আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১১৯৮৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ پر موت کی شدت طاری ہوئی تو حضرت فاطمہ (رض) نبی ﷺ کی اس کیفیت کو دیکھ کر کہنے لگیں، ہائے تکلیف ! نبی ﷺ نے اس پر فرمایا : تمہارے باپ پر جو کیفیت طاری ہو رہی ہے قیامت تک آنے والے کسی انسان سے اللہ اسے معاف کرنے والا نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ ذَلِكَ يَعْنِي لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَةُ وَا كَرْبَاهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّةُ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ بِأَبِيكِ مَا لَيْسَ اللَّهُ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا لِمُوَافَاةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَالَتْ فَاطِمَةُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام جہاد کرنا، دنیا و مافیھا سے بہتر ہے اور تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور اگر کوئی جنتی عورت زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو ان دونوں کے درمیانی جگہ خوشبو سے بھر جائے اور مہک پھیل جائے اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَغُدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قَدِّهِ يَعْنِي سَوْطَهُ مِنْ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوْ اطَّلَعَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا حَدَّثَنَا الْهَاشِمِيُّ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں حضرت ابوطلحہ (رض) سب سے زیادہ مالدار انصاری تھے اور انہیں اپنے سارے مال میں بیر حاء نامی باغ جو مسجد کے سامنے تھا اور نبی ﷺ بھی اس میں تشریف لے جاتے اور وہاں کا عمدہ پانی نوش فرماتے تھے " سب سے زیادہ محبوب تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی " تم نیکی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی محبوب چیز نہ خرچ کردو " تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے اور مجھے اپنے سارے مال میں " بیرحاء " سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرتا ہوں اور اللہ کے یہاں اس کی نیکی اور ثواب کی امید رکھتا ہوں، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ اسے جہاں مناسب سمجھیں خرچ فرما دیں، نبی ﷺ نے فرمایا واہ ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، میں نے تمہاری بات سن لی ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو، حضرت ابوطلحہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں ایسا ہی کروں گا، پھر انہوں نے وہ باغ اپنے قریبی رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کردیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَكَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ وَأَنَا أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ ! اس بندے کو مجھ سے بچالے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ وَلَا اسْتَجَارَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ مِنْ النَّارِ ثَلَاثًا إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم ! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کر کے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ فَيَقُولُ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَضَعُ قَدَمَهُ فِيهَا فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ بِعِزَّتِكَ قَطْ قَطْ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلًا حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ خَلْقًا آخَرَ فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت عمر (رض) کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا، حضرت عمر (رض) سے ملاقات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ریشمی جبہ بھجوایا ہے حالانکہ اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا ہے وہ فرمایا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے وہ تمہارے پاس پہننے کے لئے نہیں بھیجا، میں نے تو صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اسے بیچ دو یا اس سے کسی اور طرح نفع حاصل کرلو۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ قَالَ فَلَقِيَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَسْتَنْفِعَ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৮৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے یہ آیت ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ " تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ تمہارے رب نے فرمایا ہے، میں اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ کسی کو معبود نہ بنایا جائے جو میرے ساتھ کسی کو معبود بنانے سے ڈرتا ہے وہ اس بات کا اہل ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ أَخُو حَزْمٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ فَمَنْ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا كَانَ أَهْلًا أَنْ أَغْفِرَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا یہ ابن آدم ہے، یہ اس کی موت ہے اور اس کی امیدیں ہیں۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَاهُنَا أَجَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ وَقَدَّمَ عَفَّانُ يَدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُجَاوِزُ شَعَرُهُ أُذُنَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے یہاں تک کہ اسے پتہ چلنے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کے ساتھ مکہ مکرمہ آئے تو حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا تھا، نبی ﷺ نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بعد انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں، لیکن ایسا محسوس ہوا کہ لوگوں کو یہ بات بہت بڑی معلوم ہوئی، نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو میں بھی احرام کھول لیتا، چناچہ وہ لوگ حلال ہوگئے اور انہوں نے حج تمتع کیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ قَدِمُوا مَكَّةَ وَقَدْ لَبَّوْا بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا طَافُوا بِالْبَيْتِ وَسَعَوْا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً وَأَنْ يُحِلُّوا وَكَانَ الْقَوْمُ هَابُوا ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ فَأَحَلَّ الْقَوْمُ وَتَمَتَّعُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ابو واقد حنفی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کس چیز کا تلبیہ پڑھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو سات مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا " لبیک عمرۃ و حجۃ "۔
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي قُدَامَةَ الْحَنَفِيِّ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ قَالَ سَمِعْتُهُ سَبْعَ مِرَارٍ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو کجھور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ہلال بن امیہ (رض) نے اپنی بیوی پر شریک بن سمحاء کے ساتھ بدکاری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا، نبی ﷺ نے فرمایا اس عورت کا خیال رکھنا، اگر اس کے یہاں گھنگریالے بالوں، سرمگیں آنکھوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ شریک بن سمحاء کا بچہ ہوگا اور اگر گورے رنگ کا، سیدھے بالوں والا اور دھنسی آنکھوں والا بچہ پیدا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا، چناچہ اس عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ پہلی صفات کے مطابق تھا (شریک بن سمحاء کا)
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ جَعْدًا أَكْحَلَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبْطًا قَضِيءَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ فَجَاءَتْ بِهِ جَعْدًا أَكْحَلَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے کے ہاتھوں کو پکڑتا ہے تو اللہ پر حق ہے کہ ان کی دعاؤں کے وقت موجود رہے اور دونوں کے ہاتھوں کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَائِيُّ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৯৯৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ ! مکہ میں جنتنی برکتیں ہیں، مدینہ میں اس سے دوگنی برکتیں عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنْ الْبَرَكَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০০০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی جماعت اکٹھی ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے اور اس سے اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہوتی ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ تم اس حال میں کھڑے ہو کہ تمہارے گناہ معاف ہوچکے اور میں نے تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَائِيُّ حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنْ السَّمَاءِ أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০০১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا گز شتہ زمانہ میں تین آدمی جا رہے تھے راستہ میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے، اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہوگیا، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے پتھر آگرا، نشانات قدم مٹ گئے اور یہاں تمہاری موجودگی کا اللہ کے علاوہ کسی کو علم نہیں ہے، لہذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کر کے اللہ سے دعا کرے۔ ایک شخص کہنے لگا الٰہی ! تو واقف ہے کہ مسرے والدین بہت بوڑھے تھے، میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوھ کر) دیا کرتا تھا، ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں) دیر ہوگئی، جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میرے بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے، لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا ( اس لئے بڑا حیران ہوا) نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ ( نہ کھانے سے) کمزوری ہوجائے اور صبح تک میں ان کی ( آنکھ کھلنے کے) انتظار میں ( کھڑا) رہا، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرما دے، پتھر ایک تہائی کے قریب کھل گیا۔ دوسرا شخص بولا، الٰہی ! تو واقف ہے کہ میرے پاس ایک مزدور نے آٹھ سیر چاول مزدوری پر کام کیا تھا لیکن کام کرنے کے بعد وہ مزدوری چھوڑ کر چلا گیا میں نے وہ ( پیمانہ بھر) چاول لے کر بو دیئے، نتیجہ یہ ہوا کہ اسی کے حاصل سے میں نے گائے بیل خریدے، کچھ دنوں کے بعد وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا، وہ کہنے لگا میرے تو تیرے ذمہ ایک پیمانہ بھر چاول ہیں، میں نے جواب دیا یہ گائے بیل لے جا، یہ انہی چاولوں کے ذریعہ سے حاصل ہوئے ہیں، الٰہی ! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرما دے، چناچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر دو تہائی کے قریب کھل گیا۔ تیسرا شخص بولا الٰہی ! تو واقف ہے کہ ایک عورت تھی جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی، جب اس نے اپنے نفس کو میرے قبضے میں دے دیا، میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور سو دینار پھی چھوڑ دیئے، الٰہی ! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کر دے چناچہ وہ پتھر ہٹ گیا اور وہ باہر نکل کر چلنے پھر نے لگے۔ گذشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ فِيمَا سَلَفَ مِنْ النَّاسِ انْطَلَقُوا يَرْتَادُونَ لِأَهْلِهِمْ فَأَخَذَتْهُمْ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا غَارًا فَسَقَطَ عَلَيْهِمْ حَجَرٌ مُتَجَافٍ حَتَّى مَا يَرَوْنَ مِنْهُ حُصَاصَةً فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ قَدْ وَقَعَ الْحَجَرُ وَعَفَا الْأَثَرُ وَلَا يَعْلَمُ بِمَكَانِكُمْ إِلَّا اللَّهُ فَادْعُوا اللَّهَ بِأَوْثَقِ أَعْمَالِكُمْ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِي وَالِدَانِ فَكُنْتُ أَحْلِبُ لَهُمَا فِي إِنَائِهِمَا فَآتِيهُمَا فَإِذَا وَجَدْتُهُمَا رَاقِدَيْنِ قُمْتُ عَلَى رُءُوسِهِمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ أَرُدَّ سِنَتَهُمَا فِي رُءُوسِهِمَا حَتَّى يَسْتَيْقِظَا مَتَى اسْتَيْقَظَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا فَزَالَ ثُلُثُ الْحَجَرِ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا عَلَى عَمَلٍ يَعْمَلُهُ فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ وَأَنَا غَضْبَانُ فَزَبَرْتُهُ فَانْطَلَقَ فَتَرَكَ أَجْرَهُ ذَلِكَ فَجَمَعْتُهُ وَثَمَّرْتُهُ حَتَّى كَانَ مِنْهُ كُلُّ الْمَالِ فَأَتَانِي يَطْلُبُ أَجْرَهُ فَدَفَعْتُ إِلَيْهِ ذَلِكَ كُلَّهُ وَلَوْ شِئْتُ لَمْ أُعْطِهِ إِلَّا أَجْرَهُ الْأَوَّلَ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا قَالَ فَزَالَ ثُلُثَا الْحَجَرِ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ أَعْجَبَتْهُ امْرَأَةٌ فَجَعَلَ لَهَا جُعْلًا فَلَمَّا قَدَرَ عَلَيْهَا وَقَرَّ لَهَا نَفْسَهَا وَسَلَّمَ لَهَا جُعْلَهَا اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ رَجَاءَ رَحْمَتِكَ وَمَخَافَةَ عَذَابِكَ فَفَرِّجْ عَنَّا فَزَالَ الْحَجَرُ وَخَرَجُوا مَعَانِيقَ يَتَمَاشَوْنَ قَالَ عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ انْطَلَقُوا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ أَبِي وَلَمْ يَرْفَعْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২০০২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ( چونکہ) رسول اللہ ﷺ سے بکثرت سوال کرنے سے ہمیں قرآن میں ممانعت کردی گئی تھی، اس لئے ہم دل سے خواہش مند ہوتے تھے کہ کوئی عقل مند بدوی آکر حضور ﷺ سے کوئی مسئلہ دریافت کرے اور ہم سنیں چناچہ (ایک مرتبہ) بدوی نے حاضر ہو کر ( حضور ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا اور کہتا تھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھ کو پیغمبر بنایا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ٹھیک کہتا تھا، بدوی بولا آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں کو کس نے پیدا کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے، بدوی بولا آپ کو قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، پہاڑوں کو قائم کیا (یہ بتائیے کہ) کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کا قاصد کہتا ہے کہ ہم پر دان رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، حضور ﷺ نے فرمایا اس نے ٹھیک کہا، بدوی بولا آب کو اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ( بتایئے) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے کہا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس نے کہا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو بھیجا کیا اس نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے ؟ نبی ﷺ فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ آپ کے قاصد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم پر سال میں ایک ماہ کے روزے فرض ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا، بدوی بولا آپ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو پیغمبر بنایا ہے ( یہ بتائیے کہ) کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں ! بدوی بولا آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم میں سے صاحب استطاعت پر کعبہ کا حج فرض ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا ! آخر کار وہ بدوی پیٹھ کر جاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کروں گا، حضور ﷺ نے فرمایا اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلُهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا قَالَ نَعَمْ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقَ قَالَ ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ شَيْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ
তাহকীক: