আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২০৪৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے وصال کے وقت ان کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৪৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے، مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد نبی ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ اسے عمرہ بنا کر احرام کھول لیں اور فرمایا اگر وہ بات جو بعد میں میرے سامنے آئی پہلے آجاتی تو میں بھی اسے عمرہ بنا لیتا لیکن میں ہدی کا جانور اپنے ساتھ لایا ہوں اور حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھا ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الصَّيْقَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْنَا نَصْرُخُ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً قَالَ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً وَلَكِنْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৪৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ مسلم کو جسمانی طور پر کسی بیماری میں مبتلاء کرتا ہے تو فرشتوں سے کہہ دیتا ہے کہ یہ جتنے نیک کام کرتا ہے ان کا ثواب برابر لکھتے رہو، پھر اگر اسے شفاء مل جائے تو اللہ اسے دھو کر پاک صاف کرچکا ہوتا ہے اور اگر اسے اپنے پاس واپس بلا لے تو اس کی مغفرت کردیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو رَبِيعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قَالَ اللَّهُ اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৪৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شب معراج میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس سے سرخ ٹیلے کے قریب گذرا تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَيْتُ عَلَى مُوسَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৪৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شب معراج میرے پاس براق لایا گیا جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا جانور تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ پڑتی تھی، میں اس پر سوار ہوا، پھر روانہ ہو کر بیت المقدس پہنچا اور اس حلقے سے اپنی سواری باندھی جس سے دیگر انبیاء (علیہم السلام) باندھتے چلے آئے تھے، پھر وہاں داخل ہو کردو رکعتیں پڑھیں، پھر وہاں سے نکلا تو جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک دودھ کا برتن لائے، میں نے دودھ والا برتن منتخب کرلیا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کہنے لگے کہ آپ نے فطرت کو پالیا۔ پھر آسمان دنیا کی طرف لے کر چلے اور اس کے دروازہ کو کھٹکھٹایا، اہل آسمان نے کہا کہ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا جبریل، انہوں نے کہا کہ تمہارے ہمراہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ (حضرت) محمد ﷺ ہیں، انہوں نے کہا کیا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں، انہوں نے دروازہ کھول دیا اور پہلے ہی آسمان میں حضور ﷺ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے ملاقات کی، انہوں نے خوش آمدید کہا اور دعا دی۔ پھر آپ ﷺ کو جبرائیل (علیہ السلام) لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے اس کے دروازے پر بھی فرشتوں نے پہلے آسمان کی طرح سوال کیا کہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا جبریل، انہوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد رسول کریم ﷺ انہوں نے کہا وہ بلائے گئے ہیں ؟ انہوں نے دروازہ کھول دیا، وہاں حضرت یحیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی۔ پھر تیسرے آسمان پر تشریف لے گئے اور وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی جو دوسرے میں ہوئی تھی، پھر چوتھے پر چڑھے اور وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی، پھر پانچویں آسمان پر پہنچے وہاں بھی یہی گفتگو ہوئی، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے وہاں کے فرشتوں نے بھی یہی گفتگو کی، پھر ساتویں آسمان پر پہنچے وہاں کے فرشتوں نے بھی یہی کیا۔ تیسرے آسمان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی جنہیں آدھا حسن دیا گیا تھا، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، چوتھے آسمان پر حضرت ادریس (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی جنہیں اللہ نے بلند جگہ اٹھالیا تھا، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور دعا دی، وہ بیت المعمور سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے جہاں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور دوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ لے جایا گیا جس کے پتے ہاتھی کے کان کے برابر اور پھل ہجر کے مٹکے برابر تھے، جب اللہ کے حکم سے اس چیز نے اسے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا تو وہ بدل گیا اور اب کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے کہ اس کا حسن بیان کرسکے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی کرنا تھی وہ وحی کی، منجملہ اس کے یہ بھی وحی کی کہ تمہاری امت پر پچاس نمازیں روزوشب میں فرض ہیں۔ پھر رسول انور ﷺ وہاں سے نیچے تشریف لائے یہاں تک کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ ﷺ کو روک لیا اور کہا اے محمد ﷺ ! تمہارے پروردگار نے تم سے کیا عہد لیا ہے ؟ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہر روز و شب میں پچاس نمازیں فرض کی ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے محمد ﷺ ! تمہاری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی اپنے رب کے پاس واپس جا کر اس سے تخفیف کی درخواست کیجئے، کیونکہ میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں، حضور ﷺ جناب باری میں گئے اور اسی اپنی جگہ میں پہنچ کر عرض کیا کہ اے پروردگار ! ہم پر تخفیف فرما، اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں معاف فرما دیں اور آپ ﷺ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے، انہوں نے پھر آپ ﷺ کو روک لیا اور پھر حضور ﷺ کو پروردگار کے حضور بھیجا۔ غرض کہ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رسول انور ﷺ کو بھیجتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا اے محمد ﷺ ! روزانہ دن رات میں پانچ نمازیں ہیں اور ہر نماز پر دس کا ثواب ہے لہٰذا یہ پچاس نمازیں ہوگئیں، جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اگر عمل کرلیا تو دس نیکیاں لکھ دوں گا اور جو شخص گناہ کا ارادہ کرلے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو کچھ نہیں لکھا جائے گا اور اگر اس پر عمل بھی کرلے تو صرف ایک گناہ لکھا جائے گا، میں نے واپس آکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتایا تو انہوں نے پھر تخفیف کا مشورہ دیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کے پاس اتنی مرتبہ جا چکا ہوں کہ اب مجھے شرم آرہی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ فَرَكِبْتُهُ فَسَارَ بِي حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَرَبَطْتُ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ فِيهَا الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ دَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ قَالَ جِبْرِيلُ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَيْ الْخَالَةِ يَحْيَى وَعِيسَى فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ الْبَابُ فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَقِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا هُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَإِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَإِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَإِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلَالِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصِفَهَا مِنْ حُسْنِهَا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ مَا أَوْحَى وَفَرَضَ عَلَيَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسِينَ صَلَاةً فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ قَالَ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلَاةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ وَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَخَبَرْتُهُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقُلْتُ أَيْ رَبِّ خَفِّفْ عَنْ أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ مَا فَعَلْتَ قُلْتُ حَطَّ عَنِّي خَمْسًا قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي وَبَيْنَ مُوسَى وَيَحُطُّ عَنِّي خَمْسًا خَمْسًا حَتَّى قَالَ يَا مُحَمَّدُ هِيَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بِكُلِّ صَلَاةٍ عَشْرٌ فَتِلْكَ خَمْسُونَ صَلَاةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ لِأُمَّتِكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى لَقَدْ اسْتَحَيْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৪৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ میں بچپن میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اچانک ایک شخص آیا اور اس نے مجھے پکڑ کر میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں سے خون کا جما ہوا ایک ٹکڑا نکالا اور اسے پھینک کر کہنے لگا کہ یہ آپ کے جسم میں شیطان کا حصہ تھا، پھر اس نے سونے کی طشتری میں رکھے ہوئے آب زم زم سے پیٹ کو دھویا اور پھر اسے سی کر ٹانکے لگا دیئے، یہ دیکھ کر سب بچے دوڑتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے، والدہ دوڑتی ہوئی آئیں تو دیکھا کہ نبی ﷺ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو رہا ہے، حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے سینہ مبارک پر سلائی کے نشان دیکھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ وَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ ثُمَّ شَقَّ الْقَلْبَ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَقَالَ هَذِهِ حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ قَالَ فَغَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ قَالَ وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ فَقَالُوا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ قَالَ فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ قَالَ أَنَسٌ وَكُنْتُ أَرَى أَثَرَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৪৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کی کھانے پر دعوت کی، نبی ﷺ نے کھانا تناول فرمانے کے بعد فرمایا اٹھو، میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں، حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر ایک چٹائی لے آیا جو طویل عرصہ تک استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑک دیا، نبی ﷺ اس پر کھڑے ہوگئے، میں اور ایک یتیم بچہ نبی ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بڑی بی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں، پھر نبی ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور واپس تشریف لے گئے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الطَّبَّاعَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَأُصَلِّيَ لَكُمْ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نیک مسلمان کا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنْ الرَّجُلِ الصَّالِحِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
علاء ابن عبدالرحمن (رح) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم ظہر کی نماز پڑھ رہے کر حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، کچھ ہی دیر بعد وہ عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا کہ عصر کی نماز اتنی جلدی ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ تَذَاكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ قَامَ نَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جب نبی ﷺ نے احد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا کہ اس پہاڑ سے ہم محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے، اے اللہ ! حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت زید بن حارثہ (رض) کے گھر تشریف لے گئے، وہاں صرف ان کی اہلیہ حضرت زینب (رض) نظر آئیں، تھوڑی دیر بعد حضرت زید (رض) اپنی اہلیہ کی شکایت لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی " واتق اللہ وتخفی فی نفسک
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَهُ زَيْنَبَ وَكَأَنَّهُ دَخَلَهُ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ حَمَّادٍ أَوْ فِي الْحَدِيثِ فَجَاءَ زَيْدٌ يَشْكُوهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ قَالَ فَنَزَلَتْ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ إِلَى قَوْلِهِ زَوَّجْنَاكَهَا يَعْنِي زَيْنَبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں سورت اخلاص سے محبت رکھتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا اس سورت سے محبت کرنا تمہیں جنت میں داخل کروا دے گا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّكَ إِيَّاهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو برتن میں کدو کے ٹکڑے تلاش کرتے ہوئے دیکھا تو میں اس وقت سے اسے پسند کرنے لگا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُهُ مِنْ الصَّحْفَةِ فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ اس نے کہا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر جا کر اسے بتادو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی ! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَأَخْبِرْهُ قَالَ فَلَقِيَهُ بَعْدُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ فَقَالَ لَهُ أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں جمعہ کی نماز زوال کے وقت ہی پڑھا دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ عَنْ قُرَيْشٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مسجد میں آتے تو وہاں انصار و مہاجرین سب ہی موجود ہوتے، لیکن سوائے حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے کوئی اپنا سر نہ اٹھاتا تھا، نبی ﷺ انہیں دیکھ کر مسکراتے اور وہ دونوں نبی ﷺ کو دیکھ کر مسکراتے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَطِيَّةَ يَعْنِي الْحَكَمَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فِيهِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ وَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ حُبْوَتِهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৫৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک حبشی مسجد کی صفائی کرتا تھا، ایک دن وہ فوت ہوگیا اور لوگوں نے راتوں رات اس کو دفن کردیا، نبی ﷺ کو پتہ چلا تو آپ ﷺ نے صحابہ (رض) سے فرمایا اس کی قبر پر چلو، چناچہ وہ اس کے قبر پر گئے، نبی ﷺ نے فرمایا ان قبروں میں رہنے والوں پر ظلمت چھائی ہوئی ہے، میری نماز کی برکت سے اللہ انہیں منور کر دے گا، چناچہ نبی ﷺ نے اس کی قبر پر جا کر نماز جنازہ پڑھی، اس پر ایک انصاری کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! میرا بھائی فوت ہوا تھا لیکن آپ نے اس کی قبر پر نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کی قبر کہاں ہے ؟ انصاری نے اس کی نشاندہی کی تو نبی ﷺ اس کے ساتھ بھی چلے گئے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْخَزَّازَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَدُفِنَ لَيْلًا وَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ فَانْطَلَقُوا إِلَى قَبْرِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ قَالَ فَأَيْنَ قَبْرُهُ فَأَخْبَرَهُ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْأَنْصَارِيِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈا ہوگا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَبِي وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ فَقَالَ قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ أَحْسَبُهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت حفصہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے ؟ انہوں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِمَا مَاتَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقَالُوا بِالطَّاعُونِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھتے ہوئے اونگھ آنے لگے تو اسے چاہئے کہ واپس جا کر سو جائے یہاں تک کہ اسے پتہ چلنے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ
tahqiq

তাহকীক: