আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৪৮৫৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر رات کی نماز سے متعلق دریافت کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب " صبح " ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو تم نے رات میں جتنی پڑھی ہوگی ان سب کی طرف سے یہ وتر کے لئے کافی ہوجائے گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا قَبْلَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبداللہ بن سراقہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے پھلوں کی بیع کی متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے عامہ کے ختم ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے " عاھہ " کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا ثریا ستارہ کا طلوع ہونا (جو کہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اب اس پھل پر کوئی آفت نہیں آئے گی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ قُلْتُ وَمَتَى ذَاكَ قَالَ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ يَقْطَعُهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ وَهُوَ حَرَامٌ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحِدَأَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قبیلہ اسلم، اللہ اسے سلامت رکھے، قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور عصیہ " نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
و قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا فتنہ یہاں سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ هَا إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا إِنَّ الْفِتَنَ مِنْ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) اور ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کے وقت تشریف لائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ لَيْلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل نجد کے لئے قرن اور اہل شام کے لئے جحفہ کو میقات قرار دیا ہے یہ تین جگہیں تو میں نے نبی کریم ﷺ سے سن کر خود یاد کی ہیں اور یہ بات مجھ سے بیان کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل یمن کے لئے یلملم ہے کسی نے عراق کے متعلق پوچھا تو فرمایا اس وقت عراق نہ تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ وَقَالَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثُ حَفِظْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ فَقِيلَ لَهُ الْعِرَاقُ قَالَ لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ عِرَاقٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جماعت کی نماز سے اللہ بہت خوش ہوتا ہے
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مَرْثَدٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ الْهُنَائِيَّ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو النَّدَبِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَيَعْجَبُ مِنْ الصَّلَاةِ فِي الْجَمِيعِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ راستے میں جا رہے تھے تو غلہ پر نظر پڑی جسے اس کے مالک نے بڑا سجا رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے اس کے اندرہاتھ ڈالا تو وہ اندر سے ردی غلہ نکلا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے علیحدہ بیچو، جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَقَدْ حَسَّنَهُ صَاحِبُهُ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا طَعَامٌ رَدِيءٌ فَقَالَ بِعْ هَذَا عَلَى حِدَةٍ وَهَذَا عَلَى حِدَةٍ فَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے تلواردے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے میرے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھر پور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ أَخْبَرَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے تلواردے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے میرے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھر پور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي وَجُعِلَ الذِّلَّةُ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے اندر دو رکعت نماز پڑھی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابونجیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کیا لیکن انہوں نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا میں نے حضرت ابوبکر (رض) حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) کے ساتھ حج کیا لیکن انہوں نے بھی اس دن کا روزہ نہ رکھا میں اس دن کا روزہ رکھتا ہوں اور نہ حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص پر اگر کسی کا کوئی حق ہو تو دو راتیں اس طرح نہیں گذرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَا يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجاتا ہے تو اس کے سامنے صبح وشام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے تک تمہارا یہ ٹھکانہ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَحْسِبُهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ يُعْرَضُ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ النَّارِ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) کو حضرت صفیہ (رض) کے متعلق کوئی ناگہانی خبر ملی تو وہ روانہ ہوگئے اور اس ایک رات میں تین راتوں کی مسافت طے کی وہ شام ہونے تک چلتے رہے، میں نے ان سے نماز کا تذکرہ کیا لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہ کی اور چلتے رہے حتیٰ کہ اندھیرا چھانے لگا پھر سالم یا کسی اور آدمی نے ان سے کہا کہ شام بہت ہوگئی ہے۔ نماز پڑھ لیجئے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کو بھی جب چلنے کی جلدی ہوتی تھی تو وہ بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرلیتے تھے اور میں بھی ان دونوں کو جمع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے چلتے رہو، چناچہ وہ چلتے رہے حتیٰ کہ شفق بھی غائب ہوگئی، پھر انہوں نے اتر کر ونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ فَسَارَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ سَارَ حَتَّى أَمْسَى فَقُلْتُ الصَّلَاةَ فَسَارَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ فَسَارَ حَتَّى أَظْلَمَ فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ أَوْ رَجُلٌ الصَّلَاةَ وَقَدْ أَمْسَيْتَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَسِيرُوا فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
یونس بن جبیر (رح) نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو ایام کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم عبداللہ بن عمر (رض) کو جانتے ہو اس نے بھی اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی تھی حضرت عمر (رض) نے جا کر نبی کریم ﷺ کو یہ بات بتائی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کرلے پھر اگر وہ اسے طلاق دینا ہی چاہے تو طہر کے دوران دے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا فَتَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا
তাহকীক: