আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩১২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
خواجہ حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے ماہ رمضان کے آخر میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے اہل بصرہ ! اپنے روزے کی زکوٰۃ ادا کرو، لوگ یہ سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، پھر فرمایا کہ یہاں اہل مدینہ میں سے کون ہے ؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سکھاؤ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کی مقدار نصف صاع گندم یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور مقرر فرمائی ہے جو آزاد اور غلام، مذکر اور مؤنث سب پر ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي النَّاسَ آخِرِ رَمَضَانَ فَقَالَ يَا أَهْلَ الْبَصْرَةِ أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ قَالَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابن ابی ملیکہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ أَمْوَالًا كَثِيرَةً وَدِمَاءًٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد حضرت ابن عباس (رض) نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا : یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے، اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کردیا، اس پر حضرت ابن عباس (رض) کو غصہ آگیا اور وہ فرمانے لگے کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے ؟ ہم نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے دو نمازوں کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ وَمُعَاذٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قَامَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَنْتَ تُعْلِمُنَا بِالصَّلَاةِ قَدْ كُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ مُعَاذٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادئ بطحا میں، میں نے ایک شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے ابو القاسم ﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِالْأَبْطَحِ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں شانے کا بھنا ہوا گوشت پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو کیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِكَتِفٍ مَشْوِيَّةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَتَمَلَّى ثُمَّ صَلَّى وَمَا تَوَضَّأَ مِنْ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوغطفان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس گیا تو انہیں وضو کرتے ہوئے پایا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دو یا تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے خوب اچھی طرح صاف کیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ قَارِظِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِي غَطَفَانَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَثِرُوا ثِنْتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت کے علاوہ میں سے کچھ دے دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنْ الْمَغْنَمِ دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ وَلَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَ فُلَانًا مِنْ وَجَعِهِ سَبْعًا إِلَّا شَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس (رض) سے خط لکھ کر بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا، نیز یہ کہ کیا خواتین نبی ﷺ کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتی تھیں ؟ اور کیا نبی ﷺ ان کا حصہ مقرر فرماتے تھے ؟ اس خط کا جواب حضرت ابن عباس (رض) نے مجھ سے لکھوایا تھا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی ﷺ نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے ؟ تو یاد رکھئے ! نبی ﷺ نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے) نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے ؟ تو نبی ﷺ نے ان کا کوئی حصہ معین نہیں کیا ہے البتہ مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ و عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَهَلْ كُنَّ النِّسَاءُ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَتَقُولُ إِنَّ الْعَالِمَ صَاحِبَ مُوسَى قَدْ قَتَلَ الْغُلَامَ فَلَوْ كُنْتَ تَعْلَمُ مِنْ الْوِلْدَانِ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ الْعَالِمُ قَتَلْتَ وَلَكِنَّكَ لَا تَعْلَمُ فَاجْتَنِبْهُمْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِهِمْ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَحْضُرْنَ الْحَرْبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَقَدْ كُنَّ يَحْضُرْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا أَنْ يَضْرِبَ لَهُنَّ بِسَهْمٍ فَلَمْ يَفْعَلْ وَقَدْ كَانَ يَرْضَخُ لَهُنَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) نبی ﷺ کے متعلق اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی ﷺ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دباء، حنتم، مزفت اور نقیر نامی برتنوں سے منع فرمایا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ پیغمبر تمہیں جو دے دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے یہاں رات کو رکا، نبی ﷺ عشاء کی نماز پڑھ کر ان کے پاس آگئے، کیونکہ اس دن رات کی باری انہی کی تھی، نبی ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر لیٹ گئے، کچھ دیر بعد فرمانے لگے کیا بچہ سو گیا ؟ حالانکہ میں سن رہا تھا، میں نے نبی ﷺ کو مصلی پر یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میرے کانوں، آنکھوں اور زبان میں نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَأَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا وَكَانَتْ لَيْلَتَهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْفَتَلَ فَقَالَ أَنَامَ الْغُلَامُ وَأَنَا أَسْمَعُهُ قَالَ فَسَمِعْتُهُ قَالَ فِي مُصَلَّاهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب (نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں (آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ ) نبی ﷺ نے فرمایا تم احرام باندھتے وقت شرط لگالو کہ میں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں اے اللہ ! آپ نے مجھے روک دیا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَرَادَتْ الْحَجَّ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِطِي عِنْدَ إِحْرَامِكِ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي فَإِنَّ ذَلِكِ لَكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَّةً الْحَجُّ أَوْ فِي كُلِّ عَامٍ قَالَ لَا بَلْ مَرَّةً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں اپنے گھروالوں کے سات دس ذی الحجہ کی رات ہی کو منیٰ کی طرف روانہ کردیا تھا اور ہم نے فجر کے بعدجمرہ عقبہ کی رمی کرلی تھی
حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى أَهْلِهِ إِلَى مِنًى لَيْلَةَ النَّحْرِ فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
شعبہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے سجدہ کرتے ہوئے اپنے بازو زمین پر بچھا دیئے، انہوں نے فرمایا اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ کرتے تھے تو آپ ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ رَأَى ابْنُ عَبَّاسٍ رَجُلًا سَاجِدًا قَدْ ابْتَسَطَ ذِرَاعَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَكَذَا يَرْبِضُ الْكَلْبُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گذر رہے تھے، اس وقت نبی ﷺ صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی ﷺ نے ہمیں منع کیا اور نہ واپس بھیجا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَحَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ الْخَيَّاطُ يَعْنِي حَمَّادًا فِي فَضَاءٍ مِنْ الْأَرْضِ فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَنَحْنُ عَلَيْهِ حَتَّى جَاوَزْنَا عَامَّةَ الصَّفِّ فَمَا نَهَانَا وَلَا رَدَّنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
شعبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسور بن مخرمہ (رض) عنہ، حضرت ابن عباس (رض) کی عیادت کے لئے تشریف لائے، حضرت ابن عباس (رض) نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی اور ان کے سامنے ایک انگیٹھی پڑی تھی جس میں کچھ تصویریں تھیں، حضرت مسور کہنے لگے اے ابو العباس ! یہ کیا کپڑا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب ؟ فرمایا یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا بخدا ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمد للہ ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر حضرت مسور (رض) نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ دَخَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كَانُونٌ عَلَيْهِ تَمَاثِيلُ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ الَّذِي عَلَيْكَ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ إِسْتَبْرَقٌ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ قَالَ فَمَا هَذَا الْكَانُونُ الَّذِي عَلَيْهِ الصُّوَرُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا تَرَى كَيْفَ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ (رض) کا نام برہ تھا نبی ﷺ نے اس نام کو بدل کر جویریہ رکھ دیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز کے بعد نکلے اور حضرت جویریہ (رض) کے پاس آئے، حضرت جویریہ (رض) کہنے لگیں، یا رسول اللہ ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے اور وہ کلمات یہ ہیں ،" سبحان اللہ عدد خلقہ و سبحان اللہ رضاء نفسہ و سبحان اللہ زنۃ عرشہ وسبحن اللہ مداد کلماتہ والحمد للہ مثل ذلک
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ فَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ فَمَرَّ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ فِي مُصَلَّاهَا تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتَدْعُوهُ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَقَالَ يَا جُوَيْرِيَةُ مَا زِلْتِ فِي مَكَانِكِ قَالَتْ مَا زِلْتُ فِي مَكَانِي هَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَكَلَّمْتُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ هُنَّ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ میدان عرفات سے روانہ ہوئے تو لوگ اپنی سواریاں تیزی سے دوڑانے لگے، نبی ﷺ کے حکم پر ایک شخص نے یہ منادی کی کہ لوگو ! اونٹ اور گھوڑے تیز دوڑانا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے، اس لئے تم سکون کو اپنے اوپر لازم کرلو، پھر نبی ﷺ وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے کسی سواری کو اپنے ہاتھ اٹھائے تیزی کے ساتھ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر میرے والد عباس کو قیدی بنا کر گرفتار کرنے والے صحابی (رض) عنہہ کا نام ابو الیسر کعب بن عمرو تھا، جن کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ ابو الیسر ! تم نے انہیں کیسے قید کیا ؟ انہوں نے کہا کہ اس کام میں میری مدد ایک ایسے آدمی نے کی تھی جسے میں نے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں، اس کی ہیئت ایسی ایسی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کام میں تمہاری مدد ایک فرشتے نے کی تھی۔ پھر نبی ﷺ نے حضرت عباس (رض) سے فرمایا اے عباس ! اپنا اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم جس کا تعلق بنو فہر سے تھا، کا فدیہ ادا کرو، انہوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ میں تو بہت پہلے کا مسلمان ہوچکا ہوں، مجھے تو قریش نے زبردستی روک رکھا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا آپ کا اصل معاملہ اللہ جانتا ہے، اگر آپ کا دعوی برحق ہے تو اللہ آپ کو اس کا بدلہ دے گا، لیکن ہم تو ظاہر کے ذمہ دار ہیں اس لئے کم ازکم اپنی جان کا فدیہ ادا کرو۔ نبی ﷺ نے ان جو فدیہ لیا تھا، وہ بیس اوقیہ سونا تھا، انہوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ میرا فدیہ آپ الگ کر کے میرے لئے رکھ لیجئے، نبی ﷺ نے انکار کردیا اور فرمایا یہ تو اللہ نے ہمیں آپ سے دلوایا ہے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ میرے پاس کچھ بھی مال و دولت نہیں رہا، فرمایا وہ مال جو تم نے مکہ مکرمہ سے نکلتے وقت ام الفضل کے پاس رکھوایا تھا اور اس وقت تم دونوں کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا، کہاں جائے گا ؟ اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں کام آگیا تو اتنا فضل کا ہے، اتنا قثم کا اور اتنا عبداللہ کا، حضرت عباس (رض) یہ سن کر کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میرے اور میری بیوی کے علاوہ کسی شخص کو بھی اس کا کچھ پتہ نہ تھا اور میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَحَدُ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيَسَرِ قَالَ لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ هَيْئَتُهُ كَذَا هَيْئَتُهُ كَذَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ يَا عَبَّاسُ افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ أَحَدُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ قَالَ فَأَبَى وَقَالَ إِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ وَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا فَافْدِ نَفْسَكَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ مِنْهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْسُبْهَا لِي مِنْ فِدَايَ قَالَ لَا ذَاكَ شَيْءٌ أَعْطَانَاهُ اللَّهُ مِنْكَ قَالَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ قَالَ فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ حَيْثُ خَرَجْتَ عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ وَلَيْسَ مَعَكُمَا أَحَدٌ غَيْرَكُمَا فَقُلْتَ إِنْ أُصِبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا فَلِلْفَضْلِ كَذَا وَلِقُثَمَ كَذَا وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلِمَ بِهَذَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক: