আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ام سلیم کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৫ টি
হাদীস নং: ২৬১১৪
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمر بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے دو طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اپنے وکیل کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جو بھی بھیج دیئے، میں نے کہا کہ میرے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے اور میں تمہارے ہی گھر میں عدت گذار سکتی ہوں ؟ اس نے کہا نہیں، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی نے پوچھا انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں ؟ میں نے بتایا تین طلاقیں، نبی نے فرمایا انہوں نے سچ کہا تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہوچکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گذر جائے تو مجھے بتانا۔ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام ِ نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ اور ابوجہم بھی شامل تھے، نبی نے فرمایا معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں، جبکہ عورتوں کو مارتے ہیں (انکی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي وَأَمَرَ وَكِيلًا لَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ فَاسْتَقَلَّتْهَا وَانْطَلَقَتْ إِلَى إِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عِنْدَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طَلَّقَهَا فُلَانٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ قَالَ صَدَقَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَقِلِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ و قَالَ أَبِي وَقَالَ الْخَفَّافُ أُمِّ كُلْثُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا ثُمَّ قَالَ لَا أُمُّ كُلْثُومٍ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو جَهْمٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا فَقَالَ أَبُو جَهْمٍ أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا أَوْ قَالَ أَخَافُ قَصْقَاصَتَهُ لِلْعَصَا وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ أَخْلَقُ مِنْ الْمَالِ فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১১৫
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمر بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے دو طلاق کا پیغام بھیج دیا، اس وقت وہ علی کے ساتھ یمن گیا ہوا تھا، اس نے حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نفقہ دینے کے لئے بھی کہا لیکن وہ کہنے لگے کہ واللہ تمہیں اس وقت تک نفقہ نہیں مل سکتا جب تک تم حاملہ نہ ہو، وہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا نبی نے فرمایا انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہوچکی ہے، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گذر جائے تو مجھے بتانا۔ عدت کے بعد نبی نے انکا نکاح حضرت اسامہ سے کردیا، ایک مرتبہ مروان نے قبیصہ بن ذؤیب کو حضرت فاطمہ کے پاس یہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے یہی حدیث بیان کردی، مروان کہنے لگا کہ یہ حدیث تو ہم نے محض ایک عورت سے سنی ہے، ہم عمل اس پر کریں گے جس پر ہم نے لوگوں کو عمل کرتے پایا ہے، حضرت فاطمہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا میرے اور تمہارے درمیان قرآن فیصلہ کرے گا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الاّ یہ کہ وہ واضح بےحیائی کا کوئی کام کریں، " شاید اس کے بعد اللہ اس کے سامنے کوئی نئی صورت پیدا کردے " انہوں نے فرمایا یہ حکم تو اس شخص کے متعلق ہے جو رجوع کرسکتا ہو، یہ بتاؤ کہ تین طلاقوں کے بعد کون سی نئی صورت پیدا ہوگی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ فَقَالَا لَهَا وَاللَّهِ مَا لَكِ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَوْلَهُمَا فَقَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا وَاسْتَأْذَنَتْهُ لِلِانْتِقَالِ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ أَيْنَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ أَعْمَى تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يَرَاهَا فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ لَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مِنْ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ الْقُرْآنُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ حَتَّى بَلَغَ لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا قَالَتْ هَذَا لِمَنْ كَانَ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأَيُّ أَمْرٍ يُحْدِثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১১৬
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا : لیکن حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ محض ایک عورت کی بات پر ہم کتاب اللہ اور نبی کی سنت کو چھوڑ نہیں سکتے، ہوسکتا ہے کہ وہ عورت بھول گئی ہو اور امام شعبی کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ نبی نے انہیں ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گذارنے کا حکم دیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ قَالَ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَا نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَعَلَّهَا نَسِيَتْ قَالَ قَالَ عَامِرٌ وَحَدَّثَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১১৭
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس " جو کہ بنت سعید زید کی خالہ تھیں اور وہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھیں " سے مروی ہے کہ انہیں ان کے شوہر نے تین طلاقیں دے دیں، ان کی خالہ حضرت فاطمہ نے ان کے پاس ایک قاصد بھیج کر انہیں یہاں بلا لیا، اس زمانے میں مدینہ منورہ کا گورنر مروان بن حکم تھا، قبیصہ کہتے ہیں کہ مروان نے مجھے حضرت فاطمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے ایک عورت کو اس کی عدت پوری ہونے سے پہلے اس کے گھر سے نکلنے پر مجبور کیوں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا اس لئے کہ نبی نے مجھے بھی یہی حکم دیا تھا، پھر انہوں نے مجھے وہ حدیث سنائی، پھر فرمایا کہ میں اپنی دلیل میں قرآن کریم سے بھی اجتہاد کرتی ہوں، اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ " اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو تو زمانہ عدت (طہر) میں طلاق دیا کرو اور عدت کے ایام گنتے رہا کرو اور اللہ سے جو تمہارا رب ہے ڈرتے رہو، یہ تم انہیں اپنے گھر سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الاّ یہ کہ وہ کھلی بےحیائی کا کوئی کام کریں "۔۔۔ " شاید اس کے بعد اللہ کوئی نیا فیصلہ فرما دے "۔۔۔ تیسرے درجے میں فرمایا " جب وہ اپنی عدت پوری کر چکیں تو تم انہیں اچھی طرح رکھو یا اچھے طریقے سے رخصت کرو " بخدا اللہ تعالیٰ نے اس تیسرے درجے کے بعد عورت کو روک کر رکھنے کا ذکر نہیں فرمایا پھر نبی نے مجھے بھی یہی حکم دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں مروان کے پاس آیا اور اسے یہ ساری بات بتائی، اس نے کہا کہ یہ تو ایک عورت کی بات ہے، یہ تو ایک عورت کی بات ہے، پھر اس نے ان کی بھانجی کو اس کے گھر واپس بھیجنے کا حکم دیا چناچہ اسے واپس بھیج دیا یہاں تک کہ اس کی عدت گذر گئی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ حَدَّثَهُ أَنَّ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ خَالَتَهَا وَكَانَتْ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا خَالَتُهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ فَنَقَلَتْهَا إِلَى بَيْتِهَا وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ قَبِيصَةُ فَبَعَثَنِي إِلَيْهَا مَرْوَانُ فَسَأَلْتُهَا مَا حَمَلَهَا عَلَى أَنْ تُخْرِجَ امْرَأَةً مِنْ بَيْتِهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا قَالَ فَقَالَتْ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِذَلِكَ قَالَ ثُمَّ قَصَّتْ عَلَيَّ حَدِيثَهَا ثُمَّ قَالَتْ وَأَنَا أُخَاصِمُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ إِلَى لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا ثُمَّ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ الثَّالِثَةَ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَاللَّهِ مَا ذَكَرَ اللَّهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ حَبْسًا مَعَ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى مَرْوَانَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا فَقَالَ حَدِيثُ امْرَأَةٍ حَدِيثُ امْرَأَةٍ قَالَ ثُمَّ أَمَرَ بِالْمَرْأَةِ فَرُدَّتْ إِلَى بَيْتِهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১১৮
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا اور فرمایا کہ اے بنت آل قیس ! رہائش اور نفقہ اسے ملتا ہے جس سے رجوع کیا جاسکتا ہو۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَخَاصَمَتْهُ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَلَمْ يَجْعَلْ سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً وَقَالَ يَا بِنْتَ آلِ قَيْسٍ إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لَهُ رَجْعَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১১৯
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمر بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی نے فرمایا تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو، مروان اس حدیث سے انکار کرتا تھا اور مطلقہ عورت کو اس کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور بقول عروہ حضرت عائشہ بھی اس کا انکار کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَقَالَ عُرْوَةُ أَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২০
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی نے میرے لئے رہائش اور نفقہ مقرر نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ وَحُصَيْنٌ وَمُغِيرَةُ وَأَشْعَثُ وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ وَدَاوُدُ وَحَدَّثَنَاهُ مُجَالِدٌ وَإِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ قَالَتْ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২১
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ نبی نے ان سے دوران عدت فرمایا کہ مجھے بتائے بغیر شادی نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا فِي عِدَّتِهَا لَا تَنْكِحِي حَتَّى تُعْلِمِينِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২২
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمر بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی تو نبی نے فرمایا تمہیں کوئی سکنی اور نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو اور فرمایا رہائش اور نفقہ اسے ملتا ہے جس سے رجوع کیا جاسکتا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً وَقَالَ إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا رَجْعَةٌ وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২৩
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، نبی نے فرمایا تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২৪
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ مجھے میرے شوہر نے تین طلاق کا پیغام بھج دیا، میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی نے فرمایا تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي السَّبِيعِيَّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ عَمْرِو ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২৫
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمر بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا، میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی نے فرمایا تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو، مروان اس حدیث سے انکار کرتا تھا اور مطلقہ عورت کو اس کے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور بقول عروہ حضرت عائشہ بھی اس کا انکار کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى فَأَبَى مَرْوَانُ إِلَّا أَنْ يَتَّهِمَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا وَزَعَمَ عُرْوَةُ قَالَ قَالَ فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ عَلَى فَاطِمَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২৬
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
امام عامر شیبی سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ حاضر ہوا اور حضرت بنت قیس کے یہاں گیا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ نبی کے دور میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی، اسی دوران نبی نے اسے ایک دستہ کے ساتھ روانہ فرما دیا، تو مجھ سے اس کے بھائی نے کہا کہ تم اس گھر سے نکل جاؤ، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا عدت ختم ہونے تک مجھے نفقہ اور رہائش ملے گی ؟ اس نے کہا نہیں میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوگئی اور عرض کیا کہ فلاں شخص نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس کا بھائی مجھے گھر سے نکال رہا ہے اور نفقہ اور سکنی بھی نہیں دے رہا ؟ نبی نے پیغام بھیج کر بلایا اور فرمایا بنت آل قیس کے ساتھ تمہارا کیا جھگڑا ہے ؟ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میرے بھائی نے اسے اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں، اس پر نبی نے فرمایا اے بنت آل قیس ! دیکھو شوہر کے ذمے اس بیوی کا نفقہ اور سکنی واجب ہوتا ہے جس سے ہو رجوع کرسکتا ہو اور جب اس کے پاس رجوع کی گنجائش نہ ہو تو عورت کو نفقہ اور سکنی نہیں ملتا، اس لئے تم اس گھر سے فلاں عورت کے گھر منتقل ہوجاؤ، پھر فرمایا اس کے یہاں لوگ جمع ہو کر باتیں کرتے ہیں اس لئے تم ابن ام مکتوم کے یہاں چلی جاؤ، کیونکہ وہ نابینا ہیں اور تہ میں دیکھ نہیں سکیں گے اور تم آئندہ خود سے نکاح نہ کرنا بلکہ میں خود تمہارا نکاح کرو گا، اسی دوران مجھے قریش کے ایک آدمی نے پیغام بھیجا، میں نبی کے پاس مشورہ کرنے حاضر ہوئی تھی تو نبی نے فرمایا کیا تم اس شخص سے نکاح کرلیتیں جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، یا رسول اللہ ! آپ جس سے چاہیں میرا نکاح کرا دیں، چناچہ نبی نے مجھے حضرت اسامہ بن زید کے نکاح میں دے دیا،
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ لِي أَخُوهُ اخْرُجِي مِنْ الدَّارِ فَقُلْتُ إِنَّ لِي نَفَقَةً وَسُكْنَى حَتَّى يَحِلَّ الْأَجَلُ قَالَ لَا قَالَتْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ فُلَانًا طَلَّقَنِي وَإِنَّ أَخَاهُ أَخْرَجَنِي وَمَنَعَنِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِابْنَةِ آلِ قَيْسٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي طَلَّقَهَا ثَلَاثًا جَمِيعًا قَالَتْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرِي أَيْ بِنْتَ آلِ قَيْسٍ إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا مَا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَلَا نَفَقَةَ وَلَا سُكْنَى اخْرُجِي فَانْزِلِي عَلَى فُلَانَةَ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ يُتَحَدَّثُ إِلَيْهَا انْزِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى لَا يَرَاكِ ثُمَّ قَالَ لَا تَنْكِحِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُنْكِحُكِ قَالَتْ فَخَطَبَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ فَقَالَ أَلَا تَنْكِحِينَ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَنْكِحْنِي مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَتْ فَأَنْكَحَنِي مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২৭
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
امام شعبی کہتے ہیں کہ جب میں وہاں سے جانے لگا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ میں تمہیں نبی کی ایک حدیث سناتی ہوں، ایک مرتبہ نبی باہر نکلے ظہر کی نماز پڑھائی، جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز پوری کرلی تو فرمایا بیٹھے رہو، منبر پر تشریف فرما ہوئے لوگ حیران ہوئے تو فرمایا لوگو ! اپنی نماز کی جگہ پر ہی رہو میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔ میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری میرے پاس آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہوگئے اور مجھے ایک بات بتائی کہ وہ اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے، اچانک سمندر میں طوفان آگیا، وہ سمندر میں ایک نامعلوم جزیرہ کی طرف پہنچے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ کے اندر داخل ہوئے تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا، انہیں سمجھ نہ آئی کہ وہ مرد ہے یا عورت انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا، انہوں نے کہا تم کون ہو ؟ اس نے کہا : اے قوم ! اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے ہم نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے بتایا کہ میں جساسہ ہوں، چناچہ وہ چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہوگئے، وہاں ایک انسان تھا جو انتہائی سختی کے ساتھ بندھا ہوا تھا وہ انتہائی غمگین اور بہت زیادہ شکایت کرنے والا تھا، انہوں نے سلام کیا، اس نے جواب اور پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں، اس نے پوچھا کہ اہل عرب کا کیا بنا ؟ کیا ان کے نبی کا ظہور ہوگیا ؟ انہوں نے کہا ہاں ! اس نے پوچھا پھر اہل عرب نے کیا کیا ؟ انہوں نے بتایا کہ اچھا کیا، ان پر ایمان لے آئے اور ان کی تصدیق کی، انہوں نے کہا کہ ان کے دشمن تھے لیکن اللہ نے ان پر غالب کردیا، اس نے پوچھا کہ اب عرب کا ایک اللہ، ایک دین ایک کلمہ ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! اس نے پوچھا زغر کے چشمے کا کیا بنا ؟ انہوں نے کہا صحیح ہے، لوگ اس کا پانی خود بھی پیتے ہیں اور اپنے کھیتوں کو بھی سیراب کرتے ہیں، اس نے پوچھا عمان اور بیسان کے درمیان باغ کا کیا بنا ؟ انہوں نے کہا صحیح ہے اور ہر سال پھل دیتا ہے، اس نے پوچھا بحیریہ طبریہ کا کیا بنا ؟ انہوں نے کہا کہ بھرا ہوا ہے، اس پر وہ تین مرتبہ اچھلا اور قسم کھا کر کہنے لگا اگر میں اس جگہ سے نکل گیا تو اللہ کی زمین کا کوئی حصہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جسے اپنے پاؤں تلے روند نہ دوں، سوائے طیبہ کے کہ اس پر مجھے قدرت نہیں ہوگی، نبی نے فرمایا یہاں پہنچ کر میری خوشی بڑھ گئی (تین مرتبہ فرمایا مدینہ ہی طیبہ ہے اور اللہ نے میرے حرم میں داخل ہونا دجال پر حرام قرار دے رکھا ہے، پھر نبی نے قسم کھا کر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، مدینہ منورہ کا کوئی تنگ یا کشادہ، وادی اور پہاڑ ایسا نہیں ہے جس پر قیامت تک لے لئے تلوار سونتا ہوا فرشتہ مقرر نہ ہو، دجال اس شہر میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ عامر کہتے ہیں کہ پھر میں محرر بن ابی ہریرہ سے ملا اور ان سے حضرت فاطمہ بن قیس کی یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد صاحب نے مجھے یہ حدیث اسی طرح سنائی تھی، جس طرح حضرت فاطمہ نے آپ کو سنائی ہے البتہ والد صاحب نے بتایا تھا کہ نبی نے فرمایا ہے وہ مشرق کی جانب ہے۔ پھر میں قاسم بن محمد سے ملا اور ان سے یہ حدیث فاطمہ ذکر کی، انہوں نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت عائشہ نے مجھے بھی یہ حدیث سی طرح سنائی تھی جیسے حضرت فاطمہ نے آپ کو سنائی ہے، البتہ انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ دونوں حرم یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دجال پر حرام ہوں گے۔
قَالَ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَخْرُجَ قَالَتْ اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا مِنْ الْأَيَّامِ فَصَلَّى صَلَاةَ الْهَاجِرَةِ ثُمَّ قَعَدَ فَفَزِعَ النَّاسُ فَقَالَ اجْلِسُوا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنِّي لَمْ أَقُمْ مَقَامِي هَذَا لِفَزَعٍ وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي خَبَرًا مَنَعَنِي مِنْ الْقَيْلُولَةِ مِنْ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَنْشُرَ عَلَيْكُمْ فَرَحَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَهْطًا مِنْ بَنِي عَمِّهِ رَكِبُوا الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ رِيحٌ عَاصِفٌ فَأَلْجَأَتْهُمْ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ لَا يَعْرِفُونَهَا فَقَعَدُوا فِي قُوَيْرِبِ سَفِينَةٍ حَتَّى خَرَجُوا إِلَى الْجَزِيرَةِ فَإِذَا هُمْ بِشَيْءٍ أَهْلَبَ كَثِيرِ الشَّعْرِ لَا يَدْرُونَ أَرَجُلٌ هُوَ أَوْ امْرَأَةٌ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِمْ السَّلَامَ فَقَالُوا أَلَا تُخْبِرُنَا فَقَالَ مَا أَنَا بِمُخْبِرِكُمْ وَلَا مُسْتَخْبِرِكُمْ وَلَكِنَّ هَذَا الدَّيْرَ قَدْ رَهِقْتُمُوهُ فَفِيهِ مَنْ هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَيَسْتَخْبِرَكُمْ قَالُوا قُلْنَا مَا أَنْتَ قَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا الدَّيْرَ فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ مُوثَقٍ شَدِيدِ الْوَثَاقِ مُظْهِرٍ الْحُزْنَ كَثِيرِ التَّشَكِّي فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِمْ فَقَالَ مَنْ أَنْتُمْ قَالُوا مِنْ الْعَرَبِ قَالَ مَا فَعَلَتْ الْعَرَبُ أَخَرَجَ نَبِيُّهُمْ بَعْدُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَمَا فَعَلَتْ الْعَرَبُ قَالُوا خَيْرًا آمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ قَالَ ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ وَكَانَ لَهُ عَدُوٌّ فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَالَ فالْعَرَبُ الْيَوْمَ إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَكَلِمَتُهُمْ وَاحِدَةٌ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَمَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ قَالَ قَالُوا صَالِحَةٌ يَشْرَبُ مِنْهَا أَهْلُهَا لِشَفَتِهِمْ وَيَسْقُونَ مِنْهَا زَرْعَهُمْ قَالَ فَمَا فَعَلَ نَخْلٌ بَيْنَ عَمَّانَ وَبَيْسَانَ قَالُوا صَالِحٌ يُطْعِمُ جَنَاهُ كُلَّ عَامٍ قَالَ فَمَا فَعَلَتْ بُحَيْرَةُ الطَّبَرِيَّةِ قَالُوا مَلْأَى قَالَ فَزَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ زَفَرَ ثُمَّ حَلَفَ لَوْ خَرَجْتُ مِنْ مَكَانِي هَذَا مَا تَرَكْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ اللَّهِ إِلَّا وَطِئْتُهَا غَيْرَ طَيْبَةَ لَيْسَ لِي عَلَيْهَا سُلْطَانٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هَذَا انْتَهَى فَرَحِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّ طَيْبَةَ الْمَدِينَةُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الدَّجَّالِ أَنْ يَدْخُلَهَا ثُمَّ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهَا طَرِيقٌ ضَيِّقٌ وَلَا وَاسِعٌ فِي سَهْلٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ بِالسَّيْفِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا يَسْتَطِيعُ الدَّجَّالُ أَنْ يَدْخُلَهَا عَلَى أَهْلِهَا قَالَ عَامِرٌ فَلَقِيتُ الْمُحْرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ حَدَّثَنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ فِي نَحْوِ الْمَشْرِقِ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْنِي كَمَا حَدَّثَتْكَ فَاطِمَةُ غَيْرَ أَنَّهَا قَالَتْ الْحَرَمَانِ عَلَيْهِ حَرَامٌ مَكَّةُ وَالْمَدِينَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২৮
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں
حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی باہر نکلے اور ظہر کی نماز پڑھائی، جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز پوری کرلی تو منبر پر تشریف فرما ہوئے لوگ حیران ہوئے تو فرمایا لوگو ! اپنی نماز کی جگہ پر ہی رہو میں نے تمہیں کسی بات کی ترغیب یا اللہ سے ڈرانے کے لئے جمع نہیں کیا۔ میں نے تمہیں صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری میرے پاس آئے اور اسلام پر بیعت کی اور مسلمان ہوگئے اور مجھے ایک بات بتائی کہ وہ اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ ایک بحری کشتی میں سوار ہوئے اچانک سمندر میں طوفان آگیا، وہ سمندر میں ایک نامعلوم جزیرہ کی طرف پہنچے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ کے اندر داخل ہوئے تو انہیں وہاں ایک جانور ملا جو موٹے اور گھنے بالوں والا تھا، انہیں سمجھ نہ آئی کہ وہ مرد ہے یا عورت انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا، انہوں نے کہا تم کون ہو ؟ اس نے کہا : اے قوم ! اس آدمی کی طرف گرجے میں چلو کیونکہ وہ تمہاری خبر کے بارے میں بہت شوق رکھتا ہے ہم نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے بتایا کہ میں جساسہ ہوں، چناچہ وہ چلے یہاں تک کہ گرجے میں داخل ہوگئے، وہاں ایک انسان تھا جسے انتہائی سختی کے ساتھ باندھا گیا تھا، اس نے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں، اس نے پوچھا کہ اہل عرب کا کیا بنا ؟ کیا ان کے نبی کا ظہور ہوگیا ؟ انہوں نے کہا ہاں ! اس نے پوچھا پھر اہل عرب نے کیا کیا ؟ انہوں نے بتایا کہ اچھا کیا، ان پر ایمان لے آئے اور ان کی تصدیق کی، اس نے کہا کہ انہوں نے اچھا کیا پھر اس نے پوچھا کہ اہل فارس کا کیا بنا، کیا وہ ان پر غالب آگئے ؟ انہوں کے کہا کہ وہ ابھی تک اہل فارس پر غالب نہیں آئے، اس نے کہا یاد رکھو ! عنقریب وہ ان پر غالب آجائیں گے، اس نے کہا : مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا یہ کثیر پانی والا ہے اور وہاں کے لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں، پھر اس نے کہا نخل بیسان کا کیا بنا ؟ کیا اس نے پھل دینا شروع کیا ؟ انہوں نے کہا کا اس کا ابتدائی حصہ پھل دینے لگا ہے، اس پر وہ اتنا اچھلا کہ ہم سمجھے یہ ہم پر حملہ کر دے گا، ہم نے اس سے پوچھا کہ تو کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں مسیح (دجال) ہوں، عنقریب مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائی گی۔ پس میں نکلوں گا تو زمین میں چکر لگاؤں گا اور چالیس راتوں میں ہر بستی پر اتروں گا مکہ اور طیبہ کے علاوہ کیونکہ ان دونوں پر داخل ہونا میرے لئے حرام کردیا گیا ہے، نبی نے فرمایا مسلمانو ! خوش ہوجاؤ کہ طیبہ یہی مدینہ ہے، اس میں دجال داخل نہ ہو سکے گا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ مُسْرِعًا فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَنُودِيَ فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَدْعُكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلَا لِرَهْبَةٍ وَلَكِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ أَخْبَرَنِي أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا الْبَحْرَ فَقَذَفَ بِهِمْ الرِّيحُ إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ أَشْعَرَ لَا يُدْرَى ذَكَرٌ هُوَ أَمْ أُنْثَى لِكَثْرَةِ شَعْرِهِ فَقَالُوا مَنْ أَنْتَ فَقَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةَ فَقَالُوا فَأَخْبِرِينَا فَقَالَتْ مَا أَنَا بِمُخْبِرَتِكُمْ وَلَا مُسْتَخْبِرَتِكُمْ وَلَكِنْ فِي هَذَا الدَّيْرِ رَجُلٌ فَقِيرٌ إِلَى أَنْ يُخْبِرَكُمْ وَإِلَى أَنْ يَسْتَخْبِرَكُمْ فَدَخَلُوا الدَّيْرَ فَإِذَا هُوَ رَجُلٌ أَعْوَرُ مُصَفَّدٌ فِي الْحَدِيدِ فَقَالَ مَنْ أَنْتُمْ قَالُوا نَحْنُ الْعَرَبُ فَقَالَ هَلْ بُعِثَ فِيكُمْ النَّبِيُّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَهَلْ اتَّبَعَهُ الْعَرَبُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ ذَاكَ خَيْرٌ لَهُمْ قَالَ فَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ هَلْ ظَهَرَ عَلَيْهَا قَالُوا لَا قَالَ أَمَا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ مَا فَعَلَتْ عَيْنُ زُغَرَ قَالُوا هِيَ تَدْفُقُ مَلْأَى قَالَ فَمَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ هَلْ أَطْعَمَ قَالُوا نَعَمْ أَوَائِلُهُ قَالَ فَوَثَبَ وَثْبَةً حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَفْلِتُ فَقُلْنَا مَنْ أَنْتَ فَقَالَ أَنَا الدَّجَّالُ أَمَا إِنِّي سَأَطَأُ الْأَرْضَ كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ وَطَيْبَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْشِرُوا مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ هَذِهِ طَيْبَةُ لَا يَدْخُلُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৪১
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت فریعہ بنت مالک کی حدیثیں
حضرت فریعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے شوہر اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں روانہ ہوئے، وہ انہیں " قدوم " کے کنارے پر ملے لیکن ان سب سے مل کر انہیں قتل کردیا، مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر جب پہنچی تو میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں تھی، میں نبی کی خدمت میں خاضر ہوئی اور اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر ملی ہے اور میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں رہتی ہوں، میرے خاوند نے کوئی نفقہ چھوڑا ہے نہ ہی ورثہ کے لئے کوئی مال و دولت، نیز اس کا کوئی مکان بھی نہ تھا، اگر میں اپنے اہل خانہ اور بھائیوں کے پاس چلی جاؤں تو بعض معاملات میں مجھے سہولت ہوجائے گی، نبی نے فرمایا چلی جاؤ، لیکن جب میں مسجد یا حجرے سے نکلنے لگی تو نبی نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اسی گھر میں عدت گذارو جہاں تمہارے پاس تمہارے شوہر کی موت کی خبر آئی تھی یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے، چناچہ میں نے چار مہینے اور دس دن وہیں گذارے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدَّثَتْهَا أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُمْ فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ فَقَتَلُوهُ فَأَتَاهَا نَعْيُهُ وَهِيَ فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَهْلِهَا فَكَرِهَتْ الْعِدَّةَ فِيهَا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَانِي نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ شَاسِعَةٍ عَنْ دُورِ أَهْلِي إِنَّمَا تَرَكَنِي فِي مَسْكَنٍ لَا يَمْلِكُهُ وَلَمْ يَتْرُكْنِي فِي نَفَقَةٍ يُنْفَقُ عَلَيَّ وَلَمْ أَرِثْ مِنْهُ مَالًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ أَلْحَقَ بِإِخْوَتِي وَأَهِلِي فَيَكُونَ أَمَرُنَا جَمِيعًا فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ فَأَذِنَ لِي أَنْ أَلْحَقَ بِأَهْلِي فَخَرَجْتُ مَسْرُورَةً بِذَلِكَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ فَقَالَ لِي كَيْفَ زَعَمْتِ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ امْكُثِي فِي مَسْكَنِ زَوْجِكِ الَّذِي جَاءَكِ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৪৪
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک خاتون صحابیہ کی روایت
ام کرام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حج پر گئیں وہاں ایک عورت سے مکہ مکرمہ میں ملاقات ہوئی جس کے ساتھ بہت سی خادمائیں تھیں لیکن ان میں سے کسی پر بھی چاندی کے علاوہ کوئی زیور نہ تھا، میں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے مجھے آپ کی خادمہ پر سوائے چاندی کے کوئی زیور نظر نہیں آ رہا، اس نے کہا میرے دادا ایک مرتبہ نبی کی خدمت میں خاضر ہوئے، میں بھی ان کے ساتھ تھی اور میں نے سونے دی دو بالیاں پہن رکھی تھیں، نبی نے فرمایا یہ آگ کے دو شعلے ہیں اس وقت سے ہمارے گھر میں کوئی عورت بھی چاندی کے علاوہ کوئی زیور نہیں پہنتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي دَيْلَمٌ أَبُو غَالِبٍ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ جَحْلٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْكِرَامِ أَنَّهَا حَجَّتْ قَالَتْ فَلَقِيتُ امْرَأَةً بِمَكَّةَ كَثِيرَةَ الْحَشَمِ لَيْسَ عَلَيْهِنَّ حُلِيٌّ إِلَّا الْفِضَّةُ فَقُلْتُ لَهَا مَا لِي لَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ مِنْ حَشَمِكِ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ قَالَتْ كَانَ جَدِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَيَّ قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِهَابَانِ مِنْ نَارٍ فَنَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يَلْبَسُ حُلِيًّا إِلَّا الْفِضَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৫৩
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک زوجہ محترمہ کی حد یثیں
نبی کی ایک زوجہ مطہرہ سے مروی ہے کہ نبی نو ذی الحجہ دس محرم اور مہینے کے تین دنوں کا روزہ رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُرُّ بْنُ الصَّيَّاحِ عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنْ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৫৪
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام حرام بنت ملحان کی حدیثیں
حضرت ام حرام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی میرے گھر میں قیولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوگئے میں نے عرض کیا کہ میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ کس بناء پر مسکرا رہے ہیں ؟ نبی نے فرمایا میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگوں کو پیش کیا گیا جو اس سطح سمندر پر اس طرح سوار چلے جا رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر براجمان ہوتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کردیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے، نبی نے فرمایا اے اللہ ! انہیں بھی ان میں شامل فرمادے۔ تھوڑی ہی دیر میں نبی کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور اس مرتبہ بھی نبی مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے میں نے وہی سوال دہرایا اور نبی نے اس مرتبہ بھی مزید کچھ لوگوں کو اس طرح پیش کئے جانے کا تذکرہ فرمایا : میں نے عرض کیا کہ اللہ سے دعاء کردیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے، نبی نے فرمایا تم پہلے گروہ میں شامل ہو، چناچہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت کے ہمراہ سمندری جہاد میں شریک ہوئیں اور اپنے ایک سرخ وسفید خچر سے گر کر ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہوگئیں حضرت ام حرام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ اچانک مسکراتے ہوئے بیدار ہوگئے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَهِيَ خَالَتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ فَقَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ إِنَّكِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الْأَخْضَرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ قَالَ فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَخْرَجَهَا مَعَهُ فَلَمَّا جَازَ الْبَحْرَ بِهَا رَكِبَتْ دَابَّةً فَصَرَعَتْهَا فَقَتَلَتْهَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي بَيْتِهَا يَوْمًا فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০২
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلیم کی حدیثیں
حضرت ام سلیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! انس آپ کا خادم ہے، اس کے لئے اللہ سے دعاء کر دیجئے نبی نے فرمایا اے اللہ ! اس کے مال و اولاد میں اضافہ فرما اور جو کچھ اس کو عطاء فرما رکھا ہے اس میں برکت عطاء فرما، حضرت انس کہتے ہیں کہ مجھے اپنی اولاد میں سے کسی نے بتایا ہے کہ اب تک میرے بیٹوں اور پوتوں میں سے سو سے زیا دہ افراد دفن ہوچکے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ أَخْبَرَنِي بَعْضُ وَلَدِي أَنَّهُ قَدْ دُفِنَ مِنْ وَلَدِي وَوَلَدِ وَلَدِي أَكْثَرُ مِنْ مِائَةٍ
তাহকীক: