আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৬২১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) نے ایک مرتبہ دوران طواف یہ روایت سنائی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان ایام کے علاوہ کسی اور دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے زیادہ نہیں جتنے ان ایام میں ہیں کسی نے پوچھا جہاد فی سبیل اللہ ہی نہیں فرمایا ہاں جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور واپس نہ آسکا یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا راوی کہتے ہیں کہ " ان ایام " سے مرادعشرہ ذی الحجہ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَنَحْنُ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ قِيلَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ حَتَّى تُهَرَاقَ مُهْجَةُ دَمِهِ قَالَ فَلَقِيتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِي بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ وَقَالَ عَبْدَةُ هِيَ الْأَيَّامُ الْعَشْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مہینے میں ایک قرآن پڑھا کرو پھر مسلسل کمی کرتے ہوئے سات دن تک آگئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ثُمَّ نَاقَصَنِي وَنَاقَصْتُهُ حَتَّى صَارَ إِلَى سَبْعٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر سوال پوچھا یا رسول اللہ ! صور کیا چیز ہے ؟ فرمایا ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الصُّورُ قَالَ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تمہارا اس وقت کیا بنے گا جب تم بیکار اور کم تر لوگوں میں رہ جاؤ گے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوگا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب وعدوں اور امانتوں میں بگاڑ پیدا ہوجائے اور لوگ اس طرح ہوجائیں (راوی نے تشبیک کر کے دکھائی) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس وقت میرے لئے کیا حکم ہے ؟ فرمایا اللہ سے ڈرنا نیکی کے کام اختیار کرنا برائی کے کاموں سے بچنا اور خواص کے ساتھ میل جول رکھنا عوام سے اپنے آپ کو بچانا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ ذَلِكَ قَالَ إِذَا مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ يُونُسُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ يَصِفُ ذَاكَ قَالَ قُلْتُ مَا أَصْنَعُ عِنْدَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِخَاصَّتِكَ وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے عمل کے ذریعے لوگوں میں شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کردیتا ہے اور اسے ذلیل و رسوا کردیتا ہے یہ کہہ کر حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی آنکھوں میں آنسو بہنے لگے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ سَمِعْتُ رَجُلًا فِي بَيْتِ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ وَصَغَّرَهُ وَحَقَّرَهُ قَالَ فَذَرَفَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی زبان سے جو چیزیں سن لیتا اسے لکھ لیتا تاکہ یاد کرسکوں مجھے قریش کے لوگوں نے اس سے منع کیا اور کہا کہ تم نبی کریم ﷺ سے جو کچھ بھی سنتے ہو سب لکھ لیتے ہو حالانکہ نبی کریم ﷺ بھی ایک انسان بعض اوقات غصہ میں بات کرتے ہیں اور بعض اوقات خوشی میں ان لوگوں کے کہنے کے بعد میں نے لکھناچھوڑ دیا اور نبی کریم ﷺ سے یہ بات ذکر کردی نبی کریم ﷺ نے فرمایا لکھ لیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میری زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ فَقَالُوا إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنْ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا حَقٌّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں کے درمیان سے کھینچ لے گا بلکہ علماء کو اٹھا کر علم اٹھالے گا حتٰی کہ جب ایک عالم بھی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے اور انہیں سے مسائل معلوم کیا کریں گے وہ علم کے بغیر انہیں فتویٰ دیں گے نتیجہ یہ ہوگا کہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا حَدَّثَنِي أَبِي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنْ النَّاسِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَاءَ جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کو بیٹھ کرنوافل پڑھتے ہوئے دیکھا میں نے عرض کیا مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ فرماتے ہیں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي جَالِسًا قُلْتُ لَهُ حُدِّثْتُ أَنَّكَ تَقُولُ صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى نِصْفِ صَلَاةِ الْقَائِمِ قَالَ إِنِّي لَيْسَ كَمِثْلِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عصفر سے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر دیکھے تو فرمایا یہ کافروں کا لباس ہے اسے مت پہنا کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ قَالَ هَذِهِ ثِيَابُ الْكُفَّارِ لَا تَلْبَسْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابوسبرہ کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد نبی کریم ﷺ کے حوض کے متعلق مختلف حضرات سے سوال کرتا تھا اور باوجودیکہ وہ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) براء بن عازب (رض) عائذ بن عمرو (رض) اور ایک دوسرے صحابی (رض) سے بھی یہ سوال پوچھ چکا تھا لیکن پھر بھی حوض کوثر کی تکذیب کرتا تھا ایک دن میں نے اس سے کہا کہ میں تمہارے سامنے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جس میں اس مسئلے کی مکمل شفاء موجود ہے تمہارے والد نے ایک مرتبہ کچھ مال دے کر مجھے حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس بھیجا میری ملاقات حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے ہوئی انہوں نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی جو انہوں نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی تھی انہوں نے وہ حدیث مجھے املاء کروائی اور میں نے اسے اپنے ہاتھ سے کسی ایک حرف کی بھی کمی بیشی کے بغیر لکھا۔ انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بےتکلف یا بتکلف کسی قسم کی بےحیائی کو پسند نہیں کرتا
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ كَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَسْأَلُ عَنْ الْحَوْضِ حَوْضِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ بَعْدَمَا سَأَلَ أَبَا بَرْزَةَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَعَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَرَجُلًا آخَرَ وَكَانَ يُكَذِّبُ بِهِ فَقَالَ أَبُو سَبْرَةَ أَنَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ فِيهِ شِفَاءُ هَذَا إِنَّ أَبَاكَ بَعَثَ مَعِي بِمَالٍ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَحَدَّثَنِي مِمَّا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمْلَى عَلَيَّ فَكَتَبْتُ بِيَدِي فَلَمْ أَزِدْ حَرْفًا وَلَمْ أَنْقُصْ حَرْفًا حَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ أَوْ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ہر طرف بےحیائی عام نہ ہوجائے قطع رحمی غلط اور برا پڑوس عام نہ ہوجائے اور جب تک خائن کو امین اور امین کو خائن نہ سمجھاجانے لگے
قَالَ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَاحُشُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ وَسُوءُ الْمُجَاوَرَةِ وَحَتَّى يُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ وَيُخَوَّنَ الْأَمِينُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور فرمایا یاد رکھو تمہارے وعدے کی جگہ میرا حوض ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی ایک جیسی ہے یعنی ایلہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک جو تقریباً ایک ماہ مسافت بنتی ہے اس کے آبخورے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید ہوگا جو اس کا گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ عبیداللہ بن زیاد یہ حدیث سن کر کہنے لگا کہ حوض کوثر کے متعلق میں نے اس سے زیادہ مضبوط حدیث اب تک نہیں سنی چناچہ وہ اس کی تصدیق کرنے لگا اور وہ صحیفہ لے کر اپنے پاس رکھ لیا۔
وَقَالَ أَلَا إِنَّ مَوْعِدَكُمْ حَوْضِي عَرْضُهُ وَطُولُهُ وَاحِدٌ وَهُوَ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَمَكَّةَ وَهُوَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ فِيهِ مِثْلُ النُّجُومِ أَبَارِيقُ شَرَابُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ الْفِضَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ مَا سَمِعْتُ فِي الْحَوْضِ حَدِيثًا أَثْبَتَ مِنْ هَذَا فَصَدَّقَ بِهِ وَأَخَذَ الصَّحِيفَةَ فَحَبَسَهَا عِنْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے کہ جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو ترک کردے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَامِرٌ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے قرآن کریم یاد کیا اور ایک میں سارا قرآن پڑھ لیا نبی کریم ﷺ کو پتہ چلا تو فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ گذرنے کے بعد تم تنگ ہوگئے ہر مہینے میں ایک مرتبہ قرآن کریم پورا کرلیا کرو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے اپنی طاقت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئے اسی طرح تکرار ہوتا رہا نبی کریم ﷺ بیس، دس اور سات دن کہہ کر رک گئے میں نے سات دن سے کم کی اجازت بھی مانگی لیکن آپ ﷺ نے انکار کردیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِهِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ زَمَانٌ أَنْ تَمَلَّ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي فَأَبَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورج گرہن کے موقع پر دو رکعتیں پڑھائی تھیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی صحابی (رض) کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی آپ ﷺ نے اس سے منہ موڑ لیا اس نے وہ پھینک کر لوہے کی انگوٹھی بنوالی نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تو اس سے بھی بری ہے یہ تو اہل جہنم کا زیور ہے اس نے وہ پھینک کر چاندی کی انگوٹھی بنوالی نبی کریم ﷺ نے اس پر سکوت فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَأَلْقَاهُ وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ هَذَا شَرٌّ هَذَا حِلْيَةُ أَهْلِ النَّارِ فَأَلْقَاهُ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَسَكَتَ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے روئے زمین پر اور آسمان کے سائے تلے ابوذر (رض) زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أَقَلَّتْ الْغَبْرَاءُ وَلَا أَظَلَّتْ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میرے والد حضرت عمروبن العاص (رض) کپڑے پہننے چلے گئے تھے تاکہ بعد میں مجھ سے مل جائیں اسی اثنا میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب تمہارے پاس ایک ملعون آدمی آئے گا واللہ مجھے تو مستقل دھڑکالگارہا اور میں اندرباہر برابر جھانک کر دیکھتا رہا (کہ کہیں میرے والد نہ ہوں) یہاں تک کہ حکم مسجد میں داخل ہوا (وہ مراد تھا) ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي فَقَالَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ دَاخِلًا وَخَارِجًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ يَعْنِي الْحَكَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میری امت کو دیکھو کہ وہ ظالم کو ظالم کہنے سے ڈر رہی ہے تو ان سے رخصت ہوگئی (ضمیر کی زندگی یا دعاؤں کی قبولیت)
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَيْتُمْ أُمَّتِي تَهَابُ الظَّالِمَ أَنْ تَقُولَ لَهُ إِنَّكَ أَنْتَ ظَالِمٌ فَقَدْ تُوُدِّعَ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت میں بھی زمین میں دھنسائے جانے شکلیں مسخ کردئیے جانے اور پتھروں کی بارش کا عذاب ہوگا۔
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ
তাহকীক: