আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৪৮৭৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعتیں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى وَكَانَ شُعْبَةُ يَفْرَقُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
مصعب بن سعد رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ابن عامر کے پاس ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے اور ان کی تعریف کرنے لگے حضرت ابن عمر (رض) " جو پہلے خاموش بیٹھے تھے " نے فرمایا کہ میں تمہیں ان سے بڑھ کر دھوکہ نہیں دوں گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ مَرِضَ ابْنُ عَامِرٍ فَجَعَلُوا يَثْنُونَ عَلَيْهِ وَابْنُ عُمَرَ سَاكِتٌ فَقَالَ أَمَا إِنِّي لَسْتُ بِأَغَشِّهِمْ لَكَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابن عون (رح) کہتے کہ میں نے نافع (رح) کے پاس ایک خط لکھا جس میں ان سے دریافت کیا کہ کیا قتال سے پہلے مشرکین کو دعوت دی جاتی تھی ؟ انہوں نے مجھے جواب میں لکھ بھیجا کہ ایسا ابتداء اسلام میں ہوتا تھا اور نبی کریم ﷺ نے بنو مصطلق پر جس وقت حملہ کیا تھا وہ لوگ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے نبی کریم ﷺ نے ان کے لڑاکا لوگوں کو قتل کردیا بقیہ افراد کو قید کرلیا اور اسی دن حضرت جویرہ بنت حارث (رض) ان کے حصے میں آئیں مجھ سے یہ حدیث حضرت ابن عمر (رض) نے بیان کی ہے جو لشکر میں شریک تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْقِتَالِ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ریشم کے متعلق فرمایا یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَبِشْرِ بْنِ الْمُحْتَفِزِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَرِيرِ إِنَّمَا يَلْبَسُهُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ وتر رات کی نمازوں میں سب سے آخری رکعت ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَسَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
وہ نمازیں جنہیں نبی کریم ﷺ کبھی ترک نہیں فرماتے تھے وہ ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد دو رکعتیں اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
یحیٰی بن وثاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے غسل جمعہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ وَقَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ وَثَّابٍ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نجران کے ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے دو چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں ایک تو کشمش اور کھجور کے متعلق اور ایک کے درخت میں بیع سلم کے متعلق (ادھار) حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس نشے میں دھت ایک شخص کو لایا گیا اس نے کشمش اور کھجور کی شراب پینے کا اعتراف کیا نبی کریم ﷺ نے اس پر حد جاری فرمائی اور ان دونوں کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا۔ نیز ایک آدمی نے دوسرے کے لئے کھجور کے درخت میں بیع سلم کی لیکن اس سال پھل ہی نہیں آیا اس نے اپنے پیسے واپس لینا چاہے تو اس نے انکار کردیا وہ آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آگیا نبی کریم ﷺ نے درختوں کے مالک سے پوچھا کہ کیا اس کے درختوں پر پھل نہیں آیا ؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو پھر اس کے پیسے کیوں روک رکھے ہیں ؟ چناچہ اس نے اس کے پیسے لوٹا دئیے اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے پھل پکنے تک بیع سلم سے منع فرمادیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْئَيْنِ عَنْ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ وَعَنْ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ فَقَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ قَدْ شَرِبَ زَبِيبًا وَتَمْرًا قَالَ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَنَهَى أَنْ يُخْلَطَا قَالَ وَأَسْلَمَ رَجُلٌ فِي نَخْلِ رَجُلٍ فَلَمْ يَحْمِلْ نَخْلُهُ قَالَ فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ قَالَ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُ قَالَ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَمَلَتْ نَخْلُكَ قَالَ لَا قَالَ فَبِمَ تَأْكُلُ مَالَهُ قَالَ فَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَنَهَى عَنْ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہوجائیں الاّ یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ بَيِّعَيْنِ فَلَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعُ الْخِيَارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبداللہ دینار (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) کو نبی کریم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے ورس اور زعفران سے منع فرمایا ہے میں نے پوچھا محرم کو ؟ فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ يَعْنِي الْمُحْرِمَ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا بچھو، چوہے، چیل کوے اور باؤلے کتے کو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ لَيْسَ عَلَى حَرَامٍ جُنَاحٌ فِي قَتْلِهِنَّ الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْفَأْرَةُ وَالْحَيَّةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا غیب کی پانچ باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کل کیا ہوگا ؟ یہ اللہ ہی جانتا ہے قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ وَلَا يَعْلَمُ نُزُولَ الْغَيْثِ إِلَّا اللَّهُ وَلَا يَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ إِلَّا اللَّهُ وَلَا يَعْلَمُ السَّاعَةَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے پکنے سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مونچھیں خوب اچھی طرح کتروایا کرو اور ڈاڑھی خوب بڑھایا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ هُوَ ابْنُ عَلْقَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْفُوا اللِّحَى وَحُفُّوا الشَّوَارِبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنو نضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم امی امت ہیں حساب کتاب نہیں جانتے بعض اوقات مہینہ اتنا اور اتنا ہوتا ہے تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے انگوٹھا بند کرلیا یعنی ٢٩ کا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَإِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ قَالَ إِسْحَاقُ وَطَبَّقَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَحَبَسَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مونچھیں خوب اچھی طرح کتروایا کرو اور ڈاڑھی خوب بڑھایا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْفَى اللِّحَى وَأَنْ تُجَزَّ الشَّوَارِبُ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم جو عمل کرتے ہیں کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے ؟ فرمایا نہیں بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے لہٰذا اے ابن خطاب ! عمل کرتے رہو کیونکہ جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اسے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کردیا جاتا ہے چناچہ اگر وہ اہل سعادت میں سے ہو تو وہ سعادت والے اعمال کرتا ہے اور اہل شقاوت میں سے ہو تو بدبختی والے اعمال کرتا ہے۔ فائدہ۔ اس حدیث کا تعلق مسئلہ تقدیر سے ہے اس کی مکمل وضاحت کے لئے ہماری کتاب " الطریق " الاسلم الی شرح مسندالامام اعظم " کا مطالعہ کیجئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَفِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ مُبْتَدَإٍ أَوْ مُبْتَدَعٍ قَالَ فِيمَا قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَاعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے نبی کریم ﷺ کے مرض الوفات کے بارے کچھ بتائیں گی ؟ فرمایا کیوں نہیں، نبی کریم ﷺ کی طبیعت جب بوجھل ہوئی تو آپ ﷺ نے پوچھا کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے کہا نہیں یا رسول اللہ ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے لئے ایک ٹب میں پانی رکھو، ہم نے ایسے ہی کیا، نبی کریم ﷺ نے غسل کیا اور جانے کے لئے کھڑے ہونے ہی لگے تھے کہ آپ ﷺ پر بےہوشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا تو پھر یہی سوال پوچھا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے حسب سابق وہی جواب دیا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ لوگ نماز عشاء کے لئے مسجد میں بیٹھے نبی کریم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے نبی کریم ﷺ نے حضرت صدیق اکبر (رض) کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھادیں حضرت ابوبکر (رض) بڑے رقیق القلب آدمی تھے کہنے لگے اے عمر ! آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں انہوں نے کہا اس کے حقدار تو آپ ہی ہیں چناچہ ان دونوں میں حضرت صدیق اکبر (رض) لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے ایک دن نبی کریم ﷺ کو اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی تو آپ ﷺ ظہر کی نماز کے وقت دو آدمیوں کے درمیان نکلے جن میں سے ایک حضرت عباس (رض) تھے حضرت ابوبکر (رض) نے جب نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور اپنے ساتھ آنے والے دونوں صاحبوں کو حکم دیا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو حضرت صدیق اکبر (رض) کے پہلو میں بٹھادیا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی کریم ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سماعت کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے یہاں آیا ہوا تھا میں نے ان سے کہا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ حدیث پیش کروں جو نبی کریم ﷺ کے مرض والوفات کے حوالے سے حضرت عائشہ (رض) نے مجھے سنائی ہے ؟ انہوں نے کہا ضرور بیان کرو چناچہ میں نے ان سے ساری حدیث بیان کردی انہوں نے اس کے کسی حصے پر نکیر نہیں فرمائی البتہ اتنا ضرور پوچھا کہ کیا حضرت عائشہ (رض) نے آپ کو اس آدمی کا نام بتایا جو حضرت عباس (رض) کے ساتھ تھا ؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے فرمایا کہ وہ حضرت علی (رض) تھے اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ فَقُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّى النَّاسُ قُلْنَا لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ فَذَهَبَ لِيَنُوءَ فَغُشِيَ عَلَيْهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَاتِ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ هَلْ سَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ وَثَّابٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
তাহকীক: