আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩০৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے آیت قرآنی " و اذ یمکر بک الذین کفرو " کی تفسیر میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت قریش نے مکہ مکرمہ میں باہم مشورہ کیا، بعض نے کہا کہ صبح ہوتے ہی محمد ﷺ کو بیڑیوں میں جکڑ دو ، بعض نے کہا کہ قتل کردو اور بعض نے انہیں نکال دینے کا مشورہ دیا، اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو مشرکین کی اس مشاورت کی اطلاع دے دی۔ چناچہ اس رات نبی ﷺ کے بستر پر حضرت علی (رض) سوگئے اور نبی ﷺ وہاں سے نکل کر نماز میں چلے گئے، مشرکین ساری رات حضرت علی (رض) کو نبی ﷺ سمجھتے ہوئے پہرہ داری کرتے رہے اور صبح ہوتے ہی انہوں نے ہلہ بول دیا، لیکن دیکھا تو وہاں حضرت علی (رض) تھے، اس طرح اللہ نے ان کے مکر کو ان پر لوٹا دیا، وہ کہنے لگے کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا مجھے نہیں پتہ، پھر وہ نبی ﷺ کے نشانات قدم تلاش کرتے ہوئے نکلے، جب وہ اس پہاڑ پر پہنچے تو انہیں التباس ہوگیا، وہ پہاڑ پر بھی چڑھے اور اسی غار کے پاس سے بھی گذرے (جہاں نبی ﷺ پناہ گزین تھے) لیکن انہیں غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا دیکھائی دیا، جسے دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اگر وہ یہاں ہوتے تو اس غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا، نبی ﷺ اس غار میں تین دن ٹھہرے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ قَالَ تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا أَصْبَحَ فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ اقْتُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ أَخْرِجُوهُ فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ فَقَالُوا أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ فَمَرُّوا بِالْغَارِ فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ فَقَالُوا لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) بن متی سے بہتر ہوں، ان سے ایک معمولی لغزش ہوئی تھی، پھر ان کے پروردگار نے انہیں چن لیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى نَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ أَصَابَ ذَنْبًا ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے، حضرت عباس (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چناچہ نبی ﷺ نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا سوائے اذخر کے کہ وہ حلال ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص خوف کی وجہ سے یا ان کی کسی تاثیر کے اندیشے سے انہیں چھوڑ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور فرماتے تھے کہ سانپ جنات کی بدلی ہوئی شکل ہوتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَيَقُولُ مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْجَانَّ مَسِيخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتْ الْقِرَدَةُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سانپ جنات کی مسخ شدہ شکل ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے ساتھ تھا، حضرت زید بن ثابت (رض) ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جاسکتی ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! حضرت زید (رض) نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی ﷺ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا ؟ بعد میں حضرت زید بن ثابت (رض) ہنستے ہوئے حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو حاضر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر (رض) سے اس مٹکے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آگیا اور ان سے حضرت ابن عمر (رض) کا جواب بھی ذکر کردیا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے ؟ فرمایا ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ لَهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَدَقَ فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب ماہ رمضان میں فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ توڑ دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ فَأَفْطَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عطاء بن ابی رباح (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین حضرت میمونہ (رض) کے جنازے میں حضرت ابن عباس (رض) کے ساتھ موجود تھے، حضرت ابن عباس (رض) فرمانے لگے یہ میمونہ ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی ﷺ کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ ﷺ آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں حضرت میمونہ (رض) بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ حضرت صفیہ (رض) تھیں، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ حضرت سودہ (رض) تھیں۔ واللہ اعلم)
حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا فَلَا تُزَعْزِعُوهَا وَلَا تُزَلْزِلُوا وَارْفُقُوا فَإِنَّهُ كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَا يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ لِلْخَلَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَقُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عطاء بن ابی رباح (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین حضرت میمونہ (رض) کے جنازے میں حضرت ابن عباس (رض) کے ساتھ موجود تھے، حضرت ابن عباس (رض) فرمانے لگے یہ میمونہ ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی ﷺ کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ ﷺ آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں حضرت میمونہ (رض) بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ حضرت صفیہ (رض) تھیں، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ حضرت سودہ (رض) تھیں۔ واللہ اعلم)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ تُوُفِّيَتْ قَالَ فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى سَرِفَ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ لَا تُزَعْزِعُوا بِهَا وَلَا تُزَلْزِلُوا ارْفُقُوا فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَلَا يَقْسِمُ لِلتَّاسِعَةِ يُرِيدُ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَالَ عَطَاءٌ كَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کے مرض الوفات میں حضرت ابن عباس (رض) نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے) اس نے کہ اماں جان ! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آکر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہوجائے، آپ نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں اور نبی ﷺ اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گرپڑا تھا نبی ﷺ نے وہاں پڑاؤ کرلیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے جبرئیل امین (علیہ السلام) لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں اے ابن عباس ! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، بخدا ! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَمُوتُ وَعِنْدَهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ وَهُوَ مِنْ خَيْرِ بَنِيكِ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمِنْ تَزْكِيَتِهِ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ فَقِيهٌ فِي دِينِ اللَّهِ فَأْذَنِي لَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْكِ وَلْيُوَدِّعْكِ قَالَتْ فَأْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ قَالَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ سَلَّمَ وَجَلَسَ وَقَالَ أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ يَذْهَبَ عَنْكِ كُلُّ أَذًى وَنَصَبٍ أَوْ قَالَ وَصَبٍ وَتَلْقَيْ الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ أَوْ قَالَ أَصْحَابَهُ إِلَّا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ فَقَالَتْ وَأَيْضًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ مَسْجِدٌ إِلَّا وَهُوَ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ بِالْأَبْوَاءِ فَاحْتَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلِ وَالنَّاسُ مَعَهُ فِي ابْتِغَائِهَا أَوْ قَالَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَصْبَحَ الْقَوْمُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا الْآيَةَ فَكَانَ فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ لِلنَّاسِ عَامَّةً فِي سَبَبِكِ فَوَاللَّهِ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ فَقَالَتْ دَعْنِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ مجھے صحابہ (رض) میں سب سے بڑے عالم (ابن عباس (رض) نے بتایا (کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے) کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کردینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ قَالَ وَلَكِنْ يَمْنَحُ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُعْطِيَهُ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس (رض) سے بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی ﷺ نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے ؟ تو یاد رکھئے ! نبی ﷺ نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں ! ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے ( اور تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنْ الْغُلَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا : میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ اس سے نبی ﷺ کا مقصد کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لِمَ فَعَلَ ذَاكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ قریب ہوجاؤ اور تم بھی کھاؤ شاید تم روزے سے ہو ؟ نبی ﷺ نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُهُ بِعَرَفَةَ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا فَقَالَ ادْنُ فَكُلْ لَعَلَّكَ صَائِمٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُهُ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ طائف کے موقع پر جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کردیا جو نبی ﷺ کے پاس آگئے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ أَعْتَقَ مِنْ رَقِيقِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سفر میں دو اور اقامت میں چار رکعتیں پڑھی ہیں، لہذا جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص حضر میں دو رکعتیں پڑھے، نیز فرمایا کہ نماز میں قصر ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ نبی ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائی تھیں جو مجاہدین نے ایک ایک رکعت کر کے نبی ﷺ کی اقتداء میں اداء کی تھیں۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَقْصُرْ الصَّلَاةَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ مَثَلُ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ (رض) نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کردیا گیا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ
tahqiq

তাহকীক: