আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৫৫৯৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے آگے فروخت نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৯৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ اور نبی کریم ﷺ نے بیع میں دھوکے سے، حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے اور بیع مزابنہ سے منع فرمایا : بیع مزابنہ کا مطلب یہ ہے کہ پھلوں کی بیع کھجوروں کے بدلے کی جائے ناپ کر، یا ا نگور کی بیع کشمش کے بدلے ناپ کرکے کی جائے۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیع میں دھوکے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَنَهَى عَنْ النَّجْشِ وَنَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ وَنَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّجْشِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৯৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چھریوں کو پہلے سے تیز کرلینے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ چھریوں کو جانوروں سے چھپا کر رکھا جائے اور یہ کہ جب تم میں سے کوئی شخص جانور کو ذبح کرنے لگے توجلدی سے ذبح کرنے لگے توجلدی سے ذبح کر ڈالے (جانوروں کو تڑپانے سے بچائے)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنْ الْبَهَائِمِ وَإِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৯৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسواک کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی رضامندی کا سبب بنتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ فَإِنَّهُ مَطْيَبَةٌ لِلْفَمِ وَمَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی رخصتوں پر عمل کرنے کو اسی طرح پسند کرتا ہے جیسے اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں بھی شکلیں مسخ ہوں گی یاد رکھو کہ یہ ان لوگوں کی ہوں گی جو تقدیر کی تکذیب کرتے ہیں یا زندیق ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ عَنْ أَبِي صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ أَلَا وَذَاكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ وَالزِّنْدِيقِيَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اسے پیا پھر میں نے اپناپس خوردہ حضرت عمر (رض) کودے دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا علم۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعِلْمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) نے ایک چرواہے کو اپنی بکریاں کسی گندی جگہ پر چراتے ہوئے دیکھا جبکہ اس سے بہتر جگہ موجود تھی اور حضرت ابن عمر (رض) نے بھی اسے دیکھا تھا اس لئے فرمانے لگے اے چرواہے ! تجھ پر افسوس ہے، ان بکریوں کو کہیں اور لے جاؤ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر چرواہے سے اس کی رعیت کے بارے سوال ہوگا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ وَكَانَ وَهْبٌ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ لَيْسَ فِي كِتَابِ ابْنِ مَالِكٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَاعِيَ غَنَمٍ فِي مَكَانٍ قَبِيحٍ وَقَدْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ مَكَانًا أَمْثَلَ مِنْهُ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَيْحَكَ يَا رَاعِي حَوِّلْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ رَاعٍ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیع میں دھوکے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّجْشِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ عید کے دن نبی کریم ﷺ نکلے آپ ﷺ نے بغیر اذان و اقامت کے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا۔ یہی حدیث حضرت جابر (رض) سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ نُمَيْرٍ أَبُو مِحْصَنٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ فَبَدَأَ فَصَلَّى بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ مِثْلَ ذَلِكَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی رخصتوں پر عمل کرنے کو اسی طرح پسند کرتا ہے جیسے اپنی نافرمانی کو ناپسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے اور چلتے چلتے کھانا کھالیتے تھے (کیونکہ جہاد کی مصروفیت میں کھانے پینے کی کے لئے وقت کہاں ؟ )
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ وَنَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو حجراسود کا استلام کر کے اپنے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے اور وہ فرماتے تھے کہ میں نے جب سے نبی کریم ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے کبھی اسے ترک نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ وَقَالَ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬০৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ دس ذی الحجہ کو عیدگاہ میں ہی قربانی کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أُسَامَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِالْمُصَلَّى يَوْمَ النَّحْرِ وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ کسی آدمی نے نبی کریم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے کتنے گواہوں کا ہونا کافی ہوتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرد اور ایک عورت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثَيْمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجُوزُ فِي الرَّضَاعَةِ مِنْ الشُّهُودِ قَالَ رَجُلٌ أَوْ امْرَأَةٌ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کو لایا گیا نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ خط تم نے ہی لکھا ہے ؟ انہوں نے اس کا اقرار کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم، میرے دل میں ایمان کے اعتبار سے کوئی تغیر واقع نہیں ہوا بات اصل میں اتنی ہے کہ قریش کے ہر آدمی کا مکہ مکرمہ میں کوئی نہ کوئی حمایتی یا اس کے اہل خانہ موجود ہیں جو اس کے اعزہ و اقرباء کی حفاظت کرتے ہیں میں نے انہیں یہ خط لکھ دیا تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ان میں سے کسی سے میرے اہل خانہ کی حفاظت کروا لے حضرت عمر (رض) نے عرض کیا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اتاروں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم واقعی اسے مارو گے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! اگر آپ نے اجازت دے دی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو زمین پر جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو چاہو کرو (میں نے تمہیں معاف کردیا)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابَ قَالَ نَعَمْ أَمَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَغَيَّرَ الْإِيمَانُ مِنْ قَلْبِي وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا وَلَهُ جِذْمٌ وَأَهْلُ بَيْتٍ يَمْنَعُونَ لَهُ أَهْلَهُ وَكَتَبْتُ كِتَابًا رَجَوْتُ أَنْ يَمْنَعَ اللَّهُ بِذَلِكَ أَهْلِي فَقَالَ عُمَرُ ائْذَنْ لِي فِيهِ قَالَ أَوَ كُنْتَ قَاتِلَهُ قَالَ نَعَمْ إِنْ أَذِنْتَ لِي قَالَ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ قَدْ اطَّلَعَ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ عیدین کے موقع پر ایک راستے سے جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس آتے تھے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدَيْنِ مِنْ طَرِيقٍ وَيَرْجِعُ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ طاق ہے طاق عدد کو پسند کرتا ہے نافع (رح) کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے حضرت ابن عمر (رض) طاق عدد کا خیال رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا إِلَّا وِتْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے غیلان قدری دمشق کے دروازے پر سولی پر لٹکا ہوا دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ أَنَا رَأَيْتُ غَيْلَانَ يَعْنِي الْقَدَرِيَّ مَصْلُوبًا عَلَى بَابِ دِمَشْقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬১৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سورای کے قابل نہ ہو۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا تَكَادُ تَرَى فِيهَا رَاحِلَةً أَوْ مَتَى تَرَى فِيهَا رَاحِلَةً
তাহকীক: