আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৪৮৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں، تم انصار کے نیکیوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا اور ان کا حق باقی رہ گیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَقَّتْهُ الْأَنْصَارُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سردی کے ایک دن باہر نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی ہی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، صحابہ (رض) نے جواباً یہ شعر پڑھا کہ " ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں۔ "
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةٍ قَرَّةٍ أَوْ بَارِدَةٍ فَإِذَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ فَأَجَابُوهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی ﷺ کو عطاء فرمایا اور نبی ﷺ عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے انصاری صحابہ (رض) کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! پھر نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ وَغَيْرَهُمَا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ أَيُعْطِي غَنَائِمَنَا مَنْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ أَوْ تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ مِنْ سُيُوفِنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْأَنْصَارَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت ام سلیم (رض) کے یہاں تشریف لائے، انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی ﷺ اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو ، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی ﷺ نے حضرت ام سلیم (رض) اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی ﷺ نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اس پر نبی ﷺ نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ تھی جو میرے لئے نہ مانگی ہو اور فرمایا اے اللہ ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، وہ خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بیٹی نے بتایا ہے کہ میری نسل میں سے ایک سو چوبیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں اور میں مال و دولت میں تمام انصار سے بڑھ کر ہوں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ سَمْنًا وَتَمْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِكُمْ وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِكُمْ فَإِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِهَا ثُمَّ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ وَمَا هِيَ قَالَتْ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ يَوْمَئِذٍ مِنْ خَيْرِ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا بِهِ مِنْ قَوْلِهِ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِمْ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ حَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِي عِشْرُونَ وَمِائَةٌ وَنَيِّفٌ وَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے نبی ﷺ جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر (رض) نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر (رض) نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی ﷺ خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی ﷺ تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں، اس پر انصاری صحابہ (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! بخدا ! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اسْتَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ اسْتَشَارَ عُمَرَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَقَالَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ تَسْتَشِيرُنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكٍ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی اواز سنی اور نماز ہلکی کردی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی ﷺ نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کردیا ہے، یہ اس پر شفقت کا اظہار تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِدَاءَ صَبِيٍّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَخَفَّفَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَحْمَةً لِلصَّبِيِّ إِذْ عَلِمَ أَنَّ أُمَّهُ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ سُئِلَ اخْتَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ (رض) کا ایک بیٹا " جس کا نام ابو عمیر تھا " نبی ﷺ اس کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی ﷺ نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابو عمیر ! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مرگئی تھی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَلَهَا ابْنٌ مِنْ أَبِي طَلْحَةَ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ يُمَازِحُهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَالِي أَرَى أَبَا عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ام سلیم (رض) کے یہاں حضرت ابوطلحہ (رض) کا بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اپنے بیٹے انس کے ساتھ اسے نبی ﷺ کے پاس بھیجا اور نبی ﷺ نے اسے گھٹی دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ غُلَامًا مِنْ أَبِي طَلْحَةَ فَبَعَثَتْ بِهِ مَعَ ابْنِهَا أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَنَّكَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کو قبلہ مسجد کی طرف تھوک لگا ہوا نظر آیا، نبی ﷺ کی طبیعت پر یہ چیز اتنی شاق گذری کہ چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح ہوگئے، نبی ﷺ نے اسے صاف کر کے فرمایا کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، اس لئے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے اور اس طرح اشارہ کیا کہ اسے کپڑے میں لے کر مل لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى عُرِفَ ذَاكَ فِي وَجْهِهِ فَحَكَّهُ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ أَوْ الْمَرْءَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلْيَبْزُقْ إِذَا بَزَقَ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ وَأَوْمَأَ هَكَذَا كَأَنَّهُ فِي ثَوْبِهِ قَالَ وَكُنَّا نَقُولُ لِحُمَيْدٍ فَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَنْ هُوَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَزِيدُنَا عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمدللہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ " نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چناچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ أَسْرَعَ الْمَشْيَ فَانْتَهَى إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ انْبَهَرَ فَقَالَ حِينَ قَامَ فِي الصَّلَاةِ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ أَوْ مَنْ الْقَائِلُ قَالَ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَنْ الْمُتَكَلِّمُ أَوْ مَنْ الْقَائِلُ فَإِنَّهُ قَالَ خَيْرًا أَوْ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي انْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ وَقَدْ انْبَهَرْتُ أَوْ حَفَزَنِي النَّفَسُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا ثُمَّ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَمْشِ عَلَى هِينَتِهِ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَيَقْضِ مَا سَبَقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابوالقاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی ﷺ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو مراد نہیں لے رہا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا میرے نام پر تو اپنا نام رکھ سکتے ہو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَعْنِكَ إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کردیا اور نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی ﷺ کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا قَالَ نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قُرْبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا قَالَ أَنَسٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ الْآنَ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کسی شخص نے نبی ﷺ سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے ؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَصَلَّى حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ أَسْفَرَ بِهِمْ حَتَّى أَسْفَرَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ قَالَ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَنْطَلِقُ الْمُنْطَلِقُ مِنَّا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
سعید بن یزید (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ أَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيُّهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ يَطَأُ عَلَى صِفَاحِهِمَا وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں اور حضرت ابوطلحہ (رض) خیبر سے واپس آرہے تھے، نبی ﷺ کے پیچھے حضرت صفیہ (رض) سوار تھیں، ایک مقام پر نبی ﷺ کی اونٹنی پھسل گئی، نبی ﷺ اور حضرت صفیہ (رض) گرگئے، حضرت ابوطلحہ (رض) تیزی سے وہاں پہنچے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے، کوئی چوٹ تو نہیں آئی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، خاتون کی خبر لو، چناچہ حضرت ابوطلحہ (رض) اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر ان کے پاس پہنچے اور حضرت صفیہ (رض) پر کپڑا ڈال دیا، اس کے بعد سواری کو دوبارہ تیار کیا، پھر ہم سب سوار ہوگئے اور ہم میں سے ایک نے دائیں جانب سے اور دوسرے نے بائیں جانب سے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا، جب ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے یا پتھریلے علاقوں کی پشت پر پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا ہم اللہ کی عبادت کرتے ہوئے، توبہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے واپس آئے ہیں، نبی ﷺ مسلسل یہ جملے کہتے رہے تاآنکہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ أَنَسٌ أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبُو طَلْحَةَ وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ عَثَرَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ الْمَرْأَةُ فَاقْتَحَمَ أَبُو طَلْحَةَ عَنْ نَاقَتِهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ ضَرَّكَ شَيْءٌ قَالَ لَا عَلَيْكَ بِالْمَرْأَةِ فَأَلْقَى أَبُو طَلْحَةَ ثَوْبَهُ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ قَصَدَ الْمَرْأَةَ فَسَدَلَ الثَّوْبَ عَلَيْهَا فَقَامَتْ فَشَدَّ لَهُمَا عَلَى رَاحِلَتِهِمَا فَرَكِبَا وَرَكِبْنَا نَسِيرُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ قَالَ آيِبُونَ تَائِبُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ
tahqiq

তাহকীক: