আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৬১৩৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ئثمامہ بن شراجیل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے ان سے مسافر کی نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اس کی دو دو رکعتیں ہیں سوائے مغرب کے کہ اس کی تین ہی رکعتیں ہیں میں نے پوچھا اگر ہم " ذی المجاز " میں ہوں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے پوچھا " ذوالمجاز " کس چیز کا نام ہے ؟ میں نے کہا کہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں ہم لوگ اکٹھے ہوتے ہیں خریدو فروخت کرتے ہیں اور بیس پچیس دن وہاں گذارتے ہیں حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اے شخص میں آذربائجان میں تھا وہاں چار یا دو ماہ رہا (یہ یاد نہیں) میں نے صحابہ (رض) کو وہاں دو دو رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا پھر میں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کو دوران سفر دو دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ " تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ "
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ شَرَاحِيلَ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ قَالَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ قَالَ مَا ذُو الْمَجَازِ قُلْتُ مَكَانٌ نَجْتَمِعُ فِيهِ وَنَبِيعُ فِيهِ وَنَمْكُثُ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَقَالَ يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَ عَيْنِي يُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَزَعَ إِلَيَّ بِهَذِهِ الْآيَةِ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلا کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ میں کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے تو پتہ چلایہ مسیح دجال ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي الْمَقَامَ رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ جَعْدَ الرَّأْسِ أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اسے اتناپیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا پھر میں نے اپنا پس خوردہ حضرت عمر (رض) کودے دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا علم۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى جَعَلَ اللَّبَنُ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا أَوَّلْتَهُ قَالَ الْعِلْمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں جنت البقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا اگر دینار کے بدلے بیچتا تو میں خریدار سے درہم لے لیتا اور دراہم کے بدلے بیچتا تو اس سے دینار لے لیتا ایک دن میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ اپنے حجرے میں داخل ہو رہے تھے میں نے آپ ﷺ کے کپڑے پکڑ کر یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جب تم ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کے بدلے وصول کرو تو اس وقت تک اپنے ساتھی سے جدا نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان بیع کا کوئی معاملہ باقی ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ حُجْرَتَهُ فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِذَا أَخَذْتَ وَاحِدًا مِنْهُمَا بِالْآخَرِ فَلَا يُفَارِقْكَ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ بَيْعٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سالم رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے تھے یہ وہ مقام بیداء ہے جس کے متعلق تم نبی کریم ﷺ کی طرف غلط نسبت کرتے ہو واللہ نبی کریم ﷺ نے مسجد ہی سے احرام باندھا ہے (مقام بیداء سے نہیں جیسا کہ تم نے مشہور رکھا ہے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ فطر عیدگاہ کی طرف سے نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور عروہ بن زبیر (رح) مسجد میں داخل ہوئے ہم لوگ حضرت ابن عمر (رض) کے پاس پہنچے اور ان کے پاس بیٹھ گئے وہاں کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے ہم نے ان سے پوچھا اے ابوعبدالرحمن یہ کیسی نماز ہے ؟ انہوں نے فرمایا نوایجاد ہے ہم نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کتنے عمرے کئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا چار جن میں سے ایک رجب میں بھی تھا ہمیں ان کی بات کی ترید کرتے ہوئے شرم آئی البتہ اسی وقت ہم نے ام المؤمنین حضرت عائشہ (رض) کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ بن زبیر (رح) نے ان سے کہا اے ام المؤمنین کیا آپ نے ابوعبدالرحمن کی بات سنی ؟ وہ فرما رہے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے چار عمرے کئے ہیں جن میں سے ایک رجب میں تھا ؟ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے نبی کریم ﷺ نے جو عمرہ بھی کیا وہ اس میں شریک رہے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا ابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَأُنَاسٌ يُصَلُّونَ الضُّحَى فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ قَالَ بِدْعَةٌ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ قَالَ وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ فَقَالَ لَهَا عُرْوَةُ إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صلوۃ الخوف اس طرح پڑھائی ہے کہ ایک گروہ کو اپنے پیچھے کھڑا کر کے ایک رکوع اور دو سجدے کروائے دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا پھر نبی کریم ﷺ کے ساتھ جس گروہ نے ایک رکعت پڑھی تھی وہ چلا گیا اور دوسرا گروہ آگیا نبی کریم ﷺ نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے کروائے اور نبی کریم ﷺ نے سلام پھیر دیا اس کے بعد دونوں گروہوں کے ہر آدمی نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک ایک رکعت پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتْ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءَ رَاكِبًا وَمَاشِيًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے طواف کے پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل اور باقی چار چکروں میں عام رفتار رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَرْمُلُ ثَلَاثًا مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ وَيَمْشِي أَرْبَعًا عَلَى هِينَتِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابوامامہ تیمی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ ہم لوگ کرایہ پر چیزیں لیتے دیتے ہیں کیا ہمارا حج ہوجائے گا ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے ؟ کیا تم میدان عرفات نہیں جاتے ؟ کیا تم جمرات کی رمی اور حلق نہیں کرتے ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا نبی کریم ﷺ کے پاس بھی ایک آدمی نے آ کر یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے نبی کریم ﷺ نے اسے جواب نہ دیا یہاں تک کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اس بات میں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو نبی کریم ﷺ نے اسے بلا کر جواب دیا کہ تم حاجی ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسروی سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّا نُكْرِي فَهَلْ لَنَا مِنْ حَجٍّ قَالَ أَلَيْسَ تَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَتَأْتُونَ الْمُعَرَّفَ وَتَرْمُونَ الْجِمَارَ وَتَحْلِقُونَ رُءُوسَكُمْ قَالَ قُلْنَا بَلَى فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الَّذِي سَأَلْتَنِي فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِهَذِهِ الْآيَةِ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ حُجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ إِنَّا قَوْمٌ نُكْرِي فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ أَسْبَاطٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسجد حرام کو میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد کی نسبت زیادہ افضل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ الصَّلَاةِ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ہے حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس طرح بیع کرتے تھے کہ ایک اونٹنی دے کر حاملہ اونٹنی کے پیٹ کے بچے کو (پیدائش سے پہلے ہی) خرید لیتے ( اور کہہ دیتے کہ جب اس کا بچہ پیدا ہوگا وہ میں لوں گا) نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمادیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَذَلِكَ أَنَّ الْجَاهِلِيَّةَ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِالشَّارِفِ حَبَلَ الْحَبَلَةِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گھوڑوں کی چراگاہ نقیع کو بنایا حماد کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا اپنے گھوڑوں کی ؟ تو استاد نے جواب دیا نہیں بلکہ مسلمانوں کے گھوڑوں کی۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ لِلْخَيْلِ قَالَ حَمَّادٌ فَقُلْتُ لَهُ لِخَيْلِهِ قَالَ لَا لِخَيْلِ الْمُسْلِمِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৫০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو بیشک اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةً إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৫১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৫২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے مٹکے اور کدو کی نبیذ سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں طاؤس کہتے ہیں یہ بات میں نے خود سنی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ حَنْظَلَةَ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৫৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے زمین پر گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہیں فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنْ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৫৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسا کتا رکھے جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ دو قیراط کمی ہوتی رہے گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا ضَارِيًا أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৫৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو انہیں اجازت دے دیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَكُمْ نِسَاؤُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ
tahqiq

তাহকীক: