আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৩৬৮৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والا اور ہجرت کے بعد مرتد ہوجانے والے دیہاتی نبی ﷺ کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دیئے گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَعْوَرِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَكَاتِبُهُ وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمُوا بِهِ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ وَلَاوِي الصَّدَقَةِ وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ سَوَاءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، صحابہ کرام (رض) دو صفوں میں کھڑے ہوئے، ایک صف نبی ﷺ کے پچھے اور دوسری صف دشمن کے سامنے، مجموعی طور پر وہ سب نماز ہی میں تھے، چناچہ نبی ﷺ نے تکبیر کہی اور ان کے ساتھ سب لوگوں نے تکبیر کہی، پھر نبی ﷺ نے اپنے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ کھڑے ہو کر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے اور دوسری صف والے آگئے اور پہلی صف والوں کی جگہ پر کھڑے ہوگئے، نبی ﷺ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا، پھر ان لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر کر پہلی صف والوں کی جگہ جا کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے اور پہلی صف والوں نے اپنی جگہ واپس آکر ایک رکعت پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ صَفَّا خَلْفَهُ وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ قَالَ وَهُمْ فِي صَلَاةٍ كُلُّهُمْ قَالَ وَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ قَالَ ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَامَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ صَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ فَقَضَوْا مَكَانَهُمْ ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَضَوْا رَكْعَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، پھر معلوم ہونے پر سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ یہ دو سجدے اس شخص کے لئے ہیں جسے نماز میں کمی بیشی کا اندیشہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ خَمْسًا ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ زَادَ أَوْ نَقَصَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں ہم نبی ﷺ کو دوران نماز سلام کرتے تو آپ ﷺ جواب دے دیتے تھے لیکن جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس آئے اور انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا اور فرمایا دراصل نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا وَقَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کو دوران نماز سلام کرتا تھا تو آپ ﷺ جواب دے دیتے تھے لیکن ایک دن میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے اس کا بڑا رنج ہوا، جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ پہلے تو میں دوران نماز آپ کو سلام کرتا تھا تو آپ سلام کا جواب دے دیتے تھے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں جس طرح چاہتا ہے، نیا حکم بھیج دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ أَبِي الرَّضْرَاضِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي إِذَا كُنْتُ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ رَدَدْتَ عَلَيَّ قَالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! (اگر میں اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلوں تو) کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر میرا مؤاخذہ ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال کرلو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُؤَاخَذُ أَحَدُنَا بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں جو باتیں بھول گیا، سو بھول گیا، لیکن یہ بات نہیں بھولا کہ نبی ﷺ اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا نَسِيتُ فِيمَا نَسِيتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ أَيْضًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي الضُّحَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عبداللہ ! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تمہاری حکومت کی باگ دوڑ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آجائے گی جو سنت کو مٹا دیں گے اور نماز کو اس کے وقت مقررہ سے ہٹا دیں گے ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ مجھے اس وقت کے لئے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے ابن ام عبد ! تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کرنا چاہئے ؟ یاد رکھو ! اللہ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں کی جاتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَيْفَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُضَيِّعُونَ السُّنَّةَ وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا قَالَ كَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تَسْأَلُنِي ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ كَيْفَ تَفْعَلُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو عمرو شیبانی ہم سے اس گھر میں رہنے والے نے یہ حدیث بیان کی ہے، یہ کہہ کر انہوں نے حضرت ابن مسعود (رض) کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور ادب کی وجہ سے ان کا نام نہیں لیا کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے وقت پر نماز پڑھنا، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا والدین کے ساتھ حسن سلوک، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد، نبی ﷺ نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ ﷺ مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يُسَمِّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکثر سبحانک اللہم وبحمدک اللہم اغفرلی پڑھتے تھے، جب نبی ﷺ پر سورت نصر نازل ہوئی تو آپ ﷺ یوں کہنے لگے سبحانک اللہم وبحمدک اے اللہ ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي فَلَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے پیغمبر کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں حضرت عثمان غنی (رض) کے دور خلافت میں حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ حج کرنے کا شرف حاصل ہوا، جب ہم نے عرفات کے میدان میں وقوف کیا اور سورج غروب ہوگیا تو حضرت ابن مسعود (رض) فرمانے لگے کہ اگر امیرالمومنین اس وقت روانہ ہوجاتے تو بہت اچھا اور صحیح ہوتا، میں نہیں سمجھتا کہ حضرت ابن مسعود (رض) کا جملہ پہلے پورا ہوا یا حضرت عثمان غنی (رض) کی واپسی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تیز رفتاری سے جانوروں کو دوڑانا شروع کردیا لیکن حضرت ابن مسعود (رض) نے اپنی سواری کو صرف تیز چلانے پر اکتفاء کیا (دوڑایا نہیں) یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ قَالَ فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ قَالَ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ كَانَ قَدْ أَصَابَ قَالَ فَلَا أَدْرِي كَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ قَالَ فَأَوْضَعَ النَّاسُ وَلَمْ يَزِدْ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ حَتَّى أَتَيْنَا جَمِيعًا فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ ثُمَّ تَعَشَّى ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ رَقَدَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ قَالَ وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَهَذَا الْمَكَانِ يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز عشاء کے بعد قصہ گوئی کو ہمارے لئے معیوب قرار دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَدَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَاءِ قَالَ خَالِدٌ مَعْنَى جَدَبَ إِلَيْنَا يَقُولُ عَابَهُ ذَمَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا کہ کھڑے ہونے تک ؟ فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوَلَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ قُلْتُ حَتَّى يَقُومَ قَالَ حَتَّى يَقُومَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے تھے کہ سنجیدگی یا مذاق کسی صورت میں بھی جھوٹ بولنا صحیح نہیں ہے اور کوئی شخص کسی بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے جسے وہ پورا نہ کرے اور ہم سے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ مِنْهُ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً جِدٌّ وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ صَبِيًّا ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ قَالَ وَإِنَّ مُحَمَّدًا قَالَ لَنَا لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تلبیہ پڑھا کرتے تھے، لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مدینہ منورہ کے کسی کھیت میں چل رہے تھے، نبی ﷺ اپنی لاٹھی ٹیکتے جا رہے تھے، چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت پر سے گذر ہوا، انہوں نے نبی ﷺ سے روح کے متعلق دریافت کیا نبی ﷺ خاموش ہوگئے، پھر نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح تو میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَسِيبٍ فَقَامَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ الْيَهُودِ فَسَأَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَسَكَتَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ عَلَيْهِمْ يَسْأَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا وہ آدمی ہوگا جو پل صراط پر چلتے ہوئے کبھی اوندھا گرجاتا ہوگا، کبھی چلنے لگتا ہوگا اور کبھی آگ کی لپٹ اسے جھلسا دیتی ہوگی، جب وہ پل صراط کو عبور کرچکے گا تو اس کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، اللہ نے یہ مجھے ایسی نعمت عطاء فرمائی ہے جو اولین و آخرین میں سے کسی کو نہیں دی۔ اس کے بعد اس کی نظر ایک درخت پر پڑے گی جو اسی کی وجہ سے وہاں لایا گیا ہوگا، وہ اسے دیکھ کر کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے میرے بندے ! اگر میں نے تجھے اس درخت کے قریب کردیا تو تو مجھ سے کچھ اور بھی مانگے گا ؟ وہ عرض کرے گا نہیں، پروردگار ! اور اللہ سے کسی اور چیز کا سوال نہ کرنے کا وعدہ کرے گا حالانکہ پروردگار کے علم میں یہ بات ہوگی کہ وہ اس سے مزید کچھ اور بھی مانگے گا کیونکہ اس کے سامنے چیزیں ہی ایسی آئیں گی جن پر صبر نہیں کیا جاسکتا، تاہم اسے اس درخت کے قریب کردیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد اس کی نظر اس سے بھی زیادہ خوبصورت درخت پر پڑے گی اور حسب سابق سوال جواب ہوں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بندے ! کیا تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا کہ اب کچھ اور نہیں مانگے گا ؟ وہ عرض کرے گا پروردگار ! مجھے جنت میں داخلہ عطاء فرما، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ اے بندے ! تجھ سے میرا پیچھا کیا چیز چھڑائے گی ؟ کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے جنت میں دنیا اور اس کے برابر مزید دے دیا جائے ؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار ! تو رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے ؟ اتنا کہہ کر حضرت ابن مسعود (رض) اتنا ہنسے کہ ان کے دندان ظاہر ہوگئے، پھر کہنے لگے کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ خود ہی اپنے ہنسنے کی وجہ بتا دیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے ہنسنے کی وجہ سے، کیونکہ نبی ﷺ بھی اس موقع پر مسکرائے تھے اور ہم سے فرمایا تھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ خود ہی اپنے مسکرانے کی وجہ بتا دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا پروردگار کے ہنسنے کی وجہ سے، جب اس نے یہ عرض کیا کہ پروردگار ! آپ رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، لیکن میں جو چاہوں، وہ کرنے پر قادر ہوں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً وَيَكْبُو مَرَّةً وَتَسْقَفُهُ النَّارُ مَرَّةً فَإِذَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ تَبَارَكَ الَّذِي أَنْجَانِي مِنْكِ لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنْ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا فَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ لَهُ اللَّهُ يَا ابْنَ آدَمَ فَلَعَلِّي إِذَا أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا قَالَ وَرَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَى فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ هَذِهِ فَلْأَشْرَبْ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْ الْأُولَيَيْنِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا قَالَ بَلَى أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَتَسْتَهْزِئُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَكُ فَقَالَ هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ فَقَالُوا مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مِنْ ضَحِكِ رَبِّي حِينَ قَالَ أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَدِيرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دھوکہ باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭০৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح حضرت ابو لبابہ (رض) اور حضت علی (رض) نبی ﷺ کے ساتھی تھے، جب نبی ﷺ کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں) نبی ﷺ نے فرمایا تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ كُلُّ ثَلَاثَةٍ عَلَى بَعِيرٍ كَانَ أَبُو لُبَابَةَ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَانَتْ عُقْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَا نَحْنُ نَمْشِي عَنْكَ فَقَالَ مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي وَلَا أَنَا بِأَغْنَى عَنْ الْأَجْرِ مِنْكُمَا
tahqiq

তাহকীক: