আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১২৪৬৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
علاء ابن عبدالرحمن (رح) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم ظہر کی نماز پڑھ کر حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، کچھ ہی دیر بعد وہ عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان سے کہا کہ عصر کی نماز اتنی جلدی ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وہ منافق کی نماز ہے کہ منافق نماز کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَكَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَكَرَهَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے بحوالہ عبادہ بن صامت (رض) مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن اخطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو، ام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اس دن نبی ﷺ حالت احرام میں نہ تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ وَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت صفیہ (رض) کو آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ راوی نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ ! نبی ﷺ نے انہیں کتنا مہر دیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے کر ان سے نکاح کیا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انحشہ تھا " امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا انجشہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى أَزْوَاجِهِ وَسَوَّاقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ فَقَالَ وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ يَعْنِي قَوْلَهُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی ﷺ کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی ﷺ کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی ﷺ نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِيَّايَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا قَالُوا بَلَى فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَصَحُّوا فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِكُوا فَجِيءَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ ثُمَّ نُبِذُوا فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے ایک مرتبہ کسی نے لہسن کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ فرمایا جو شخص اس درخت سے کچھ کھائے، وہ ہمارے قریب نہ آئے، یا ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ الثُّومِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّ أَوْ لَا يُصَلِّيَنَّ مَعَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی ﷺ نے پھر تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پہلا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی تعریف کی تب بھی آپ نے تینوں مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی اور جب دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت بیان کی تب بھی آپ نے تین مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی ؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ جس کی تعریف کردو، اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کی مذمت بیان کردو، اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرُّوا بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ عُمَرُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ وَجَبَتْ فَقَالَ مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے دونوں کے لئے " واجب ہوگئی " فرمایا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ قوم کی گواہی ہے اور مسلمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَى الْقَوْمُ خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالُوا قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ وَلِهَذَا وَجَبَتْ قَالَ شَهَادَةُ الْقَوْمِ وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے خیبر میں فجر کی نماز منہ اندھیرے پڑھی اور اللہ اکبر کہہ کر فرمایا خیبر برباد ہوگیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر نبی ﷺ نے خیبر کو فتح کرلیا، ان کے لڑاکا افراد کو قتل اور بچوں کو قیدی بنالیا، حضرت صفیہ (رض) ، حضرت دحیہ (رض) کے حصے میں آگئی، بعد میں وہ نبی ﷺ کے پاس آگئیں اور نبی ﷺ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَهُمْ يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ قَالَ فَظَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى ذَرَارِيَّهُمْ وَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ ثُمَّ صَارَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا فَقَالَ لَكَ أَنَسٌ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا فَضَحِكَ ثَابِتٌ وَقَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے لئے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس پر ایک عبارت محمد رسول اللہ نقش کروائی ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ عبارت نقش نہ کروائے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَلَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مردوں کو زعفران کی خوشبو لگانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّجَالَ عَنْ الْمُزَعْفَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑیں گے ؟ فرمایا جب تم میں وہ چیزیں ظاہر ہوجائیں جو بنی اسرائیل میں در آئی تھیں، جب بےحیائی بڑوں میں اور حکومت چھوٹوں میں اور علم کمینوں میں آجائے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعِيدٍ حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى نَدَعُ الِائْتِمَارَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنْ الْمُنْكَرِ قَالَ إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا كَانَتْ الْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ وَالْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ وَالْعِلْمُ فِي رُذَالِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سفر پر تھے اور حدی خوان امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی کے ساتھ ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی ﷺ نے ہنستے ہوئے فرمایا انجثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسِيرِ وَكَانَ حَادٍ يَحْدُو بِنِسَائِهِ أَوْ سَائِقٌ قَالَ فَكَانَ نِسَاؤُهُ يَتَقَدَّمْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا أَنْجَشَةُ وَيْحَكَ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی ﷺ واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا ؟ انہوں نے بتایا دس دن۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ قَالَ يَحْيَى فَقُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ أَقَامَ قَالَ عَشْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، میں نے نبی ﷺ کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ﷺ یوں فرما رہے تھے " لبیک عمرۃ و حجا "
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يَحْيَى عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৮০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ (رض) خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی ﷺ کے پیچھے حضرت صفیہ (رض) سوار تھیں، ایک مقام پر نبی ﷺ کی اونٹنی پھسل گئی، نبی ﷺ اور حضرت صفیہ (رض) گرگئے، حضرت ابوطلحہ (رض) تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، خاتون کی خبر لو، چناچہ حضرت ابوطلحہ (رض) اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ (رض) پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا ( آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ) ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں، نبی ﷺ مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔
عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ قَالَ فَعَثَرَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُرِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصُرِعَتْ صَفِيَّةُ قَالَ فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ أَشُكُّ قَالَ ذَاكَ أَمْ لَا أَضُرِرْتَ قَالَ لَا عَلَيْكَ الْمَرْأَةَ قَالَ فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ عَلَى وَجْهِهِ الثَّوْبَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ أَصْلَحَ لَهَا رَحْلَهَا فَرَكِبْنَا ثُمَّ اكْتَنَفْنَاهُ أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ أَوْ كُنَّا بِظَهْرِ الْحَرَّةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيِبُونَ عَابِدُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُهُنَّ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৮১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حجاج بن حسان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں لوہے کے تین ٹکڑے اور ایک حلقہ لگا ہوا تھا، انہوں نے وہ برتن ایک کالے غلاف سے نکالا تھا، جو چوتھائی سے کم اور نصف سے کچھ زیادہ تھا، حضرت انس (رض) کے حکم پر اس میں ہمارے لئے پانی ڈالا گیا، ہم نے وہ پانی نوش کیا اور اپنے سر اور چہروں پر ڈالا اور نبی ﷺ پر درود وسلام پڑھا۔
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَدَعَا بِإِنَاءٍ وَفِيهِ ثَلَاثُ ضِبَابٍ حَدِيدٍ وَحَلْقَةٌ مِنْ حَدِيدٍ فَأُخْرِجَ مِنْ غِلَافٍ أَسْوَدَ وَهُوَ دُونَ الرُّبُعِ وَفَوْقَ نِصْفِ الرُّبُعِ فَأَمَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَجُعِلَ لَنَا فِيهِ مَاءٌ فَأُتِينَا بِهِ فَشَرِبْنَا وَصَبَبْنَا عَلَى رُءُوسِنَا وَوُجُوهِنَا وَصَلَّيْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৮২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمید (رح) کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس (رض) سے دریافت کیا کہ کیا نبی ﷺ دعاء میں ہاتھ اٹھاتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی ﷺ سے لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! بارش رکی ہوئی ہے، زمینیں خشک پڑی ہیں اور مال تباہ ہو رہے ہیں۔ نبی ﷺ نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے کہ مجھے آپ ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور نبی ﷺ نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو قریب کے گھر میں رہنے والے نوجوانوں کو اپنے گھر واپس پہنچنے میں دشواری ہو رہی تھی، جب اگلا جمعہ ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! گھروں کی عمارتیں گرگئیں اور سوار مدینہ سے باہر ہی رکنے پر مجبور ہوگئے، یہ سن کر نبی ﷺ نے اللہ سے دعاء کی کہ اے اللہ ! یہ بارش ہمارے ارد گرد فرما، ہم پر نہ برسا، چناچہ مدینہ سے بارش چھٹ گئی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ رَفْعِ الْأَيْدِي فَقَالَ قَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتْ الْأَرْضُ هَلَكَ الْمَالُ قَالَ فَاسْتَسْقَى فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً فَقَامَ فَصَلَّى حَتَّى جَعَلَ يَهُمُّ الْقَرِيبُ الدَّارِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ مِنْ شِدَّةِ الْمَطَرِ قَالَ فَمَكَثْنَا سَبْعًا فَلَمَّا كَانَتْ الْجُمُعَةُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتْ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَتَكَشَّفَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ
তাহকীক: