আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২৪৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ وہ حالت احرام میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ خود نبی ﷺ نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی ﷺ واپس روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَيَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّهُ أَقْبَلَ حَتَّى كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ أَعْرَسَ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا پھر عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر صدقہ دینے لگیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔
قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ صَائِمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آکر یہ دعاء پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ قَالَ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي ثُمَّ كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ إِلَّا لَمْ يُسَلَّطْ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت رافع بن خدیج (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لئے نفع بخش تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نبی ﷺ کا حکم زیادہ بہتر ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے وہ خود کاشت کرے، یا چھوڑ دے یا پھر کسی کو ہبہ کر دے، راوی کہتے ہیں کہ میں یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کردینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَذَرْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ وَكَانَ يَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِهِمْ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ هَؤُلَاءِ طَاوُسًا وَعَطَاءً وَمُجَاهِدًا وَكَانَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ قَالَ شُعْبَةُ كَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کا مطلب پوچھا " قل لا اسألکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی) تو ان کے جواب دینے سے پہلے حضرت سعید بن جبیر (رح) بول پڑے کہ اس سے مراد نبی ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ تم نے جلدی کی، قریش کے ہر خاندان میں نبی ﷺ کی قرابت داری تھی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میں اپنی اس دعوت پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر تم اتنا تو کرو کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اسے جوڑے رکھو اور اسی کا خیال کرلو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى قَالَ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ بُطُونِ قُرَيْشٍ إِلَّا كَانَ لَهُ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَقَالَ إِلَّا أَنْ تَصِلُوا مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ الْقَرَابَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو ، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو ، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَوْقَصَتْهُ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ وَقَالَ لَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ خَارِجَ رَأْسِهِ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ خَارِجَ رَأْسِهِ أَوْ وَجْهِهِ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، درحقیقت وہ محکمات ہیں، نبی ﷺ کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا اور میرے ختنے بھی ہوچکے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ وَأَنَا مَخْتُونٌ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي بِشْرٍ مَا الْمُحْكَمُ قَالَ الْمُفَصَّلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، نبی ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، میں ان کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، انہوں نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں جانب کرلیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قبرستان جا (کر غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔
قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَق
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے نماز کا کوئی مسئلہ دریافت کیا، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرو، یعنی اسے اسباغ وضو کا حکم دیا، ان ہی میں سے ایک بات یہ بھی ارشاد فرمائی کہ جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو یہاں تک کہ تم اطمینان سے رکوع کرلو اور جب سجدہ کرو تو اپنی پیشانی کو زمین پر ٹکا دو یہاں تک کہ زمین کا حج محسوس کرنے لگو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلِّلْ أَصَابِعَ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ يَعْنِي إِسْبَاغَ الْوُضُوءِ وَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُ إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ وَقَالَ الْهَاشِمِيُّ مَرَّةً حَتَّى تَطْمَئِنَّا وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنْ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی ﷺ بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ ﷺ نے مانگ نکالنا شروع کردی تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ شُعُورَهُمْ وَكَانَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے نبی ﷺ کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ رات کو تیار کی جانے والی نبیذ دن کو اور دن کو تیار کی جانے والی نبیذ رات کو پی لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يَشْرَبُ بِالنَّهَارِ مَا صُنِعَ بِاللَّيْلِ وَيَشْرَبُ بِاللَّيْلِ مَا صُنِعَ بِالنَّهَارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نقیر، دباء اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جنہیں باندھا جاسکے (منہ بند ہوجائے) لوگوں نے اونٹ کی کھالوں کے مشکیزے بنائے اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بکری کی کھال استعمال کرنے لگے، نبی ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جن کا اوپر والا حصہ بھی ان برتنوں کا جزو ہو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيذِ فِي النَّقِيرِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو زمزم پلایا ہے اور انہوں نے کھڑے ہو کر زمزم پیا ہے۔
قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبیداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) فرمانے لگے کہ جس طرح اللہ نے جنگ احد کے موقع پر مسلمانوں کی مدد کی، کسی اور موقع پر اس طرح مدد نہیں فرمائی، ہمیں اس پر تعجب ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میری بات پر تعجب کرنے والوں اور میرے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ تعالیٰ غزوہ احد کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے (لفظ " حس " کا معنی قتل ہے) اور اس سے مراد تیر انداز ہیں۔ اصل میں نبی ﷺ نے تیر اندازوں کو ایک جگہ پر کھڑا کیا تھا اور ان سے فرمادیا تھا کہ تم لوگ پشت کی طرف سے ہماری حفاظت کرو گے، اگر تم ہمیں قتل ہوتا ہوا بھی دیکھو تو ہماری مدد کو نہ آنا اور اگر ہمیں مال غنیمت اکٹھا کرتے ہوئے دیکھو تب بھی ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا، چناچہ جب نبی ﷺ کو غنیم پر فتح اور مال غنیمت حاصل ہوا اور مسلمان مشرکین کے لشکر پر پل پڑے تو وہ تیر انداز بھی اپنی جگہ چھوڑ کر مشرکین کے لشکر میں داخل ہوگئے اور مال غنیمت جمع کرنا شروع کردیا، یوں صحابہ کرام (رض) کی صفیں آپس میں یوں مل گئیں، راوی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھائیں اور یہ لوگ خلط ملط ہوگئے۔ ادھر جب تیر اندازوں کی جگہ خالی ہوگئی تو وہ یہاں سے کفار کے گھوڑے اتر اتر کر صحابہ کرام (رض) کی طرف بڑھنے لگے لوگ ایک دوسرے کو مارنے لگے اور انہیں التباس ہونے لگا، اس طرح بہت سے مسلمان شہید ہوگئے، حالانکہ میدان صبح کے وقت نبی ﷺ اور صحابہ کرام (رض) ہی کے ہاتھ رہا تھا اور مشرکین کے سات یا نو علمبردار بھی مارے گئے تھے۔ بہرحال ! مسلمان پہاڑ کی طرف گھوم کر پلٹے لیکن وہ اس غار تک نہ پہنچ سکے جو لوگ کہہ رہے تھے، وہ محض ایک ہاون دستہ نما چیز کے نیچے رہ گئے تھے، دوسری طرف شیطان نے یہ افواہ پھیلادی کہ نبی ﷺ شہید ہوگئے، کسی کو اس کے صحیح ہونے میں شک تک نہ ہوا، ابھی ہماری یہی کیفیت تھی کہ نبی ﷺ سعد نامی دو صحابہ (رض) کے درمیان طلوع ہوئے، ہم نے انہیں ان کی چال ڈھال سے پہچان لیا، ہم بہت خوش ہوئے اور ایسی خوشی محسوس ہوئی کہ گویا ہمیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں ہے، نبی ﷺ ہماری طرف چڑھنے لگے، اس وقت آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے کہ اس قوم پر اللہ کا بڑا سخت غضب نازل ہوگا جس نے اپنے نبی ﷺ کے چہرے کو خون آلود کردیا، پھر فرمایا اے اللہ ! یہ ہم پر غالب نہ آنے پائیں، یہاں تک کہ نبی ﷺ ہم تک پہنچ گئے۔ ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ ابوسفیان کی آواز پہاڑ کے نیچے سے آئی جس میں وہ اپنے معبود ہبل کی جے کاری کے نعرے لگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ابن ابی کبشہ (نبی ﷺ کہا ہیں ؟ ابن ابی قحافہ (صدیق اکبر (رض) کہاں ہیں ؟ ابن خطاب (عمر فاروق (رض) کہاں ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میں اسے جواب نہ دوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں، چناچہ جب ابوسفیان نے ہبل کی جے ہو کا نعرہ لگایا تو حضرت عمر (رض) نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور فرمایا اللہ بلندو برتر ہے اور بزرگی والا ہو، ابو سفیان کہنے لگا اے ابن خطاب ! تم ہبل سے دشمنی کرو یا دوستی، اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں، پھر کہنے لگا کہ ابن ابی کبشہ، ابن ابی قحافہ اور ابن خطاب کہا ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ یہ نبی ﷺ موجود ہیں، یہ حضرت ابوبکر (رض) موجود ہیں اور یہ میں ہوں عمر۔ ابوسفیان نے کہا کہ یہ جنگ بدر کا انتقام ہے، دن کی مثال ڈول کی طرح ہے اور جنگ بھی ڈول کی طرح ہوتی ہے (جو کبھی کسی کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور کبھی کسی کے) حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اس میں بھی برابری نہیں، ہمارے مقتول جنت میں ہوں گے اور تمہارے مقتول جہنم میں، ابوسفیان نے کہا کہ یہ تمہارا خیال ہے، اگر ایسا ہو تو یقینا ہم نقصان اور گھاٹے میں رہے، پھر اس نے کہا کہ مقتولین میں تمہیں کچھ لاشیں ایسی بھی ملیں گی جن کے ناک کان کاٹ لئے گئے ہیں، یہ ہمارے سرداروں کے مشورے سے نہیں ہوا، پھر اسے جاہلیت کی حمیت نے گھیر لیا اور وہ کہنے لگا کہ بہرحال ! ایسا ہوا ہے، گویا اس نے اسے ناپسند نہیں سمجھا۔
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ مَا نَصَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي مَوْطِنٍ كَمَا نَصَرَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ وَلَقَدْ صَدَقَكُمْ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسُّ الْقَتْلُ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ ثُمَّ قَالَ احْمُوا ظُهُورَنَا فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا نُقْتَلُ فَلَا تَنْصُرُونَا وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا فَلَا تَشْرَكُونَا فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَاحُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ وَقَدْ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُمْ كَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ وَالْتَبَسُوا فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا دَخَلَتْ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا وَقُتِلَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ أَوَّلُ النَّهَارِ حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ أَوْ تِسْعَةٌ وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَةً نَحْوَ الْجَبَلِ وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ الْغَارَ إِنَّمَا كَانُوا تَحْتَ الْمِهْرَاسِ وَصَاحَ الشَّيْطَانُ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ حَتَّى طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى قَالَ فَفَرِحْنَا حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا قَالَ فَرَقِيَ نَحْوَنَا وَهُوَ يَقُولُ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ رَسُولِهِ قَالَ وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَمَكَثَ سَاعَةً فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ يَعْنِي آلِهَتَهُ أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُجِيبُهُ قَالَ بَلَى فَلَمَّا قَالَ اعْلُ هُبَلُ قَالَ عُمَرُ اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمَتْ عَيْنُهَا فَعَادِ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهَا أَنَا ذَا عُمَرُ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ الْأَيَّامُ دُوَلٌ وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَا سَوَاءً قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونَ ذَلِكَ لَقَدْ خِبْنَا إِذَنْ وَخَسِرْنَا ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ أَمَا إِنَّكُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثْلًا وَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ عَنْ رَأْيِ سَرَاتِنَا قَالَ ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَقَالَ أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَاكَ وَلَمْ نَكْرَهُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! ﷺ کیا اس کا حج ہوسکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً أَخْرَجَتْ صَبِيًّا لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِهَذَا حَجٌّ فَقَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس وحضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ منیٰ سے رات کو واپس ہوئے۔
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ قَالَا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى لَيْلًا
তাহকীক: