আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ام سلیم کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৫ টি
হাদীস নং: ২৬২০৩
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلیم کی حدیثیں
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن ثاقب اور حضرت ابن عباس کے درمیان اس عورت کے حوالے سے اختلاف رائے ہوگیا جو دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کرلے اور اس کے فوراً بعد ہی اسے " ایام " شروع ہوجائیں، حضرت زید کی رائے یہ تھی کہ جب تک وہ طواف وداع نہ کرلے واپس نہیں جاسکتی اور حضرت ابن عباس کی رائے یہ تھی کہ اگر وہ دس دی الحجہ کو طواف کرچکی ہے اور اپنے خاوند کے لئے حلال ہوچکی ہے تو وہ اگر چاہے تو واپس جاسکتی ہے اور انتظار نہ کرے، انصار کہنے لگے اے ابن عباس ! اگر آپ کسی مسئلے میں زید سے اختلاف کریں گے تو ہم اس میں آپ کی پر وی نہیں کریں گے، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کے متعلق حضرت ام سلیم سے پوچھ لو، چناچہ انہوں نے حضرت ام سلیم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حضرت صفیہ بنت حیی کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر حضرت عائشہ نے فرمایا افسوس ! تم ہمیں روکو گی، نبی سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی نے انہیں کوچ کا حکم دیا اور خود حضرت ام سلیم نے اپنے متعلق بتایا کہ انہیں بھی یہی کیفیت پیش آگئی تھی اور نبی نے انہیں بھی کوچ کا حکم دے دیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ كَانَ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَمَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ مُقَاوَلَةٌ فِي ذَلِكَ فَقَالَ زَيْدٌ لَا تَنْفِرُ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ وَحَلَّتْ لِزَوْجِهَا نَفَرَتْ إِنْ شَاءَتْ وَلَا تَنْتَظِرُ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنَّكَ إِذَا خَالَفْتَ زَيْدًا لَمْ نُتَابِعْكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَلُوا أُمَّ سُلَيْمٍ فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرَتْ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ أَصَابَهَا ذَلِكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ الْخَيْبَةُ لَكِ حَبَسْتِينَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ وَأَخْبَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا لَقِيَتْ ذَلِكَ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْفِرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৪
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلیم کی حدیثیں
حضرت ام سلیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ان کے یہاں تشریف لائے، ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی نے کھڑے کھڑے اس مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پیا، بعد میں میں نے اس مشکیزے کا منہ (جس سے نبی نے منہ لگا کر پانی پیا تھا) کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ زَيْدِ ابْنِ بِنْتِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِيهَا مَاءٌ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا مِنْ فِي الْقِرْبَةِ فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى فِي الْقِرْبَةِ فَقَطَعَتْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৫
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلیم کی حدیثیں
حضرت ام سلیم سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا وہ مسلمان آدمی جس کے تین نابالغ بچے فوت ہوگئے ہوں، اللہ ان بچوں کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر دو ہوں تو ؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مُحَمَّدٌ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ قَالَهَا ثَلَاثًا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَانِ قَالَ وَاثْنَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৬
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلیم کی حدیثیں
حضرت ام سلیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ان کے یہاں تشریف لائے، ان کے گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی نے کھڑے کھڑے اس مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پیا، بعد میں میں نے اس مشکیزے کا منہ (جس سے نبی نے منہ لگا کر پانی پیا تھا) کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ عَنِ الْبَرَاءِ ابْنِ بِنْتِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْهَا قَائِمًا فَقَطَعْتُ فَاهَا وَإِنَّهُ لَعِنْدِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬২০৭
حضرت ام سلیم کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ام سلیم کی حدیثیں
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن ثاقب اور حضرت ابن عباس کے درمیان اس عورت کے حوالے سے اختلاف رائے ہوگیا جو دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کرلے اور اس کے فوراً بعد ہی اسے " ایام " شروع ہوجائیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کے متعلق حضرت ام سلیم سے پوچھ لو چناچہ انہوں نے حضرت ام سلیم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہاں نبی نے ہمیں یہی حکم دیا تھا عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ زید بن ثاقب اور حضرت ابن عباس کے درمیان اس عورت کے حوالے سے اختلاف رائے ہوگیا جو دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کرلے اور اس کے فوراً بعد ہی اسے " ایام " شروع ہوجائیں، حضرت زید کی رائے یہ تھی کہ جب تک وہ طواف ِ وداع نہ کرلے واپس نہیں جاسکتی اور حضرت ابن عباس کی رائے یہ تھی کہ اگر وہ دس دی الحجہ کو طواف کرچکی ہے اور اپنے خاوند کے لئے حلال ہوچکی ہے تو وہ اگر چاہے تو واپس جاسکتی ہے اور انتظار نہ کرے، انصار کہنے لگے اے ابن عباس ! اگر آپ کسی مسئلے میں زید سے اختلاف کریں گے تو ہم اس میں آپ کی پر وی نہیں کریں گے، حضرت ابن عباس نے فرمایا اس کے متعلق حضرت ام سلیم سے پوچھ لو، چناچہ انہوں نے حضرت ام سلیم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حضرت صفیہ بنت حیی کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر حضرت عائشہ نے فرمایا افسوس ! تم ہمیں روکو گی، نبی سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی نے انہیں کوچ کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ زَيْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِزَيْدٍ فَاسْأَلْ نِسَاءَكَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَصَوَاحِبَهَا هَلْ أَمَرَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُنَّ زَيْدٌ فَقُلْنَ نَعَمْ قَدْ أَمَرَنَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَابْنَ عَبَّاسٍ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الزِّيَارَةِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ بَعْدَمَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ فَقَالَ زَيْدٌ يَكُونُ آخِرَ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَنْفِرُ إِنْ شَاءَتْ فَقَالَ الْأَنْصَارُ لَا نُتَابِعُكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَنْتَ تُخَالِفُ زَيْدًا وَقَالَ وَاسْأَلُوا صَاحِبَتَكُمْ أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ حِضْتُ بَعْدَمَا طُفْتُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْفِرَ وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ الْخَيْبَةُ لَكِ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ
তাহকীক: