আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৫৬৩৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری اور یہود و نصاری کی مثال ایسے ہے کہ ایک شخص نے چند مزدوروں کو کام پر لگایا اور کہا کہ ایک قیراط کے عوض نماز فجر سے لے کر نصف النہارتک کون کام کرے گا ؟ اس پر یہودیوں نے فجر کی نماز سے لے کر نصف النہار تک کام کیا پھر اس نے کہا کہ ایک اور قیراط کے عوض نصف النہار سے لے کر نماز عصرتک کون کام کرے گا ؟ اس پر عیسائیوں نے کام کیا پھر اس نے کہا کہ نماز عصر سے لے کر غروب آفتاب تک دو دو قیراط کے عوض کون کام کرے گا ؟ یاد رکھو وہ تم ہو جنہوں اس عرصے میں کام کیا لیکن اس پر یہود و نصاری غضب ناک ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہماری محنت اتنی زیادہ اور اجرت اتنی کم ؟ اللہ نے فرمایا کیا میں نے تمہارا حق ادا کرنے میں ذرا بھی کوتاہی یا کمی کی ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں اللہ نے فرمایا پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں عطاء کردوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوْ قَالَ أُمَّتِي وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ غُدْوَةٍ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قَالَتْ الْيَهُودُ نَحْنُ فَفَعَلُوا فَقَالَ فَمَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قَالَتْ النَّصَارَى نَحْنُ فَعَمِلُوا وَأَنْتُمْ الْمُسْلِمُونَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ أَجْرًا فَقَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ فَذَاكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ قَالَ سَمِعْت مِنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ أَكْتُبْهُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ كَذَا وَالنَّصَارَى كَذَا نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ فِي قِصَّةِ الْيَهُودِ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه مُؤَمَّلٌ أَيْضًا عَنْ سُفْيَانَ نَحْوَ حَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ اور دو مرتبہ فرمایا فتنہ یہاں سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ هَاهُنَا الْفِتْنَةُ هَاهُنَا الْفِتْنَةُ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر محرم کو جوتے نہ ملیں تو وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں سے نیچے کا حصہ کاٹ لے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا لَمْ يَجِدْ الْمُحْرِمُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبِسْ الْخُفَّيْنِ يَقْطَعُهُمَا أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سالم (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) مقام بیداء کے متعلق لعنت فرماتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور کر رکھا ہے)
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ الْبَيْدَاءُ يَسُبُّهَا وَيَقُولُ إِنَّمَا أَحْرَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہوج ائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلابھی مروی ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مؤمل نے عمربن محمد بن زید سے بھی حدیث کی سماعت کی ہے اور ابن جریج سے بھی۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا سَرَى أَحَدٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ قَالَ أَبِي وَثَنَا بِهِ مُؤَمَّلٌ مَرَّةً أُخْرَى وَلَمْ يَقُلْ عَنْ ابْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ قَدْ سَمِعَ مُؤَمَّلٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَحَادِيثَ وَسَمِعَ أَيْضًا مِنْ ابْنِ جُرَيْجٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پہلی امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت اتنی ہی ہے جتنی عصر کی نماز سے لے کر غروب آفتاب تک ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت " جب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے " اور اس آیت " وہ دن جس کی مقدارپچاس ہزار سال کے برابر ہوگی " کی تفسیر میں فرمایا کہ اس وقت لوگ اپنے پسینے میں نصف کان تک ڈوبے ہوئے کھڑے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ فِي الرَّشْحِ إِلَى أَنْصَافِ آذَانِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عطاء بن سائب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے محارب بن دثار نے کہا کہ آپ نے سعید بن جبیر (رح) کو حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے کوثر کے متعلق کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مرادخیر کثیر ہے محارب نے کہا سبحان اللہ ! حضرت ابن عباس (رض) کا قول اتنا کم وزن نہیں ہوسکتا، میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب سورت کوثر نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی موتیوں اور یاقوت کی کنکریوں پر بہتا ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ شریں، دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، محارب نے یہ سن کر کہا کہ پھر تو حضرت ابن عباس (رض) نے صحیح فرمایا کیونکہ واللہ یہ خیر کثیر ہی تو ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ قَالَ لِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ مَا سَمِعْتَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَذْكُرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْكَوْثَرِ فَقُلْتُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذَا الْخَيْرُ الْكَثِيرُ فَقَالَ مُحَارِبٌ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَقَلَّ مَا يَسْقُطُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ لَمَّا أُنْزِلَتْ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ يَجْرِي عَلَى جَنَادِلِ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ شَرَابُهُ أَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ قَالَ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذَا وَاللَّهِ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص اپنے بھائی کو " اے کافر " کہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی ایک تو کافر ہو کر لوٹتا ہی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مٹکے کی نبیذ کو نبی کریم ﷺ نے حرام قرار دیا ہے میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابو عبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو نبی کریم ﷺ نے حرام قرار دیا ہے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا انہوں نے سچ کہا نبی کریم ﷺ نے اسے حرام قرار دیا ہے میں نے پوچھا " مٹکے " سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ قَالَ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ مَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ الْمَدَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے (رمضان کے مہینے میں) ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے لوگوں کو روکا تو وہ کہنے لگے کہ کیا آپ اس طرح نہیں کرتے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ أَوَلَسْتَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانی میں خیر اور بھلائی رکھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے نجد کی طرف ایک سریہ روانہ فرمایا جن میں حضرت ابن عمر (رض) بھی شامل تھے، ان کا حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک ایک اونٹ بطور انعام کے بھی عطاء فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৫০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کردیتا ہے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہو تو اس غلام کی قیمت لگائی جائے گی، باقی شرکاء کو ان کے حصے کی قیمت دے دی جائے گی اور غلام آزاد ہوجائے گا، ورنہ جتنا اس نے آزاد کیا ہے اتناہی رہے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ فَإِنَّهُ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ فَيُعْطَى شُرَكَاؤُهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ الْعَبْدُ عَلَيْهِ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مَا عَتَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৫১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৫২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی خود حضرت ابن عمر (رض) بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৫৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حامل قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی طرح ہے جسے اس کا مالک اگر باندھ کر رکھے تو وہ اس کے قابو میں رہتا ہے اور اگر کھلاچھوڑ دے تو وہ نکل جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ فَإِنْ تَعَاهَدَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৫৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ہم لوگ خریدو فروخت کرتے تھے تو نبی کریم ﷺ ہمارے پاس لوگوں کو بھیجتے تھے جو ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ اسے بیچنے سے پہلے اس جگہ سے " جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے " کسی اور جگہ منتقل کرلیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَبْتَاعُ الطَّعَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَأْمُرُنَا بِنَقْلِهِ مِنْ الْمَكَانِ الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانٍ سِوَاهُ قَبْلَ أَنْ نَبِيعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৫৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ وَقَالَ مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ ضَارِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
তাহকীক: