আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৪২০৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) ہر جمعرات کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ان سے کسی نے کہا ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ فرمایا کریں، انہوں نے فرمایا میں تمہیں اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا اور نبی ﷺ بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ كُلَّ خَمِيسٍ أَوْ اثْنَيْنِ الْأَيَّامَ قَالَ فَقُلْنَا أَوْ فَقِيلَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا لَنُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ وَوَدِدْنَا أَنَّكَ تُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذَاكَ إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي لَأَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ضرورت کے بقدر موجود ہوتے ہوئے بھی دست سوال دراز کرے، قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ نوچا گیا ہوا محسوس ہوگا، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ ضرورت سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ وَلَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِمَنْ لَهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ عِوَضُهَا مِنْ الذَّهَبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ (رض) یہ دعاء کر رہی تھیں کہ اے اللہ ! مجھے اپنے شوہر نامدار جناب رسول اللہ ﷺ اپنے والد ابوسفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی ﷺ نے ان کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہوسکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعاء کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرمادے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ لَا يُعَجَّلُ مِنْهَا شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ وَلَا يُؤَخَّرُ مِنْهَا شَيْءٌ بَعْدَ حِلِّهِ وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا لَكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے یہ تذکرہ ہوا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آرہے ہیں۔
قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَمْسَخْ قَوْمًا أَوْ يُهْلِكْ قَوْمًا فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا وَلَا عَاقِبَةً وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ قَدْ كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے کسی چیز کی خریدوفروخت کی تھی، مشتری (خریدنے والا) کہنے لگا کہ یہ چیز میں نے اتنے میں خریدی ہے اور بائع (بچنے والا) کہنے لگا کہ یہ چیز میں نے اتنے میں فروخت کی ہے، ابوعبیدہ کہنے لگے کہ ایسا ہی ایک مقدمہ حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں بھی آیا تھا اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ ایسا ایک واقعہ نبی ﷺ کی موجودگی میں بھی پیش آیا تھا اور اس وقت میں وہاں موجود تھا، نبی ﷺ نے بائع (بچنے والا) کو حلف اٹھانے کا حکم دیا، پھر مشتری (خریدنے والا) کو اختیار دے دیا کہ چاہے تو اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي مِنْ هَاهُنَا فَأَقَرَّ بِهِ وَقَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ يَعْنِي الْقَدَّاحَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ سِلْعَةً فَقَالَ هَذَا أَخَذْتُ بِكَذَا وَكَذَا وَقَالَ هَذَا بِعْتُ بِكَذَا وَكَذَا فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا فَقَالَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مِثْلِ هَذَا فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ثُمَّ يُخَيَّرَ الْمُبْتَاعُ إِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ فِي الْبَيِّعَيْنِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ و قَالَ أَبِي قَالَ حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُبَيْدَةَ قَالَ وَحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ اگر بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کا اختلاف ہوجائے تو بائع (بچنے والا) کی بات کا اعتبار ہوگا اور مشتری (خریدنے والا) کو خریدنے یا نہ خریدنے کا اختیار ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ اگر بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کا اختلاف ہوجائے اور دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو بائع (بچنے والا) کی بات کا اعتبار ہوگا ورنہ دونوں اپنی اپنی چیزیں واپس لے لیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ مَا يَقُولُ صَاحِبُ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَرَادَّانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ اگر بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کا اختلاف ہوجائے اور دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہ ہوں تو بائع (بچنے والا) کی بات کا اعتبار ہوگا ورنہ دونوں اپنی اپنی چیزیں واپس لے لیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَالسِّلْعَةُ كَمَا هِيَ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
قاسم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی چیز کی قیمت میں حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت اشعث (رض) کا جھگڑا ہوگیا، ایک صاحب دس بتاتے تھے اور دوسرے بیس، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا اپنے اور میرے درمیان کسی کو ثالث مقرر کرلو، انہوں نے کہا کہ میں آپ ہی کو ثالث مقرر کرتا ہوں، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا پھر میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کے درمیان اختلاف ہوجائے، گواہ کسی کے پاس نہ ہوں تو بائع (بچنے والا) کی بات کا اعتبار ہوگا یا وہ دونوں نئے سرے سے بیع کرلیں۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا کی خواتین میں یہی عورتیں کافی ہیں، حضرت مریم بنت عمران (رض) ، حضرت آسیہ (رض) فرعون کی زوجہ، حضرت خدیجہ بنت خویلد (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) ۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَ ذَا بِعَشَرَةٍ وَقَالَ ذَا بِعِشْرِينَ قَالَ اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا قَالَ أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ قَالَ أَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَمْ تَكُنْ بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ
tahqiq

তাহকীক: