আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩৩৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت خدیجہ (رض) کے بعد بچوں میں سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا اسلام قبول کرنے والے حضرت علی (رض) ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ وَقَالَ مَرَّةً أَسْلَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے وصال کے وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَأَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گذار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو کی روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَدَّثَنِي هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو شب معراج بیت المقدس کی سیر کرائی گئی، پھر آپ ﷺ ہی اس رات واپس بھی آگئے اور قریش کو اپنے جانے کے متعلق اور بیت المقدس کی علامات اور ان کے ایک قافلے کے متعلق بتایا، کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا محمد کی اس بات کی ہم تصدیق کرسکتے ہیں، یہ کہہ کر وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے ساتھ ان کی گردنیں بھی مار دیں۔ ایک مرتبہ ابو جہل نے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہمیں تھوہڑ کے درخت سے ڈراتے ہیں، تم میرے پاس کھجور اور جھاگ لے کر آؤ، م ہیں تمہیں تھوہڑ بنا کر دکھاتا ہوں۔ اسی شب معراج میں نبی ﷺ نے دجال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو خواب میں دیکھنا نہ تھا، نیز حضرت عیسی، موسیٰ اور ابراہیم (علیہم السلام) کی بھی زیارت فرمائی تھی، نبی ﷺ سے کسی نے دجال کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اسے بڑے ڈیل ڈول کا اور سبزی مائل سفید رنگ والا پایا، اس کی ایک آنکھ قائم تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی چمکتا ہوا موتی ہو اور اس کے سر کے بال کسی درخت کی ٹہنیوں کی طرح تھے۔ میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ سفید رنگ کے جوان تھے، ان کے سر کے بال گھنگھریالے تھے، نگاہیں تیز تھیں، جسمانی اعتبار سے پتلے پیٹ والے تھے، میں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ انتہائی گندمی رنگ اور گھنے بالوں والے تھے اور جسمانی اعتبار سے بڑے مضبوط تھے، نیز میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا، ان کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ تھا جو میں نے نہ دیکھا ہو اور اپنے آپ میں وہ عضو اسی طرح نہ دیکھا ہو، گویا وہ ہو بہو تمہارے پیغمبر کی طرح ہیں، پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا مالک کو جو داروغہ جہنم ہے، سلام کیجئے، چناچہ میں نے انہیں سلام کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَسَنٌ أَبُو زَيْدٍ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِيرِهِمْ فَقَالَ نَاسٌ قَالَ حَسَنٌ نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ فَارْتَدُّوا كُفَّارًا فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ بِشَجَرَةِ الزَّقُّومِ هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوا وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ وَعِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ فَقَالَ أَقْمَرُ هِجَانًا قَالَ حَسَنٌ قَالَ رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا أَقْمَرَ هِجَانًا إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ كَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ جَعْدَ الرَّأْسِ حَدِيدَ الْبَصَرِ مُبَطَّنَ الْخَلْقِ وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ آدَمَ كَثِيرَ الشَّعْرِ قَالَ حَسَنٌ الشَّعَرَةِ شَدِيدَ الْخَلْقِ وَنَظَرْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ مِنِّي كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام سَلِّمْ عَلَى مَالِكٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں سینگی لگوائی اور اس کی وجہ زہریلی بکری کا وہ لقمہ تھا جو نبی ﷺ نے کھالیا تھا اور خیبر کی ایک عورت نے اس میں زہر ملا دیا تھا۔ تنبیہ : یہاں آکر حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی مرویات مکمل ہوگئیں، آگے مسند کو عبداللہ بن احمد (رح) سے نقل کرنے والے ابوبکرا لقطیعی (رح) کی کچھ احادیث آرہی ہیں جو جزء ثالث کے آخر میں تھیں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خاطر آپ کے احرام باندھنے سے قبل جانوروں کے گلے میں ڈالنے والے ہاروں کی رسیاں بٹا کرتی تھی۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فروح و ریحان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ابوبکر (رض) غار میں میرے ساتھ اور مونس رہے، مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کردو سوائے حضرت ابوبکر (رض) کی کھڑکی کے۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک ایک آدمی لوگوں کی ایک بڑی جماعت کی سفارش کرے گا اور وہ سب اس کی سفارش سے جنت میں داخل ہوں گے اور ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی کسی شخص کے لئے اور اس کے اہل خانہ کے لئے سفارش کرے گا اور وہ سب بھی اس کی سفارش سے جنت میں داخل ہوں گے۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے ہمارے یہاں تشریف لائے تو آپ ﷺ کے صحابہ میں سوائے حضرت ابوبکر (رض) کے کوئی دوسرا کھچڑی بالوں والا نہ تھا، بعد میں وہ مہندی اور وسمہ سے انہیں رنگنے لگے تھے۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ مسح علی الخفین کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ مقیم کے لئے ایک دن اور رات اور مسافر کے لئے تین دن اور راتیں اجازت ہے۔ حضرت جابربن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن جو شخص تم سے یہ بیان کرے کہ اس نے نبی ﷺ کو ہمیشہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے تو وہ غلط بیانی کرتا ہے، کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ نبی ﷺ باہر نکلتے اور لوگوں کی تعداد کم دیکھتے تو آپ ﷺ بیٹھ جاتے، پھر جب لوگ زیادہ ہوجاتے تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمانے لگتے۔ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت انصار کے دو گھروں کے درمیان یا اپنے والدین کے یہاں مہمان بنے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ سُئِلَ قَالَ حَسَنٌ سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ عَنِ الصَّائِمِ أَيَحْتَجِمُ فَقَالَ إِنَّمَا كُرِهَ لِلضَّعْفِ وَحَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَكْلَةٍ أَكَلَهَا مِنْ شَاةٍ مَسْمُومَةٍ سَمَّتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ آخِرُ أَحَادِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
tahqiq

তাহকীক: