আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১১৭৪৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت ام سلیم (رض) کے یہاں تشریف لائے، گھر میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی ﷺ نے کھڑے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی نوش فرمایا : ام سلیم (رض) نے مشکیزے کا منہ کاٹ کر (تبرک کے طور پر) اپنے پاس رکھ لیا اور وہ آج بھی ہمارے پاس موجود ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ ابْنَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْ فِيهَا وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ فَقَطَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَ الْقِرْبَةِ فَهُوَ عِنْدَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ (رض) نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کو وراثت میں شراب ملے تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا اسے بہا دو ، انہوں نے عرض کیا کہ کیا ہم اسے سرکہ نہیں بناسکتے ؟ فرمایا نہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا فَقَالَ أَهْرِقْهَا قَالَ أَفَلَا نَجْعَلُهَا خَلًّا قَالَ لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو ایک جگہ راستے میں ایک کھجور پڑی ہوئی ملی، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تو صدقہ کی نہ ہوتی تو میں تجھے کھا لیتا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَكُونِي مِنْ الصَّدَقَةِ لَأَكَلْتُكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اخد عین اور کامل نامی کندھوں کے درمیان مخصوص جگہوں پر سینگی لگوائی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَى الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میرے والد کہاں ہوں گے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جہنم میں، پھر جب اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ میرا اور تیرا باپ دونوں جہنم میں ہوں گے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَبِي قَالَ فِي النَّارِ قَالَ فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ يُوسُفَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ وَالْحُمَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان (رض) تکبیر مکمل کیا کرتے تھے، جب سجدے میں جاتے یا سر اٹھاتے تب بھی تکبیر کہا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ فَيُكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا وَإِذَا رَفَعُوا قَالَ يَحْيَى أَوْ خَفَضُوا قَالَ كَبَّرُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
مختار بن نوفل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے " مزفت " سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَفَّتَةِ وَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی راستے میں نبی ﷺ کو ایک خاتون ملی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم جس گلی میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گا چناچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی اور نبی ﷺ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کا کام کردیا۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً لَقِيَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ أَجْلِسْ إِلَيْكِ قَالَ فَقَعَدَتْ فَقَعَدَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت انس (رض) سے نبی ﷺ کی قرأت کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ مَدًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی ﷺ نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر ؟ چڑیا، جو مرگئی تھی اور ہمارے لئے ایک چادر بچھائی گئی جس پر نبی ﷺ نے نماز پڑھائی اور ہم نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر صف بنالی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ طَائِرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ قَالَ وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّنَا خَلْفَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ يَعْنِي مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ جمعہ کے دن منبر سے نیچے اتر رہے ہوتے تھے اور کوئی آدمی اپنے کسی کام کے حوالے سے نبی ﷺ سے کوئی بات کرنا چاہتا تو نبی ﷺ اس سے بات کرلیتے تھے، پھر بڑھ کر مصلیٰ پر چلے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھا دیتے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ مِنْ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ فَيُكَلِّمُهُ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ہم نے نبی ﷺ کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی ﷺ نے اس میں حسب طاقت کی قید لگا دی تھی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَقَالَ فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৫৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر (رح) نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ لِأَنَسٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৬০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو اس طرح دعاء کرتے ہوئے سنا کہ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ) " اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ تمام تعریفیں تیرے لئے ہی ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، نہایت احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے اور بڑے جلال اور عزت والا ہے " نبی ﷺ نے فرمایا تو نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے ذریعے دعاء مانگی جائے تو اللہ اسے ضرور قبول کرتا ہے اور جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ ضرور عطاء کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ الْمَنَّانَ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৬১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور آپ ﷺ کسی کو مزدوری کے معاملے میں اس پر ظلم نہیں فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَا يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৬২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سلیم (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئے جن کے ذریعے میں دعاء کرلیا کروں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر اپنی ضرورت کا اللہ سے سوال کرو، اللہ فرمائے گا کہ میں نے تمہارا کام کردیا، میں نے تمہارا کام کردیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَدْعُو بِهِنَّ قَالَ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَشْرًا وَتَحْمَدِينَهُ عَشْرًا وَتُكَبِّرِينَهُ عَشْرًا ثُمَّ سَلِي حَاجَتَكِ فَإِنَّهُ يَقُولُ قَدْ فَعَلْتُ قَدْ فَعَلْتُ
tahqiq

তাহকীক: