আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৮৪৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے باہر نکلے تو مجھ سے فرمایا کوئی چیز لے کر آؤ جس سے میں استنجاء کرسکوں، لیکن دیکھو بدلی ہوئی رنگ والا پانی یا گوبر نہ لانا، پھر میں نبی ﷺ کے لئے وضو کا پانی بھی لایا نبی ﷺ نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، اس نماز میں جب نبی ﷺ نے رکوع کے لئے اپنی کمر جھکائی تو دونوں ہاتھوں سے تطبیق کی اور اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے بیچ میں کرلیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ لَهُ فَقَالَ ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ وَلَا تُقْرِبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَحَنَا ثُمَّ طَبَّقَ يَدَيْهِ حِينَ رَكَعَ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے، کیا ہم داغ کر اس کا علاج کرسکتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے کوئی جواب دینے سے سکوت فرمایا : انہوں نے پھر پوچھا، نبی ﷺ نے پھر سکوت فرمایا اور کچھ دیر بعد فرمایا اسے پتھر گرم کر کے لگاؤ گویا نبی ﷺ ناراض ہوئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ نَسْتَأْذِنُهُ أَنْ نَكْوِيَهُ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ ارْضِفُوهُ إِنْ شِئْتُمْ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৪৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ وہ ہر مرتبہ جھکتے اٹھتے، کھڑے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی اور میں نے حضرات ابوبکر و عمر (رض) کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يَبْدُوَ جَانِبُ خَدِّهِ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لاسکا، نبی ﷺ نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا یہ ناپاک ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ وَقَالَ ائْتِنِي بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فَالْتَمَسْتُ فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَلَمْ أَجِدْ الثَّالِثَ فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ إِنَّهَا رِكْسٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ جعرانہ میں غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم فرما رہے تھے، لوگ نبی ﷺ کے پاس جمع ہوگئے حضور اقدس ﷺ ایک نبی کے متعلق بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ پروردگار ! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں، حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ وہ منظر اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ نبی ﷺ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنی پیشانی کو صاف فرما رہے تھے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعِرَّانَةِ قَالَ فَازْدَحَمُوا عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى قَوْمِهِ فَكَذَّبُوهُ وَشَجُّوهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ وَيَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ جَبْهَتَهُ يَحْكِي الرَّجُلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں سرگوشی سے کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا تھا اور نہ فلاں فلاں چیز سے، راوی کہتے ہیں کہ ایک چیز میرے استاذ بھول گئے اور ایک میں بھول گیا، میں ایک مرتبہ استاذ صاحب کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی بھی موجود تھے، میں نے انہیں حدیث کے آخر میں یہ بیان کرتے ہوئے پایا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ملاحظہ فرما ہی رہے ہیں کہ میرے حصے میں کتنے اونٹ آئے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اس تعداد میں مجھ سے دوچار تسمے بھی آگے بڑھے، کیا یہ تکبر نہیں ہے ؟ فرمایا یہ تکبر نہیں ہے، تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات قبول کرنے سے انکار کر دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَيَزِيدُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ كُنْتُ لَا أُحْبَسُ عَنْ ثَلَاثٍ وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَنَسِيَ عَمْرٌو وَاحِدَةً وَنَسِيتُ أَنَا أُخْرَى وَبَقِيَتْ هَذِهِ عَنْ النَّجْوَى عَنْ كَذَا وَعَنْ كَذَا قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَعِنْدَهُ مَالِكُ بْنُ مُرَارَةَ الرَّهَاوِيُّ قَالَ فَأَدْرَكْتُ مِنْ آخِرِ حَدِيثِهِ وَهُوَ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ قَدْ قُسِمَ لِي مِنْ الْجَمَالِ مَا تَرَى فَمَا أُحِبُّ أَنَّ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ فَضَلَنِي بِشِرَاكَيْنِ فَمَا فَوْقَهُمَا أَفَلَيْسَ ذَلِكَ هُوَ الْبَغْيَ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ بِالْبَغْيِ وَلَكِنَّ الْبَغْيَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ أَوْ بَطِرَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں شخص رات کو نماز سے غافل ہو کر سوتا رہا، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ قَالَ ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ أَوْ أُذُنَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) ہر جمعرات کو وعظ فرمایا کرتے تھے، ان سے کسی نے کہا ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ فرمایا کریں، انہوں نے فرمایا میں تمہیں اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا اور نبی ﷺ بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ مِمَّا يُذَكِّرُ كُلَّ يَوْمِ الْخَمِيسِ فَقِيلَ لَهُ لَوَدِدْنَا أَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ قَالَ إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں حضرت عبد ابن مسعود (رض) کے ساتھ تھا، جب وہ جمرہ عقبہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مجھے کچھ کنکریاں دو ، میں نے انہیں سات کنکریاں دیں، پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اونٹنی کی لگام پکڑ لو، پھر پیچھے ہٹ کر انہوں نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے اور یہ دعاء کرتے رہے کہ اے اللہ ! اسے حج مبرور بنا اور گناہوں کو معاف فرما، پھر فرمایا کہ وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورت بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَقَالَ نَاوِلْنِي أَحْجَارًا قَالَ فَنَاوَلْتُهُ سَبْعَةَ أَحْجَارٍ فَقَالَ لِي خُذْ بِزِمَامِ النَّاقَةِ قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا فَرَمَى بِهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا ثُمَّ قَالَ هَاهُنَا كَانَ يَقُومُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) جس کا نام نہیک بن سنان تھا، حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا گھٹیا اشعار کی طرح ؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح ؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي قَرَأْتُ الْبَارِحَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ وَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوگئی، ہم نبی ﷺ سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَجَعَلْنَا نَتَلَقَّاهَا مِنْهُ فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جَانِبِ الْغَارِ فَقَالَ اقْتُلُوهَا فَتَبَادَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ إِنَّهَا وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرئیل (علیہ السلام) کو سلام ہو، میکائیل (علیہ السلام) کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی ﷺ نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو یوں کہنا چاہئے تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس کے بعد جو چاہے دعاء مانگے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ قَالَ فَسَمِعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنْ الدُّعَاءِ مَا شَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৫৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصا قتل کرنا پڑے یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کر دے اور جماعت سے جدا ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ الثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب ناپسندیدہ امور اور فتنوں کا دور شروع ہوگا، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے ؟ فرمایا اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي لَكُمْ قَالَ مُؤَمَّلٌ وَجَدْتُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوگئی، ہم نبی ﷺ سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَخَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَتَبَادَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا فَدَخَلَتْ الْجُحْرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا قَالَ وَزَادَ الْأَعْمَشُ فِي الْحَدِيثِ قَالَ كُنَّا نَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ وَهِيَ رَطْبَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوگئی، ہم نبی ﷺ سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا قَالَ فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ اقْتُلُوهَا فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت مقداد بن اسود (رض) کے پاس موجود تھا اور مجھے ان کا ہم نشین ہونا دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب تھا، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشرکین کو بددعائیں دے کر کہنے لگے یا رسول اللہ ! بخدا ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ دیا تھا کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے لڑیں گے، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کا رخ انور خوشی سے تمتما رہا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مُخَارِقٍ الْأَحْمَسِيِّ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ لَقَدْ شَهِدْتُ مِنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ غَيْرُهُ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ أَنَا صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَمِنْ بَيْنِ يَدَيْكَ وَمِنْ خَلْفِكَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ ذَاكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے آیت قرآنی " ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم " کی تفسیر میں منقول ہے کہ جو شخص حرم مکہ میں الحاد کا ارادہ کرے خواہ وہ عدن ابین میں رہتا ہو اللہ اسے درد ناک عذاب ضرور چکھائے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ السُّدِّيِّ أَنَّهُ سَمِعَ مُرَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ لِي شُعْبَةُ وَرَفَعَهُ وَلَا أَرْفَعُهُ لَكَ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا هَمَّ فِيهِ بِإِلْحَادٍ وَهُوَ بِعَدَنِ أَبْيَنَ لَأَذَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَذَابًا أَلِيمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، پھر معلوم ہونے پر سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ یہ دو سجدے اس شخص کے لئے ہیں جسے نماز میں کسی کمی بیشی کا اندیشہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا جَابِرٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ خَمْسًا ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فَقَالَ هَذِهِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ زَادَ أَوْ نَقَصَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮৬৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت ابو موسیٰ (رض) اور سلمان بن ربیعہ (رض) کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی شخص کے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن ہو تو تقسیم وراثت کس طرح ہوگی ؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ کل مال کا نصف بیٹی کو مل جائے گا اور دوسرا نصف بہن کو اور ہم نے حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس جا کر ان سے بھی یہ مسئلہ پوچھا اور مذکورہ حضرات کا جواب بھی نقل کیا، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اگر میں نے بھی یہی فتوی دیا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتگان میں سے نہ رہوں گا، میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ نے فرمایا تھا، بیٹی کو کل مال کا نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو ثلث مکمل ہوجائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کو مل جائے گا۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّ الْأَشْعَرِيَّ أُتِيَ فِي ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ قَالَ فَجَعَلَ لِلِابْنَةِ النِّصْفَ وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ وَلَمْ يَجْعَلْ لِابْنَةِ الِابْنِ شَيْئًا قَالَ فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرُوهُ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذَنْ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُهْتَدِينَ إِنْ أَخَذْتُ بِقَوْلِهِ وَتَرَكْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ وَمَا بَقِيَ لِلْأُخْتِ
তাহকীক: