আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৪৯৩৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنی بھی حیاء نہ کیا کرو) نبی کریم ﷺ نے فرمایا رہنے دو حیاء تو ایمان کا حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنْ الْإِيمَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تک پھل پک نہ جائے اس کی خریدو فروخت نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ سفر پر تھا انہوں نے ظہر اور عصر کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی، پھر اپنی چٹائی پڑ کھڑے ہوئے تو کچھ لوگوں کو فرض نماز کے بعد نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا انہوں نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کررہے ہیں ؟ میں نے بتایا کہ نوافل پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نفل پڑھتا تو اپنی فرض نماز مکمل نہ کرلیتا ( قصر کیوں کرتا ؟ ) میں نے نبی کریم ﷺ کے وصال تک ان کی رفاقت کا شرف حاصل کیا ہے وہ دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اسی طرح صدیق اکبر (رض) عمر فاروق (رض) اور عثمان (رض) کے ساتھ بھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ إِلَى طِنْفِسَةٍ فَرَأَى نَاسًا يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ قُلْتُ يُسَبِّحُونَ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَى رَكْعَتَيْنِ وَأَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৩৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ہی اقامت سے پڑھی اور ان کے درمیان یا ان کے بعد نوافل نہیں پڑھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى أَثَرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں طاؤس کہتے ہیں بخدا ! یہ بات میں نے خود سنی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ طَاوُسٍ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ نَعَمْ و قَالَ طَاوُسٌ وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ أَوْ ثَوْبَهُ شَكَّ يَحْيَى مِنْ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہوجاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ شرمگاہ کو دھو کر وضو کرلیا کریں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنْ اللَّيْلِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
زاذان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جن برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے مجھے وہ بتائیے اور ہماری زبان میں اس کی وضاحت بھی کیجئے کیونکہ ہماری زبان اور آپ کی زبان میں فرق ہے حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے " حنتم " سے منع کیا ہے جس کا معنی مٹکا ہے " مزفت " سے بھی منع کیا ہے جو لُک کے برتن کو کہتے ہیں " دباء " سے بھی منع کیا ہے جس کا معنی کدو ہے اور " نقیر " سے بھی منع کیا ہے جس کا معنی ہے کھجور کی وہ لکڑی جسے اندر سے کھوکھلا کرلیا جائے راوی نے پوچھا کہ پھر آپ ہمیں کس برتن میں پانی پینے کا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا مشکیزوں میں، بقول راوی محمد کے انہوں نے ہمیں مشکیزوں میں نبیذ بنانے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ زَاذَانَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ أَخْبِرْنِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَوْعِيَةِ وَفَسِّرْهُ لَنَا بِلُغَتِنَا فَإِنَّ لَنَا لُغَةً سِوَى لُغَتِكُمْ قَالَ نَهَى عَنْ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ وَنَهَى عَنْ الْمُزَفَّتِ وَهُوَ الْمُقَيَّرُ وَنَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَهُوَ الْقَرْعُ وَنَهَى عَنْ النَّقِيرِ وَهِيَ النَّخْلَةُ تُنْقَرُ نَقْرًا وَتُنْسَجُ نَسْجًا قَالَ فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ فِيهِ قَالَ الْأَسْقِيَةُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَمَرَ أَنْ نَنْبِذَ فِي الْأَسْقِيَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈابلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي ابْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْصَبُ لِلْغَادِرِ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے محرم کو ایسے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے جس پر زعفران اور ورس لگی ہوئی ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي ابْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ أَوْ وَرْسٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
وبرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ اگر میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہو تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کرسکتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں حرج ہے ؟ وہ شخص کہنے لگا کہ اصل میں فلاں صاحب اس سے منع کرتے ہیں جب تک کہ لوگ " موقف " سے واپس نہ آجائیں اور میں دیکھتا ہوں کہ دنیا ان پر ٹوٹی پڑی ہے لیکن ہمیں آپ زیادہ اچھے لگتے ہیں حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے حج کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف بھی کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کی اور اللہ اور اس کے رسول کی سنت کی پیروی کرنا فلاں کے بیٹے کی سنت کی پیروی سے زیادہ حق رکھتی ہے بشرطیکہ تم اس کے متعلق اپنی بات میں سچے ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ أَخْبَرَنِي وَبَرَةُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ أَيَصْلُحُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَأَنَا مُحْرِمٌ قَالَ مَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ إِنَّ فُلَانًا يَنْهَانَا عَنْ ذَلِكَ حَتَّى يَرْجِعَ النَّاسُ مِنْ الْمَوْقِفِ وَرَأَيْتُهُ كَأَنَّهُ مَالَتْ بِهِ الدُّنْيَا وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَسُنَّةُ اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ أَحَقُّ أَنْ تُتَّبَعَ مِنْ سُنَّةِ ابْنِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৪৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کے جانوروں کا دودھ دوہ کر اپنے استعمال میں لانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُحْتَلَبَ الْمَوَاشِي مِنْ غَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص پر کسی کا کوئی حق ہو تو اس پر دو راتیں اس طرح نہیں گذرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حالت احرام میں حضرت ابن عمر (رض) کو ٹھنڈ " لگ گئی وہ مجھ سے کہنے لگے کہ مجھ پر کوئی کپڑا ڈال دو ، میں نے ان پر ٹوپی ڈال دی انہوں نے اسے پیچھے کردیا اور کہنے لگے کہ تم مجھ پر ایسا کپڑا ڈال رہے جسے محرم کے پہننے پر نبی کریم ﷺ نے ممانعت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ أَصَابَ ابْنَ عُمَرَ الْبَرْدُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَلْقَيْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ بُرْنُسًا فَقَالَ أَبْعِدْهُ عَنِّي أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْبُرْنُسِ لِلْمُحْرِمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو حجر اسود کا استلام کرتے ہوئے خود دیکھا ہے اس لئے میں کسی سختی یا نرمی کی پرواہ کئے بغیر اس کا استلام کرتا ہی رہوں گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَا أَتْرُكُ اسْتِلَامَهُمَا فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ بَعْدَ إِذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کے ایک مرد اور عورت کے درمیان لعان کروایا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کرادی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ مِنْ الْأَنْصَارِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا
tahqiq

তাহকীক: