আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৪৫ টি
হাদীস নং: ৭৭২২
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے لشکر کو غالب کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر تنہا غالب آگیا اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ وَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭২৩
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکرکے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کردینا۔
حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭২৪
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں سب سے بد ترین شخص وہ آدمی ہوتا ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭২৫
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے سوال پوچھا کہ شفاعت کے بارے آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کرو گے کیونکہ میں علم کے بارے تمہاری حرص دیکھ رہاہوں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے میرے نزدیک لوگوں کا سیلاب جنت کے دروازے پر آنا میری شفاعت کی تکمیل سے زیادہ اہم نہیں ہے اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو خلوص دل کے ساتھ لاالہ الہ اللہ کی گواہی دیتا ہو اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ والْخُزَاعِيُّ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعْتِبٍ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَهُمُّنِي مِنْ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭২৬
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہتے ہیں حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین لڑکوں کے علاوہ گہوارے کے اندر اور کسی نے کلام نہیں کیا۔ (١) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) (٢) وہ لڑکا جو جریج سے بولا تھا۔ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار شخص کا نام تھا اس نے اپنا گرجا بنا رکھا تھا اور وہاں عبادت کرتا تھا ایک دن بنی اسرائیل کے لوگ اس کی عبادت کا تذکرہ کر رہے تھے جسے سن کر ایک فاحشہ عورت نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے فتنے میں مبتلا کرسکتی ہوں ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ تو ہماری خواہش ہے۔ چنانچہ ایک روز جریج اپنے عبادت خانہ میں تھا کہ وہ عورت اس کے پاس آئی اور جریج سے کار برآری کی خواستگار ہوئی جریج نے انکار کیا تو اس عورت نے جا کر ایک چرواہے کو اپنے نفس پر قابو دیا جو جریج کے گرجے کے نیچے اپنی بکریاں رکھتا تھا اور چرواہے کے نطفہ سے اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا لیکن اس نے یہ اظہار کیا کہ لڑکا جریج کا ہے لوگ جریج کے پاس آئے (اور غصہ میں) اسے نیچے اتارا اسے گالیاں دیں مارا پیٹا اور اس کا عبادت خانہ ڈھا دیا جریج نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس فاحشہ کے ساتھ بدکاری کی ہے اور اس کے یہاں بچہ بھی پیدا ہوگیا ہے جریج نے پوچھا کہ وہ بچہ کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ ہے چناچہ جریج نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور پھر اس بچہ کے پاس آ کر اسے انگلی چبھا کر دریافت کیا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے ؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) اسے چومنے اور کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا مجھے اس کی ضرورت نہیں پہلے کی طرح صرف مٹی کا بنادو۔ (٣) بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے لڑکے کو دودھ پلا رہی تھی اتفاقا ادھر سے ایک سوار زردوزی کے کپڑے پہنے نکلا عورت نے کہا الٰہی میرے بچے کو اس کی طرح کردے بچہ نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر سوار کی طرف رخ کر کے کہا الٰہی مجھے ایسا نہ کرنا یہ کہہ کر پھر دودھ پینے لگا کچھ دیر کے بعد ادھر سے لوگ ایک باندی کو لے گزرے (جس کو راستے میں مارتے جا رہے تھے) عورت نے کہا الہٰی میرے بچہ کو ایسا نہ کرنا بچہ نے فورا دودھ پینا چھوڑ کر کہا الٰہی مجھے ایسا ہی کرنا ماں نے بچہ سے کہا تو نے یہ خواہش کیوں کی ؟ بچہ نے جواب دیا وہ سوار ظالم تھا (اس لئے میں نے ویسا نہ ہونے کی دعا کی) اور اس باندی کو لوگ کہتے ہیں کہ تو نے زنا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے یہ فعل نہیں کئے اور وہ کہتی رہی کہ مجھے اللہ کافی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ہے۔ (١) حضرت عیسیٰ السلام (٢) وہ بچہ جو جریج کے زمانے میں تھا (٣) اور ایک اور بچہ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جریج بنی اسرائیل میں ایک عبادت گذار آدمی تھا اس کی ایک ماں تھی ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں اس سے ملنے کے شوق میں اس کے پاس آئی اور اس کا نام لے کر اسے پکارا اس نے اپنے دل میں کہا کہ پروردگار نماز بہتر ہے یا ماں کے پاس جانا ؟ پھر وہ نماز پڑھتا رہا اس کی ماں نے تین مرتبہ اسے پکارا پھر اس کی طبیعت پر سخت گرانی ہوئی اور وہ کہنے لگی کہ اے اللہ جریج کو فاحشہ عورتوں کا چہرہ دکھا۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَكَانَ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَابِدٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ فَابْتَنَى صَوْمَعَةً وَتَعَبَّدَ فِيهَا قَالَ فَذَكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَوْمًا عِبَادَةَ جُرَيْجٍ فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْهُمْ لَئِنْ شِئْتُمْ لَأُصْبِيَنَّهُ فَقَالُوا قَدْ شِئْنَا قَالَ فَأَتَتْهُ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَمْكَنَتْ نَفْسَهَا مِنْ رَاعٍ كَانَ يَأْوِي غَنَمَهُ إِلَى أَصْلِ صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالُوا مِمَّنْ قَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ فَشَتَمُوهُ وَضَرَبُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا إِنَّكَ زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ غُلَامًا قَالَ وَأَيْنَ هُوَ قَالُوا هَا هُوَ ذَا قَالَ فَقَامَ فَصَلَّى وَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْغُلَامِ فَطَعَنَهُ بِإِصْبَعِهِ وَقَالَ بِاللَّهِ يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوكَ قَالَ أَنَا ابْنُ الرَّاعِي فَوَثَبُوا إِلَى جُرَيْجٍ فَجَعَلُوا يُقَبِّلُونَهُ وَقَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ابْنُوهَا مِنْ طِينٍ كَمَا كَانَتْ قَالَ وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ لَهَا تُرْضِعُهُ إِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا قَالَ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَى ثَدْيِهَا يَمُصُّهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي عَلَيَّ صَنِيعَ الصَّبِيِّ وَوَضْعَهُ إِصْبَعَهُ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ تُضْرَبُ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا قَالَ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا وَأَقْبَلَ عَلَى أُمِّهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ فَذَلِكَ حِينَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَى مَرَّ الرَّاكِبُ ذُو الشَّارَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَمُرَّ بِهَذِهِ الْأَمَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَقَالَ يَا أُمَّتَاهْ إِنَّ الرَّاكِبَ ذُو الشَّارَةِ جَبَّارٌ مِنْ الْجَبَابِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْأَمَةَ يَقُولُونَ زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَصَبِيٌّ كَانَ فِي زَمَانِ جُرَيْجٍ وَصَبِيٌّ آخَرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَأَمَّا جُرَيْجٌ فَكَانَ رَجُلًا عَابِدًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ وَكَانَتْ لَهُ أُمٌّ وَكَانَ يَوْمًا يُصَلِّي إِذْ اشْتَاقَتْ إِلَيْهِ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ الصَّلَاةُ خَيْرٌ أَمْ أُمِّي آتِيهَا ثُمَّ صَلَّى وَدَعَتْهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَعَتْهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ وَصَلَّى فَاشْتَدَّ عَلَى أُمِّهِ وَقَالَتْ اللَّهُمَّ أَرِ جُرَيْجًا الْمُومِسَاتِ ثُمَّ صَعِدَ صَوْمَعَةً لَهُ وَكَانَتْ زَانِيَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭২৭
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو عنقریب تم ایک ایسی قوم کو دیکھو گے جس کی صبح اللہ کی ناراضگی میں اور شام اللہ کی لعنت میں ہوگی اور ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح ڈنڈے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ قُبَاءٍ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ طَالَ بِكَ مُدَّةٌ أَوْشَكْتَ أَنْ تَرَى قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭২৮
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر مال کی کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تم پر غلطی کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر جان بوجھ کر (گناہوں میں ملوث ہونے کا) اندیشہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ بُرْقَانَ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَقْرَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ التَّكَاثُرَ وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْخَطَأَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْعَمْدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭২৯
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اس میں آپ ﷺ نے ایمان باللہ اور جہاد فی سبییل اللہ کو اللہ کے نزدیک افضل اعمال میں سے قرار دیا ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں میں اپنے دین پر ثابت قدم رہا ہوں اور ثواب کی نیت سے جہاد میں شریک ہوں میں آگے بڑھتا رہا ہوں اور پیٹھ نہ پھیری ہو تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے یہی سوال تین مرتبہ کیا اور نبی کریم ﷺ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا آخری مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات مجھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ابھی ابھی کان میں بتائی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَذَكَرَ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ كَمَا قَالَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْلَ أَيْضًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ كَفَّرَ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ قَالَ نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام سَارَّنِي بِذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩০
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نماز میں ہماری امامت نبی کریم ﷺ فرماتے تھے وہ کبھی جہری قرأت فرماتے تھے اور کبھی سری۔ لہٰذا ہم بھی ان نمازوں میں جہر کرتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے جہر کیا اور ہم بھی ان نمازوں میں سری قرأت کرتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ نے سری قرأت فرمائی ہے اور میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فِي الصَّلَاةِ فَيَجْهَرُ وَيُخَافِتُ فَجَهَرْنَا فِيمَا جَهَرَ فِيهِ وَخَافَتْنَا فِيمَا خَافَتَ فِيهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩১
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہیے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩২
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو حدث لاحق ہوجائے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وضو کرلے حضرموت کے ایک آدمی نے یہ سن کر پوچھا اے ابوہریرہ ! حدث سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا ہلکی یا زوردار آواز میں ہوا کا خارج ہونا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حَضْرَمَوْتَ مَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩৩
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا نبی کریم ﷺ نے ان کی آواز پہچان لی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا دراصل گھر میں ایک پردہ ہے جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی ہے اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے جس کے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے کیونکہ ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویریں ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ صَوْتَهُ فَقَالَ ادْخُلْ فَقَالَ إِنَّ فِي الْبَيْتِ سِتْرًا فِي الْحَائِطِ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَاقْطَعُوا رُءُوسَهَا فَاجْعَلُوهَا بِسَاطًا أَوْ وَسَائِدَ فَأَوْطَئُوهُ فَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩৪
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں کچھ حبشی نیزوں سے کرتب دکھا رہے تھے کہ حضرت عمر (رض) آگئے وہ انہیں مارنے کے لئے کنکریاں اٹھانے لگے لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا عمر انہیں چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩৫
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَذَهَبَ رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ أَوْ أَبْنَاءِ فَارِسَ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩৬
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کروگے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جو گناہ کرے گی پھر اللہ سے معافی مانگے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَعْفَرٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩৭
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے سیاہ خضاب بہت پسند ہے اور معمر کہتے ہیں کہ امام زہری (رح) سیاہ خضاب لگاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْأَمْرُ بِالْأَصْبَاغِ فَأَحْلَكُهَا أَحَبُّ إِلَيْنَا قَالَ مَعْمَرٌ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩৮
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے زائد گھاس روکی جاسکے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩৯
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جا رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیرچلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الا باللہ ولا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ (رض) کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے ؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَثَا بِكَفِّهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَلْجَأَ مِنْ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ وَمَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَحَقٌّ عَلَيْهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৪০
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنٌ فَيَزْدَادَ إِحْسَانًا وَإِمَّا مُسِيءٌ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৪১
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے اور اس میں یوں کہہ دے لات کی قسم تو اسے دوبارہ کلمہ پڑھنا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلتے ہیں تو اسے صرف اتنی بات کہنے پر کوئی چیز صدقہ کرنی چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ
তাহকীক: