي قَالَتْ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمِيلَةِ فَحِضْتُ فَانْسَلَلْتُ مِنْ الْخَمِيلَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنُفِسْتِ فَقُلْتُ نَعَمْ فَلَبِسْتُ ثِيَابَ حَيْضَتِي فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ قَالَتْ وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ قَالَتْ وَكَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بِنَحْوِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ الْجَنَابَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
سائب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حمص کی کچھ عورتیں حضرت ام سلمہ کے پاس آئیں انہوں نے پوچھا کہ تم لوگ کہاں سے آئی ہو انہوں نے بتایا کہ شہرحمص سے حضرت ام سلمہ نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے گھرکے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارتی ہے اللہ اس کا پردہ چاک کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ نِسْوَةً دَخَلْنَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ فَسَأَلَتْهُنَّ مِمَّنْ أَنْتُنَّ قُلْنَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا خَرَقَ اللَّهُ عَنْهَا سِتْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عورتوں کی سب سے بہترین نماز ان کے گھرکے آخری کمرے میں ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي قَعْرِ بُيُوتِهِنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سرکے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدُعِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أُكَيْمَةَ أَنَّهُ قَالَ إِنْ كَانَ قَالَهُ كَذَا قَالَ أَبِي فِي الْحَدِيثِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يُقَلِّمْ أَظْفَارًا وَلَا يَحْلِقْ شَيْئًا مِنْ شَعْرِهِ فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
ابوصالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اسی دوارن وہاں ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا اور اس نے ان کے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں، دوران نماز جب وہ سجدہ میں جانے لگا تو اس نے مٹی اڑانے کے لئے پھونک ماری تو حضرت ام سلمہ نے اس سے فرمایا بھتیجے پھونکیں نہ مارو کیونکہ میں نے نبی علیہ السلا کو بھی ایک مرتبہ اپنے غلام جس کا نام یسار تھا اور اس نے بھی پھونک ماری تھی سے فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اپنے چہرے کو اللہ کے لئے خاک آلود ہونے دو ۔
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ أَخٍ لَهَا فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ سَلَمَةَ ابْنَ أَخِي لَا تَنْفُخْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَسَارٌ وَنَفَخَ تَرِّبْ وَجْهَكَ لِلَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ میری معلومات کے مطابق نبی علیہ السلا کے پاس کسی تھیلی میں زیادہ سے زیادہ آٹھ سو درہم آئے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ أَكْثَرُ مَا عَلِمْتُ أُتِيَ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَالِ بِخَرِيطَةٍ فِيهَا ثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے گھر میں تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ اتنے مال پر کتنی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ؟ نبی ﷺ نے اس کی مقداربتا دی اس نے کہا کہ فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی ہے، دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک صاع کے برابر زیادتی ہوئی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا کیا بنے گا جب کہ تم پر اس سے زیادہ زیادتی کی جائے گی۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ قَالَ فَنَظَرُوهُ فَوَجَدُوهُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ جس طرح مردوں کا ذکر قرآن میں ہوتا ہے ہم عورتوں کا ذکر کیوں نہیں ہوتا ابھی اس بات کو ایک ہی دن گزرا تھا کہ میں نے نبی ﷺ کو منبر پر اے لوگو کا اعلان کرتے ہوئے سنا میں اپنے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے اپنے بال لپیٹے اور دروازے کے قریب ہو کر سننے لگی، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان المسلمون والمسلمات والمؤمنین و المؤمنات ہذہ الآیۃ قال عفان اعد اللہ لہم مغفرۃ واجراعظیما۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِي الْقُرْآنِ كَمَا يُذْكَرُ الرِّجَالُ قَالَتْ فَلَمْ يَرُعْنِي مِنْهُ يَوْمًا إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَالَتْ وَأَنَا أُسَرِّحُ رَأْسِي فَلَفَفْتُ شَعْرِي ثُمَّ دَنَوْتُ مِنْ الْبَابِ فَجَعَلْتُ سَمْعِي عِنْدَ الْجَرِيدِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ هَذِهِ الْآيَةَ قَالَ عَفَّانُ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اکثریہ دعاء فرمایا کرتے تھے، اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما میں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا دلوں کو بھی پھیرا جاتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں، اللہ نے جس انسان کو بھی پیدا فرمایا اس کا دل اللہ کی دوانگلیوں کے درمیان ہوتا ہے پھر اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو وہ اسے سیدھا رکھتا ہے اور اگر اس کی مشیت ہوتی ہے تو اسے ٹیڑھا کردیتا ہے اس لئے ہم اللہ سے دعاء کرتے ہیں کہ پروردگار ہمیں ہدایت عطا فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کیجئے گا اور ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ اپنی جان سے ہمیں رحمت عطاء فرمائیے، بیشک وہ رحمت عطا فرمانیوالا ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ مجھے کوئی ایسی دعا نہیں سکھائیں گے جو میں اپنے لئے مانگ لیا کروں نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ اے نبی محمد ﷺ کے رب میرے گناہوں کو معاف فرما میرے دل کے غصے کو دور فرما اور جب تک زندگی عطاء فرما ہر گمراہ کن فتنے سے حفاظت فرما۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ قَالَ نَعَمْ مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ بَشَرٍ إِلَّا أَنَّ قَلْبَهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَقَامَهُ وَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَزَاغَهُ فَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي قَالَ بَلَى قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب کچھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کرو گے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائے گا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالُوا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ قَالَ عَفَّانُ وَبَهْزٌ الْعَنَزِيِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَمَنْ كَرِهَ بَرِئَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ فَقَالَ أَلَا نَقْتُلُهُمْ فَقَالَ لَا مَا صَلَّوْا وَقَالَ بَهْزٌ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَقَالَ بَهْزٌ أَلَا نَقْتُلُهُمْ وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ عَفَّانُ وَبَهْزٌ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا سَتَكُونُ
তাহকীক: