আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৮০৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اسلام کی حالت میں چالیس برس کی عمر مل جائے، اللہ اس سے تین قسم کی بیماریاں جنون، کوڑھ، چیچک کو دور فرما دیتے ہیں، جب وہ پچاس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اس پر حساب کتاب میں آسانی فرما دیتے ہیں، جب ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطاء فرماتا ہے جو اسے محبوب ہے، جب وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اور سارے آسمانوں والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول فرما لیتا ہے اور اس کے گناہوں سے درگذر فرماتا ہے اور جب نوے سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اللہ اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اسے زمین میں " اسیر اللہ " کا نام دیا جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ کے حق میں اس کی سفارش قبول ہوتی ہے۔ فائدہ : محدثین نے اس حدیث کو " موضوع " قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ أَبِي ذَرَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُعَمَّرٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِلَّا صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنْ الْبَلَاءِ الْجُنُونَ وَالْجُذَامَ وَالْبَرَصَ فَإِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً أَحَبَّهُ اللَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ قَبِلَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَشَفَعَ لِأَهْلِ بَيْتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮০৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮০৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَا بِهَا لِأُمَّتِهِ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮০৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮০৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ (رض) نے مجھے نبی ﷺ کو کھانے پر بلانے کے لئے بھیج دیا، میں نبی ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ ﷺ صحابہ کرام (رض) کے درمیان رونق افروز تھے، میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے حضرت ابوطلحہ (رض) نے آپ کے پاس کھانے کی دعوت دے کر بھیجا ہے، نبی ﷺ نے لوگوں سے فرمایا اٹھو، حضرت ابوطلحہ (رض) نے نبی ﷺ کے پہلو میں چلتے چلتے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے تو صرف آپ کے لئے کھانا تیار کیا ہے، نبی ﷺ جب ان کے گھر پہنچے تو وہ کھانا نبی ﷺ کے پاس لایا گیا، نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک رکھا اور برکت کی دعاء کر کے فرمایا دس آدمیوں کو بلاؤ، چناچہ دس آدمی اندر آئے اور انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر دس دس کر کے سب آدمیوں کو وہ کھانا کھلایا اور خوب سیراب ہو کر سب نے کھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی رہا اور ہم نے بھی اسے کھایا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ لَهُ طَعَامًا فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَاسْتَحْيَيْتُ فَقُلْتُ أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ لِلنَّاسِ قُومُوا فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا صَنَعْتُ شَيْئًا لَكَ قَالَ فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً فَقَالَ كُلُوا فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا وَقَالَ أَدْخِلْ عَشَرَةً فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮০৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک کتابی آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور نبی ﷺ کو سلام کرتے ہوئے اس نے " السام علیک " کہا، نبی ﷺ نے فرمایا " وعلیک " پھر صحابہ (رض) سے فرمایا تم جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ یہ کہہ رہا ہے " السام علیک " یہ سن کر صحابہ (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہم اس کی گردن نہ اڑا دیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، البتہ جب اہل کتاب تمہیں سلام کیا کریں تو تم صرف " وعلیکم " کہا کرو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيًّا مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ أَتَدْرُونَ مَا قَالَ قَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا أَلَا نَقْتُلُهُ فَقَالَ لَا وَلَكِنْ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮০৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ عورت نے گوشت میں زہر ملایا اور نبی ﷺ کی خدمت میں لے آئی، نبی ﷺ نے ابھی اس میں سے ایک لقمہ ہی کھایا تھا کہ فرمانے لگے اس عورت نے اس میں زہر ملایا ہے، صحابہ (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہم اسے قتل نہ کردیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے تالو میں اس زہر کا اثر دیکھ رہا تھا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سُمًّا فِي لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهَا جَعَلَتْ فِيهِ سُمًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْرِفُ ذَلِكَ فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب (رض) نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! یہ سن کر حضرت ابی بن کعب (رض) رو پڑے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ الْقُرْآنَ أَوْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ قَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی ﷺ نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ أُصْبُعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا ثُمَّ يَقُولُ إِنَّمَا بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ فَمَا فَضَّلَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک کافر کو لا کر اس سے کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کے برابر سونا موجود ہو تو کیا وہ سب اپنے فدیئے میں دے دے گا ؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، یہی مراد ہے اس ارشاد ربانی کا " بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مرگئے جب کہ وہ کافر ہی تھے، ان میں کسی سے زمین بھر کر بھی سونا قبول نہیں کیا جائے گا گو کہ وہ اسے فدئیے میں پیش کر دے۔ "
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُجَاءُ بِالْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ يَا رَبِّ قَالَ فَيُقَالُ لَقَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوْ افْتَدَى بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے جنت اور جہنم کو دیکھا کہ وہ اس دیوار میں میرے سامنے پیش کی گئی ہیں، میں نے آج جیسا بہترین اور سخت ترین دن نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا عَامِرٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ وَقَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ صُوِّرَتَا فِي هَذَا الْحَائِطِ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ أَوْ كَمَا قَالَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ سُؤَالًا أَوْ قَالَ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فَاسْتَخْبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ كَمَا قَالَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعد لوگ اپنے مال میں سے کھجور کے درخت وغیرہ نبی ﷺ کو دے دیتے تھے (اور نبی ﷺ لوگوں میں تقسیم کر دیتے حتیٰ کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر مفتوح ہوگئے تو نبی ﷺ نے وہ درخت ان کے مالکان کو واپس لوٹانا شروع کردیئے، یہ دیکھ کر میرے گھر والوں نے مجھے حکم دیا کہ میں بھی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضری دوں اور درخواست کروں کہ ان کے اہل خانہ نے دو درخت دیئے تھے، بہرحال ! میری درخواست پر نبی ﷺ نے وہ مجھے واپس دے دیئے، اسی اثناء میں حضرت ام ایمن (رض) بھی آگئیں اور میرے گلے میں کپڑا ڈال کر کہنے لگیں اس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نبی ﷺ تمہیں یہ درخت ہرگز نہیں دے سکتے جب کہ یہ تو انہوں نے مجھے دیئے ہیں، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ آپ اس کے بدلے میں اتنے درخت لے لیں لیکن وہ برابر انکار کرتی رہیں اور نبی ﷺ برابر درختوں کی تعداد میں اضافہ کرتے رہے، حتیٰ کہ دس گنا زائد درختوں پر وہ راضی ہوگئیں اور نبی ﷺ نے وہ انہیں عطاء کردیئے۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ جَعَلَ لَهُ قَالَ عَفَّانُ يَجْعَلُ لَهُ مِنْ مَالِهِ النَّخَلَاتِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ قَالَ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتْ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي وَجَعَلَتْ تَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يُعْطِيكَهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ أَوْ كَمَا قَالَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكِ كَذَا وَكَذَا وَتَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ قَالَ وَيَقُولُ لَكِ كَذَا وَكَذَا قَالَ حَتَّى أَعْطَاهَا فَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ قَالَ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهَا أَوْ كَمَا قَالَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ کو (رئیس المنافقین) عبداللہ بن ابی کے پاس جانے کا مشورہ دیا، نبی ﷺ اپنے گدھے پر سوار ہو کر چلے گئے، مسلمان بھی نبی ﷺ کے ساتھ پیدل روانہ ہوگئے، زمین کچی تھی، نبی ﷺ اس کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا کہ آپ مجھ سے دور ہی رہیں، آپ کے گدھے کی بدبو سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے، اس پر ایک انصاری نے کہا بخدا ! نبی ﷺ کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے، ادھر عبداللہ بن ابی کی قوم کا ایک آدمی اس کی طرف سے غضب ناک ہوگیا، پھر دونوں کے ساتھیوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور شاخوں، ہاتھوں اور جوتوں سے لڑائی کی نوبت آگئی، ہمیں معلوم ہوا کہ یہ آیت انہی کے بارے نازل ہوئی کہ " اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو آپ ان کے درمیان صلح کرا دیں۔ "
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ أَنَسًا قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا وَانْطَلَقَ الْمُسْلِمُونَ يَمْشُونَ وَهِيَ أَرْضٌ سَبِخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي قَدْ آذَانِي رِيحُ حِمَارِكَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَوَاللَّهِ لَرِيحُ حِمَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنْكَ قَالَ فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصْحَابُهُ قَالَ فَكَانَ بَيْنَهُمْ ضَرْبٌ بِالْجَرِيدِ وَبِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ قَالَ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِمْ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے راز کی بات فرمائی تھی، میں نے وہ بات آج تک کسی کو نہیں بتائی، حتیٰ کہ میری والدہ حضرت ام سلیم (رض) نے بھی مجھ سے وہ بات پوچھی تو میں نے انہیں بھی نہیں بتائی۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ أَوْ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ شَكَّ هِشَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮১৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عرق النساء نامی مرض کے لئے سیاہ عربی مینڈھے کی چکی کی تشخیص فرماتے تھے جو بہت بڑا بھی نہ ہو اور بہت چھوٹا بھی نہ ہو، اس کے تین حصے کر کے اسے پگھلا لیا جائے اور روزانہ ایک حصہ پی لیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِفُ مِنْ عِرْقِ النَّسَا أَلْيَةَ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ أَسْوَدَ لَيْسَ بِالْعَظِيمِ وَلَا بِالصَّغِيرِ يُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَيُذَابُ فَيُشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮২০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر (رض) نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر (رض) نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی ﷺ خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ ! شاید آپ کی مراد ہم ہیں ؟ حضرت مقداد (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں، لہٰذا یا رسول اللہ ! ﷺ معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے، نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کو تیار کر کے روانہ ہوگئے اور بدر میں پڑاؤ کیا، قریش کے کچھ جاسوس آئے تو ان میں بنو حجاج کا ایک سیاہ فام غلام بھی تھا، صحابہ (رض) نے اسے گرفتار کرلیا اور اس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے متعلق پوچھا، وہ کہنے لگا کہ ابوسفیان کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ قریش، ابوجہل اور امیہ بن خلف آگئے ہیں، وہ لوگ جب اسے مارتے تو وہ ابوسفیان کے بارے بتانے لگتا اور جب چھوڑتے تو وہ کہتا کہ مجھے ابوسفیان کا کیا پتہ ؟ البتہ قریش آگئے ہیں، اس وقت نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے فرمایا یہ جب تم سے سچ بیان کرتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب یہ جھوٹ بولتا ہے تو تم اسے چھوڑ دیتے ہو، پھر نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا انشاء اللہ کل فلاں شخص یہاں گرے گا اور فلاں شخص یہاں، چناچہ آمنا سامنا ہونے پر مشرکین کو اللہ نے شکست سے دوچار کردیا اور واللہ ایک آدمی بھی نبی ﷺ کی بتائی ہوئی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔ تین دن کے بعد نبی ﷺ ان کی لاشوں کے پاس گئے اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اے شیبہ بن ربیعہ ! اور اے امیہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، اسے تم نے سچا پایا ؟ مجھ سے تو میرے رب نے جو وعدہ کیا تھا، میں نے اسے سچا پایا، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! آپ ان لوگوں کو تین دن کے بعد آواز دے رہے ہیں جو مردہ ہوچکے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں جو بات کہہ رہا ہوں، تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے، البتہ وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے، پھر نبی ﷺ کے حکم پر انہیں پاؤں سے گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر (رض) نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر (رض) نے ایک مشورہ دیا، یہ دیکھ کر نبی ﷺ خاموش ہوگئے، انصار نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ شاید آپ کی مراد ہم ہیں ؟ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم دیں تو سمندروں میں گھس پڑیں اور اگر آپ حکم دیں تو ہم برک الغماد تک اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے چلے جائیں۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاوَرَ النَّاسَ يَوْمَ بَدْرٍ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِيَّانَا تُرِيدُ فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ فَعَلْنَا فَشَأْنَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى نَزَلَ بَدْرًا وَجَاءَتْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلَامٌ لِبَنِي الْحَجَّاجِ أَسْوَدُ فَأَخَذَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ فَقَالَ أَمَّا أَبُو سُفْيَانَ فَلَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ وَأَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ قَدْ جَاءَتْ فَيَضْرِبُونَهُ فَإِذَا ضَرَبُوهُ قَالَ نَعَمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ فَإِذَا تَرَكُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ مَا لِي بِأَبِي سُفْيَانَ مِنْ عِلْمٍ وَلَكِنْ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ جَاءَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَانْصَرَفَ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَتَضْرِبُونَهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَدَعُونَهُ إِذَا كَذَبَكُمْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَوَضَعَهَا فَقَالَ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا وَهَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فَالْتَقَوْا فَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ مَوْضِعِ كَفَّيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ يَا أَبَا جَهْلٍ يَا عُتْبَةُ يَا شَيْبَةُ يَا أُمَيَّةُ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَدْعُوهُمْ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَقَدْ جَيَّفُوا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ جَوَابًا فَأَمَرَ بِهِمْ فَجُرُّوا بِأَرْجُلِهِمْ فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبِحَارَ لَأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ قَالَ فَذَكَرَ عَفَّانُ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ إِلَى قَوْلِهِ فَمَا أَمَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮২১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا خروجِ دجال سے پہلے کچھ سال دھوکے والے ہوں گے، جن میں سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا قرار دیا جائے گا، امین کو خائن اور خائن کو امین سمجھا جائے گا اور اس میں " رویبضہ " بڑھ چڑھ کر بولے گا، کسی نے پوچھا کہ رویبضہ سے کیا مراد ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا فاسق آدمی امور عامہ میں دخل اندازی کرنے لگے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيَتَكَلَّمُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ الْفُوَيْسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮২২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو چھن بہت پسند تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ قَالَ عَبَّادٌ يَعْنِي الْمَرَقَ
tahqiq

তাহকীক: