আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫৬৫৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر شخص کے سامنے صبح وشام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے تک تمہارا یہی ٹھکانہ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৫৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم ﷺ کے ساتھ اسامہ بن زید (رض) عثمان بن طلحہ (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت بلال (رض) نے دروازہ بند کردیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے پھر نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تو حضرت بلال (رض) سے میں نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے اندر کیا کیا ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے دوستون دائیں ہاتھ، ایک ستون بائیں ہاتھ اور تین ستون پیچھے چھوڑ کر نماز پڑھی اس وقت نبی کریم ﷺ اور خانہ کعبہ کی دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا سالم کہتے ہیں کہ اس زمانے میں بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَإِسْحَاقُ قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ فَأَغْلَقَهَا فَلَمَّا خَرَجَ سَأَلْتُ بِلَالًا مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَكَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ قَالَ إِسْحَاقُ وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ وَلَمْ يَذْكُرْ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৫৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں سب لوگ اکٹھے ایک ہی برتن سے وضو کرلیتے تھے میں نے امام مالک (رح) سے پوچھا کہ مرد و عورت سب ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانُوا يَتَوَضَّئُونَ جَمِيعًا قُلْتُ لِمَالِكٍ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৫৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے بریرہ (رض) کو خریدنا چاہا نبی کریم ﷺ کے لئے تشریف لے گئے جب واپس آئے تو حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا کہ ان لوگوں نے انہیں بیچنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر ولاء ہمیں ملے تو ہم بیچ دیں گے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تُعْتِقُهَا قَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُكِ عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص پر اگر کسی کا حق ہو تو اس پر دو راتیں اس طرح نہیں گذرنی چاہئیں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان معذب اقوام پر روتے ہوئے داخل ہوا کرو اگر تمہیں رونا نہ آتاہو تو وہاں نہ جایا کرو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہیں بھی وہ عذاب نہ آپکڑے جو ان پر آیا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر کو ماہ رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب اپنے بھائی کو " اے کافر " کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج رات نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے جس میں آپ ﷺ کو نماز میں خانہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنا رخ کرلیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ اللَّيْلَةَ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
خضرت زبیر (رض) کے آزاد کردہ غلام " یوحنس " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کی ایک باندی آگئی اور حالات کی سختی کا ذکر کرنے لگی اور ان سے مدینہ منورہ کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کی اجازت طلب کرنے لگی حضرت ابن عمر (رض) نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے، میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ أَوْ وَهْبِ بْنِ قَطَنٍ اللَّيْثِيِّ شَكَّ إِسْحَاقُ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ أَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ فَذَكَرَتْ شِدَّةَ الْحَالِ وَأَنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهَا اجْلِسِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ أَحَدُكُمْ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سوار ہو کر وتر پڑھے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ سَأَلْتُ مالِكًا عَنْ الرَّجُلِ يُوتِرُ وَهُوَ رَاكِبٌ فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ وَهُوَ رَاكِبٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے رات کی نماز سے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو دو رکعتیں اور جب " صبح " ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے تو وہ " السام علیکم " کہتا ہے، اس لئے اس کے جواب میں تم صرف " وعلیک " کہہ دیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ قَالُوا السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ وَعَلَيْكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৬৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبداللہ بن بدر کہتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے مکہ مکرمہ پہنچ کر حرم شریف میں داخل ہوئے حجر اسود کا استلام کیا، پھر ہم نے بیت اللہ کے ساتھ چکر لگا کر طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، اچانک بھاری وجود کا ایک آدمی چادر اور تہبند لپیٹے ہوئے نظر آیا جو حوض کے پاس سے ہمیں آوازیں دے رہا تھا، ہم اس کے پاس چلے گئے، میں نے لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ حضرت ابن عباس (رض) تھے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگے کہ تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے کہا اہل مشرق، پھر اہل یمامہ، انہوں نے پوچھا کہ حج کرنے کے لئے آئے ہو یا عمرہ کرنے ؟ ہم نے عرض کیا کہ حج کی نیت سے آئے ہیں، وہ فرمانے لگے کہ تم نے اپناحج ختم کردیا، میں نے عرض کیا کہ میں نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ حج کیا ہے اور ہر مرتبہ اسی طرح کیا ہے ؟ پھر ہم اپنی جگہ چلے گئے، یہاں تک کہ حضرت ابن عمر (رض) تشریف لے آئے، میں نے حضرت ابن عمر (رض) کے سامنے ساراواقعہ ذکر کیا اور حضرت ابن عباس (رض) کا یہ فتویٰ بھی ذکر کیا کہ تم نے اپناحج ختم کردیا حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا میں تمہیں اللہ کے نام سے نصیحت کرتا ہوں یہ بتاؤ کہ کیا تم حج کی نیت سے نکلے ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا بخدا ! نبی کریم ﷺ اور حضرات شیخین (رض) نے بھی حج کیا ہے اور ان سب نے اسی طرح کیا ہے جسے تم نے کیا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ أَنَّهُ خَرَجَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حُجَّاجًا حَتَّى وَرَدُوا مَكَّةَ فَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ فَاسْتَلَمُوا الْحَجَرَ ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا ثُمَّ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا رَجُلٌ ضَخْمٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ يُصَوِّتُ بِنَا عِنْدَ الْحَوْضِ فَقُمْنَا إِلَيْهِ وَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَتَيْنَاهُ قَالَ مَنْ أَنْتُمْ قُلْنَا أَهْلُ الْمَشْرِقِ وَثَمَّ أَهْلُ الْيَمَامَةِ قَالَ فَحُجَّاجٌ أَمْ عُمَّارٌ قُلْتُ بَلْ حُجَّاجٌ قَالَ فَإِنَّكُمْ قَدْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ قُلْتُ قَدْ حَجَجْتُ مِرَارًا فَكُنْتُ أَفْعَلُ كَذَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا مَكَانَنَا حَتَّى يَأْتِيَ ابْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ يَا ابْنَ عُمَرَ إِنَّا قَدِمْنَا فَقَصَصْنَا عَلَيْهِ قِصَّتَنَا وَأَخْبَرْنَاهُ مَا قَالَ إِنَّكُمْ نَقَضْتُمْ حَجَّكُمْ قَالَ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَخَرَجْتُمْ حُجَّاجًا قُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ كُلُّهُمْ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৭০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابن ابی نعم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) سے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی کریم ﷺ کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کردیا حالانکہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُنِي عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هُمَا رَيْحَانَتِي مِنْ الدُّنْيَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৭১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ قبلہ کے رخ چلتے تھے۔ (اس کی طرف پشت نہ کرتے تھے اور ایسا ہونا حتی الامکان کے ساتھ مشروط ہے)
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ حُنَيْنٍ أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى مَذْهَبًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَاجَهَةَ الْقِبْلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৭২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مذکر و مؤنث اور آزاد و غلام، چھوٹے اور بڑے ہر مسلمان پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو واجب ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৭৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) طواف کے پہلے تین چکروں میں " حجر اسود سے حجر اسود تک " رمل اور باقی چار چکروں میں معمول کی رفتار رکھتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَرْمُلُ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَيَمْشِي أَرْبَعَةً وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৭৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر اور باقی ایام میں پیدل کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا وَسَائِرَ ذَلِكَ مَاشِيًا وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৬৭৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کونے کا استلام نہیں کرتے تھے صرف انہی دو کونوں کا استلام کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ لَا يَسْتَلِمُ شَيْئًا مِنْ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فَإِنَّهُ كَانَ يَسْتَلِمُهُمَا وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
tahqiq

তাহকীক: