আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৫০৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد حضرت عبداللہ بن سلام (رض) بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں جنہیں کسی نبی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، نبی ﷺ نے فرمایا پوچھو، انہوں نے کہا کہ قیامت کی سب سے پہلی علامت کیا ہے ؟ اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا کیا چیز ہوگی ؟ اور بچہ اپنے ماں باپ کے مشابہہ کیسے ہوتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ان کا جواب مجھے ابھی ابھی حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے بتایا ہے، عبداللہ کہنے لگے وہ تو فرشتوں میں یہودیوں کا دشمن ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کی سب سے پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو مشرق سے نکل کر تمام لوگوں کو مغرب میں جمع کرلے گی اور اہل جنت کا سب سے پہلا کھانا مچھلی کا جگر ہوگا اور بچے کے اپنے ماں باپ کے ساتھ مشابہہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر مرد کا " پانی عورت کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجائے تو وہ بچے کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بَلَغَهُ مَقْدَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ مَا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ وَمَا أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَمَا بَالُ الْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أَبِيهِ وَالْوَلَدِ يَنْزِعُ إِلَى أُمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا قَالَ ابْنُ سَلَامٍ فَذَلِكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالَ أَمَّا أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ فَنَارٌ تَحْشُرُهُمْ مِنْ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ وَأَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ وَأَمَّا الْوَلَدُ فَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ نَزَعَ الْوَلَدَ وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ نَزَعَتْ الْوَلَدَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت بلال (رض) کو یہ حکم تھا کہ اذان کے کلمات جفت عدد میں اور اقامت کے کلمات طاق عدد میں کہا کریں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَنَسٌ أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ إِلَّا الْإِقَامَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ مجھ سے نبی ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا گیا لیکن میں نے اسے خود نہیں سنا کہ تم میں ایک قوم ایسی آئے گی جو عبادت کرے گی اور دینداری پر ہوگی، حتیٰ کہ لوگ ان کی کثرت عبادت پر تعجب کیا کریں گے اور وہ خود بھی خود پسندی میں مبتلاء ہوں گے، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ يَعْنِي يُعْجِبُونَ النَّاسَ وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں ایک دن کھڑا لوگوں کو فصیخ پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ شراب حرام ہوگئی، وہ کہنے لگے انس ! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو ، راوی نے ان سے شراب کی تفتیش کی تو فرمایا کہ وہ تو صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهَا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ فَقَالُوا أَكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَأَكْفَأْتُهَا فَقُلْتُ لِأَنَسٍ مَا هِيَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
سعید بن یزید (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ قرأت کا آغاز بسم اللہ سے کرتے تھے یا الحمدللہ سے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جس کے متعلق مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ بْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَوْ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے، نبی ﷺ واپسی تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے اس سفر میں کتنے دن قیام فرمایا تھا ؟ انہوں نے بتایا دس دن۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا فَسَأَلْتُهُ هَلْ أَقَامَ فَقَالَ نَعَمْ أَقَمْنَا بِمَكَّةَ عَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) مدینہ منورہ میں آئے تو نبی ﷺ نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا، حضرت سعد (رض) نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، نیز میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کرلیجئے، حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چناچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو راستہ بتادیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی ﷺ نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا ؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی ﷺ نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ وَلِي امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ فَانْطَلَقَ فَمَا رَجَعَ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدْ اسْتَفْضَلَهُ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَهْيَمْ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا أَصْدَقْتَهَا قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ بنو ہوازن کے لوگ غزوہ حنین میں بچے، عورتیں، اونٹ اور بکریاں تک لے کر آئے تھے، انہوں نے اپنی کثرت ظاہر کرنے کے لئے ان سب کو بھی مختلف صفوں میں کھڑا کردیا، جب جنگ چھڑی تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، اس پر نبی ﷺ نے مسلمانوں کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اے گروہ انصار ! میں اللہ کا بندہ اور رسول (یہاں) ہوں، اس کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو فتح اور کافروں کو شکست سے دوچار کردیا۔ نبی ﷺ نے اس دن یہ اعلان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سارا سازوسامان قتل کرنے والے کو ملے گا، چناچہ حضرت ابوطلحہ (رض) نے نتہا اس دن بیس کافروں کو قتل کیا تھا اور ان کا سازوسامان لے لیا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوقتادہ (رض) نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے ایک آدمی کو کندھے کی رسی پر مارا، اس نے زرہ پہن رکھی تھی، میں نے اسے بڑی مشکل سے قابو کر کے اپنی جان بچائی، آپ معلوم کرلیجئے کہ اس کا سامان کس نے لیا ہے ؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا وہ سامان میں نے لے لیا ہے، یا رسول اللہ ﷺ ! آپ انہیں میری طرف سے اس پر راضی کرلیجئے اور یہ سامان مجھ ہی کو دے دیجئے، نبی ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کا سوال کرتا تو اسے عطاء فرما دیتے یا پھر سکوت فرما لیتے، اس موقع پر آپ ﷺ خاموش ہوگئے، لیکن حضرت عمر (رض) کہنے لگے بخدا ! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ اپنے ایک شیر کو مال غنیمت عطاء کر دے اور نبی ﷺ وہ تمہیں دے دیں، نبی ﷺ نے مسکرا کر فرمایا عمر سچ کہہ رہے ہیں۔ غزوہ حنین ہی میں حضرت ام سلیم (رض) کے پاس ایک خنجر تھا، حضرت ابوطلحہ (رض) نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ میں نے اپنے پاس اس لئے رکھا ہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اسی سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی، حضرت ابوطلحہ (رض) نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے ام سلیم کی بات سنی ؟ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ ﷺ ! جو لوگ آپ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے، انہیں قتل کروا دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا ام سلیم ! اللہ نے ہماری کفایت خود ہی فرمائی اور ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ هَوَازِنَ جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ وَالْإِبِلِ وَالنَّعَمِ فَجَعَلُوهُمْ صُفُوفًا يُكَثِّرُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا الْتَقَوْا وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ قَالَ عَفَّانُ وَلَمْ يَضْرِبُوا بِسَيْفٍ وَلَمْ يَطْعَنُوا بِرُمْحٍ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ قَالَ وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ فَأُجْهِضْتُ عَنْهُ فَانْظُرْ مَنْ أَخَذَهَا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا وَأَعْطِنِيهَا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفِيئُهَا اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ وَيُعْطِيكَهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ قَالَ وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ قَالَتْ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ أَنْ أَبْعَجَ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ وَجَمَعَتْ هَوَزِانُ وَغَطَفَانُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْعًا كَثِيرًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَشْرَةِ آلَافٍ أَوْ أَكْثَرَ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ فَجَاءُوا بِالنَّعَمِ وَالذُّرِّيَّةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت ام سلیم (رض) کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، ان کا ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اے ابوعمیر ! کیا ہوا نغیر ؟ یہ ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلا کرتے تھے، بعض اوقات نماز کا وقت آجاتا تو حضرت ام سلیم (رض) نبی ﷺ کے لئے جائے نماز بچھا دیتیں جس پر آپ ﷺ پانی چھڑک کر نماز پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَهَا ابْنٌ صَغِيرٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ أَحْيَانًا وَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهَا فَتُدْرِكُهُ الصَّلَاةُ فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ وَهُوَ حَصِيرٌ يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت اسید بن حضیر (رض) اور ایک دوسرے صاحب اپنے کسی کام سے نبی ﷺ کے پاس بیٹھے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران رات کا کافی حصہ بیت گیا اور وہ رات بہت تاریک تھی، جب وہ نبی ﷺ سے رخصت ہو کر نکلے تو ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک آدمی کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلنے لگے، جب دونوں اپنے اپنے راستے پر جدا ہونے لگے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ كَانَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ قَالَ فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ أَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا فَكَانَا يَمْشِيَانِ بِضَوْئِهَا فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا هَذَا وَعَصَا هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مری ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی پر قیامت قائم ہوجائے اور اس کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو، تب بھی اگر ممکن ہو تو اسے چاہیے کہ اسے گاڑ دے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قَامَتْ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے دادا کے ساتھ دارالامارۃ میں داخل ہوا، وہاں ایک مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی تھی، اسے جب تیر لگتا تو وہ چیخ مارتی، انہوں نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ نبی ﷺ نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي دَارَ الْإِمَارَةِ فَإِذَا دَجَاجَةٌ مَصْبُورَةٌ تُرْمَى فَكُلَّمَا أَصَابَهَا سَهْمٌ صَاحَتْ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں سونے کا ایک محل نظر آیا، میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک قریشی نوجوان کا ہے، میں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا عمر بن خطاب (رض) عنہ، نبی ﷺ نے فرمایا مجھے اگر تمہاری غیرت کے بارے معلوم نہ ہوتا تو میں ضرور اس میں داخل ہوجاتا، حضرت عمر (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! میں جس کسی کے سامنے غیرت کا اظہار کروں، آپ کے سامنے نہیں کرسکتا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا قَالُوا لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُهُ لِي فَإِذَا هُوَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَنِي يَا أَبَا حَفْصٍ أَنْ أَدْخُلَهُ إِلَّا مَا أَعْرِفُ مِنْ غَيْرَتِكَ قَالَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَيْهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَغَارُ عَلَيْكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں اپنے صحابہ (رض) کے ساتھ تشریف فرما تھے، کہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام (رض) نے اسے خبردار کرنے کے لئے روکا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو ، پھر اس کے فارغ ہونے کے بعد اسے بلا کر فرمایا کہ ان مساجد میں کسی قسم کی گندگی، پیشاب اور پاخانہ کرنا مناسب نہیں ہے، یہ مساجد تو قرآن کریم کی تلاوت، ذکر اللہ اور نماز کے لئے ہوتی ہیں، پھر نبی ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا جا کر پانی کا ایک ڈول لے کر آؤ اور اس پر بہا دو ، چناچہ اس آدمی نے پانی کا ایک ڈول لا کر اس پیشاب پر بہا دیا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَصْحَابُهُ مَهْ مَهْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنْ الْقَوْمِ قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشُنَّهُ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے گھر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آدمی آکر سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، نبی ﷺ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکال کر اس کی طرف سیدھا کیا تو وہ آدمی پیچھے ہٹ گیا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي بَيْتِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاطَّلَعَ فِي الْبَيْتِ وَقَالَ عَفَّانُ فِي بَيْتِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَسَدَّدَهُ نَحْوَ عَيْنَيْهِ حَتَّى انْصَرَفَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال آئے گا تو مکہ اور مدینہ کے علاوہ ساری زمین کو اپنے پیروں سے روند ڈالے گا، وہ مدینہ آنے کی بھی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہر دروازے پر فرشتوں کی صفیں پائے گا، پھر وہ " جرف " کے ویرانے میں پہنچ کر اپنا خیمہ لگائے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین زلزلے آئیں گے اور ہر منافق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر دجال سے جاملے گا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَطَأُ الْأَرْضَ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ فَيَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا صُفُوفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجَرْفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ مُنَافِقٍ وَمُنَافِقَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫২০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چناچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، لیکن انہیں سمجھ نہ آئی کہ اس کا کتنا ثواب لکھیں چناچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کلمات اسی طرح لکھ لو جیسے میرے بندے نے کہے ہیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ أَيُّكُمْ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قُلْتُهَا وَمَا أَرَدْتُ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُونَهَا حَتَّى سَأَلُوا رَبَّهُمْ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫২১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَّتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ الْمُجَوَّفِ قَالَ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَضَرَبْتُ بِيَدِي فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ وَقَالَ عَفَّانُ الْمُجَوَّفُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫২২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مہینہ تک قنوت نازلہ پڑھی ہے پھر اسے ترک فرما دیا تھا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ
tahqiq

তাহকীক: