আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৬২৩৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
مسروق (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمرو (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ حضرت ابن مسعود (رض) کا تذکرہ کرنے لگے اور فرمایا کہ کہ ایسا آدمی ہے جس میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چار آدمیوں سے قرآن سیکھو اور ان میں سب سے پہلے حضرت ابن مسعود (رض) کا نام لیا پھر حضرت معاذ بن جبل (رض) کا پھر حضرت ابوحذیفہ (رض) کے آزاد کردہ غلام سالم (رض) کاراوی کہتے ہیں کہ چوتھا نام میں بھول گیا۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنَّ ذَاكَ لَرَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ عَنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَعَنْ مُعَاذٍ وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَ يَعْلَى وَنَسِيتُ الرَّابِعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا رحم عرش کے ساتھ معلق ہے بدلہ دینے والا صلہ رحمی کرنے والے کے زمرے میں نہیں آتا اصل صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس سے رشتہ توڑے تو وہ اس سے رشتہ جوڑے۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৩৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ام سلمہ (رض) کے آزاد کردہ غلام " ناعم " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عمرو (رض) کے ساتھ حج کیا جب ہم لوگ مکہ مکرمہ کے کسی راستے میں تھے تو وہ قصداً وارادۃً کسی چیز پر غور سے نظریں جمائے رہے جب وہ چیز واضح ہوگئی جو کہ ایک درخت تھا " تو وہ اس کے نیچے آ کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس اس جانب سے ایک آدمی آیا اور سلام کر کے کہنے لگا یا رسول اللہ میں آپ کے ساتھ جہاد کے لئے جانا چاہتا ہوں اور میرا مقصد صرف اللہ کی رضاء حاصل کرنا اور آخرت کا ٹھکانہ حاصل کرنا ہے نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں دونوں زندہ ہیں فرمایا جاؤ اور اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو چناچہ وہ جہاں سے آیا تھا وہیں چلا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَاعِمٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَجَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ رَأَيْتُهُ تَيَمَّمَ فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا اسْتَبَانَتْ جَلَسَ تَحْتَهَا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الشِّعْبِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ هَلْ مِنْ أَبَوَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِلَاهُمَا قَالَ فَارْجِعْ ابْرَرْ أَبَوَيْكَ قَالَ فَوَلَّى رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابوحیان اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمرو (رض) اور حضرت ابن عمر (رض) کی ملاقات ہوئی تھوڑی دیر بعد جب حضرت ابن عمر (رض) واپس آئے تو وہ رو رہے تھے لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ فرمایا اس حدیث کی وجہ سے جو انہوں نے مجھ سے بیان کی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ الْتَقَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِنْسَانٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمیشہ روزہ رکھنے والا کوئی روزہ نہیں رکھتا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الْمَكِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اعضاء وضو کو اچھی طرح مکمل دھویا کرو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک کبیرہ گناہ یہ بھی ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کو گالیاں دے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کوئی آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دے سکتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دے اسی طرح وہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دے دے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَفَعَهُ سُفْيَانُ وَوَقَفَهُ مِسْعَرٌ قَالَ مِنْ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالُوا وَكَيْفَ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مالدار آدمی کے لئے یا کسی مضبوط اور طاقتور (ہٹے کٹے) آدمی کے لئے زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَامِرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور دابۃ الارض کا خروج چاشت کے وقت ہوگا ان دونوں میں سے جو نشانی پہلے پوری ہوگئی دوسری بھی عنقریب پوری ہوجائے گی البتہ میرا خیال یہ ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہونا آپ ﷺ نے پہلی علامت قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا وَتَخْرُجُ الدَّابَّةُ عَلَى النَّاسِ ضُحًى فَأَيُّهُمَا خَرَجَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَالْأُخْرَى مِنْهَا قَرِيبٌ وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا هِيَ الَّتِي أَوَّلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خطاء کسی کوڑے یا لاٹھی سے مارے جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں بھی ہوں گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ أَوْ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک ایک روزہ رکھنے کا سب سے زیادہ پسندیدہ طریقہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ہے اسی طرح ان کی نماز ہی اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے وہ آدھی رات تک سوتے تھے تہائی رات تک قیام کرتے تھے اور چھٹاحصہ پھر آرام کرتے تھے اسی طرح ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৪৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن پڑھتا ہے اس نے اسے سمجھا نہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ لَمْ يَفْقَهْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৫০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے میرے جسم پر دیکھے تو فرمایا یہ کافروں کا لباس ہے اسے اتاردو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ مُعَصْفَرَةٌ فَقَالَ أَلْقِهَا فَإِنَّهَا ثِيَابُ الْكُفَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৫১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی احسان جتانے والا اور کوئی عادی شرابی جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৫২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حنظلہ بن خولید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا دو آدمی ان کے پاس ایک جھگڑا لے کر آئے ان میں سے ہر ایک کا دعوی یہ تھا کہ حضرت عمار (رض) کو اس نے شہید کیا ہے حضرت ابن عمرو (رض) فرمانے لگے کہ تمہیں چاہئے ایک دوسرے کو مبارکباد دو کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا حضرت امیر معاویہ (رض) کہنے لگے پھر آپ ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب نے نبی کریم ﷺ کے سامنے میری شکایت کی تھی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا زندگی بھر اپنے باپ کی اطاعت کرنا اس کی نافرمانی نہ کرنا اس لے میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن لڑائی میں شریک نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ مَسْعُودٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْزِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ قَالَ مُعَاوِيَةُ فَمَا بَالُكَ مَعَنَا قَالَ إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৫৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے چند کا تذکرہ کیا گیا جو عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ اسلام کا جھاگ ہے اور ہر جھاگ کی تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا انقطاع ہوجاتا ہے جس تیزی کا اختتام اور انقطاع میانہ روی اور سنت پر ہو تو مقصد پورا ہوگیا اور جس کا اختتام معاصی اور گناہوں کی طرف ہو تو وہ شخص ہلاک ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَجْتَهِدُونَ فِي الْعِبَادَةِ اجْتِهَادًا شَدِيدًا فَقَالَ تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى اقْتِصَادٍ وَسُنَّةٍ فَلِأُمٍّ مَا هُوَ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْمَعَاصِي فَذَلِكَ الْهَالِكُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৫৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چند لوگوں کا تذکرہ کیا جو عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ اسلام کا جھاگ ہے اور ہر جھاگ کی تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا انقطاع ہوجاتا ہے جس تیزی کا اختتام اور انقطاع میانہ روی اور سنت پر ہو تو مقصد پورا ہوگیا اور جس کا اختتام معاصی اور گناہوں کی طرف ہو تو وہ شخص ہلاک ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَنْصَبُونَ فِي الْعِبَادَةِ مِنْ أَصْحَابِهِ نَصَبًا شَدِيدًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَلِأُمٍّ مَا هُوَ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى مَعَاصِي اللَّهِ فَذَلِكَ الْهَالِكُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬২৫৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے برسرمنبریہ بات ارشاد فرمائی تم رحم کرو تم پر رحم کیا جائے گا معاف کرو تمہیں معاف کردیا جائے ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو صرف باتوں کا ہتھیار رکھتے ہیں ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے گناہوں پر جانتے بوجھتے اصرار کرتے اور ڈٹے رہتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ حَدَّثَنَا حِبَّانُ الشَّرْعَبِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ارْحَمُوا تُرْحَمُوا وَاغْفِرُوا يَغْفِرْ اللَّهُ لَكُمْ وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক: