আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১১৭৮৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر (رض) اور عبدالرحمن بن عوف (رض) نے نبی ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی، نبی ﷺ نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی، چناچہ میں نے ان میں سے ہر ایک کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا صفوں کی درستگی نماز کا حسن ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرا بندہ بالشت برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوتا جاتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي مَاشِيًا أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے ہجرت فرمائی تو نبی ﷺ سواری پر آگے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت صدیق اکبر (رض) پیچھے، حضرت صدیق اکبر (رض) کو راستوں کا علم تھا کیونکہ وہ شام آتے جاتے رہتے تھے، جب بھی کسی جماعت پر ان کا گذر ہوتا اور وہ لوگ پوچھتے کہ ابوبکر ! یہ آپ کے آگے کون بیٹھے ہوئے ہیں ؟ تو وہ فرماتے کہ یہ رہبر ہیں جو میری رہنمائی کر رہے ہیں، مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسلمان ہونے والے انصاری صحابہ حضرت ابو امامہ (رض) اور ان کے ساتھیوں کے پاس پیغام بھیجا، وہ لوگ ان دونوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دونوں امن وامان کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوجائیے، آپ کی اطاعت کی جائے گی، چناچہ وہ دونوں مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ روشن اور حسین دن کوئی نہیں دیکھا جب نبی ﷺ اور حضرت صدیق اکبر (رض) مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے اور میں نے نبی ﷺ کی دنیا سے رخصتی کا دن بھی پایا ہے اور اس دن سے زیادہ تاریک اور قبیح دن کوئی نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ وَأَبُو بَكْرٍ رَدِيفُهُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْرَفُ فِي الطَّرِيقِ لِاخْتِلَافِهِ إِلَى الشَّامِ وَكَانَ يَمُرُّ بِالْقَوْمِ فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا بَيْنَ يَدَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ هَادٍ يَهْدِينِي فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ بَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ وَأَصْحَابِهِ فَخَرَجُوا إِلَيْهِمَا فَقَالُوا ادْخُلَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَدَخَلَا قَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَنْوَرَ وَلَا أَحْسَنَ مِنْ يَوْمِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الْمَدِينَةَ وَشَهِدْتُ وَفَاتَهُ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ أَظْلَمَ وَلَا أَقْبَحَ مِنْ الْيَوْمِ الَّذِي تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی ﷺ نے ایک تلوار پکڑی اور فرمایا یہ تلوار کون لے گا ؟ کچھ لوگ اسے لے کر دیکھنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا اس کا حق ادا کرنے کے لئے اسے کون لے گا ؟ یہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ گئے، حضرت ابو دجانہ (رض) " جن کا نام سماک تھا " کہنے لگے کہ میں اس کا حق ادا کرنے کے لئے لیتا ہوں، چناچہ انہوں نے اسے تھام لیا اور مشرکین کی کھوپڑیاں اڑانے لگے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ فَأَخَذَهُ قَوْمٌ فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكٌ أَنَا آخُذُ بِحَقِّهِ فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ هَامَ الْمُشْرِكِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چناچہ حضرت ابو طلحہ (رض) نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا ساز و سامان حاصل کرلیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ رَجُلًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَ رَجُلًا فَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کسی مسلمان کی نیکی ضائع نہیں کرتا، دنیا میں بھی اس پر عطاء فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ثواب دیتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا وہاں اس کی کوئی نیکی نہیں ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ وَبَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ الْمَعْنَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُعْطَى عَلَيْهَا فِي الدُّنْيَا وَيُثَابُ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُعْطِيهِ حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا کہ یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے فرمایا کہ اس کی امیدیں ہیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى الْأَرْضِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ ثُمَّ رَفَعَهَا خَلْفَ ذَلِكَ قَلِيلًا وَقَالَ هَذَا أَجَلُهُ ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ أَمَامَهُ قَالَ وَثَمَّ أَمَلُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب دعاء کرتے تو ہتھیلیوں کا اوپر والا حصہ چہرہ کی جانب کرلیتے اور نچلا حصہ زمین کی طرف۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا جَعَلَ ظَاهِرَ كَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ وَبَاطِنَهُمَا مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت صفیہ (رض) حضرت دحیہ کلبی (رض) کے حصے میں آئی تھیں، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! دحیہ کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت باندی آئی ہے، نبی ﷺ نے سات افراد کے عوض انہیں خرید لیا اور خرید کر انہیں حضرت ام سلیم (رض) کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں، اس دوران لوگ یہ سوچنے لگے کہ نبی ﷺ ان سے نکاح فرمائیں گے یا انہیں باندی بنائیں گے ؟ لیکن جب نبی ﷺ نے انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا تو لوگ سمجھ گئے کہ نبی ﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا ہے۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی ﷺ بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی ﷺ زمین پر گرگئے، حضرت صفیہ (رض) بھی گرگئیں، دیگر ازواج مطہرات دیکھ رہی تھیں وہ کہنے لگی کہ اللہ اس یہودیہ کو دور کرے اور اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے، ادھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ صَفِيَّةَ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ وَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ فَجَعَلَهَا عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ حَتَّى تَهَيَّأَ وَتَعْتَدَّ فِيمَا يَعْلَمُ حَمَّادٌ فَقَالَ النَّاسُ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَسَرَّاهَا فَلَمَّا حَمَلَهَا سَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ فَعَرَفَ النَّاسُ أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَا مِنْ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ النَّاسُ وَأَوْضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ فَخَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَّتْ مَعَهُ وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرْنَ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ وَفَعَلَ بِهَا وَفَعَلَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا وَأَرْدَفَهَا خَلْفَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي قَسْمِهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ مسجد نبوی ﷺ کی جگہ در اصل بنو نجار کی تھی، ایک درخت، کھیت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں، نبی ﷺ نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، چناچہ نبی ﷺ کے حکم پر درختوں کو کاٹ دیا گیا، کھیت اجاڑ دیا گیا اور قبروں کو اکھاڑ دیا گیا اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی ﷺ وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَخِرَبٌ وَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَامِنُونِي فَقَالُوا لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا إِلَّا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَبِالْحَرْثِ فَأُفْسِدَ وَبِالْقُبُورِ فَنُبِشَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا ایک پڑوسی فارس کا رہنے والا تھا، وہ سالن بڑا اچھا پکاتا تھا، ایک دن اس نے نبی ﷺ کے لئے کھانا پکایا اور نبی ﷺ کو دعوت دینے کے لئے آیا، نبی ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی میرے ساتھ ہوں گی، اس نے انکار کردیا، نبی ﷺ نے بھی اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور وہ چلا گیا، پھر تین مرتبہ اسی طرح چکر لگائے بالآخر اس نے حضرت عائشہ (رض) کو بھی ساتھ لانے کے لئے ہامی بھر لی، چناچہ وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے اس کے گھر چلے گئے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارِسِيًّا كَانَ طَيِّبَ الْمَرَقِ فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ يَدْعُوهُ فَقَالَ وَهَذِهِ لِعَائِشَةَ فَقَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا ثُمَّ عَادَ يَدْعُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذِهِ قَالَ نَعَمْ فِي الثَّالِثَةِ فَقَامَا يَتَدَافَعَانِ حَتَّى أَتَيَا مَنْزِلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم ﷺ نے فرمایا : دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہو سکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی ﷺ نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے جہاد کرو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৯৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل (رض) اپنی قوم کی امامت فرماتے تھے، ایک مرتبہ وہ نماز پڑھا رہے تھے کہ حضرت حرام (رض) " جو اپنے باغ کو پانی لگانے جا رہے تھے " نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوئے، جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت معاذ (رض) تو نماز لمبی کر رہے ہیں تو وہ اپنی نماز مختصر کر کے اپنے باغ کو پانی لگانے چلے گئے، حضرت معاذ (رض) کے منہ سے نکل گیا کہ وہ منافق ہے اپنے باغ کو سیراب کرنے کے لئے نماز سے جلدی کرتا ہے۔ اتفاق سے حضرت حرام (رض) بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو وہاں حضرت معاذ بن جبل (رض) بھی موجود تھے، حضرت حرام (رض) کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی ! میں اپنے باغ کو پانی لگانے کے لئے جا رہا تھا، باجماعت نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں داخل ہوا، جب انہوں نے نماز لمبی کردی تو میں مختصر نماز پڑھ کر اپنے باغ کو پانی لگانے چلا گیا، اب ان کا خیال یہ ہے کہ میں منافق ہوں۔ نبی ﷺ نے حضرت معاذ (رض) کی طرف متوجہ ہو کردو مرتبہ فرمایا کیا تم لوگوں کو امتحان ڈالتے ہو ؟ انہیں لمبی نماز نہ پڑھایا کرو، سورت اعلیٰ اور سورت شمس وغیرہ سورتیں پڑھ لیا کرو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ وَقَالَ مَرَّةً أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَهُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ قَالَ إِنَّهُ لَمُنَافِقٌ أَيَعْجَلُ عَنْ الصَّلَاةِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلِهِ قَالَ فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَوَّزْتُ فِي صَلَاتِي وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ أَفَتَّانٌ أَنْتَ لَا تُطَوِّلْ بِهِمْ اقْرَأْ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮০০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی مہینے کے آخر میں صوم وصال فرمایا : کچھ لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا، نبی ﷺ کو خبر ہوئی تو فرمایا کہ اگر یہ مہینہ لمبا ہوجاتا تو میں اتنے دن مسلسل روزہ رکھتا کہ دین میں تعمق کرنے والے اپنا تعمق چھوڑ دیتے، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الشَّهْرِ وَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮০১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اگر کسی سفر یا غزوہ میں ہوتے اور رات کا وقت آجاتا تو یہ دعاء فرماتے کہ اے زمین ! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں تیرے شر سے، تجھ میں موجود شر، تیرے اندر پیدا کی گئی چیزوں کے شر اور تجھ پر چلنے والوں کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ہر شیر اور کالی چیز سے، سانپ اور بچھو سے، اہلیان شہر کے شر سے اور والد اور اولاد کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ قَالَ يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ وَمِنْ شَرِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৮০২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمید (رح) کہتے ہیں کہ حضرت انس (رض) کی عمر ایک کم سو سال تھی۔
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَمَّرَ مِائَةَ سَنَةٍ غَيْرَ سَنَةٍ
তাহকীক: