আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৬১১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
امام زہری (رح) سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب جمرہ اولیٰ جو مسجد کے قریب ہے کی رمی فرماتے تو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے پھر اس کے سامنے کھڑے ہو کر بیت اللہ کا رخ کرتے ہاتھ اٹھا کر دعاء کرتے اور طویل وقوف فرماتے پھر جمرہ ثانیہ کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے اور بائیں جانب بطن وادی کی طرف چلے جاتے وقوف کرتے بیت اللہ کا رخ کرتے اور ہاتھ اٹھا کر دعاء کرتے پھر جمرہ عقبہ پر تشریف لاتے اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے اس کے بعد وقوف نہ فرماتے بلکہ واپس لوٹ جاتے تھے۔ امام زہری (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے سالم (رح) کو حضرت ابن عمر (رض) کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی حدیث اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا ہے اور حضرت ابن عمر (رض) بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْأُولَى الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَقُومُ أَمَامَهَا فَيَسْتَقْبِلُ الْبَيْتَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَرْمِي الثَّانِيَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ذَاتَ الْيَسَارِ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي فَيَقِفُ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَمْضِي حَتَّى يَأْتِيَ الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيَهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ قَالَ الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے نحوست تین چیزوں میں ہوسکتی تھی گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَالشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) سے عراق کے کسی آدمی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر محرم کسی مکھی کو ماردے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا یہ اہل عراق آ کر مجھ سے مکھی مارنے کی بارے میں پوچھ رہے ہیں جبکہ نبی کریم ﷺ کے نواسے کو (کسی سے پوچھے بغیر ہی) شہید کردیا حالانکہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں نواسوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں میری دنیا کے ریحان ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ يَقُولُ شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ عَنْ مُحْرِمٍ قَتَلَ ذُبَابًا فَقَالَ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ تَسْأَلُونِي عَنْ مُحْرِمٍ قَتَلَ ذُبَابًا وَقَدْ قَتَلْتُمْ ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمَا رَيْحَانَتَيَّ مِنْ الدُّنْيَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ میں نماز پڑھی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَائِذُ بْنُ نُصَيْبٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكَعْبَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ نزع کی کیفیت طاری ہونے سے پہلے تک بھی قبول فرما لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید بن عمرورحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے ؟ اس نے کہا قبیلہ اسلم سے حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اے اسلمی بھائی ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَسْلَمَ قَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ يَا أَخَا أَسْلَمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّیہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَرُبَّمَا قَالَ يَأْذَنَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اس کا نگینہ آپ ﷺ ہتھیلی کی طرف کرلیتے تھے، لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں جس پر نبی کریم ﷺ نے برسر منبر اسے پھینک دیا اور فرمایا میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی طرف کرلیتا تھا واللہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا چناچہ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَاطِنَ كَفِّهِ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ قَالَ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَأَلْقَاهُ وَنَهَى عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا نبی کریم ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلا دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ فَقَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص قسم کھاتے وقت انشاء اللہ کہہ لے اسے اختیار ہے اگر اپنی قسم پوری کرنا چاہے تو کرلے اور اگر اس سے رجوع کرنا چاہے تو حانث ہوئے بغیر رجوع کرلے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَإِنْ شَاءَ مَضَى وَإِنْ شَاءَ رَجَعَ غَيْرَ حَنِثٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے بریرہ (رض) کو خریدنے کے لئے بھاؤ تاؤ کیا نبی کریم ﷺ نماز پڑھ کر واپس آئے تو حضرت عائشہ (رض) کہنے لگیں کہ بریرہ (رض) کے مالک نے انہیں بیچنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر ولاء ہمیں ملے تو ہم بیچ دیں گے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ولاء اسی کا حق ہے جو غلام کو آزاد کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ سَاوَمَتْ بَرِيرَةَ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ فَقَالَتْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید بن جبیررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مٹکے کی نبیذ کو نبی کریم ﷺ نے حرام قرار دیا ہے میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ آپ کو ابو عبدالرحمن پر تعجب نہیں ہوتا ان کا خیال ہے کہ مٹکے کی نبیذ کو تو نبی کریم ﷺ نے حرام قرار دیا ہے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا انہوں نے سچ کہا نبی کریم ﷺ نے اسے حرام قرار دیا ہے میں نے پوچھا " مٹکے " سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہر وہ چیز جو پکی مٹی سے بنائی جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ صَدَقَ قَالَ قُلْتُ مَا الْجَرُّ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ صُنِعَ مِنْ مَدَرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بیع کرے اور نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ تاجروں سے پہلے ہی مت ملا کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا صَخْرٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَكَانَ يَقُولُ لَا تَلَقَّوْا الْبُيُوعَ وَلَا يَبِعْ بَعْضٌ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ أَوْ أَحَدٌ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ الْأَوَّلُ أَوْ يَأْذَنَهُ فَيَخْطُبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جعرانہ میں حضرت عمر (رض) نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں منت مانی تھی کہ مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا ؟ نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنی منت پوری کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر (رض) وہاں سے روانہ ہوگئے ابھی وہ نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کردیا چناچہ انہوں نے اپنے غلام کو بھی آزاد کردیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعِرَّانَةِ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَمَعَهُ غُلَامٌ مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ فَقَالَ لَهُ اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ فَذَهَبَ فَاعْتَكَفَ فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ النَّاسَ يَقُولُونَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيَ هَوَازِنَ فَدَعَا الْغُلَامَ فَأَعْتَقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک ریشمی جوڑا دیا وہ ان کے ٹخنوں سے نیچے لٹکنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے اس پر سخت بات کہی اور جہنم کا ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَسَاهُ حُلَّةً فَلَبِسَهَا فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَسْفَلَ مِنْ الْكَعْبَيْنِ وَذَكَرَ النَّارَ حَتَّى ذَكَرَ قَوْلًا شَدِيدًا فِي إِسْبَالِ الْإِزَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قزع سے منع فرمایا ہے قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَزَعِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَهِيَ الْقَزَعَةُ الرُّقْعَةُ فِي الرَّأْسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو اور رات کی نماز دو دو رکعت ہوتی ہے اور وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَهْوَازِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قزع سے منع فرمایا ہے قزع کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دیئے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقَزَعِ فِي الرَّأْسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے حضرت ابن عمر (رض) کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہے میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہوگی اور جو شخص " جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَزَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
tahqiq

তাহকীক: