আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৫৩৯৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا زکوٰۃ وصول کرنے والے کا کچھ دور قیام کر کے زکوٰۃ دینے والوں کو بلانا یا زکوٰۃ دینے والوں کا زکوٰۃ وصول کرنے والے کو اپنے حکم سے آگے پیچھے کرنا صحیح نہیں ہے اور وٹے سٹے کے نکاح کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৯৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے گھوڑوں کی چراگاہ نقیع کو بنایا۔
حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ لِخَيْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৯৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد کروایا اور جیتنے والے کو انعام دیا۔
حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَبَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَأَعْطَى السَّابِقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৩৯৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دونوں خطبوں کے درمیان ذرا سا وقفہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی غزوہ میں ایک مقتول عورت کو دیکھا تو اس پر نکیر فرمائی اور عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے روک دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو " جبکہ ان کا رخ مشرق کی جانب تھا " یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگاہ رہو فتنہ یہاں سے ہوگا فتنہ یہاں سے ہوگا جہاں شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَشْرِقَ يَقُولُ أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ چٹائی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
و قَالَ أَحْمَد حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَهِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ذی روح کا مثلہ کرے اور توبہ نہ کرے قیامت کا دن اللہ تعالیٰ اس کا بھی مثلہ کریں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَثَّلَ بِذِي رُوحٍ ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مَثَّلَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے لوگو ! ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّهُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین کے موقع پر خطبہ سے پہلے نماز پڑھایا کرتے تھے پھر نماز کے بعدخطبہ دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعِيدَيْنِ الْأَضْحَى وَالْفِطْرَ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس پہنتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ الْأَعْشَى عَنْ مُهَاجِرٍ الشَّامِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاکت میں ڈالنے والا شخص اور ایک کذاب ہوگا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابًا وَمُبِيرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ غزوہ احد سے واپس ہوئے تو انصار کی عورتیں اپنے اپنے شوہروں پر رونے لگیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا حمزہ کے لئے کوئی رونے والی نہیں ہے پھر نبی کریم ﷺ کی آنکھ لگ گئی بیدار ہوئے تو وہ خواتین اسی طرح رورہی تھیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ آج حمزہ کے نام لے کر روتی ہی رہیں گی انہیں کہہ دو کہ واپس چلی جائیں اور آج کے بعد کسی مرنے والے پر نہ روئیں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَسَمِعَ نِسَاءً مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ عَلَى هَلْكَاهُنَّ فَقَالَ لَكِنْ حَمْزَةُ لَا بَوَاكِيَ لَهُ فَجِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ عَلَى حَمْزَةَ عِنْدَهُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ يَا وَيْحَهُنَّ أَنْتُنَّ هَاهُنَا تَبْكِينَ حَتَّى الْآنَ مُرُوهُنَّ فَلْيَرْجِعْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے تلواردے کر بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ کی ہی عبادت کی جائے جس کا کوئی شریک نہیں، میرا رزق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے میرے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھرپور ذلت لکھ دی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ ان ہی میں شمار ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي وَجُعِلَ الذُّلُّ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے قریب سے ایک جنازہ گذرا حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا آؤ اس کے ساتھ چلیں یہ کہہ کر انہوں نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا جب ہم قبرستان کے قریب پہنچے تو پیچھے سے کسی کے رونے کی آواز آئی اس وقت بھی حضرت ابن عمر (رض) نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا وہ مجھے لے کر پیچھے کی جانب گھومے اور اس رونے والی کے سامنے جا کر کھڑے ہوگئے اور اسے سخت سست کہا اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے جنازے کے ساتھ کسی رونے والی کو جانے سے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ مَرَّتْ بِنَا جِنَازَةٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَوْ قُمْتَ بِنَا مَعَهَا قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَبَضَ عَلَيْهَا قَبْضًا شَدِيدًا فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَقَابِرِ سَمِعَ رَنَّةً مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ قَابِضٌ عَلَى يَدِي فَاسْتَدَارَنِي فَاسْتَقْبَلَهَا فَقَالَ لَهَا شَرًّا وَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ صفا مروہ پر کھڑے ہوئے اور حضرت عمر (رض) ہمیں صفا مروہ پر اس جگہ کھڑے ہونے کا حکم دیتے تھے جہاں سے خانہ کعبہ نظر آسکے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكَانَ عُمَرُ يَأْمُرُنَا بِالْمُقَامِ عَلَيْهِمَا مِنْ حَيْثُ يَرَاهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ سے کم اونٹوں میں، پانچ اوقیہ سے کم چاندی یا پانچ وسق میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنْ الْإِبِلِ وَلَا خَمْسِ أَوَاقٍ وَلَا خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن کافر اپنی زبان اپنے پیچھے دو فرسخ کی مسافت تک کھینچ رہا ہوگا اور لوگ اسے روند رہے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَزِيدَ الثُّمَالِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو الْعَجْلَانِ الْمُحَارِبِيُّ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْكَافِرَ لَيَجُرُّ لِسَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَاءَهُ قَدْرَ فَرْسَخَيْنِ يَتَوَطَّؤُهُ النَّاسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابو سوید عبدی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھرکے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے جب اجازت ملنے میں دیر ہونے لگی تو میں نے ان کے گھرکے دروازے میں ایک سوراخ سے جھانکنا شروع کردیا حضرت ابن عمر (رض) کو پتہ چل گیا چناچہ جب ہمیں اجازت ملی اور ہم اندر جا کر بیٹھ گئے تو انہوں نے فرمایا کہ ابھی ابھی تم میں سے کس نے گھر میں جھانک کر دیکھا تھا ؟ میں نے اقرار کیا، انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے میرے گھر میں جھانکنا کیونکر حلال ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ جب ہمیں اجازت ملنے میں تاخیر ہوئی تب میں نے دیکھا تھا اور وہ بھی جان بوجھ کر نہیں۔ اس کے بعد ساتھیوں نے ان سے کچھ سوالات کئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا میں نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن ! جہاد کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ فرمایا جو شخص مجاہدہ کرتا ہے وہ اپنے لئے کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ عَنْ بَرَكَةَ بْنِ يَعْلَى التَّيْمِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سُوَيْدٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ أَتَيْنَا ابْنَ عُمَرَ فَجَلَسْنَا بِبَابِهِ لِيُؤْذَنَ لَنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ قَالَ فَقُمْتُ إِلَى جُحْرٍ فِي الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِيهِ فَفَطِنَ بِي فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ أَيُّكُمْ اطَّلَعَ آنِفًا فِي دَارِي قَالَ قُلْتُ أَنَا قَالَ بِأَيِّ شَيْءٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِي دَارِي قَالَ قُلْتُ أَبْطَأَ عَلَيْنَا الْإِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَلِكَ قَالَ ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَقُولُ فِي الْجِهَادِ قَالَ مَنْ جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم ﷺ جب منبر پر بیٹھ کر طلب باران کر رہے ہوتے تو آپ ﷺ کے اترنے سے پہلے ہی سارے نالے بہنے لگتے اس وقت جب میں نبی کریم ﷺ کے رخ زیبا کو دیکھتا تو مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آتا وہ سفید رنگت والا جس کی ذات کو واسطہ بنا کر بادلوں سے پانی برسنے کی دعاء کی جاتی ہے اور وہ شخص جو یتیموں کا فریاد درس اور بیواؤں کا محافظ ہے یاد رہے کہ یہ خواجہ ابو طالب کا نبی کریم ﷺ کی شان میں کہا گیا شعر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَسْتَسْقِي فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ وَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ
তাহকীক: