আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৪৮৩৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابونجیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کیا لیکن انہوں نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت ابوبکر (رض) حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) کے ساتھ حج کیا لیکن انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہ رکھا میں اس دن کا روزہ رکھتا ہوں اور نہ حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَمَّنْ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو آغاز میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر کر کے رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے نیز رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد بھی رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن دو سجدوں کے درمیان نبی کریم ﷺ نے رفع یدین نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ إِلَى الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) جب حرم کے قریبی حصے میں پہنچتے تو تلبیہ روک دیتے جب مقام " ذی طوی " پر پہنچتے تو وہاں رات گذارتے صبح ہونے کے بعد فجر کی نماز پڑھتے غسل کرتے اور بتاتے کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا دَخَلَ أَدْنَى الْحَرَمِ أَمْسَكَ عَنْ التَّلْبِيَةِ ثُمَّ يَأْتِي ذَا طُوًى فَيَبِيتُ بِهِ وَيُصَلِّي بِهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَيَغْتَسِلُ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی نماز عصر فوت ہوجائے تو گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہوگیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِي يَفُوتُهُ الْعَصْرُ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! رات کی نماز کے متعلق آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا تم دو دو رکعت کر کے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لوتم نے رات میں جتنی نماز پڑھی ہوگی ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہوجائے گی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَأْمُرُنَا نُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ قَالَ يُصَلِّي أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ يُصَلِّي وَاحِدَةً فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ایک آدمی نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ ہمیں کہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے لیکن مجھے یہ یاد نہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ نُهِلُّ قَالَ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّأْمِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ قَالَ وَيَقُولُونَ وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے سارے بیٹوں اور اہل خانہ کو جمع کیا شہادتین کا اقرار کیا اور فرمایا امابعد ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر اس شخص کی بیعت کی تھی اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر دھوکے باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دھوکہ بازی ہے اور شرک کے بعد سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کسی کی بیعت کرے اور پھر اسے توڑ دے اس لئے تم میں سے کوئی بھی یزید کی بیعت توڑے اور نہ ہی امیر خلافت میں جھانک کر بھی دیکھے ورنہ میرے اور اس کے درمیان کوئی تعلق نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ النَّاسُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ أَنْ لَا يَكُونَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُبَايِعَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يَنْكُثَ بَيْعَتَهُ فَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ وَلَا يُشْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَيَكُونَ صَيْلَمٌ بَيْنِي وَبَيْنَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت سالم (رح) کی مجلس میں ایک شخص یہ حدیث بیان کررہا تھا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ روٹی اور گوشت کھانے میں پیش کیا گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے ایک دستی دینا نبی کریم ﷺ کو دستی دے دی گئی جو آپ ﷺ نے تناول فرمالی اس کے بعد فرمایا مجھے ایک اور دستی دو وہ بھی نبی کریم ﷺ کودے دی گئی اور نبی کریم ﷺ نے اسے بھی تناول فرمالیا اور فرمایا کہ مجھے ایک اور دستی دو کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک بکری میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیرے باپ کی قسم اگر تو خاموش رہتا تو میں جب تک تم سے دستی مانگتا رہتا مجھے ملتی رہتی، حضرت سالم (رح) نے یہ حدیث سن کر فرمایا یہ بات تو بالکل نہیں ہے کیونکہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے روکتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي مَجْلِسِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ فَقَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنُووِلَ ذِرَاعًا فَأَكَلَهَا قَالَ يَحْيَى لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا هَكَذَا ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنُووِلَ ذِرَاعًا فَأَكَلَهَا ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُمَا ذِرَاعَانِ فَقَالَ وَأَبِيكَ لَوْ سَكَتَّ مَا زِلْتُ أُنَاوَلُ مِنْهَا ذِرَاعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ فَقَالَ سَالِمٌ أَمَّا هَذِهِ فَلَا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید بن جبیررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کسی نے ان سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے حرام قرار دیا ہے یہ سن کر مجھ پر بڑی گرانی ہوئی میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ کسی نے حضرت ابن عمر (رض) سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے حرام قرار دیا ہے حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا انہوں نے سچ کہا نبی کریم ﷺ نے اسے حرام قرار دیا ہے میں نے پوچھا " مٹکے " سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ وَسُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَقَّ عَلَيَّ لَمَّا سَمِعْتُهُ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَالَ فَجَعَلْتُ أُعَظِّمُهُ فَقَالَ وَمَا هُوَ قُلْتُ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَدَقَ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ وَمَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے کسی نے سوال پوچھا یا رسول اللہ ! احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کرسکتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَقْتُلُ مِنْ الدَّوَابِّ إِذَا أَحْرَمْنَا فَقَالَ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ الْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ وَالْعَقْرَبُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک مرتبہ منبر پر جلوہ افروز دیکھا نبی کریم ﷺ کو دیکھتے ہی میں تیزی سے مسجد میں داخل ہوا اور ایک جگہ جا کر بیٹھ گیا لیکن ابھی سننے کا موقعہ نہ ملا تھا کہ نبی کریم ﷺ منبر سے نیچے اتر آئے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا ؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّاسِ وَقَدْ فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخُطْبَةِ فَقُلْتُ مَاذَا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا نَهَى عَنْ الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت انشاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کرلے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیررجوع کرلے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى يَمِينِهِ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرْجِعَ غَيْرَ حَنِثٍ أَوْ قَالَ غَيْرَ حَرَجٍ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم ﷺ سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو جمعہ کے دن پہن لیا کرتے یا وفود کے سامنے پہن لیا کرتے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو چنددن بعد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی حلے آئے نبی کریم ﷺ نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر (رض) کو بھی بھجوادیا حضرت عمر (رض) کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کرکے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي سُوقٍ ثَوْبًا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ ابْتَعْتَ هَذَا الثَّوْبَ لِلْوَفْدِ قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ أَوْ قَالَ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ فِي الْآخِرَةِ قَالَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَاكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ مِنْهَا فَبَعَثَ بِهِ إِلَى عُمَرَ فَكَرِهَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بَعَثْتَ بِهِ إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهِ مَا سَمِعْتُ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ أَوْ قَالَ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهِ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهُ وَلَكِنْ بَعَثْتُ بِهِ إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهِ ثَمَنًا قَالَ سَالِمٌ فَمِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
انس بن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا میں قرأت خلف الامام کیا کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے امام کی قرأت ہی کافی ہے میں نے پوچھا کہ کیا فجر کی سنتوں میں میں لمبی قرأت کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے فجر کی سنتوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا تم بڑی موٹی عقل کے آدمی ہو دیکھ نہیں رہے کہ میں ابھی بات کا آغاز کر رہا ہوں نبی کریم ﷺ رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے اور جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہوتا تو ایک رکعت ملا کر وتر پڑھ لیتے پھر سر رکھ کر لیٹ جاتے اب تم چاہو تو یہ کہہ لو کہ نبی کریم ﷺ سوجاتے اور چاہو تو یہ کہہ لو کہ نہ سوتے پھر اٹھ کر فجر کی سنتیں اس وقت پڑھتے جب اذان کی آواز کانوں میں آرہی ہوتی تھی تو اس میں کتنی اور کون سی طوالت ہوگی ؟ پھر میں نے پوچھا کہ ایک آدمی ہے جس نے اپنا مال فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی وصیت کی ہے کیا اس کا مال حج میں خرچ کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ایسا کرلو تو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہوگا میں نے مزید پوچھا کہ اگر ایک شخص کی امام کے ساتھ ایک رکعت چھوٹ جائے امام سلام پھیر لے تو کیا یہ امام کے کھڑا ہونے سے پہلے اسے قضاء کرسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جب امام سلام پھیر دے تو مقتدی فورا کھڑا ہوجائے پھر میں نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص قرض کے بدلے اپنے مال سے زیادہ وصول کرے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے کو لہوں کے پاس اس کے دھوکے کے بقدر جھنڈا لگا ہوگا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ تُجْزِئُكَ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ قُلْتُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ أُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى قَالَ قُلْتُ إِنَّمَا سَأَلْتُكَ عَنْ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ قَالَ إِنَّكَ لَضَخْمٌ أَلَسْتَ تَرَانِي أَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ فَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ نَامَ وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ لَمْ يَنَمْ ثُمَّ يَقُومُ إِلَيْهِمَا وَالْأَذَانُ فِي أُذُنَيْهِ فَأَيُّ طُولٍ يَكُونُ ثُمَّ قُلْتُ رَجُلٌ أَوْصَى بِمَالٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُنْفَقُ مِنْهُ فِي الْحَجِّ قَالَ أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ فَعَلْتُمْ كَانَ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ رَجُلٌ تَفُوتُهُ رَكْعَةٌ مَعَ الْإِمَامِ فَسَلَّمَ الْإِمَامُ أَيَقُومُ إِلَى قَضَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ قَالَ كَانَ الْإِمَامُ إِذَا سَلَّمَ قَامَ قُلْتُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِالدَّيْنِ أَكْثَرَ مِنْ مَالِهِ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ عَلَى قَدْرِ غَدْرَتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلا آپ ﷺ حلال نہیں ہوئے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان (رض) کے ساتھ نکلا تو وہ بھی حلال نہیں ہوئے۔ رفع یدین کی حدیث حضرت ابن عمر (رض) اس دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي جَهْضَمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَحْلِلْ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت آپ ﷺ خیبر کو جا رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں یاد رکھو اس کا نام نماز عشاء ہے اس وقت یہ اپنے اونٹوں کا دودھ دوہتے ہیں (اس مناسبت سے عشاء کی نماز کو عتمہ " کہہ دیتے ہیں )
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ إِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ إِنَّهَا صَلَاةُ الْعِشَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم رات کے وقت اپنے اہل خانہ کو مسجد آنے سے نہ روکا کرو یہ سن کر حضرت ابن عمر (رض) کا کوئی بیٹا کہنے لگا کہ بخدا ! ہم تو انہیں اس طرح نہیں چھوڑیں گے وہ تو اسے اپنے لئے دلیل بنالیں گی، حضرت ابن عمر (رض) نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ میں تم سے نبی کریم ﷺ کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ وَلَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَقَالَ ابْنُهُ لَا نَأْذَنُ لَهُنَّ يَتَّخِذْنَ ذَلِكَ دَغَلًا فَقَالَ تَسْمَعُنِي أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ أَنْتَ لَا
তাহকীক: