আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৫৪১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو ایک مرتبہ یہ بددعاء کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! فلاں پر لعنت نازل فرما اے اللہ ! حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ پر اپنی لعنت نازل فرما، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی طرف متوجہ ہوجائے یا انہیں سزادے کہ یہ ظالم ہیں چناچہ ان سب پر اللہ کی توجہ مبذول ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ قَالَ أَبِي وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ صَالِحُ الْحَدِيثِ ثِقَةٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا اللَّهُمَّ الْعَنْ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ الْعَنْ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ قَالَ فَتِيبَ عَلَيْهِمْ كُلِّهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) سے عراق کے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی کریم ﷺ کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کردیا حالانکہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَنَا جَالِسٌ فَسَأَلَهُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ فَقَالَ لَهُ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ هَا انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنْ الدُّنْيَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہوگی اور جو شخص " جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَزَعَ يَدَهُ مِنْ الطَّاعَةِ فَلَا حُجَّةَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَاتَ مُفَارِقًا لِلْجَمَاعَةِ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گی جب تک دو آدمی (متفق ومتحد) رہیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْ النَّاسِ اثْنَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں میں " الصلوۃ جامعۃ " کی منادی کروائی، حضرت ابن عمر (رض) کو پتہ چلا تو وہ سب اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے گھر پہنچے، جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ اتارے کیونکہ وہ ان کپڑوں میں نبی کریم ﷺ کے پاس نہ جاتے تھے اور دوسرے کپڑے بدل کر مسجد کی طرف چل پڑے اس وقت نبی کریم ﷺ منبر سے نیچے اتر رہے تھے اور لوگ نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے تھے ابن عمر (رض) نے لوگوں سے پوچھا کہ آج نبی کریم ﷺ نے کوئی نیا حکم دیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے نبیذ کی ممانعت کردی ہے، انہوں نے پوچھا کون سی نبیذ ؟ لوگوں نے بتایا کدو اور لکڑی میں تیار کی جانے والی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے نافع (رح) سے پوچھا " جرہ " کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے " جرہ " کیا چیز ہوتی ہے ؟ میں نے کہا حنتمہ، انہوں نے پوچھا " حنتمہ " کیا چیز ہوتی ہے ؟ میں نے کہا مٹکا انہوں نے فرمایا اس کی ممانعت نہیں فرمائی میں نے پوچھا " مزفت " کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے پوچھا " مزفت " کیا چیز ہوتی ہے ؟ میں نے بتایا کہ ایک مشکیزہ ہوتا ہے جس پر لک مل دی جاتی ہے انہوں نے فرمایا : اس دن نبی کریم ﷺ نے صرف کدو اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ فَانْطَلَقَ إِلَى أَهْلِهِ جَوَادًا فَأَلْقَى ثِيَابًا كَانَتْ عَلَيْهِ وَلَبِسَ ثِيَابًا كَانَ يَأْتِي فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمُصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْحَدَرَ مِنْ مِنْبَرِهِ وَقَامَ النَّاسُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ مَا أَحْدَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ قَالُوا نَهَى عَنْ النَّبِيذِ قَالَ أَيُّ النَّبِيذِ قَالَ نَهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ قَالَ فَقُلْتُ لِنَافِعٍ فَالْجَرَّةُ قَالَ وَمَا الْجَرَّةُ قَالَ قُلْتُ الْحَنْتَمَةُ قَالَ وَمَا الْحَنْتَمَةُ قُلْتُ الْقُلَّةُ قَالَ لَا قُلْتُ فَالْمُزَفَّتُ قَالَ وَمَا الْمُزَفَّتُ قُلْتُ الزِّقُّ يُزَفَّتُ وَالرَّاقُودُ يُزَفَّتُ قَالَ لَا لَمْ يَنْهَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن وہ چند صحابہ کرام (رض) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے اور فرمایا اے لوگو ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کیا کیوں نہیں، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس نوعیت کا حکم نازل فرمایا ہے کہ جو میری اطاعت کرے گا گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی ؟ لوگوں نے عرض کیوں نہیں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو شخص آپ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے آپ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر یہ بھی اللہ کی اطاعت کا حصہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور یہ میری اطاعت کا حصہ ہے کہ تم اپنے ائمہ کی اطاعت کرو اپنے ائمہ کی اطاعت کیا کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الصَّهْبَاءِ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا هَؤُلَاءِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ قَالُوا بَلَى نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ قَالُوا بَلَى نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَكَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتَكَ قَالَ فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي وَإِنَّ مِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ أَطِيعُوا أَئِمَّتَكُمْ فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مانگنے والے کے چہرے پر قیامت کے دن خراشیں ہوں گی اس لئے جو چاہے اپنے چہرے کو بچالے سب سے ہلکا سوال قریبی رشتہ دار سے سوال کرنا ہے جو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے کوئی شخص کرے اور بہترین سوال وہ ہے کہ جو دل کے استغناء کے ساتھ ہو اور تم دینے میں ابتداء ان لوگوں سے کرو جن کے تم ذمہ دار ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمَسْأَلَةُ كُدُوحٌ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ بَدَنَ فَلْيَسْتَبْقِ عَلَى وَجْهِهِ وَأَهْوَنُ الْمَسْأَلَةِ مَسْأَلَةُ ذِي الرَّحِمِ تَسْأَلُهُ فِي حَاجَةٍ وَخَيْرُ الْمَسْأَلَةِ الْمَسْأَلَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان اس وقت دین کے اعتبار سے کشادگی میں رہتا ہے جب تک ناحق قتل کا ارتکاب نہ کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَنْ يَزَالَ الْمَرْءُ فِي فُسْحَةٍ مِنْ دِينِهِ مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) یحییٰ بن سعید کے یہاں تشریف لے گئے اس وقت یحییٰ کا کوئی لڑکا ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کررہا تھا حضرت ابن عمر (رض) نے مرغی کے پاس پہنچ کر اسے کھول دیا اور مرغی کے ساتھ اس لڑکے کو بھی لے آئے اور یحییٰ سے کہا کہ اپنے اس لڑکے کو کسی بھی پرندے کو اس طرح باندھ کر نشانہ بازی کرنے سے روکو کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی چوپائے یا جانور کو باندھ کر نشانہ بازی کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اگر تم اسے ذبح کرنا ہی چاہتے ہو تو صحیح طرح ذبح کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِيهِ رَابِطٌ دَجَاجَةً يَرْمِيهَا فَمَشَى إِلَى الدَّجَاجَةِ فَحَلَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ بِهَا وَبِالْغُلَامِ وَقَالَ لِيَحْيَى ازْجُرُوا غُلَامَكُمْ هَذَا مِنْ أَنْ يَصْبِرَ هَذَا الطَّيْرَ عَلَى الْقَتْلِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ تُصْبَرَ بَهْمَةٌ أَوْ غَيْرُهَا لِقَتْلٍ وَإِنْ أَرَدْتُمْ ذَبْحَهَا فَاذْبَحُوهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
امیہ بن عبداللہ نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ قرآن کریم میں ہمیں نماز خوف اور حضر کی نماز کا تذکرہ تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا تذکرہ نہیں ملتا (اس کے باوجودسفر میں نماز قصر کی جاتی ہے ؟ ) انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے ! اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ ﷺ کو جس وقت مبعوث فرمایا ہم کچھ نہیں جانتے تھے ہم تو وہ ہی کریں گے جیسے ہم نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ أَخِي إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عطاء بن ابی رباح (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی نے حضرت ابن عمر (رض) کی تعریف کی تو انہوں نے اس کے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کردی اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم کسی کو اپنی تعریف کرتے ہوئے دیکھو تو اس کے منہ میں مٹی بھردو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَمْدَحُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ فَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ هَكَذَا يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی پر " محمد رسول اللہ " نقش تھا۔ ﷺ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ فِي خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دو مؤذن تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ مُؤَذِّنَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ دور نبوت میں مشرق کی طرف سے دو آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے انہوں نے کھڑے ہو کر گفتگو کی پھر وہ دونوں بیٹھ گئے ( اور خطیب رسول حضرت ثابت بن قیس (رض) کھڑے ہوئے اور گفتگو کر کے بیٹھ گئے) لوگوں کو ان کی گفتگو پر بڑا تعجب ہوا تو نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا لوگو ! اپنی بات عام الفاظ میں کہہ دیا کرو، کیونکہ کلام کے ٹکڑے کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنْ الْمَشْرِقِ خَطِيبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَا فَتَكَلَّمَا ثُمَّ قَعَدَا وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمْ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلَامِ مِنْ الشَّيْطَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) جب نماز جمعہ پڑھ کر گھر واپس آتے تو دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ الْجُمُعَةِ انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ اس شخص کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار سونتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ جُنَيْدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ سَيْفَهُ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید بن جبیر رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ہمارے پاس تشریف لائے ہمیں امید تھی کہ وہ ہم سے عمدہ احادیث بیان کریں گے لیکن ہم سے پہلے ہی ایک آدمی (جس کا نام حکم تھا) بول پڑا اور کہنے لگا اے ابو عبدالرحمن فتنہ کے ایام میں قتال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا تیری ماں تجھے روئے کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا چیز ہے ؟ نبی کریم ﷺ مشرکین سے قتال کیا کرتے تھے ان میں یا ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا ایسا نہیں تھا جیسے آج تم حکومت کی خاطر قتال کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ حَدَّثَنَا بَيَانٌ عَنْ وَبَرَةَ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ يَعْنِي سَعِيدًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يُحَدِّثَنَا بِحَدِيثٍ يُعْجِبُنَا فَبَدَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَقُولُ فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ قَالَ وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً وَلَيْسَ بِقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے پورا مہینہ یہ اندازہ لگایا کہ نبی کریم ﷺ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورت کافروں اور سورت اخلاص پڑھتے رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کردی کہ نماز پڑھنے والوں نے نماز پڑھ لی جاگنے والے جاگتے رہے سونے والے سو گئے اور تہجد پڑھنے والوں نے تہجد پڑھ لی پھر نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز اسی وقت تک مؤخر کردیتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ فُضَيلٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ حَتَّى نَامَ النَّاسُ وَتَهَجَّدَ الْمُتَهَجِّدُونَ وَاسْتَيْقَظَ الْمُسْتَيْقِظُ فَخَرَجَ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَقَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُهَا إِلَى هَذَا الْوَقْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک ریشمی جو ڑادیا اور حضرت اسامہ (رض) کو کتان کا جوڑا عطاء فرمایا کہ اس کا جو حصہ زمین پر لگے کا وہ جہنم میں ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسَاهُ حُلَّةً سِيَرَاءَ وَكَسَا أُسَامَةَ قُبْطِيَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ مَا مَسَّ الْأَرْضَ فَهُوَ فِي النَّارِ
তাহকীক: