আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫৫৭৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے لئے عیدین میں نیزہ گاڑا جاتا تھا اور نبی کریم ﷺ اسے سترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ تُرْكَزُ لَهُ الْحَرْبَةُ فِي الْعِيدَيْنِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اپنی سواری کو سامنے رکھ کر اسے بطور سترہ آگے کرلیتے اور نماز پڑھ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيْكٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا ایک سجدہ نبی کریم ﷺ کے تین سجدوں سے بھی زیادہ لمبا ہوتا ہے۔ (حالانکہ امام کو تخفیفکا حکم ہے)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَجْدَةٌ مِنْ سُجُودِ هَؤُلَاءِ أَطْوَلُ مِنْ ثَلَاثِ سَجَدَاتٍ مِنْ سُجُودِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৭৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ رفع یدین کرتے ہوئے کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ مسجد فضیخ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں " فضیخ " یعنی کچی کھجور کی نبیذ پیش کی گئی تھی جسے آپ ﷺ نے نوش فرما لیا تھا اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد فضیخ پڑگیا تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي أُتِيَ بِفَضِيخٍ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيخِ فَشَرِبَهُ فَلِذَلِكَ سُمِّيَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں شراب پیئے تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ( اور وہاں اسے شراب نہیں پلائی جائے گی)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
صفیہ بنت ابی عبید کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر میں کچھ بال کٹے ہوئے تھے اور کچھ یوں ہی چھوٹے ہوئے تھے، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس طرح بچوں کے بال کٹوانے سے منع فرمایا ہے ؟
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَتْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ صَبِيًّا فِي رَأْسِهِ قَنَازِعُ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تَحْلِقَ الصِّبْيَانُ الْقَزَعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پیئے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتاپیتا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الِلَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ أَوْ شَرِبَ فَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر حضرت اسامہ بن زید (رض) کو کچھ لوگوں کا امیر مقرر کیا لوگوں نے ان کی امارت پر اعتراض کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم اس کی امارت پر اعتراض کررہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے تم اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کرچکے ہو حالانکہ اللہ کی قسم ! وہ امارت کا حق دار تھا اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا اور اب اس کا یہ بیٹا اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، لہٰذا اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت قبول کرو کیونکہ یہ تمہارا بہترین ساتھ ہے حضرت ابن عمر (رض) اس حدیث کو بیان کرتے وقت ہمیشہ حضرت فاطمہ (رض) کا استثناء کرلیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا أُسَامَةَ وَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَقَالَ كَمَا حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَلَا إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ بِأَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا مِنْ بَعْدِهِ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ قَالَ سَالِمٌ مَا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ قَطُّ إِلَّا قَالَ مَا حَاشَا فَاطِمَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں کالی کلوٹی بکھرے بالوں والی ایک عورت کو مدینہ منورہ سے نکلتے ہوئے دیکھا جو مہیعہ یعنی جحفہ میں جا کر کھڑی ہوگئی، میں نے اس کی تعبیریہ لی کہ مدینہ منورہ کی وبائیں اور آفات جحفہ منتقل ہوگئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَبَاءِ الْمَدِينَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنْ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ فَأَوَّلْتُ أَنَّ وَبَاءَهَا نُقِلَ إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حق ولاء کو بیچنے یا ہبہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ فائدہ۔ مکمل وضاحت کے لئے ہماری کتاب " الطریق الاسلم " دیکھئے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ قَالَ قُلْتُ سَمِعْتَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَعَمْ وَسَأَلَهُ عَنْهُ ابْنُهُ حَمْزَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں ایک دن نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا پھر نبی کریم ﷺ نے اسے پھینک دیا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ مِنْ ذَهَبٍ فَقَامَ يَوْمًا فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ ثُمَّ نَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৮৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا اور لوگوں کا کہنا ہے اہل یمن کے لئے یلملم کو مقات قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَزَعَمُوا أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৯০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ قریش کا ایک آدمی تھا جسے بیع میں لوگ دھوکہ دے دیتے تھے اس نے نبی کریم ﷺ سے یہ بات ذکر کی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَشْتَرِي الْبَيْعَ فَأُخْدَعُ فَقَالَ إِذَا كَانَ ذَاكَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৯১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عاصم بن منذر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اپنے یا عبیداللہ بن عبداللہ کے باغ میں تیراندازی کررہے تھے کہ نماز کا وقت آگیا عبیداللہ کھڑے ہو کر باغ کے تالاب پر چلے گئے وہاں اونٹ کی کھال پانی میں پڑی ہوئی تھی وہ اس پانی سے وضو کرنے لگے میں نے ان سے کہا کہ آپ اس پانی سے وضو کررہے ہیں جبکہ اس میں یہ کھال بھی پڑی ہوئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے میرے والد صاحب نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب پانی دو تین مٹکے ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ كُنَّا فِي بُسْتَانٍ لَنَا أَوْ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ نَرْمِي فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى مَقْرَى الْبُسْتَانِ فِيهِ جِلْدُ بَعِيرٍ فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ فِيهِ فَقُلْتُ أَتَتَوَضَّأُ فِيهِ وَفِيهِ هَذَا الْجِلْدُ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৯২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہماری ملاقات حضرت ابن عمر (رض) سے ہوئی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے یہاں کچھ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ معاملات ان کے اختیار میں ہیں، چاہیں تو عمل کرلیں اور چاہیں تو نہ کریں، ہماری بات سن کر انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کے پاس لوٹ کر جاؤ تو ان سے کہہ دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں یہ بات کہہ کر انہوں نے یہ روایت سنائی کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد ! ﷺ " اسلام " کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نیزیہ کہ آپ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، رمضان کے روزے رکھیں اور حج بیت اللہ کریں۔ اس نے کہا کہ جب میں یہ کام کرلوں تو میں " مسلمان " کہلاؤں گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا : پھر اس نے پوچھا کہ " احسان " کی تعریف کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اللہ سے اس طرح ڈرو کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر ہی تصور نہ کرسکو تو پھر یہی تصور کرلو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اس نے کہا کیا ایسا کرنے کے بعد میں " محسن " بن جاؤں گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا پھر اس نے پوچھا کہ " ایمان " کی تعریف کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، موت کے بعد دوبارہ زندگی، جنت و جہنم اور ہر تقدیر پر یقین رکھو، اس نے کہا کیا ایسا کرنے کے بعد میں " مؤمن " کہلاؤں گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ بھی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حضرت دحیہ کلبی (رض) کی صورت میں آتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ عِنْدَنَا رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الْأَمْرَ بِأَيْدِيهِمْ فَإِنْ شَاءُوا عَمِلُوا وَإِنْ شَاءُوا لَمْ يَعْمَلُوا فَقَالَ أَخْبِرْهُمْ أَنِّي مِنْهُمْ بَرِيءٌ وَأَنَّهُمْ مِنِّي بُرَآءُ ثُمَّ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِسْلَامُ فَقَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَمَا الْإِحْسَانُ قَالَ تَخْشَى اللَّهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَا تَكُ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَمَا الْإِيمَانُ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ كُلِّهِ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ صَدَقْتَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৯৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے، قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৯৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ خواب میں حضرت ابوبکروعمر (رض) کو دیکھا فرمایا میں نے دیکھا کہ لوگ جمع ہیں ابوبکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے پھر عمرنے ڈول کھینچے اور وہ ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا میں نے کسی عبقری انسان کو ان کی طرح ڈول بھرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کردیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنْ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৫৯৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا
tahqiq

তাহকীক: