আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫১১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی حاجی سے ملو تو اسے سلام کرو اس سے مصافحہ کرو اور اس کے اپنے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے لئے بخشش کی دعاء کرواؤ کیونکہ وہ بخشا بخشایا ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيتَ الْحَاجَّ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَصَافِحْهُ وَمُرْهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ فَإِنَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمیوں پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دے دیا ہے، شراب کا عادی، والدین کا نافرمان اور وہ بےغیرت آدمی جو اپنے گھر میں گندگی کو برداشت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ قَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّيُّوثُ الَّذِي يُقِرُّ فِي أَهْلِهِ الْخَبَثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عمربن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ مروان کے پاس سے نکل رہے تھے تو حضرت ابن عمر (رض) کی ان سے ملاقات ہوگئی انہوں نے پوچھا کہ یہ لوگ کہاں سے آرہے ہیں ؟ وہ لوگ بولے کہ ہم امیر مدینہ مروان کے پاس سے آرہے ہیں حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کیا تم نے وہاں جو حق بات دیکھی اس کے متعلق بولے اور اس کی اعانت کی اور جو غلط دیکھا اس پر نکیر اور تریدد کی ؟ وہ کہنے لگے کہ واللہ ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ غلط بات کہتا تھا اور ہم اس کی تائید کرتے تھے اور اس سے کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ بہتری کا معاملہ کرے اور جب ہم وہاں سے نکل آئے تو ہم کہنے لگے کہ اللہ اسے قتل کرے یہ کتنا ظالم اور بدکار ہے حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں اس چیز کو ہم نفاق سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَقِيَ نَاسًا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ مَرْوَانَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ جَاءَ هَؤُلَاءِ قَالُوا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ الْأَمِيرِ مَرْوَانَ قَالَ وَكُلُّ حَقٍّ رَأَيْتُمُوهُ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ وَأَعَنْتُمْ عَلَيْهِ وَكُلُّ مُنْكَرٍ رَأَيْتُمُوهُ أَنْكَرْتُمُوهُ وَرَدَدْتُمُوهُ عَلَيْهِ قَالُوا لَا وَاللَّهِ بَلْ يَقُولُ مَا يُنْكَرُ فَنَقُولُ قَدْ أَصَبْتَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ قُلْنَا قَاتَلَهُ اللَّهُ مَا أَظْلَمَهُ وَأَفْجَرَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا بِعَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُدُّ هَذَا نِفَاقًا لِمَنْ كَانَ هَكَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر فاروق (رض) کو بنو ہوازن کے قیدیوں میں سے ایک باندی عطاء فرمائی وہ انہوں نے مجھے ہبہ کردی میں نے اسے بنوجمح میں اپنے ننہیال بھجوادیا تاکہ وہ اسے تیار کریں اور میں بیت اللہ کا طواف کر آؤں واپس آکر میرا ارادہ اس سے " خلوت " کرنے کا تھا چناچہ فارغ ہو کر جب میں مسجد سے نکلا تو دیکھا کہ لوگ بھاگے جا رہے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ہمارے بیٹے اور عورتوں کو واپس لوٹادیا ہے میں نے کہا کہ پھر تمہاری ایک عورت بنوجمح میں بھی ہے جا کر اسے وہاں سے لے آؤ چناچہ انہوں نے وہاں جا کر اسے حاصل کرلیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَارِيَةً مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ فَوَهَبَهَا لِي فَبَعَثْتُ بِهَا إِلَى أَخْوَالِي مِنْ بَنِي جُمَحٍ لِيُصْلِحُوا لِي مِنْهَا حَتَّى أَطُوفَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ أَاتِيَهُمْ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصِيبَهَا إِذَا رَجَعْتُ إِلَيْهَا قَالَ فَخَرَجْتُ مِنْ الْمَسْجِدِ حِينَ فَرَغْتُ فَإِذَا النَّاسُ يَشْتَدُّونَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا رَدَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا قَالَ قُلْتُ تِلْكَ صَاحِبَتُكُمْ فِي بَنِي جُمَحٍ فَاذْهَبُوا فَخُذُوهَا فَذَهَبُوا فَأَخَذُوهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعد بن عبیدہ (رح) کہتے ہیں کہ میں اور محمد کندی حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تھوڑی دیر بعد میں وہاں سے اٹھا اور جا کر سعید بن مسیب (رح) کے پاس بیٹھ گیا اتنی دیر میں میرا ساتھی آیا اس کے چہرے کا رنگ متغیر اور پیلا زرد ہو رہا تھا اس نے آتے ہی کہا کہ میرے ساتھ چلو میں نے کہا ابھی میں تمہارے ساتھ ہی تو بیٹھا ہوا تھا سعید بن مسیب (رح) کہنے لگے کہ تم اپنے ساتھی کے ساتھ جاؤ چناچہ میں اٹھ کھڑا ہوا اس نے مجھ سے کہا کہ تم نے حضرت ابن عمر (رض) کی بات سنی ؟ میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ اس نے کہا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن ! اگر میں خانہ کعبہ کی قسم کھاؤں تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہیں خانہ کعبہ کی قسم کھانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اگر تم خانہ کعبہ کی قسم ہی کھانا چاہتے ہو تو رب کعبہ کی قسم کھاؤ کیونکہ حضرت عمر (رض) کلا وابی " کہہ کر قسم کھایا کرتے تھے ایک دن نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں انہوں نے یہی قسم کھالی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے باپ یا غیر اللہ کی قسم نہ کھاؤ کیونکہ غیر اللہ کی قسم کھانے والاشرک کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ جَلَسْتُ أَنَا وَمُحَمَّدٌ الْكِنْدِيُّ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ثُمَّ قُمْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَجَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَجَاءَ صَاحِبِي وَقَدْ اصْفَرَّ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ فَقَالَ قُمْ إِلَيَّ قُلْتُ أَلَمْ أَكُنْ جَالِسًا مَعَكَ السَّاعَةَ فَقَالَ سَعِيدٌ قُمْ إِلَى صَاحِبِكَ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ قُلْتُ وَمَا قَالَ قَالَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَعَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَحْلِفَ بِالْكَعْبَةِ قَالَ وَلِمَ تَحْلِفُ بِالْكَعْبَةِ إِذَا حَلَفْتَ بِالْكَعْبَةِ فَاحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ كَلَّا وَأَبِي فَحَلَفَ بِهَا يَوْمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ وَلَا بِغَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے قریب حضرموت " جو کہ شام کا ایک علاقہ ہے " کے سمندر سے ایک آگ نکلے گی اور لوگوں کو ہانک کرلے جائے گی ہم نے پوچھا یا رسول اللہ پھر آپ اس وقت کے لئے ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا ملک شام کو اپنے اوپر لازم کرلینا (وہاں چلے جانا)
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ أَوْ مِنْ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَحْشُرُ النَّاسَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَاذَا تَأْمُرُنَا قَالَ عَلَيْكُمْ بِالشَّأَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ ثَوْبَانَ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ خُيَلَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو حجرہ عائشہ (رض) کے قریب یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈابلند کیا جائے گا اور سربراہ مملکت کے دھوکے سے بڑھ کر کسی کا دھوکہ نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ يَقُولُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ دو آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے نبی کریم ﷺ نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے اس لئے نبی کریم ﷺ نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے قسم کھالی لیکن تمہارے " لاالہ الا اللہ " کہنے میں اخلاص کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہوگئے۔ گذشتہ حدیث حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے وہ کام تو کیا ہے لیکن " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے تمہاری بخشش ہوگئی۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَّعِيَ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَاسْتَحْلَفَ الْمَطْلُوبَ فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ قَدْ فَعَلْتَ وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِإِخْلَاصِكَ قَوْلَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّكَ قَدْ فَعَلْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ غَفَرَ لَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید بن جبیررحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ہمارے پاس تشریف لائے ہمیں امید تھی کہ وہ ہم سے عمدہ احادیث بیان کریں گے لیکن ہم سے پہلے ہی ایک آدمی " جس کا نام حکم تھا " بول پڑا اور کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن فتنہ کے ایام میں قتال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا تیری ماں تجھے روئے کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا چیز ہے ؟ نبی کریم ﷺ مشرکین سے قتال کیا کرتے تھے ان میں یا ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا ایسا نہیں تھا جیسے آج تم حکومت کی خاطر قتال کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ وَبَرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا أَوْ حَدِيثًا حَسَنًا فَبَدَرَنَا رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ الْحَكَمُ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَقُولُ فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ وَهَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ فَكَانَ الدُّخُولُ فِيهِمْ أَوْ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے فرمایا مجھے مسجد سے چٹائی پکڑانا وہ کہنے لگیں کہ میرا وضو نہیں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَهِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَحْدَثْتُ فَقَالَ أَوَحَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کتنے عمرے کئے تھے ؟ انہوں نے کہا دو حضرت عائشہ (رض) کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ ابن عمر (رض) کو معلوم بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو عمرہ کیا تھا اس کے علاوہ تین عمرے کئے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثَةً سِوَى الْعُمْرَةِ الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک تھا لوگ دوران جنگ گھبرا کر بھاگنے لگے ان میں میں بھی شامل تھا بعد میں ہم لوگ سوچنے لگے کہ اب کیا ہوگا ؟ ہم تو میدان جنگ سے پشت پھیر کر بھاگے اور اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں تو بہت اچھا ورنہ دوبارہ قتال کے لئے روانہ ہوجائیں گے چناچہ ہم لوگ نماز فجر سے پہلے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے نبی کریم ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے تو فرمایا کون لوگ ہو ؟ ہم نے عرض کیا فرار ہو کر بھاگنے والے نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ تم پلٹ کر حملہ کرنے والے ہو، میں تمہاری ایک جماعت ہوں اور میں مسلمانوں کی ایک پوری جماعت ہوں پھر ہم نے آگے بڑھ کر نبی کریم ﷺ کے دست مبارک کو بوسہ دیا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً وَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ فَقُلْنَا كَيْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنْ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَبِتْنَا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ تَوْبَةٌ وَإِلَّا ذَهَبْنَا فَأَتَيْنَاهُ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَنْ الْقَوْمُ قَالَ فَقُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ قَالَ لَا بَلْ أَنْتُمْ الْعَكَّارُونَ أَنَا فِئَتُكُمْ وَأَنَا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ حَتَّى قَبَّلْنَا يَدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ ہم دس آدمی اہل شام میں سے حج کے اراداے سے نکلے اور مکہ مکرمہ پہنچے پھر ہم حضرت ابن عمر (رض) کے پاس گئے وہ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کی سفارش اللہ کی مقرر کردہ کسی سزا کے درمیان حائل ہوجائے تو گویا اس نے اللہ کے ساتھ ضد کی جو شخص مقروض ہو کر مرگیا تو اس کا قرض درہم و دینار سے نہیں نیکیوں اور گناہوں سے ادا کیا جائے گا جو شخص غلطی پر ہو کر جھگڑا کرتا ہے اور وہ اپنے آپ کو غلطی پر سمجھتا بھی ہے تو وہ اس وقت تک اللہ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹ جاتا اور جو شخص کسی مسلمان کے متعلق کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس میں نہیں ہے اللہ اسے اہل جہنم کی پیپ کے مقام پر ٹھہرائے گا یہاں تک کہ وہ بات کہنے سے باز آجائے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا عَشَرَةً مِنْ أَهْلِ الشَّأَمِ حَتَّى أَتَيْنَا مَكَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہوگی اور جو شخص " جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ فَلَا حُجَّةَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ فَقَدْ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت " جب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے " کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ يَقُومُونَ حَتَّى يَبْلُغَ الرَّشْحُ آذَانَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں جب میں کنوارا نوجوان تھا تو رات کو مسجد نبوی میں سوجایا کرتا تھا اس وقت مسجد میں کتے آیا جایا کرتے تھے اور لوگ اس کے بعد زمین پر معمولی سا چھڑکاؤ بھی نہ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ الْبَاهِلِيُّ أَبُو الْحَسَنِ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ أَعْزَبَ شَابًّا أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اونٹوں کے باڑے میں تشریف لے گئے میں بھی نبی کریم ﷺ کے ساتھ چلا گیا میں نبی کریم ﷺ کی دائیں جانب تھا تھوڑی دیر بعد سامنے سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) آتے ہوئے دکھائی دئیے میں اپنی جگہ سے ہٹ گیا وہ نبی کریم ﷺ کی دائیں طرف آگئے اور میں بائیں جانب اتنے میں حضرت عمر (رض) بھی آگئے میں پھر اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور وہ نبی کریم ﷺ کے بائیں جانب آگئے۔ جب نبی کریم ﷺ اونٹوں کے باڑے میں پہنچے تو وہاں کچھ مشکیزے نظر آئے جن میں شراب تھی نبی کریم ﷺ نے مجھ سے چھری منگوائی مجھے چھری نامی کسی چیز کا اسی دن پتہ چلا بہرحال نبی کریم ﷺ کے حکم پر ان مشکیزوں کو چاک کردیا گیا پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا شراب پر اس کے پینے اور پلانے والے پر اس کے بیچنے اور خریدنے والے پر اس کے اٹھانے اور اٹھوانے والے پر اس کے نچوڑنے اور نچڑوانے والے پر اور اس کی قیمت کھانے پر لعنت ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو طُعْمَةَ قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ لَا أَعْرِفُ إِيشْ اسْمُهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمِرْبَدِ فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَتَأَخَّرْتُ لَهُ فَكَانَ عَنْ يَمِينِهِ وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَتَنَحَّيْتُ لَهُ فَكَانَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِرْبَدَ فَإِذَا بِأَزْقَاقٍ عَلَى الْمِرْبَدِ فِيهَا خَمْرٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدْيَةِ قَالَ وَمَا عَرَفْتُ الْمُدْيَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ فَأَمَرَ بِالزِّقَاقِ فَشُقَّتْ ثُمَّ قَالَ لُعِنَتْ الْخَمْرُ وَشَارِبُهَا وَسَاقِيهَا وَبَائِعُهَا وَمُبْتَاعُهَا وَحَامِلُهَا وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ وَعَاصِرُهَا وَمُعْتَصِرُهَا وَآكِلُ ثَمَنِهَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي طُعْمَةَ مَوْلَاهُمْ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُعِنَتْ الْخَمْرُ عَلَى عَشَرَةِ وُجُوهٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابوطعمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابو عبدالرحمن میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی طرف سے دی جانے والی رخصت کو قبول نہیں کرتا اس پر عرفہ کے پہاڑوں کے برابر گناہ ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو طُعْمَةَ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَقْوَى عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ
tahqiq

তাহকীক: