আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৫০৯৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا نبی کریم ﷺ کے لئے کھجور کی شاخوں سے ایک خیمہ بنادیا گیا ایک دن نبی کریم ﷺ نے اس میں سے سر نکالا اور ارشاد فرمایا جو شخص بھی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے درحقیقت وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اس لئے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تم اپنے رب سے کیا مناجات کررہے ہو ؟ اور تم نماز میں ایک دوسرے سے اونچی قرأت نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ يَعْنِي السُّكَّرِيَّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صَدَقَةَ الْمَكِّيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَاتُّخِذَ لَهُ فِيهِ بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ قَالَ فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ بِمَا يُنَاجِي رَبَّهُ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص حج وعمرہ کا قران کرے اس کے لئے ان دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کافی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَنَ بَيْنَ حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ أَجْزَأَهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظررحم نہیں فرمائے گا حضرت صدیق اکبر (رض) نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک کونا بعض اوقات نیچے لٹک جاتا ہے گو کہ میں کوشش تو بہت کرتا ہوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ ثَوْبِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ خُيَلَاءَ قَالَ مُوسَى قُلْتُ لِسَالِمٍ أَذَكَرَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ قَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ ذَكَرَ إِلَّا ثَوْبَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دجال اس " مرقناۃ " کی دلدلی زمین میں آ کر پڑاؤ ڈالے گا اس کے پاس نکل نکل کر جانے والوں میں اکثریت خواتین کی ہوگی اور نوبت یہاں تک جاپہنچے گی کہ ایک آدمی اپنے گھر میں اپنی ماں، بیٹی، بہن اور پھوپھی کے پاس آکر انہیں اس اندیشے سے کہ کہیں یہ دجال کے پاس نہ چلی جائیں رسیوں سے باندھ دے گا پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دجال پر تسلط عطاء فرمائے گا اور وہ اسے اور اس کے ہمنواؤں کو قتل کردیں گے حتیٰ اگر کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے نیچے چھپا ہوگا تو وہ درخت اور پتھر مسلمانوں سے پکارپکار کر کہے گا کہ یہ میرے نیچے یہودی چھپا ہوا ہے آکر اسے قتل کرو۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبَخَةِ بِمَرِّقَنَاةَ فَيَكُونُ أَكْثَرَ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ وَإِلَى أُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ وَعَمَّتِهِ فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ لَيَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوْ الْحَجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي فَاقْتُلْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے نبی کریم ﷺ کو سو مرتبہ استغفار کرتے ہوئے سنا پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما مجھ پر توجہ فرما، بیشک تو نہایت توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے یا یہ کہ نہایت بخشنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ اسْتَغْفَرَ مِائَةَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ أَوْ إِنَّكَ تَوَّابٌ غَفُورٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا " کوثر " جنت میں ایک نہر ہوگی جس کے دونوں کنارے سونے کے ہوں گے اور اس کا پانی موتیوں پر بہتا ہوگا نیز اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ قَالَ وَقَالَ عَطَاءٌ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ وَالْمَاءُ يَجْرِي عَلَى اللُّؤْلُؤِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " قزع " سے منع فرمایا ہے، ( " قزع " کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقَزَعِ فِي الرَّأْسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رسوا کرتا ہے اور فرماتے تھے اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے جو دو آدمی بھی آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں اور ان دونوں کے درمیان جدائی ہوجائے تو وہ یقینا ان میں سے کسی ایک گناہ کی وجہ سے ہوگی اور فرماتے تھے کہ ایک مسلمان آدمی پر اپنے بھائی کے چھ حقوق ہیں، چھینک آنے پر اس کا جواب دے، بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرے اس کی غیر موجودگی میں خیر خواہی کرے ملاقات ہونے پر اسے سلام کرے، دعوت دینے پر قبول کرے اور فوت ہوجانے پر اس کے جنازے میں شرکت کرے اور نبی کریم ﷺ نے اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَيَقُولُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا وَكَانَ يَقُولُ لِلْمَرْءِ الْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ مِنْ الْمَعْرُوفِ سِتٌّ يُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ وَيَنْصَحُهُ إِذَا غَابَ وَيَشْهَدُهُ وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ وَيَتْبَعُهُ إِذَا مَاتَ وَنَهَى عَنْ هِجْرَةِ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجد حرام کو چھوڑ کر میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابن عبیدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر (رض) کسی مجلس میں بیٹھے تھے حضرت ابن عمر (رض) بھی وہاں تشریف فرما تھے، میرے والد صاحب کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن منافق کی مثال اس بکری کی سی ہوگی جو دو ریوڑوں کی درمیان ہو اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں اور اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں حضرت ابن عمر (رض) کہنے لگے کہ آپ کو غلطی لگی ہے ادھر لوگ میرے والد صاحب کی تعریف کرنے لگے تو حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ میں بھی تمہارے ساتھی کو ویسا ہی سمجھتا ہوں جیسے تم لوگ کہہ رہے ہو لیکن میں بھی اس مجلس میں موجود تھا جب نبی کریم ﷺ نے اس موقع پر " غنمین " کا لفظ استعمال کیا تھا حضرت عبید نے فرمایا کہ یہ دونوں برابر ہیں حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْهُذَيْلُ بْنُ بِلَالٍ عَنِ ابْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ بِمَكَّةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مَعَهُ فَقَالَ أَبِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الْمُنَافِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَالشَّاةِ بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ مِنْ الْغَنَمِ إِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْنَهَا وَإِنْ أَتَتْ هَؤُلَاءِ نَطَحْنَهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ كَذَبْتَ فَأَثْنَى الْقَوْمُ عَلَى أَبِي خَيْرًا أَوْ مَعْرُوفًا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَا أَظُنُّ صَاحِبَكُمْ إِلَّا كَمَا تَقُولُونَ وَلَكِنِّي شَاهِدٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ كَالشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ فَقَالَ هُوَ سَوَاءٌ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبداللہ بن بابی المکی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا کیا میں تمہیں تحیۃ الصلوٰۃ نہ سکھاؤں جیسے نبی کریم ﷺ ہمیں سکھاتے تھے ؟ یہ کہہ کر انہوں نے میرے سامنے تشہد کے وہ کلمات پڑھے جو حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے مروی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَابَيْ الْمَكِّيُّ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ فَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ تَحِيَّةَ الصَّلَاةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا فَتَلَا عَلَيَّ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ يَعْنِي قَوْلَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فِي التَّشَهُّدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہا ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی شخص سے پوچھا کہ تم نے یہ کام کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا اتنے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آگئے اور کہنے لگے کہ وہ کام تو اس نے کیا ہے لیکن " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا فَعَلْتُ قَالَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام قَدْ فَعَلَ وَلَكِنْ قَدْ غُفِرَ لَهُ بِقَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ حَمَّادٌ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْ ابْنِ عُمَرَ بَيْنَهُمَا رَجُلٌ يَعْنِي ثَابِتًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت انشاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اپنی قسم پوری کرنا چاہئے تو کرلے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کرلے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ فَلْيَمْضِ وَإِنْ شَاءَ فَلْيَتْرُكْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ریشمی لباس وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَبِشْرُ بْنُ عَائِذٍ الْهُذَلِيُّ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دے دو جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کردو جو شخص تمہیں دعوت دے اسے قبول کرلو جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دو اگر بدلہ دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہوجائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ ﷺ ہتھیلی کی طرف کرلیتے تھے لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوالیں جس پر نبی کریم ﷺ نے اسے پھینک دیا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں، پھر نبی کریم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی، اس سے نبی کریم ﷺ مہر لگاتے تھے لیکن اسے پہنتے نہیں تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ يَدِهِ قَالَ فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہیں دعوت دی جائے تو اسے قبول کرلیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجِيبُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جن الفاظ سے قسم کھایا کرتے تھے وہ یہ تھے " لا و مقلب القلوب " (نہیں، مقلب القلوب کی قسم)
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے نشیبی علاقے میں نزول وحی کا زمانہ شروع ہونے سے قبل نبی کریم ﷺ کی ملاقات زید بن عمرو بن نفیل سے ہوئی نبی کریم ﷺ نے ان کے سامنے دستر خوان بچھایا اور گوشت لاکر سامنے رکھا انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا اور کہنے لگے کہ میں ان جانوروں کا گوشت نہیں کھاتا جنہیں تم لوگ اپنے بتوں کے نام پر قربان کرتے ہو، بلکہ میں صرف وہ چیزیں کھاتا ہوں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ فائدہ۔ " تم لوگ " سے مراد " قوم " سے نبی کریم ﷺ کی ذات مراد نہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا آكُلُ مَا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ حَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اپنے مردوں کو قبر میں اتارو تو کہو " بسم اللہ، وعلی سنۃ رسول اللہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ هَمَّامٌ فِي كِتَابِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقَبْرِ فَقُولُوا بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক: