আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৩৫২৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو ماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص اپنا ایک بھتیجا حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھتیجا ہے اور اس نے شراب پی رکھی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اسلام میں سب سے پہلے سزا کس پر جاری کی گئی تھی، ایک عورت تھی جس نے چوری کی تھی، اس کا ہاتھ کاٹ دیایا جس پر نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا اور فرمایا انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الْجَابِرِ عَنْ أَبِي مَاجِدٍ قَالَ أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ بِابْنِ أَخٍ لَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ابْنُ أَخِي وَقَدْ شَرِبَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ امْرَأَةٌ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا فَتَغَيَّرَ لِذَلِكَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫২৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو جب کبھی کوئی مصیبت یا غم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت اور غم کو دور کر کے اس کی جگہ خوشی عطاء فرمائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں اے اللہ ! میں آپ کا غلام ابن غلام ہوں، آپ کی باندی کا بیٹا ہوں میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پر آپ ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل و انصاف والا ہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو آپ نے اپنے لئے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا : یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور، غم میں روشنی اور پریشانی کی دوری کا ذریعہ بنادیں، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا ہم اس دعاء کو سیکھ لیں، فرمایا کیوں نہیں، جو بھی اس دعاء کو سنے اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْجُهَنِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَتَعَلَّمُهَا فَقَالَ بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫২৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو ان کے علماء نے انہیں اس سے روکا، لیکن جب وہ باز نہ آئے تب بھی ان کے علماء ان کی مجلسوں میں بیٹھتے رہے، ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا اور ان پر حضرت داؤود و عیسیٰ علیہماالسلام کی زبانی لعنت فرمائی، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ چکے تھے جس وقت نبی ﷺ یہ حدیث بیان فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے تکیے سے ٹیک لگا رکھی تھی، اس کے بعد آپ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جب تک تم لوگوں کو حق کی طرف موڑ نہیں دیتے (اس وقت ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور کھانا پینا تمہیں ان ہی کے زمرے میں شامل کر دے گا )
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَقَعَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ فِي الْمَعَاصِي نَهَتْهُمْ عُلَمَاؤُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَجَالَسُوهُمْ فِي مَجَالِسِهِمْ قَالَ يَزِيدُ أَحْسِبُهُ قَالَ وَأَسْوَاقِهِمْ وَوَاكَلُوهُمْ وَشَارَبُوهُمْ فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَلَعَنَهُمْ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَأْطُرُوهُمْ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا وہ آدمی ہوگا جو پل صراط پر چلتے ہوئے کبھی اوندھا گر جاتا ہوگا، کبھی چلنے لگتا ہوگا اور کبھی آگ کی لپٹ اسے جھلسا دیتی ہوگی، جب وہ پل صراط کو عبور کرچکے گا تو اس کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، اللہ نے یہ مجھے ایسی نعمت عطاء فرمائی ہے جو اولین و آخرین میں سے کسی کو نہیں دی۔ اس کے بعد اس کی نظر ایک درخت پر پڑے گی جو اسی کی وجہ سے وہاں لایا گیا ہوگا، وہ اسے دیکھ کر کہے گا کہ پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے میرے بندے ! اگر میں نے تجھے اس درخت کے قریب کردیا تو تو مجھ سے کچھ اور بھی مانگے گا ؟ وہ عرض کرے گا نہیں، پروردگار ! اور اللہ سے کسی اور چیز کا سوال نہ کرنے کا وعدہ کرے گا حالانکہ پروردگار کے علم میں یہ بات ہوگی کہ وہ اس سے مزید کچھ اور بھی مانگے گا کیونکہ اس کے سامنے چیزیں ہی ایسی آئیں گی جن پر صبر نہیں کیا جاسکتا، تاہم اسے اس درخت کے قریب کردیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد اس کی نظر اس سے بھی زیادہ خوبصورت درخت پر پڑے گی اور حسب سابق سوال جواب ہوں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بندے ! کیا تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا کہ اب کچھ اور نہیں مانگے گا ؟ وہ عرض کرے گا پروردگار ! مجھے جنت میں داخلہ عطاء فرما، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ اے بندے ! تجھ سے میرا پیچھا کیا چیز چھڑائے گی ؟ کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے جنت میں دنیا اور اس کے برابر مزید دے دیا جائے ؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار ! تو رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے ؟ اتنا کہہ کر حضرت ابن مسعود (رض) اتنا ہنسے کہ ان کے دندان ظاہر ہوگئے، پھر کہنے لگے کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ خود ہی اپنے ہنسنے کی وجہ بتا دیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے ہنسنے کی وجہ سے، کیونکہ نبی ﷺ بھی اس موقع پر مسکرائے تھے اور ہم سے فرمایا تھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ خود ہی اپنے مسکرانے کی وجہ بتا دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا پروردگار کے ہنسنے کی وجہ سے، جب اس نے یہ عرض کیا کہ پروردگار ! آپ رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ آخِرَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَمْشِي عَلَى الصِّرَاطِ فَيَنْكَبُّ مَرَّةً وَيَمْشِي مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً فَإِذَا جَاوَزَ الصِّرَاطَ الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ مَا لَمْ يُعْطِ أَحَدًا مِنْ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ قَالَ فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ أَيْ عَبْدِي فَلَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ لَا يَا رَبِّ وَيُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا وَالرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ يَعْنِي عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ وَهِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ أَيْ عَبْدِي أَلَمْ تُعَاهِدْنِي يَعْنِي أَنَّكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَيُعَاهِدُهُ وَالرَّبُّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا فَيَقُولُ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا فَيَقُولُ أَيْ عَبْدِي أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ هَذِهِ الشَّجَرَةُ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا وَيُعَاهِدُهُ وَالرَّبُّ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهَا فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ الْجَنَّةَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ عَبْدِي أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنَّكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَيَقُولُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ أَيْ عَبْدِي أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ مِنْ الْجَنَّةِ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا قَالَ فَيَقُولُ أَتَهْزَأُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ قَالَ فَضَحِكَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا تَسْأَلُونِي لِمَ ضَحِكْتُ قَالُوا لَهُ لِمَ ضَحِكْتَ قَالَ لِضَحِكِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَسْأَلُونِي لِمَ ضَحِكْتُ قَالُوا لِمَ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِضَحِكِ الرَّبِّ حِينَ قَالَ أَتَهْزَأُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں سونے کے چھلے یا انگوٹھی سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ أَبِي سَعْدٍ عَنْ أَبِي الْكَنُودِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلَقَةِ الذَّهَبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ بُطُونَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے روک نہ دے کیونکہ وہ اس لئے جلدی اذان دے دیتے ہیں کہ قیام اللیل کرنے والے واپس آجائیں اور سونے والے بیدار ہوجائیں ( اور سحری کھا لیں) صبح صادق اس طرح نہیں ہوتی، راوی نے اپنا ہاتھ ملا کر بلند کیا، بلکہ اس طرح ہوتی ہے، راوی نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو جدا کر کے دکھایا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ إِنَّمَا يُنَادِي أَوْ قَالَ يُؤَذِّنُ لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَلَكِنْ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَضَمَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو أَصَابِعَهُ وَصَوَّبَهَا وَفَتَحَ مَا بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ يَعْنِي الْفَجْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اکثر " سبحنک ربناوبحمدک اللہم اغفرلی " پڑھتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ پر سورت نصر نازل ہوئی تو آپ ﷺ یوں کہنے لگے، سبحانک ربنا وبحمدک اے اللہ ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي قَالَ فَلَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں اور ہم اپنے نفس کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر حسب ذیل تین آیات پڑھے۔ اے اہل ایمان ! اللہ سے اسی طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہونے کی حالت میں، اے لوگو ! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں کے ذریعے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا اور اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کے بارے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے، اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو، اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرتا ہے وہ بہت عظیم کامیابی حاصل کرلیتا ہے، اس کے بعد اپنی ضرورت کا ذکر کرے دعاء مانگے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ثُمَّ تَذْكُرُ حَاجَتَكَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَأَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَيْنِ خُطْبَةَ الْحَاجَةِ وَخُطْبَةَ الصَّلَاةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سجدے میں تھے، دائیں بائیں قریش کے کچھ لوگ موجود تھے، اتنی دیر میں عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی لے آیا اور اسے نبی ﷺ کی پشت پر ڈال دیا، جس کی وجہ سے نبی ﷺ اپنا سر نہ اٹھا سکے، حضرت فاطمہ (رض) کو پتہ چلا تو وہ جلدی سے آئیں اور اسے نبی ﷺ کی پشت سے اتار کر دور پھینکا اور یہ گندی حرکت کرنے والے کو بد دعائیں دینے لگیں، نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اے اللہ ! قریش کے ان سرداروں کی پکڑ فرما، حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، سوائے امیہ کے جس اعضاء کٹ چکے تھے، اسے کنوئیں میں نہیں ڈالا گیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ اور اس میں عمارہ بن ولید کے نام کا اضافہ بھی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ الشَّاكُّ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيًّا تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَمْرَو بْنَ هِشَامٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ وَزَادَ وَعِمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی ﷺ کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، جسے سن کر نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا مجھے نبی ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار محسوس ہوئے اور انہوں نے فرمایا کہ تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً وَسَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ إِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ فَأَهْلَكَهُمْ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِي مِسْعَرٌ عَنْهُ وَرَفَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَخْتَلِفُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک معاملے میں دو معاملے کرنا صحیح نہیں ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملے پر گواہ بننے والے اور اسے تحریر کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ لَا تَصْلُحُ سَفْقَتَانِ فِي سَفْقَةٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص اپنے قبیلے والوں کی کسی ایسی بات پر مدد اور حمایت کرتا ہے جو ناحق اور غلط ہو، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنوئیں میں گرپڑے، پھر اپنی دم کے سہارے کنوئیں سے باہر نکلنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يُعِينُ عَشِيرَتَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ مَثَلُ الْبَعِيرِ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يَمُدُّ بِذَنَبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان مسلسل سچ بولتا اور اس کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَلَا يَزَالُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قتل کے معاملے میں اہل ایمان تمام لوگوں سے زیادہ عفیف اور عمدہ طریقہ رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قتل کے معاملے میں اہل ایمان تمام لوگوں سے زیادہ عفیف اور عمدہ طریقہ رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی چکی ٣٥، ٣٦ یا ٣٧ سال تک گھومتی رہے گی، اس کے بعد اگر مسلمان ہلاک ہوئے تو ہلاک ہونے والوں کی راہ پر چلے جائیں گے اور اگر باقی بچ گئے تو ستر سال تک ان کا دین باقی رہے گا، راوی نے پوچھا کہ اس کا تعلق ماضی کے ایام سے ہے یا مستقبل سے ؟ انہوں نے فرمایا مستقبل سے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جو گذر گئے ہیں یا جو باقی ہیں ؟ فرمایا جو باقی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ بِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلَكُوا فَسَبِيلُ مَنْ قَدْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا قَالَ قُلْتُ أَمِمَّا مَضَى أَمْ مِمَّا بَقِيَ قَالَ مِمَّا بَقِيَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ الْكَاهِلِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَضَى أَمْ مَا بَقِيَ قَالَ مَا بَقِيَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرما رکھا تھا میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اندر آجاؤ اور میری راز کی باتوں کو سن لو، تاآنکہ میں خود تمہیں منع کر دوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنْتُ لَكَ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَتَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو ہڈی والے گوشت میں بکری کی دستی کا گوشت زیادہ پسند تھا اور دستی ہی کے گوشت میں زہر ملا کر آپ ﷺ کو کھلایا گیا تھا اور عام خیال یہی تھا کہ یہودیوں نے نبی ﷺ کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ أَحَبَّ الْعُرَاقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذِّرَاعُ ذِرَاعُ الشَّاةِ وَكَانَ قَدْ سُمَّ فِي الذِّرَاعِ وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ
tahqiq

তাহকীক: