আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫৪৩৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبدالرحمن اعرجی سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے میری موجودگی میں عورتوں سے متعہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں کوئی بدکاری یا شہوت رانی نہیں کیا کرتے تھے پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت سے پہلے مسیح دجال اور تیس یا زیادہ کذاب ضرورآئیں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُعْمٍ أَوْ نُعَيْمٍ الْأَعْرَجِيِّ شَكَّ أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنَا عِنْدَهُ مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَانِينَ وَلَا مُسَافِحِينَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ أَخْبَرَنَا إِيَادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৩৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ابتداء اسلام میں یہ دعاء فرمائی تھی کہ اے اللہ ! اسلام کو ان دو آدمیوں " ابوجہل یا عمربن خطاب " میں سے اس شخص کے ذریعے غلبہ عطاء فرما جو آپ کی نگاہوں میں زیادہ محبوب ہو (حضرت عمر (رض) نے اسلام قبول کرلیا) معلوم ہوا کہ حضرت عمربن خطاب (رض) اللہ کی نگاہوں میں زیادہ محبوب تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَكَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَى اللَّهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৩৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے عمر کے قلب و زبان پر حق کو جاری فرمادیا ہے حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے جب بھی کوئی معاملہ پیش آتا اور لوگوں کی رائے کچھ ہوتی اور حضرت عمر (رض) کی رائے کچھ تو قرآن کریم اسی کے قریب قریب نازل ہوتا جو حضرت عمر (رض) کی رائے ہوتی۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى قَلْبِ عُمَرَ وَلِسَانِهِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ وَقَالَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ قَالَ عُمَرُ إِلَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا قَالَ عُمَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৩৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ اور حضرت عمر (رض) کے ساتھ سفر کیا ہے یہ دونوں سفر میں دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے ہم پہلے گمراہ تھے پھر اللہ نے نبی کریم ﷺ کے ذریعے ہمیں ہدایت عطاء فرمائی اب ہم ان ہی کی اقتداء کریں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مَطَرٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَرَ فَكَانَا لَا يَزِيدَانِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ وَكُنَّا ضُلَّالًا فَهَدَانَا اللَّهُ بِهِ فَبِهِ نَقْتَدِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ٢٤ یا ٢٥ دن تک یہ اندازہ لگایا کہ نبی کریم ﷺ فجر سے پہلے کی اور مغرب کے بعد کی دو رکعتوں (سنتوں) میں سورت کافرون اور سورت اخلاص پڑھتے رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سالم کہتے ہیں کہ حج تمتع کے سلسلے میں حضرت ابن عمر (رض) وہی رخصت دیتے تھے جو اللہ نے قرآن میں نازل کی ہے اور نبی کریم ﷺ کی سنت سے ثابت ہے کچھ لوگ ان سے کہتے ہیں کہ آپ کے والد صاحب تو اس سے منع کرتے تھے آپ ان کی مخالفت کیوں کرتے ہیں ؟ وہ انہیں جواب دیتے کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ اگر حضرت عمر (رض) نے اس سے روکا تھا تو ان کے پیش نظر بھی خیر تھی کہ لوگ اتمام عمرہ کریں جب اللہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس پر عمل کیا ہے تو تم اسے خود پر حرام کیوں کرتے ہو ؟ کیا نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی کرنا زیادہ بہتر ہے یا حضرت عمر (رض) کی ؟ حضرت عمر (رض) نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ اشہر حج میں عمرہ کرنا ہی حرام ہے انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ عمرہ کا اتمام یہ ہے کہ تم اشہر حج کے علاوہ کسی اور مہینے میں الگ سے اس کے لئے سفر کر کے آؤ۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الرُّخْصَةِ بِالتَّمَتُّعِ وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَيَقُولُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ وَيْلَكُمْ أَلَا تَتَّقُونَ اللَّهَ إِنْ كَانَ عُمَرُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَيَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ يَلْتَمِسُ بِهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ فَلِمَ تُحَرِّمُونَ ذَلِكَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا سُنَّتَهُ أَمْ سُنَّةَ عُمَرَ إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكُمْ إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ وَلَكِنَّهُ قَالَ إِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبید بن عمیر (رح) نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ میں آپ کو صرف ان دو رکنوں حجر اسود اور رکن یمانی ہی کا استلام کرتے ہوئے دیکھتاہوں اس کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ان دونوں کا استلام انسان کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ أَرَاكَ تُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ قَالَ إِنْ أَفْعَلْ فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطَّانِ الْخَطَايَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ جو شخص گن کر طواف کے سات چکرلگائے ( اور اس کے بعد دوگانہ طواف پڑھ لے) تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے
قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا يُحْصِيهِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةٌ وَكُفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَةٌ وَرُفِعَتْ لَهُ دَرَجَةٌ وَكَانَ عَدْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب تم پر ایسے امراء آئیں گے جو تمہیں ایسی چیزوں کا حکم دیں گے جو خود نہیں کرتے ہوں گے جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ حوض کوثر پر میرے پاس نہ آسکے گا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا لَا يَفْعَلُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے نام پر سوال کرے اسے عطاء کردو جو شخض تمہیں دعوت دے اسے قبول کرلو جو تمہیں ہدیہ دے اس کا بدلہ دو اگر بدلہ میں دینے کے لئے کچھ نہ ملے تو اس کے لئے اتنی دعائیں کرو کہ تمہیں یقین ہوجائے کہ تم نے اس کا بدلہ اتار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ شَاذَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ أَهْدَى لَكُمْ فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کسی کا پیٹ قے سے بھرجانا اس بات کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ يَكُونَ جَوْفُ الْمَرْءِ مَمْلُوءًا قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ مَمْلُوءًا شِعْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آپکڑے جو ان پر آیا تھا۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ ﷺ ہتھیلی کی طرف کرلیتے تھے لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوالیں جس پر نبی کریم ﷺ نے اسے پھینک دیا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں، پھر نبی کریم ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس سے نبی کریم ﷺ مہر لگاتے تھے لیکن اسے پہنتے نہیں تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ كَانَ يُدْخِلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ فَطَرَحَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَطَرَحَ أَصْحَابُهُ خَوَاتِيمَهُمْ ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৪৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے سوائے فاطمہ کے کوئی اور نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ مَا حَاشَا فَاطِمَةَ وَلَا غَيْرَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৫০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن سمیرہ رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ چلا جارہا تھا راستے میں ان کا گذر ایک کٹے ہوئے سر پر ہوا جو سولی پر لٹکا ہوا تھا اسے دیکھ کر وہ فرمانے لگے کہ اسے قتل کرنے والا شقی ہے، میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن ! یہ آپ کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے اپنا ہاتھ یہ سنتے ہی میرے ہاتھ سے چھڑا لیا اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرا جو امتی کسی کو قتل کرنے کے لئے نکلے اور اسی طرح کسی کو قتل کردے (جیسے اس مقتول کا سر لٹکا ہوا ہے) تو مقتول جنت میں جائے گا اور قاتل جہنم میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ رَقَبَةَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَإِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوبٍ عَلَى خَشَبَةٍ قَالَ فَقَالَ شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا قَالَ قُلْتُ أَنْتَ تَقُولُ هَذَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ فَشَدَّ يَدَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا مَشَى الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِي إِلَى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَهُ فَلْيَقُلْ هَكَذَا فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৫১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ جب اہل مدینہ حضرت زبیر (رض) کے ساتھ جمع ہوگئے اور انہوں نے یزید بن معاویہ کی بیعت توڑ دی تو حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے سارے بیٹوں اور اہل خانہ کو جمع کیا اور فرمایا ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر اس شخص کی بیعت کی تھی اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر دھوکے باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دھوکہ بازی ہے اور شرک کے بعدسب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کسی کی بیعت کرے اور پھر اسے توڑ دے اس لئے تم میں سے کوئی بھی یزید کی بیعت نہ توڑے اور نہ ہی امیر خلافت میں جھانک کر دیکھے ورنہ میرے اور اس کے درمیان کوئی تعلق نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا صَخْرٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ جَمَعَ بَنِيهِ حِينَ انْتَزَى أَهْلُ الْمَدِينَةِ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَخَلَعُوا يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ بِبَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْغَادِرُ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُبَايِعَ الرَّجُلُ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يَنْكُثَ بَيْعَتَهُ فَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ وَلَا يُسْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَيَكُونَ صَيْلَمًا فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৫২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
خالدالخداء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابوالمیلح (رح) نے ابوقلابہ (رح) سے کہا کہ میں اور آپ کے والد حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے انہوں نے ہمیں یہ حدیث سنائی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں چمڑے کا تکیہ پیش کیا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن میں اس کے ساتھ ٹیک لگا کر نہیں بیٹھا اور وہ تکیہ میرے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان ہی پڑا رہا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ قَالَ لِأَبِي قِلَابَةَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُوكَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ فَحَدَّثَنَا أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَى لَهُ وَسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَلَمْ أَقْعُدْ عَلَيْهَا بَقِيَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৫৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے بڑاجھوٹ یہ ہے کہ آدمی وہ خواب بیان کرے جو اس نے دیکھا ہی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنِ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أَفْرَى الْفِرَى أَنْ يُرِيَ عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ تَرَيَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৫৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شریف ابن شریف ابن شریف حضرت یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪৫৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے ان ریشمی جوڑوں میں سے ایک ریشمی جوڑا عنایت فرمایا جو فیروز نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کئے تھے، میں نے تہبند باندھا تو صرف اسی نے طول وعرض میں مجھے ڈھانپ لیا میں نے اسے لپیٹا اور اوپر سے چادر اوڑھ لی اور اسے پہن کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم ﷺ نے میری گردن پکڑ کر فرمایا اے عبداللہ ! تہبند اوپر کرو ٹخنوں سے نیچے شلوارکا جو حصہ زمین پر لگے گا وہ جہنم میں ہوگا عبداللہ بن محمد راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی انسان کو حضرت ابن عمر (رض) سے زیادہ اہتمام کے ساتھ اپنے ٹخنے ننگے رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ السِّيَرَاءِ أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا فَسَحَبْتُهُ وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ فَتَقَنَّعْتُ بِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَاتِقِي فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعْ الْإِزَارَ فَإِنَّ مَا مَسَّتْ الْأَرْضُ مِنْ الْإِزَارِ إِلَى مَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
tahqiq

তাহকীক: