আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২০০৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت انس (رض) نے اپنے گھر کی کسی خاتون سے فرمایا کہ تم فلاں عورت کو جانتی ہو ؟ ایک مرتبہ نبی ﷺ اس کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو، وہ کہنے لگی کہ مجھ سے پیچھے ہی رہو تمہیں میری مصیبت کا کیا پتہ، وہ نبی ﷺ کو پہچان نہ سکی، کسی نے بعد میں اسے بتایا کہ یہ تو نبی ﷺ تھے، یہ سن کر اس پر موت طاری ہوگئی اور فوراً نبی ﷺ کے پاس آئی، وہاں اسے کوئی دربان نظر نہ آیا اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو پہچان نہ پائی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ الْمَعْنَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ أَتَعْرِفِينَ فُلَانَةَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ لَهَا اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَقَالَتْ لَهُ إِيَّاكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَا تُبَالِي بِمُصِيبَتِي قَالَ وَلَمْ تَكُنْ عَرَفَتْهُ فَقِيلَ لَهَا إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِهَا مِثْلُ الْمَوْتِ فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَعْرِفْكَ فَقَالَ إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০০৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تمہیں مسواک کرنے کا حکم کثرت سے دیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০০৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو کھجور کے ساتھ خربوزہ کھاتے ہوئے دیکھا۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرُّطَبِ وَالْخِرْبِزِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০০৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے کہ کچھ معلوم نہیں اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔ گزشتہ حدیث اس دوسرے سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ وَيُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ أُمَّتِي فَذَكَرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০০৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ گالیاں دینے والے، لعنت ملامت کرنے والے یا بیہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے، عتاب کے وقت بھی صرف ات نافرماتے تھے کہ اسے کیا ہوگیا، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّابًا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا وَكَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَتْ جَبِينُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০০৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی ﷺ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرت صدیق اکبر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان (رض) کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০০৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے متعلق " جبکہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) طویل قرأت نہ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ نبی ﷺ قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور اس پر تکبیر پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ الْعَطَّارَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ وَكَانَ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے نبی ﷺ کو سلام کرتے ہوئے " السام علیک " کہا، نبی ﷺ نے صحابہ (رض) سے فرمایا اسے میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے " السام علیک " کہا تھا ؟ اس نے اقرار کیا تو نبی ﷺ نے (اپنے صحابہ (رض) سے) فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو " صرف وعلیک " کہا کرو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ إِذْ مَرَّ بِهِمْ يَهُودِيٌّ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوهُ فَقَالَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ قُلْتُ سَامٌ عَلَيْكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكَ أَيْ مَا قُلْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب کسی شخص کو آنکھوں کے معاملے میں امتحان میں مبتلاء کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو میں اس کا عوض جنت عطاء کروں گا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِذَا ابْتُلِيَ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ يُرِيدُ عَيْنَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، مجھے لواء حمد دیا جائے گا میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر اس کا حلقہ پکڑوں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ کون ؟ میں کہوں گا محمد ﷺ چناچہ دروازہ کھل جائے گا اور میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا، اچانک میں پروردگار کے سامنے پہنچ جاؤں گا اور اسے دیکھتے ہی سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے محمد ﷺ سر اٹھائیے، بات تو کیجئے، سنی جائے گی، کہیے تو سہی، قبول ہوگا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی، چناچہ میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا پروردگار ! میری امت، میری امت، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آپ اپنی امت کے پاس جائیے اور جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جنت میں داخل کر دیجئے، چناچہ میں ایسا ہی کروں گا اور جس کے دل میں اتنا ایمان محسوس ہوگا اسے جنت میں داخل کرا دوں گا۔ دوسری مرتبہ اسی تمام تفصیل کے ساتھ جو کے نصف دانے کے برابر ایمان رکھنے والوں کو جنت میں داخل کرنے کا حکم ہوگا اور میں ایسا ہی کروں گا، تیسری مرتبہ اسی تمام تفصیل کے ساتھ رائی کے ایک دانے کے برابر ایمان رکھنے والے کو جنت میں داخل کرنے کا حکم ہوگا اور میں ایسا ہی کروں گا، پھر اللہ لوگوں کے حساب کتاب سے فارغ ہوجائے گا اور میری باقی امت کو اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں داخل کر دے گا، جہنمی ان سے کہیں گے کہ تم تو اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، تمہیں اس کا کیا فائدہ ہوا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں ان لوگوں کو جہنم سے ضرور آزاد کروں گا، چناچہ اللہ انہیں جہنم سے نکال لے گا، اس وقت وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دلوایا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے پر دانے اگ آتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے درمیان لکھ دیا جائے گا کہ اللہ کے آزاد کردہ لوگ ہیں، جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو اہل جنت کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں، لیکن اللہ فرمائے گا نہیں، بلکہ یہ پروردگار کے آزاد کردہ لوگ ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأُعْطَى لِوَاءَ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَإِنِّي آتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَتِهَا فَيَقُولُونَ مَنْ هَذَا فَيَقُولُ أَنَا مُحَمَّدٌ فَيَفْتَحُونَ لِي فَأَدْخُلُ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنْ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ فَأُقْبِلُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ ذَلِكَ فَأُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ نِصْفَ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرٍ مِنْ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُمْ الْجَنَّةَ فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ فَإِذَا الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَقْبِلِي فَأَسْجُدُ لَهُ فَيَقُولُ ارْفَعْ رَأْسَكَ يَا مُحَمَّدُ وَتَكَلَّمْ يُسْمَعْ مِنْكَ وَقُلْ يُقْبَلْ مِنْكَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ اذْهَبْ إِلَى أُمَّتِكَ فَمَنْ وَجَدْتَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ الْإِيمَانِ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ فَأَذْهَبُ فَمَنْ وَجَدْتُ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَلِكَ أَدْخَلْتُهُمْ الْجَنَّةَ وَفَرَغَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ وَأَدْخَلَ مَنْ بَقِيَ مِنْ أُمَّتِي النَّارَ مَعَ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ أَهْلُ النَّارِ مَا أَغْنَى عَنْكُمْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْبَدُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا فَيَقُولُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ فَبِعِزَّتِي لَأُعْتِقَنَّهُمْ مِنْ النَّارِ فَيُرْسِلُ إِلَيْهِمْ فَيَخْرُجُونَ وَقَدْ امْتَحَشُوا فَيَدْخُلُونَ فِي نَهَرِ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ وَيُكْتَبُ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُذْهَبُ بِهِمْ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ فَيَقُولُ الْجَبَّارُ بَلْ هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ الْجَبَّارِ عَزَّ وَجَلَّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیس سے کچھ زائد سرداران قریش کے متعلق حکم فرمایا کہ انہیں کھینچ کر بدر کے ایک کنویں میں ان کی تمام تر خباثتوں کے ساتھ پھینک دیا جائے، چناچہ ایسا ہی ہوا، نبی ﷺ کا معمول تھا کہ کسی قوم پر فتح حاصل ہونے کے بعد وہاں تین راتیں رکتے تھے، اہل بدر پر فتح پانے کے بعد نبی ﷺ وہاں بھی تین راتیں رکے رہے، تیسرے دن آپ ﷺ نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا، سواری تیار ہوگئی تو نبی ﷺ ایک طرف کو چل پڑے، صحابہ (رض) آپ ﷺ کے پیچھے تھے، ہمارا خیال تھا کہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے جا رہے ہیں، لیکن نبی ﷺ اس کنویں کے دہانے پر پہنچ کر رک گئے اور انہیں ان کے اور ان کے باپوں کے نام سے پکار پکار کر آوازیں دینے لگے اور فرمانے لگے کہ کیا اب تمہیں یہ بات اچھی لگ رہی ہے کہ کاش ! تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی ؟ کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچ پایا ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ! آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، میں ان سے جو کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے۔ قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں نبی ﷺ بات سننے کے لئے دوبارہ زندگی عطاء فرمائی تھی اور اس کا مقصد زجر و توبیخ، ان کی تحقیر اور سزا تھی۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ وَحَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طُوًى مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ قَالَ وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ قَالَ فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَى بَدْرٍ أَقَامَ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى إِذَا كَانَ الثَّالِثُ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّتْ بِرَحْلِهَا ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ قَالُوا فَمَا نَرَاهُ يَنْطَلِقُ إِلَّا لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ قَالَ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الطُّوَى قَالَ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَسَرَّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالَ عُمَرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ قَالَ قَتَادَةُ أَحْيَاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى سَمِعُوا قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنَقِيمَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات ہمارے مدینہ منورہ والے گھر میں فرمائی تھی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہم سے یہ حدیث ابو ابراہیم معقب نے بیان کی تھی جو کہ بہترین انسان تھے اور ابو عبدالرحمن نے ان کی بڑی تعریف بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ حَدَّثَنَا عَبَّادُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَخَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي الَّتِي بِالْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاهُ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُعَقِّبُ وَكَانَ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ وَعَظَّمَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُ جِدًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ثابت (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کیا نبی ﷺ کے بال سفید ہوگئے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس وقت اللہ نے نبی ﷺ کو اپنے پاس بلایا، اس وقت تک انہیں بالوں کی سفیدی سے شرمندہ نہ ہونے دیا، وصال کے دن آپ ﷺ کے سر اور ڈاڑھی میں تیس بال بھی سفید نہ تھے، کسی نے پوچھا کہ بالوں کا سفید ہونا باعث شرمندگی ہے ؟ تو حضرت انس (رض) نے فرمایا تم لوگ اسے شرمندگی کا سبب سمجھتے ہو، ہم تو اسے سبب زینت سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ هَلْ سَأَلْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ ثَابِتٌ سَأَلْتُ أَنَسًا هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَسُولَهُ وَمَا فَضَحَهُ بِالشَّيْبِ مَا كَانَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ يَوْمَ مَاتَ ثَلَاثُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ وَقِيلَ لَهُ أَفَضِيحَةٌ هُوَ قَالَ أَمَّا أَنْتُمْ فَتَعُدُّونَهُ فَضِيحَةً وَأَمَّا نَحْنُ فَكُنَّا نَعُدُّهُ زَيْنًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت ام سلیم (رض) کے گھر میں ایک پرانی چٹائی پر " جس کا رنگ بھی پرانا ہونے کی وجہ سے بدل چکا تھا " نماز پڑھی، انہوں نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدِيمٍ قَدْ تَغَيَّرَ مِنْ الْقِدَمِ قَالَ وَنَضَحَتْهُ مِنْ مَاءٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০১৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جہنم اور اہل جنت کے بارے میں بتاؤں ؟ جنتی تو ہر کمزور، پسا ہوا، پراگندہ حال اور فقر وفاقہ کا شکار شخص ہوگا جو اگر اللہ کے نام پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کرے اور جہنمی ہر وہ بداخلاق، متکبر، مال کو جمع کرنے والا اور دوسروں کو نہ دینے والا شخص ہے جس کی دنیا میں اتباع کی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০২০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے انسان کو اپنا نر گھوڑا بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ فَحْلَةَ فَرَسِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০২১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی ﷺ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرت صدیق اکبر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان (رض) کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا عُمَرُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّاهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ أَتَمَّهَا بَعْدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০২২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے جن میں سے ستر فرقے ہلاک ہوگئے تھے اور صرف ایک بچا تھا جب کہ میری امت بہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی جن میں اکہتر فرقے ہلاک ہوجائیں گے اور صرف ایک فرقہ بچے گا، صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ ایک فرقہ کون سا ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جو جماعت کے ساتھ چمٹا ہوا ہوگا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَهَلَكَتْ سَبْعُونَ فِرْقَةً وَخَلَصَتْ فِرْقَةٌ وَاحِدَةٌ وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً فَتَهْلِكُ إِحْدَى وَسَبْعِينَ وَتَخْلُصُ فِرْقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ تِلْكَ الْفِرْقَةُ قَالَ الْجَمَاعَةُ الْجَمَاعَةُ
tahqiq

তাহকীক: