আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২০৬৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت ابوطلحہ (رض) سے فرمایا کہ اپنی قوم کو میرا سلام کہنا، کیونکہ میں ایسے عفیف اور صابر لوگ نہیں جانتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي طَلْحَةَ أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں، بچے اور خادم ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی ﷺ نے انہیں سلام کیا اور فرمایا اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَهُ نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ وَخَدَمٌ جَائِينَ مِنْ عُرْسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم جنت کے باغات سے گذرو تو اس کا پھل کھایا کرو، صحابہ (رض) نے پوچھا جنت کے باغات سے کیا مراد ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ذکر کے حلقے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا قَالُوا وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ قَالَ حِلَقُ الذِّكْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال (رض) نے نماز فجر میں کچھ تاخیر کردی، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے روکے رکھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت فاطمہ (رض) کے پاس سے گذرا، وہ آٹا پیس رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا، میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آٹا پیس دیتا ہوں اور آپ بچے کو سنبھال لیں اور اگر آپ چاہیں تو میں بچے کو سنبھال لیتا ہوں اور آپ آٹا پیس لیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اپنے بچے پر میں زیادہ نرمی کرسکتی ہوں، اس وجہ سے مجھے دیر ہوگئی، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس پر رحم کھایا، اللہ تم پر رحم فرمائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ يَعْنِي أَبَا هَاشِمٍ صَاحِبَ الْبَغُوتِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ بِلَالًا بَطَّأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَبَسَكَ فَقَالَ مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ وَالصَّبِيُّ يَبْكِي فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَا وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ وَكَفَيْتِنِي الرَّحَا فَقَالَتْ أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ فَذَاكَ حَبَسَنِي قَالَ فَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سفر میں نماز مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ يَعْنِي الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ہماری نگاہوں میں نبی ﷺ سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا، لیکن ہم نبی ﷺ کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ نبی ﷺ اسے اچھا نہیں سمجھتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْبِلُ وَمَا عَلَى الْأَرْضِ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْهُ فَمَا نَقُومُ لَهُ لِمَا نَعْلَمُ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৬৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا علاماتِ قیامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ علم اٹھالیا جائے گا، جہالت چھا جائے گی، شرابیں پی جائیں گی اور بدکاری کا دور دورہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَتُشْرَبَ الْخُمُورُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے صحابہ کرام (رض) نے نبی ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں، میں نے تو اس پر ایک عباء دیکھی تھی جو اس نے فلاں دن مال غنیمت میں سے خیانت کر کے حاصل کی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُخَيْسِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ قَالَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ علاء بن زیاد (رح) نے حضرت انس (رض) سے پوچھا اے ابوحمزہ ! نبی ﷺ کتنے سال کے تھے جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا چالیس سال کے، علاء نے پوچھا اس کے بعد کیا ہوا ؟ انہوں نے فرمایا کہ دس سال آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں رہے، اس طرح ساٹھ سال پورے ہوگئے، اس کے بعد اللہ نے نبی ﷺ کو اپنے پاس بلالیا، علاء نے پوچھا کہ اس وقت نبی ﷺ کس عمر کے آدمی محسوس ہوتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جیسے ایک حسین و جمیل اور بھرے جسم والا نوجوان ہوتا ہے، علاء بن زیاد (رح) نے پھر پوچھا ابوحمزہ ! کیا آپ نے حضرت رسول کریم ﷺ کے ساتھ جہاد کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں میں آپ ﷺ کے ہمراہ غزوہ حنین میں موجود تھا، مشرکین کثرت سے باہر نکلے اور ہم پر حملہ کردیا، یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کی پشت کے پیچھے دیکھا اور کفار میں ایک شخص تھا جو کہ ہم لوگوں پر حملہ کرتا تھا اور تلوار سے زخمی کردیتا تھا اور مارتا تھا یہ دیکھ کر نبی ﷺ سواری سے اتر پڑے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، فتح حاصل ہوتے دیکھ کر نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور ایک ایک کر کے اسیران جنگ لائے جانے لگے اور وہ آکر آنحضرت ﷺ سے اسلام پر بیعت کرنے لگے۔ ایک شخص نے جو کہ آپ کے صحابہ کرام (رض) میں سے تھا اس بات کی نذر مانی کہ اگر اس شخص کو قیدی بنا کر لایا گیا جس نے اس دن ہم لوگوں کو زخمی کردیا تھا تو اس کو قتل کردوں گا۔ یہ بات سن کر آنحضرت ﷺ خاموش ہوگئے اور وہ شخص لایا گیا، جب اس شخص نے آپ ﷺ کو دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے اللہ سے توبہ کرلی (یہ سن کر) آپ ﷺ نے بیعت کرنے میں توقف فرمایا اس خیال سے کہ وہ صحابی (رض) اپنی نذر مکمل کرلے (یعنی اس شخص کو جلد از جلد قتل کرڈالے لیکن وہ صحابی اس بات کے انتظار میں تھے کہ آپ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے تو میں اس شخص کو قتل کروں اور میں اس بات سے ڈرتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ میں اس شخص کو قتل کردوں اور آپ مجھ سے ناراض ہوجائیں، جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ صحابی کچھ نہیں کر رہے یعنی کسی طریقہ پر اس شخص کو قتل نہیں کرتے تو بالآخر مجبوراً آپ ﷺ نے اس کو بیعت فرمالیا۔ اس پر صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میری نذر کس طریقہ پر مکمل ہوگی ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت تک جو رکا رہا اور میں نے اس شخص کو بیعت نہیں کیا تو اس خیال سے کہ تم اپنی نذر مکمل کرلو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے مجھے اشارہ کیوں نہیں کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا پیغمبر کے لئے آنکھ سے خفیہ اشارہ کرنا مناسب نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَبُو غَالِبٍ الْبَاهِلِيُّ شَهِدَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ يَا أَبَا حَمْزَةَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بُعِثَ قَالَ ابْنَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ ثُمَّ كَانَ مَاذَا قَالَ كَانَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ فَتَمَّتْ لَهُ سِتُّونَ سَنَةً ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ قَالَ سِنُّ أَيِّ الرِّجَالِ هُوَ يَوْمَئِذٍ قَالَ كَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِهِ وَأَجْمَلِهِ وَأَلْحَمِهِ قَالَ يَا أَبَا حَمْزَةَ هَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ غَزَوْتُ مَعَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ بِكَثْرَةٍ فَحَمَلُوا عَلَيْنَا حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا وَفِي الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا فَيَدُقُّنَا وَيُحَطِّمُنَا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَلَّوْا فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى الْفَتْحَ فَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاءُ بِهِمْ أُسَارَى رَجُلًا رَجُلًا فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا لَئِنْ جِيءَ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمِ يُحَطِّمُنَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ قَالَ فَسَكَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِيءَ بِالرَّجُلِ فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ فَأَمْسَكَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُبَايِعْهُ لِيُوفِيَ الْآخَرُ نَذْرَهُ قَالَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ وَجَعَلَ يَهَابُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَمَّا رَأَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا يَأْتِيهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَذْرِي قَالَ لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمِ إِلَّا لِتُوفِيَ نَذْرَكَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت ابوطلحہ (رض) کے باغات میں قضاء حاجت کے لئے جارہے تھے، حضرت بلال (رض) نبی ﷺ کے پیچھے چل رہے تھے اور وہ نبی ﷺ کے پہلو میں چلنا بےادبی سمجھتے تھے، چلتے چلتے نبی ﷺ کا گذر ایک قبر کے پاس سے ہوا، نبی ﷺ وہاں کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ حضرت بلال (رض) بھی آپہنچے، نبی ﷺ نے فرمایا ہائے بلال ! کیا تمہیں بھی وہ آواز سنائی دے رہی ہے جو میں سن رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی، نبی ﷺ نے فرمایا اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ یہودی تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لَنَا لِأَبِي طَلْحَةَ يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ قَالَ وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ يُكَرِّمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى جَنْبِهِ فَمَرَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ فَقَامَ حَتَّى لَمَّ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا بِلَالُ هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ قَالَ مَا أَسْمَعُ شَيْئًا قَالَ صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ قَالَ فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ يَهُودِيًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس ایک پردہ تھا جو انہوں نے اپنے گھر کے ایک کونے میں لٹکا دیا، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا یہ پردہ یہاں سے ہٹا دو ، کیونکہ اس کی تصاویر مسلسل نماز میں میرے سامنے آتی رہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ قَدْ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا فَإِنَّهُ لَا تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ لِي فِي صَلَاتِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
عبدالعزیز (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس (رض) کے پاس ثابت کے ساتھ گئے، ثابت نے اپنی بیماری کے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ منتر نہ بتاؤں جو نبی ﷺ کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا یوں کہو اے اللہ ! لوگوں کے رب ! تکالیف کو دور کرنے والے ! شفاء عطاء فرما کہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے، ایسی شفاء عطاء فرما جو بیماری کا نام ونشان بھی نہ چھوڑے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَعَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَهُ إِنِّي اشْتَكَيْتُ فَقَالَ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَ بَلَى قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر نماز عشاء اور نماز فجر سے پیچھے رہ جانے والوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں نمازوں کا کیا ثواب ہے تو وہ ان میں ضرور شرکت کریں اگرچہ گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُونَ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْغَدَاةِ مَا لَهُمْ فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی درخت کو پکڑ کر ہلایا لیکن اس کے پتے نہیں جھڑے، دوبارہ ہلانے پر بھی نہ جھڑے، البتہ تیسری مرتبہ ہلانے پر اس کے پتے جھڑنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر سے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سِنَانٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ غُصْنًا فَنَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ ثُمَّ نَفَضَهُ فَانْتَفَضَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَنْفُضُ الْخَطَايَا كَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ مسلمان آدمی جس کے تین نابالغ بچے فوت ہوگئے ہوں، اللہ ان بچوں کے ماں باپ کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِهِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبَوَيْهِ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جہنم کا لباس سب سے پہلے ابلیس کو پہنایا جائے گا اور وہ اسے اپنی ابروؤں پر رکھے گا، اس کے پیچھے اس کی ذریت گھستی چلی آرہی ہوگی، شیطان ہائے ہلاکت کی آواز لگا رہا ہوگا اور اس کی ذریت بھی ہائے ہلاکت کہہ رہی ہوگی، یہی کہتے کہتے وہ جہنم کے پاس پہنچ کر رک جائیں گے، شیطان پھر یہی کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کی ذریت بھی یہی کہے گی، اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو، کئی ہلاکتوں کو پکارو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنْ النَّارِ إِبْلِيسُ فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ وَيَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ يُنَادِي وَا ثُبُورَاهُ وَيُنَادُونَ يَا ثُبُورَهُمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ يَا ثُبُورَاهُ وَيَقُولُونَ يَا ثُبُورَهُمْ فَيُقَالُ لَهُمْ لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا قَالَ عَفَّانُ وَذُرِّيَّتُهُ خَلْفَهُ وَهُمْ يَقُولُونَ يَا ثُبُورَهُمْ قَالَ عَفَّانُ حَاجِبَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৭৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৮০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی کہ غزوہ احد کے دن نبی ﷺ کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ أَنْ لَا تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৮১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار کیا تو کچھ عرصے تک اسے یونہی رہنے دیا، شیطان اس پتلے کے ارد گرد چکر لگاتا تھا اور اس پر غور کرتا تھا، جب اس نے دیکھا کہ اس مخلوق کے جسم کے درمیان پیٹ ہے تو وہ سمجھ گیا کہ یہ مخلوق اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکے گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০৮২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی کہ کچھ حبشی نبی ﷺ کے سامنے رقص کرتے ہوئے یہ گا رہے تھے کہ محمد ﷺ نیک آدمی ہیں، نبی ﷺ نے پوچھا یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہے ہیں محمد ﷺ نیک آدمی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ الْحَبَشَةُ يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرْقُصُونَ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُونَ قَالُوا يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ
tahqiq

তাহকীক: