আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ام سلمہ کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬০ টি
হাদীস নং: ২৫৩৭০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور حضرت میمونہ نبی ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم آگئے، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ حجاب کا حکم نازل ہوچکا تھا نبی ﷺ نے فرمایا ان سے پردہ کرو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ نابینا نہیں ہیں ؟ یہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی پہچان سکتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تو کیا تم دونوں بھی نابیناہو ؟ کیا تم دونوں انہیں نہیں دیکھ رہی ہو ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ نَبْهَانَ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أَمَرَنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجِبَا مِنْهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا قَالَ أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا لَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو وہ دوپٹہ اوڑھ رہی تھیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے ایک ہی مرتبہ لپیٹنا دو مرتبہ نہیں (تاکہ مردوں کے عمامے کے ساتھ مشابہت نہ ہوجائے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ام سلمہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمارے سامنے نبی ﷺ کا ایک بال نکال کر دکھایا جو کہ مہندی اور وسمہ سے رنگا ہوا ہونے کیوجہ سے سرخ ہوچکا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے گھر میں تھے کہ خادم نے آکر بتایا کہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ دروازے پر ہیں نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھوڑی دیر کے لئے میرے اہل بیت کو میرے پاس تنہا چھوڑ دو ، میں وہاں سے اٹھ کر قریب ہی جا کر بیٹھ گئی، اتنی دیر میں حضرت فاطمہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے وہ دونوں چھوٹے بچے تھے، نبی ﷺ نے انہیں پکڑ کر اپنی گود میں بٹھالیا اور انہیں چومنے لگے پھر ایک ہاتھ سے حضرت علی کو اور دوسرے سے حضرت فاطمہ کو اپنے قریب کرکے دونوں کو بوسہ دیا۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے چادر کا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا اے اللہ تیرے حوالے نہ کہ جہنم کے میں اور میرے اہل بیت، اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کرکے عرض کیا یا رسول اللہ میں بھی تو آپ کے ساتھ ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تم بھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي الْمُعَدِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي يَوْمًا إِذْ قَالَتْ الْخَادِمُ إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ قَالَتْ فَقَالَ لِي قُومِي فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي قَالَتْ فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا قَالَ وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا فَأَغْدَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي قَالَتْ فَقُلْتُ وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَأَنْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سلام پھیرتے تو نبی ﷺ کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی ﷺ کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ وَيَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عورتوں کی سب سے بہترین مسجد ان کے گھرکا آخری کمرہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي عَمْرٌو عَنْ أَبِي السَّمْحِ عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ خَيْرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعْرُ بُيُوتِهِنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت ابوسلمہ کی میت پر تشریف لائے، ان کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھیں، نبی ﷺ انہیں بند کیا اور فرمایا جب روح قبض ہوجاتی ہے تو آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں، اسی دوران گھرکے کچھ لوگ رونے چیخنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا اپنے متعلق خیر کی ہی دعا مانگا کرو، کیونکہ ملائکہ تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں، پھر فرمایا اے اللہ ابوسلمہ کی بخشش فرما، ہدایت یافتہ لوگوں میں ان کا درجہ بلند فرما، پیچھے رہ جانیوالوں میں اس کا کوئی جانشین پیدا فرما اور اے تمام جہانوں کو پالنے والے ہماری اور اس کی بخشش فرما، اے اللہ اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے اس کے لئے منور فرما۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ فَأَغْمَضَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ فَقَالَ لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ افْسَحْ فِي قَبْرِهِ وَنَوِّرْ لَهُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال ہوا تو آپ ﷺ کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرَ صَلَاتِهِ جَالِسًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ رات کو نیند سے بیدار ہوئے تو یہ فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ آج رات کتنے خزانے کھولے گئے ہیں لا الہ الا اللہ آج رات کتنے فتنے نازل ہوئے ہیں، ان حجرے والیوں کو کون جگائے گا ہائے دنیا میں کتنی ہی کپڑے پہننے والی عورتیں ہیں جو آخرت میں برہنہ ہوں گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ لِهِنْدٍ أَزْرَارٌ فِي كُمِّهَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنْ الْخَزَائِنِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنْ الْفِتْنَةِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يَا رُبَّ كَاسِيَاتٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَاتٍ فِي الْآخِرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو برسرمنبریہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو اس وقت وہ کنگھی کر رہی تھیں انہوں نے اپنی کنگھی کرنیوالی سے فرمایا میرے سرکے بال لپیٹ دو اس نے کہا کہ میں آپ پر قربان ہوں نبی ﷺ تو لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں، حضرت ام سلمہ نے فرمایا اری کیا ہم لوگوں میں شامل نہیں ہیں ؟ اس نے ان کے بال سمیٹے اور وہ اپنے حجرے میں جا کر کھڑی ہوگئیں، انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو جس وقت میں حوض پر تمہارا منتظر ہوں گا اور تمہیں گروہ درگروہ لایا جائے گا اور تم راستوں میں بھٹک جاؤگے، میں تمہیں آواز دے کر کہوں گا کہ راستے کی طرف آجاؤ تو میرے پیچھے سے ایک منادی پکار کر کہے گا انہوں نے آپ کے بعد دین کو تبدیل کردیا تھا، میں کہوں گا کہ یہ لوگ دور ہوجائیں یہ لوگ دور ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ أَيُّهَا النَّاسُ فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا لُفِّي رَأْسِي قَالَتْ فَقَالَتْ فَدَيْتُكِ إِنَّمَا يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ قُلْتُ وَيْحَكِ أَوَلَسْنَا مِنْ النَّاسِ فَلَفَّتْ رَأْسَهَا وَقَامَتْ فِي حُجْرَتِهَا فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ جِيءَ بِكُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِكُمْ الطُّرُقُ فَنَادَيْتُكُمْ أَلَا هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ بَعْدِي فَقَالَ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَقُلْتُ أَلَا سُحْقًا أَلَا سُحْقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮০
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
یعلی بن مملک کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی رات کی نماز اور قرأت کے متعلق حضرت ام سلمہ (رض) سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا نبی ﷺ عشاء کی نماز اور نوافل پڑھ کر جتنی دیرسوتے تھے اتنی دیر نماز پڑھتے تھے اور جتنی دیر نماز پڑھتے تھے اتنی دیرسوتے تھے پھر نبی ﷺ کی نماز کا اختتام صبح پر ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ وَصَلَاتُهُ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮১
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
ابوعمران اسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے مالکوں کے ساتھ حج کے لئے گیا میں نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا میں حج سے پہلے عمرہ کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا حج سے پہلے عمرہ کرنا چاہو تو حج سے پہلے کرلو اور بعد میں کرنا چاہو تو بعد میں کرلو، میں نے عرض کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس شخص نے حج نہ کیا ہو اس کے لئے حج سے پہلے عمرہ کرنا صحیح نہیں ہے پھر میں نے دیگر امہات المؤمنین سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا، چناچہ میں حضرت ام سلمہ کے پاس واپس آیا اور انہیں ان کا جواب بتایا، انہوں نے فرمایا اچھا میں تمہاری تشفی کردیتی ہوں میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے آل محمد ﷺ حج کے ساتھ عمرے کا احرام باندھ لو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ حَجَجْتُ مَعَ مَوَالِيَّ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ أَحُجَّ قَالَتْ إِنْ شِئْتَ اعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ قَالَ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَنْ كَانَ صَرُورَةً فَلَا يَصْلُحُ أَنْ يَعْتَمِرَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ قَالَ فَسَأَلْتُ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِنَّ قَالَ فَقَالَتْ نَعَمْ وَأَشْفِيكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَهِلُّوا يَا آلَ مُحَمَّدٍ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮২
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہونگے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس تیزی سے پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا أَرَاهُ وَلَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ قَالَ فَأَتَاهَا يَشْتَدُّ أَوْ يُسْرِعُ شَكَّ شَاذَانُ قَالَ فَقَالَ لَهَا أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ أَنَا مِنْهُمْ قَالَتْ لَا وَلَنْ أُبَرِّئَ أَحَدًا بَعْدَكَ أَبَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮৩
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ جب انہیں حضرت امام حسین کی شہادت کا علم ہوا تو انہوں نے اہل عراق پر لعنت بھیجتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حسین کو شہید کردیا ان پر اللہ کی مار ہو انہوں نے حسین کو دھوکہ دے کر تنگ کیا ان پر اللہ کی مار ہو، میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے گھر میں تھے کہ حضرت فاطمہ ایک ہنڈیا لے کر آگئیں جس میں خزیرہ تھا، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے شوہر اور بچوں کو بھی بلالاؤ چناچہ حضرت علی اور حضرات حسنین بھی آگئے اور بیٹھ کر وہ خزیرہ کھانے لگے نبی ﷺ اس وقت ایک چبوترے پر نیند کی حالت میں تھے نبی ﷺ کے جسم مبارک کے نیچے خیبر کی ایک چادر تھی اور میں حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی کہ اسی دوران اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی اے اہل بیت اللہ تو تم سے گندگی کو دور کر کے تمہیں خوب صاف ستھرا بنانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے چادر کا بقیہ حصہ لے کر ان سب پر ڈال دیا اور اپنا ہاتھ باہر نکال کر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے اللہ یہ لوگ میرے اہل بیت اور میرا خام مال ہیں تو ان سے گندگی کو دور کر کے انہیں خوب صاف ستھرا کردے، دو مرتبہ یہ دعا کی اس پر میں نے اس کمرے میں اپنا سر داخل کر کے عرض کیا یا رسول اللہ کیا میں آپ کے اہل خانہ میں سے نہیں ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں تم بھی چادر میں آجاؤ چناچہ میں بھی نبی ﷺ کی دعاء کے بعد اس میں داخل ہوگئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ قَالَ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ فَقَالَتْ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ غَدِيَّةً بِبُرْمَةٍ قَدْ صَنَعَتْ لَهُ فِيهَا عَصِيدَةً تَحْمِلُهُ فِي طَبَقٍ لَهَا حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ قَالَتْ هُوَ فِي الْبَيْتِ قَالَ فَاذْهَبِي فَادْعِيهِ وَائْتِنِي بِابْنَيْهِ قَالَتْ فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي إِثْرِهِمَا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَاجْتَبَذَ مِنْ تَحْتِي كِسَاءً خَيْبَرِيًّا كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ فَلَفَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِشِمَالِهِ طَرَفَيْ الْكِسَاءِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَهْلِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمْ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ قَالَ بَلَى فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ قَالَتْ فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ عَلِيٍّ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮৪
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک خادمہ کی درخواست لے کر آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ چکی پر آٹا پیس پیس کر اور اسے گوندھ گوندھ کر ہاتھوں میں گٹے پڑگئے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اگر اللہ نے تمہیں کچھ دینا ہوا تو وہ تمہیں مل کر رہے گا، البتہ اس وقت میں تمہیں اس سے بہترین چیز بتاتا ہوں جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر اور ٣٤ مرتبہ الحمد للہ کہہ لیا کرو یہ کل سو ہوگئے یہ کلمات تمہارے حق میں خادم سے بھی بہتر ہیں اور جب فجر کی نماز پڑھا کرو تو دس مرتبہ نماز فجر کے بعد اور دس مرتبہ نماز مغرب کے بعد یہ کہہ لیا کرو لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت بیدہ الخیروہوعلی کل چیز قدیر تو ان میں سے ہر کلمے کے بدلے تمہارے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس گناہ مٹادیئے جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا ثواب اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور شرک کے علاوہ اس دن کا کوئی گناہ تمہیں پکڑ نہ سکے گا اور صبح جس وقت تم یہ کلمات کہوگی تو شام تک ہر شیطان اور برائی سے تمہاری حفاظت کا ذریعہ بن جائیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ مَجِلَتْ يَدَيَّ مِنْ الرَّحَى أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا يَأْتِكِ وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَذَلِكَ مِائَةٌ فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ الْخَادِمِ وَإِذَا صَلَّيْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقُولِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَعَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تُكْتَبُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَتَحُطُّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَكُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَا يَحِلُّ لِذَنْبٍ كُسِبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الشِّرْكُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَهُوَ حَرَسُكِ مَا بَيْنَ أَنْ تَقُولِيهِ غُدْوَةً إِلَى أَنْ تَقُولِيهِ عَشِيَّةً مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَمِنْ كُلِّ سُوءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮৫
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ پر اختیاری طور پر غسل واجب ہوتا پھر نبی ﷺ یوں ہی سوجاتے پھر آنکھ کھلتی اور پھر سوجاتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ ثُمَّ يَنْتَبِهُ ثُمَّ يَنَامُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮৬
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ وترکے بعد بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مُوسَى الْمَرَائِيُّ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮৭
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان کے کمربند میں سے ایک بالشت کے برابر کپڑا حضرت فاطمہ کو دیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮৮
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبر پر پختہ عمارت بنانے یا اس پر چونا لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُجَصَّصَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮৯
حضرت ام سلمہ کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلمہ کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبر پر پختہ عمارت بنانے یا اس پر چونا لگانے (یا اس پر بیٹھنے) سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجَصَّصَ قَبْرٌ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ أَوْ يُجْلَسَ عَلَيْهِ قَالَ أَبِي لَيْسَ فِيهِ أُمُّ سَلَمَةَ
তাহকীক: