আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৪৯৫৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی کہ اہل جاہلیت دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے جب ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا حکم دریافت کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ سُئِلَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ تَعَالَى مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مال غنیمت میں سے چوری کی ہوئی چیز کا صدقہ قبول نہیں کرتا اور نہ ہی طہارت کے بغیر نماز قبول کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ تَعَالَى صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گدھے پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت آپ ﷺ خیبر کو جا رہے تھے جو مشرق کی جانب ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں " نحوالمشرق " کا لفظ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنِ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَقُلْ نَحْوَ الْمَشْرِقِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৫৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید بن یسار (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے مجھ سے فرمایا کیا نبی کریم ﷺ کی ذات میں تمہارے لئے نمونہ موجود نہیں ہے ؟ نبی کریم ﷺ اپنے اونٹ پر ہی وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ أَمَا لَكَ بِرَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ وَقَرَأْتُهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو تم اسے اجازت دے دیا کرو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ الْجُمَحِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) عید کے دن گھر سے باہر نکلے آپ ﷺ نے نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھی اور بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا فَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابوحنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سفر کی نماز کے متعلق دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ سفر میں نماز کی دو رکعتیں ہیں اور یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي حَنْظَلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ رَكْعَتَانِ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرات شیخین (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے اپنے ابتدائی دور خلافت میں منٰی کے میدان میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ صَلَّوْا بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فجر سے پہلے سنتوں میں اور مغرب کے بعد کی دو سنتوں میں یا دسیوں مرتبہ سورت کافرون اور سورت اخلاص پڑھی ہوگی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ بِضْعَ عَشْرَةَ مَرَّةً قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے وتر کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ واجب ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم ﷺ اور تمام مسلمانوں نے وتر پڑھے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْوَتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ فَقَالَ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا اس وقت میں نبی کریم ﷺ اور سائل کے درمیان تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم دو دو رکعت کرکے نماز پڑھا کرو اور جب " صبح " ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ وتر کی ایک رکعت اور ملا لو، ایک سال بعد دوبارہ وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس مرتبہ بھی میں نبی کریم ﷺ اور اس کے درمیان تھا اس نے وہی سوال کیا اور نبی کریم ﷺ نے اسے وہی جواب دیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَأَنَا بَيْنَ السَّائِلِ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ قَالَ ثُمَّ جَاءَ عِنْدَ قَرْنِ الْحَوْلِ وَأَنَا بِذَاكَ الْمَنْزِلِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّائِلِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَكْعَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجدقباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَسْجِدَ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৬৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے برابر ہوں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب یہودی تمہیں ملتے ہیں تو وہ السام علیکم کہتے ہیں لہٰذا تم وعلیکم کہہ دیا کرو (تم پر موت طاری ہو)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعد بن عبیدہ (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک حلقہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا حضرت ابن عمر (رض) نے دوسرے حلقے میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو " لا " وابی " کہہ کر قسم کھاتے ہوئے سنا تو اسے کنکریاں ماریں اور فرمایا حضرت عمر (رض) اس طرح قسم کھاتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شرک ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَلْقَةٍ فَسَمِعَ رَجُلًا فِي حَلْقَةٍ أُخْرَى وَهُوَ يَقُولُ لَا وَأَبِي فَرَمَاهُ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى وَقَالَ إِنَّهَا كَانَتْ يَمِينَ عُمَرَ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا وَقَالَ إِنَّهَا شِرْكٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس نشے میں دھت ایک شخص کو لایا گیا اس نے کشمش اور کھجور کی شراب پینے کا اعتراف کیا نبی کریم ﷺ نے اس پر حد جاری فرمائی اور ان دونوں کو اکٹھا کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی جانب سے کفایت کر جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ النَّجْرَانِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَكْرَانَ فَضَرَبَهُ الْحَدَّ ثُمَّ قَالَ مَا شَرَابُكَ فَقَالَ زَبِيبٌ وَتَمْرٌ فَقَالَ لَا تَخْلِطْهُمَا يَكْفِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دباء حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے، راوی کو " نقیر " کے لفظ میں شک ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ شُعْبَةُ وَأُرَاهُ قَالَ وَالنَّقِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو اگر تمہیں رونا نہ آتا ہو تو وہاں نہ جایا کرو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آپکڑے جو ان پر آیا تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ أَصْحَابِ الْحِجْرِ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৯৭৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا غیب کی پانچ باتیں ایسی ہیں جہنیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) " بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے ؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا بیشک اللہ بڑا جاننے والا نہایت باخبر ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
tahqiq

তাহকীক: