আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৬২৫৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کو وہ شخص انتہائی ناپسند ہے جو اپنی زبان کو اس طرح ہلاتارہتا ہے جیسے گائے جگالی کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَعْلَمُ نَافِعٌ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنْ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ كَمَا تَخَلَّلَ الْبَاقِرَةُ بِلِسَانِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৫৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس جہاد میں شرکت کی اجازت لینے کے لئے آیا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے والدین حیات ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں فرمایا جاؤ اور ان ہی میں جہاد کرو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৫৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا ایک دن روزہ رکھو تو دس کا ثواب ملے گا میں نے اس میں اضافے کی درخواست کی تو فرمایا دو دن روزہ رکھو تمہیں نو کا ثواب ملے گا میں نے مزید اضافے کی درخواست کی تو فرمایا تین روزے رکھو تمہیں آٹھ کا ثواب ملے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَعَفَّانُ قَالَ يَزِيدُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُمْ يَوْمًا وَلَكَ عَشَرَةٌ قُلْتُ زِدْنِي قَالَ صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ تِسْعَةٌ قُلْتُ زِدْنِي قَالَ صُمْ ثَلَاثَةً وَلَكَ ثَمَانِيَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৫৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ میں کتنے دن میں ایک قرآن پڑھا کروں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مہینے میں میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم ﷺ پچیس دن میں پڑھالیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیس دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا پندرہ دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا دس دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا سات دن میں پڑھ لیا کرو میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ طاقت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص تین دن سے کم وقت میں قرآن پڑھتا ہے اس نے اسے سمجھا نہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى عَلَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ لَا يَفْقَهُهُ مَنْ يَقْرَؤُهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے میری امت پر شراب جوا جو کی شراب شطرنج اور باجے حرام قرار دیئے ہیں اور مجھ میں پر نماز وتر کا اضافہ فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوَتْرِ قَالَ يَزِيدُ الْقِنِّينُ الْبَرَابِطُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا حضرت صدیق اکبر (رض) تشریف لائے اور اجازت طلب کی نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں اجازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو پھر حضرت عمر (رض) آئے اور اجازت طلب کی نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں اجازت بھی دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو میں نے عرض کیا کہ میں کہاں گیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اپنے والد صاحب کے ساتھ ہو گے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ وَمُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ أَنْتَ مَعَ أَبِيكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی یہ کہ آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے دو آدمی چل رہے ہوں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ قَالَ عَفَّانُ عَقِبَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ناحق کسی چڑیا کو بھی مارے گا قیام کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس کی باز پرس کرے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ذَبَحَ عُصْفُورًا أَوْ قَتَلَهُ فِي غَيْرِ شَيْءٍ قَالَ عَمْرٌو أَحْسِبُهُ قَالَ إِلَّا بِحَقِّهِ سَأَلَهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ناحق کسی چڑیا کو بھی مارے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے اس کی باز پرس کرے گا۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! حق کیا ہے ؟ فرمایا اسے ذبح کرے گردن سے نہ پکڑے کہ اسے توڑ ہی دے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ صُهَيْبٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا سَأَلَهُ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهُ قَالَ يَذْبَحُهُ ذَبْحًا وَلَا يَأْخُذُ بِعُنُقِهِ فَيَقْطَعُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خطاء کی کوڑے یا لاٹھی سے مارے جانے والے کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں بھی ہوں گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَةَ حَدَّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ أَوْ الْعَصَا فِيهِ مِائَةٌ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص شراب نوشی کرے اسے کوڑے مارو دوبارہ پیئے تو پھر مارو سہ بارہ پیئے تو پھر مارو اور چوتھی مرتبہ فرمایا کہ اسے قتل کردو۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَمْرُ إِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِذَا شَرِبُوهَا فَاقْتُلُوهُمْ عِنْدَ الرَّابِعَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) کو یہ حکم دیا تھا کہ جب وہ اپنے بستر پر لیٹ جائیں تو سبحان للہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر سو مرتبہ کہہ لیا کرو (راوی یہ بھول گئے کہ ان میں سے کون ساکلمہ ٣٤ مرتبہ کہنا ہے) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت سے یہ معمول اب تک کبھی ترک نہیں کیا ابن کوّاء نے پوچھا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں فرمایا ہاں ! جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ فَاطِمَةَ وَعَلِيًّا إِذَا أَخَذَا مَضَاجِعَهُمَا فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ وَالتَّكْبِيرِ لَا يَدْرِي عَطَاءٌ أَيُّهَا أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَمَامُ الْمِائَةِ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو فَمَا تَرَكْتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ عَلِيٌّ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
یعقوب بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے پوچھا کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ قیامت اس طرح قائم ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ تم کچھ بیان نہ کیا کرو میں نے یہ کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد تم ایک بہت بڑا واقعہ بیت اللہ میں آگ لگنا دیکھو گے پھر فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت میں دجال کا خروج ہوگا جوان میں چالیس رہے گا (راوی کو دن، سال یا مہینے کا لفظ یاد نہیں رہا) پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجے گا جو حضرت عمروہ بن مسعود ثقفی (رض) کے مشابہہ ہوں گے وہ اسے تلاش کرکے قتل کردیں گے۔ اس کے بعد سات سال تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ کسی دو کے درمیان دشمنی نہ رہے گی پھر اللہ تعالیٰ شام کی جانب سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا اور وہ ہوا ہر اس شخص کی روح قبض کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا حتی کہ اگر ان میں سے کوئی شخص کسی پہاڑ کے جگر میں جا کر چھپ جائے تو وہ ہوا وہاں بھی پہنچ جائے گی۔ اس کے بعد زمین پر بدترین لوگ رہ جائیں گے جو پرندوں اور چوپاؤں سے بھی زیادہ ہوں گے جو نیکی کو نیکی اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھیں گے ان کے پاس شیطان انسانی صورت میں آئے گا اور انہیں کہے گا کہ میری دعوت کو کیوں قبول نہیں کرتے ؟ اور انہیں بتوں کی پوجا کرنے کا حکم دے گا چناچہ وہ ان کی عبادت کرنے لگیں گے اس دوران ان کا رزق خوب بڑھ جائے گا اور ان کی زندگی بہترین گذر رہی ہوگی کہ اچانک صور پھونک دیا جائے گا اس کی آواز جس کے کان میں بھی پہنچے گی وہ ایک طرف کو جھک جائے گا سب سے پہلے اس کی آوازوہ شخص سنے گا جو اپنے حوض کے کنارے صحیح کر رہا ہوگا اور بیہوش ہو کر گرپڑے گا پھر ہر شخص بیہوش ہوجائے گا اس کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان سے موسلادھاربارش برسائے گا جس سے لوگوں کے جسم اگ آئیں گے پھر دوبارہ صور پھونک دیا جائے گا اور لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ اے لوگو ! اپنے رب کی طرف چلو اور وہاں پہنچ کر رک جاؤ تم سے باز پرس ہوگی پھر حکم ہوگا کہ جہنمی لشکر ان میں سے نکال لیا جائے پوچھا جائے گا کتنے لوگ ؟ حکم ہوگا کہ ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے یہ وہ دن ہوگا جب بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور جب پنڈلی کو کھولاجائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو إِنَّكَ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ شَيْئًا إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا كَانَ تَحْرِيقَ الْبَيْتِ قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَلْبَثُ فِيهِمْ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ فَيَظْهَرُ فَيُهْلِكُهُ ثُمَّ يَلْبَثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سِنِينَ سَبْعًا لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا قَالَ فَيَتَمَثَّلُ لَهُمْ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلَا تَسْتَجِيبُونَ فَيَأْمُرُهُمْ بِالْأَوْثَانِ فَيَعْبُدُونَهَا وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لَهُ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَهُ فَيَصْعَقُ ثُمَّ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا صَعِقَ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ يُنْزِلُ اللَّهُ قَطْرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوْ الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ قَالَ فَيُقَالُ كَمْ فَيُقَالُ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَيَوْمَئِذٍ يُبْعَثُ الْوِلْدَانُ شِيبًا وَيَوْمَئِذٍ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ شُعْبَةُ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৬৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو شخص سونا پہنتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا سونا حرام قرار دے دیتا ہے اور میری امت میں سے جو شخص ریشم پہنتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے اللہ اس پر جنت کا ریشم حرام قرار دے دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَسْتَاذَ الْهِزَّانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ لَبِسَ الذَّهَبَ مِنْ أُمَّتِي فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ذَهَبَ الْجَنَّةِ وَمَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ مِنْ أُمَّتِي فَمَاتَ وَهُوَ يَلْبَسُهُ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ حَرِيرَ الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غیر نافع علم، غیر مقبول دعاء خشوع و خضوع سے خالی دل اور نہ بھرنے والے نفس سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اعمال کا تذکرہ ہونے لگا جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان دس ایام کے علاوہ کسی اور دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے زیادہ پسند نہیں جتنے ان ایام میں ہیں کسی نے پوچھا جہادفی سبیل اللہ بھی نہیں فرمایا ہاں ! جہادفی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور واپس نہ آسکا یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا (راوی کہتے ہیں کہ " ان ایام " مرادعشرہ ذی الحجہ ہے) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذُكِرَتْ الْأَعْمَالُ فَقَالَ مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهِنَّ أَفْضَلُ مِنْ هَذِهِ الْعَشْرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَأَكْبَرَهُ فَقَالَ وَلَا الْجِهَادُ إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ رَجُلٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ تَكُونَ مُهْجَةُ نَفْسِهِ فِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَتْ الْأَعْمَالُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں شام کی ایک مسجد میں داخل ہوا میں وہاں دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک آدمی آیا اور ستون کی آڑ میں نماز پڑھنے لگے جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو لوگ ان کے گرد جمع ہوگئے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا حضرت ابن عمرو (رض) ہیں اتنے میں ان کے پاس یزید کا قاصد آگیا حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کہ یہ مجھے تم سے احادیث بیان کرنے سے منع کرنا چاہتا ہے اور تمہارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے اے اللہ میں نہ بھرنے والے نفس سے خشوع و خضوع سے خالی دل سے غیر نافع علم سے اور غیر مقبول دعاء سے تیری پناہ میں آتا ہوں اے اللہ میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ مانگتاہوں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ حَدَّثَنِي شَيْخٌ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدًا بِالشَّامِ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسْتُ فَجَاءَ شَيْخٌ يُصَلِّي إِلَى السَّارِيَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ثَابَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو فَأَتَى رَسُولُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَمْنَعَنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ وَإِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی یہ کہ آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے دو آدمی چل رہے ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہمارے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے اس وقت آپ ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ دونوں کتابیں کیسی ہیں ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ہاں اگر آپ یا رسول اللہ ہمیں بتادیں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا نبی کریم ﷺ دائیں ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ اللہ رب العلمین کی کتاب ہے جس میں اہل جنت ان کے آباؤ اجداد اور ان کے قبائل کے نام لکھے ہوئے ہیں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں آخری آدمی تک سب کے نام آگئے ہیں۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جب اس کام سے فراغت ہوچکی تو پھر ہم عمل کس مقصد کے لئے کریں ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا درستگی پر رہو اور قرب اختیارکو کیونکہ جنتی کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہی ہوگا گو کہ وہ کوئی سے اعمال کرتا رہے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمیوں والے اعمال پر ہوگا گو کہ وہ کیسے ہی اعمال کرتا رہے پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کی مٹھی بنائی اور فرمایا تمہارا رب بندوں کی تقدیر لکھ کر فارغ ہوچکا پھر آپ ﷺ دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے پھونک ماری اور فرمایا ایک فریق جنت میں ہوگا اس کے بعد بائیں ہاتھ پر پھونک کر فرمایا اور ایک فریق جہنم میں ہوگا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ شُفَيٍّ الْأَصْبَحِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ كِتَابَانِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَانِ الْكِتَابَانِ قَالَ قُلْنَا لَا إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَّذِي فِي يَدِهِ الْيُمْنَى هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِي فِي يَسَارِهِ هَذَا كِتَابُ أَهْلِ النَّارِ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ثُمَّ أُجْمِلَ عَلَى آخِرِهِمْ لَا يُزَادُ فِيهِمْ وَلَا يُنْقَصُ مِنْهُمْ أَبَدًا فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلِأَيِّ شَيْءٍ إِذَنْ نَعْمَلُ إِنْ كَانَ هَذَا أَمْرًا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا فَإِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّةِ يُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ وَإِنَّ صَاحِبَ النَّارِ لَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنْ عَمِلَ أَيَّ عَمَلٍ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا ثُمَّ قَالَ فَرَغَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْعِبَادِ ثُمَّ قَالَ بِالْيُمْنَى فَنَبَذَ بِهَا فَقَالَ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَنَبَذَ بِالْيُسْرَى فَقَالَ فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ
tahqiq

তাহকীক: