আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৪৯১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) کو سفر میں جلدی ہوتی تو وہ غروب شفق کے بعد مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو اکٹھا کرلیتے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کو بھی جب جلدی ہوتی تھی تو وہ بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرلیتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بَعْدَمَا يَغِيبُ الشَّفَقُ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو " ایام " کی حالت میں ایک طلاق دے دی، حضرت عمر فاروق (رض) نے نبی کریم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ وہ رجوع کرلیں اور دوبارہ " ایام " آنے تک انتظار کریں اور ان سے " پاکیزگی " حاصل ہونے تک رکے رہیں پھر اپنی بیوی کے " قریب " جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَاهُ فَقَالَ مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا هَذِهِ ثُمَّ تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُفَارِقْهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا أَوْ لِيُمْسِكْهَا فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أُمِرَ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) کے پاس ان کے صاحبزادے عبداللہ آئے یہ اس وقت کی بات ہے جب حجاج بن یوسف حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے جنگ کے ارادے سے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا اور کہنے لگے کہ مجھے اندیشہ ہے اس سال لوگوں کے درمیان قتل و قتال ہوگا اور آپ کو حرم شریف پہنچنے سے روک دیا جائے گا اگر آپ اس سال ٹھہر جاتے اور حج کے لئے نہ جاتے تو بہتر ہوتا ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ بھی مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے اور کفار قریش ان کے اور حرم شریف کے درمیان حائل ہوگئے تھے اس لئے اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے اور فرمایا کہ میں عمرہ کی نیت کرچکا ہوں۔ اس کے بعد وہ روانہ ہوگئے چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کرلی ہے چناچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کی، پھر یوم النحرتک اسی طرح رہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ وَأَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَالَ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِعُمْرَةٍ ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم احرام باندھنے کے بعد کون سے کپڑے پہن سکتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قمیض شلوار عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتے الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے اسی طرح ٹوپی یا ایساکپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَلْبَسُ مِنْ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا قَالَ لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ أَوْ زَعْفَرَانٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگی چناچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہوگی مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق باز پرس ہوگی عورت اپنے خاوند کے گھر اور بچوں کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہوگی غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہوگی الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعا کے متعلق باز پرس ہوگی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى بَيْتِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دشمن کے علاقے میں سفر پر جاتے وقت قرآن اپنے ساتھ لے جانے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ ہمیں کہاں سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن میقات ہے حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اہل یمن کی میقات یلملم ہے لیکن مجھے یہ یاد نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا نُهِلُّ قَالَ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَهْلُ الشَّأْمِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَالَ وَأَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا حضرت ام سلمہ (رض) نے (سلیمان (رح) کے بقول) عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا ؟ (کیونکہ عورتوں کے کپڑے بڑے ہوتے ہیں اور عام طور پر شلوار پائنچوں میں آرہی ہوتی ہے) فرمایا ایک بالشت کپڑا اونچا کرلیا کرو انہوں نے پھر عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ النِّسَاءَ فَقَالَ تُرْخِي شِبْرًا قَالَتْ إِذَنْ تَنْكَشِفَ قَالَ فَذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چھوٹے اور بڑے اور آزاد غلام سب پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " قزع " سے منع فرمایا ہے " قزع " کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَزَعِ قُلْتُ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم ﷺ کے ساتھ حضرت فضل بن عباس (رض) اسامہ بن زید (رض) عثمان بن طلحہ (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت بلال (رض) نے دروازہ بند کردیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے پھر نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال (رض) سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان البتہ میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی کریم ﷺ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَبِلَالٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا الْبَابَ وَمَكَثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ فَلَمَّا فُتِحَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَسَأَلْتُ بِلَالًا أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے فی سبیل اللہ کسی شخص کو سواری کے لئے گھوڑادے دیا وہ گھوڑا انہوں نے نبی کریم ﷺ کے حوالے کیا تھا تاکہ وہ کسی کو سواری کے لئے دے دیں بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ وہ گھوڑابازار میں بک رہا ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسے خریدنے کا مشورہ کیا نبی کریم ﷺ کہ اسے مت خریدو اور اپنے صدقے سے رجوع مت کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فَأَعْطَاهَا عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَحْمِلَ عَلَيْهَا رَجُلًا فَأُخْبِرَ عُمَرُ أَنَّهُ قَدْ وَقَفَهَا يَبِيعُهَا قَالَ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُهَا قَالَ لَا تَبْتَعْهَا وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں حضرات شیخین (رض) کے ساتھ اور حضرت عثمان (رض) کے ابتدائی ایام خلافت میں ان کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں اور بعد میں حضرت عثمان (رض) نے اسے مکمل کرنا شروع کردیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَعُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ثُمَّ أَتَمَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق (رض) (کوخیبر میں ایک زمین حصے میں ملی وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق مشورہ لینا چاہا چناچہ انہوں) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے حصے میں خیبر کی زمین کا ایک ایسا ٹکڑا آیا ہے کہ اس سے عمدہ مال میرے پاس کبھی نہیں آیا آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس کی اصل تو اپنے پاس رکھ لو اور اس کے منافع صدقہ کردو چناچہ حضرت عمر فاروق (رض) نے اسے فقراء قریبی رشتہ داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں اور مہمانوں کے لئے وقف کردیا اور فرمایا کہ اس زمین کے متولی کے لئے خود بھلے طریقے سے اس میں سے کچھ کھانے میں یا اپنے دوست کو جو اس سے اپنے مال میں اضافہ کرنا چاہتاہو " کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْمَاعِيلُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ شَيْئًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا تُوهَبُ وَلَا تُورَثُ قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَالضَّيْفِ وَالرِّقَابِ وَفِي السَّبِيلِ وَابْنِ السَّبِيلِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں روانہ فرمایا ہمارا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ بَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ کروا یا ان میں سے جو گھوڑے چھریرے تھے انہیں " حفیائ " سے ثنیۃ الوداع تک مسابقت کے لئے مقرر فرمایا اور جو چھریرے بدن کے نہ تھے ان کی ریس ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الْمُضَمَّرَةِ مِنْ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَمَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مہینہ ٢٩ دن کا ہوتا ہے لوگوں نے یہ بات حضرت عائشہ (رض) کو بتائی تو انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے انہیں وہم ہوگیا ہے دراصل نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے کے لئے ازاواج مطہرات کو چھوڑ دیا تھا ٢٩ دن ہونے پر نبی کریم ﷺ اپنے بالاخانے سے نیچے آگئے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ تو ٢٩ ویں دن ہی نیچے آگئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بعض اوقات مہینہ ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَلْ هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ قَدْ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
tahqiq

তাহকীক: