আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১১৭৬৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور تم بھی اتنے ہی فرقوں میں تقسیم ہوجاؤ گے اور سوائے ایک فرقے کے سب جہنم میں جائیں گے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الْمَاجِشُونَ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ الْنُمَيْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَدْ افْتَرَقَتْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَأَنْتُمْ تَفْتَرِقُونَ عَلَى مِثْلِهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا فِرْقَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی ﷺ سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد بڑھ نہ جائے، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شبِ معراج میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى فَرَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ قَالُوا خُطَبَاءُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ستایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ستایا گیا اور اللہ کی راہ میں جتنا مجھے ڈرایا گیا، کسی کو اتنا نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسا وقت بھی آیا ہے کہ تین دن اور تین راتیں گذر گئیں اور میرے پاس اپنے لئے اور اپنے اہل خانہ کے لئے اتنا کھانا بھی نہ تھا کہ جسے کوئی جگر رکھنے والا جاندار کھا سکے، سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں ہوتا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں تیس دن رات کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَأُخِفْتُ مِنْ اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثَةٌ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِعِيَالِي طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا يُوَارِي إِبِطَ بِلَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی شخص پر اس وقت تک تعجب نہ کیا کرو، جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ اس کا خاتمہ کس عمل پر ہو رہا ہے ؟ کیونکہ بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے اس کی موت سے پہلے استعمال فرماتے ہیں، صحابہ (رض) نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں۔ پھر اس کی روح قبض کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْجَبُوا بِأَحَدٍ حَتَّى تَنْظُرُوا بِمَ يُخْتَمُ لَهُ فَإِنَّ الْعَامِلَ يَعْمَلُ زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ أَوْ بُرْهَةً مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ صَالِحٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا سَيِّئًا وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ دَهْرِهِ بِعَمَلٍ سَيِّئٍ لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ فَيَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ قَالَ يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کا کاتب تھا، اس نے سورت بقرہ اور آل عمران بھی پڑھ رکھی تھی، وہ آدمی جب بھی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کرتا تو ہم میں بہت آگے بڑھ جاتا، نبی ﷺ اسے " غفوراً الرحیما " لکھواتے اور وہ اس کی جگہ " علیما حکیما " لکھ دیتا، نبی ﷺ فرماتے اس اس طرح لکھو، لیکن وہ کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں، اسی طرح نبی ﷺ اسے " علیما حکیما " لکھواتے تو وہ اس کی جگہ " سمیعا بصیرا " لکھ دیتا اور کہتا کہ میں جیسے چاہوں لکھوں، کچھ عرصے بعد وہ آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا کر مل گیا اور کہنے لگا کہ میں تم سب میں محمد ﷺ سے بڑا عالم ہوں، میں ان کے پاس جو چاہتا تھا لکھ دیتا تھا، جب وہ آدمی مرا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابوطلحہ (رض) نے بیان کیا کہ وہ اس جگہ پر گئے تھے جہاں وہ آدمی مرا تھا، انہوں نے اسے باہر پڑا ہوا پایا، لوگوں سے پوچھا کہ اس شخص کا ماجرا کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے کئی مرتبہ دفن کیا لیکن زمین اسے قبول نہیں کرتی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ جَدَّ فِينَا يَعْنِي عَظُمَ فَكَانَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يُمْلِي عَلَيْهِ غَفُورًا رَحِيمًا فَيَكْتُبُ عَلِيمًا حَكِيمًا فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ اكْتُبْ كَذَا وَكَذَا اكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ وَيُمْلِي عَلَيْهِ عَلِيمًا حَكِيمًا فَيَقُولُ أَكْتُبُ سَمِيعًا بَصِيرًا فَيَقُولُ اكْتُبْ اكْتُبْ كَيْفَ شِئْتَ فَارْتَدَّ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَنْ الْإِسْلَامِ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ وَقَالَ أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِمُحَمَّدٍ إِنْ كُنْتُ لَأَكْتُبُ مَا شِئْتُ فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَرْضَ لَمْ تَقْبَلْهُ و قَالَ أَنَسٌ فَحَدَّثَنِي أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهُ أَتَى الْأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ فَوَجَدَهُ مَنْبُوذًا فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا شَأْنُ هَذَا الرَّجُلِ قَالُوا قَدْ دَفَنَّاهُ مِرَارًا فَلَمْ تَقْبَلْهُ الْأَرْضُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ يُعَدُّ فِينَا عَظِيمًا فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ خیبر میں حضرت طلحہ (رض) کو یہ منادی کرنے کا حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں، کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے، چناچہ ہانڈیاں الٹا دی گئیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَلْحَةَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ يُنَادِي إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ قَالَ فَأُكْفِئَتْ الْقُدُورُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابو القاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی ﷺ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلًا يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا عَنَيْتُ فُلَانًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ تَسَمَّوْا بِاسْمِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کسی شخص نے نبی ﷺ سے نماز فجر کا وقت پوچھا تو نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے ؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَخَّرَ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يُقِيمَ فَصَلَّى ثُمَّ دَعَا الرَّجُلَ فَقَالَ مَا بَيْنَ هَذَا وَهَذَا وَقْتٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی کہ غزوہ حنین کے دن نبی ﷺ کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ أَنْ لَا تُعْبَدَ بَعْدَ الْيَوْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیئے، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی ﷺ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَأَتَاهُ آتٍ فَأَخَذَهُ فَشَقَّ صَدْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَرَمَى بِهَا وَقَالَ هَذِهِ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَشْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ فَأَقْبَلَ الصِّبْيَانُ إِلَى ظِئْرِهِ قُتِلَ مُحَمَّدٌ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ انْتَقَعَ لَوْنُهُ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ كُنَّا نَرَى أَثَرَ الْمَخِيطِ فِي صَدْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم (رض) نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اگر عورت بھی اسی طرح " خواب دیکھے " جسے مرد دیکھتا ہے تو کیا حکم ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جو عورت ایسا " خواب دیکھے " اور اسے انزال ہوجائے تو اسے غسل کرنا چاہئے، ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا ہوتا ہے، دونوں میں سے جو غالب آجائے بچہ اسی کے مشابہہ ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَأَتْ ذَلِكَ مِنْكُنَّ فَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَوَ يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلَا أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
واقد بن عمرو بن سعد (رح) (جو بڑے خوبصورت اور ڈیل ڈول والے آدمی تھے) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس (رض) کے گھر گیا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ میں نے بتایا کہ میرا نام واقد ہے اور میں حضرت سعد بن معاذ (رض) کا پوتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ تم سعد کے بہت ہی مشابہہ ہو، پھر ان پر گریہ طاری ہوگیا اور وہ کافی دیر تک روتے رہے، پھر کہنے لگے کہ سعد پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ لوگوں میں بڑے عظیم اور طویل القامت تھے۔ پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اکید رومہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا : اس نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس پر سونے کا کام کیا ہوا تھا " بھجوایا، نبی ﷺ اسے پہن کر منبر پر تشریف لے گئے، کھڑے رہے یا بیٹھ گئے، لیکن کوئی بات نہیں کہی، تھوڑی دیر بعد نیچے اترے تو لوگ اس جبے کو ہاتھ لگاتے اور دیکھتے جاتے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہم نے قبل ازیں اس سے بہتر لباس نہیں دیکھا، نبی ﷺ نے فرمایا تم جو دیکھ رہے ہو جنت میں سعد بن معاذ (رض) کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِهِمْ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِي مَنْ أَنْتَ قُلْتُ أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ إِنَّكَ بِسَعْدٍ أَشْبَهُ ثُمَّ بَكَى وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ فَقَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى سَعْدٍ كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ ثُمَّ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرَ دُومَةَ فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِيهِ الذَّهَبُ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَ الْجُبَّةَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا قَالُوا مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ اکید رومہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں " من " کا ایک مٹکا بھجوایا تھا، نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر ایک جماعت پر سے گذرتے ہوئے ان میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دینا شروع کردیا، ان میں حضرت جابر (رض) بھی تھے، نبی ﷺ نے انہیں بھی ایک حصہ دے دیا، پھر ان کے پاس کچھ دیر بعد واپس آکر ایک اور حصہ دیا، وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ تو آپ مجھے دے چکے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا یہ عبداللہ کی بچیوں (تمہاری بہنوں) کا حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرَّةً مِنْ مَنٍّ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً فَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً قَالَ هَذَا لِبَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ آٹھ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، غم، پریشانی، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضہ کا غلبہ اور دشمن کا غلبہ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ ثَمَانٍ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَغَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر ویتم نعمتہ علیک ویھدیک صراطا مستقیما " مسلمانوں نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ویکفر عنھم سیئاتھم وکان ذلک عند اللہ فوزا عظیما "
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا قَالَ الْمُسْلِمُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَنِيئًا لَكَ مَا أَعْطَاكَ اللَّهُ فَمَا لَنَا فَنَزَلَتْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن جبل تنعیم کی جانب سے اسلحہ سے لیس اسی اہل مکہ نبی ﷺ اور صحابہ (رض) کی طرف بڑھنے لگے، نبی ﷺ نے ان کے لئے بددعاء فرمائی اور انہیں پکڑ لیا گیا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی " وھو الذی کف ایدیھم عنکم " اور اس میں بطن مکہ سے مراد جبل تنعیم ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ هَبَطَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فِي السِّلَاحِ مِنْ قِبَلِ جَبَلِ التَّنْعِيمِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأُخِذُوا وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ قَالَ يَعْنِي جَبَلَ التَّنْعِيمِ مِنْ مَكَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنتا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآن کی آیت تھی یا نبی ﷺ کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ نَزَلَ عَلَيْهِ أَمْ شَيْءٌ يَقُولُهُ وَهُوَ يَقُولُ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے مبارک جوتوں کے دو تسمے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ نِعَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا قِبَالَانِ
তাহকীক: