আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১২৮২৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حدیث نمبر (١٣٣٣١) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ سِنِينَ خَدَّاعَاتٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮২৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے سے گذر رہا تھا، نبی ﷺ کو وہاں اینٹوں سے بنا ہوا ایک مکان نظر آیا، نبی ﷺ نے پوچھا یہ کس کا ہے ؟ میں نے عرض کیا فلاں صاحب کا، نبی ﷺ نے فرمایا یاد رکھو ! مسجد کے علاوہ ہر تعمیر قیامت کے دن انسان پر بوجھ ہوگی، کچھ عرصے کے بعد نبی ﷺ کا دوبارہ وہاں سے گذر ہوا تو وہاں مکان نظر نہ آیا، نبی ﷺ نے پوچھا کہ اس مکان کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے مالک کو آپ کی بات معلوم ہوئی تو اس نے اسے منہدم کردیا، نبی ﷺ نے اس کو دعاء دی کہ اللہ اس پر رحم فرمائے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى قُبَّةً مِنْ لَبِنٍ فَقَالَ لِمَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ لِفُلَانٍ فَقَالَ أَمَا إِنَّ كُلَّ بِنَاءٍ هَدٌّ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ أَوْ فِي بِنَاءِ مَسْجِدٍ شَكَّ أَسْوَدُ أَوْ أَوْ أَوْ ثُمَّ مَرَّ فَلَمْ يَلْقَهَا فَقَالَ مَا فَعَلَتْ الْقُبَّةُ قُلْتُ بَلَغَ صَاحِبَهَا مَا قُلْتَ فَهَدَمَهَا قَالَ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮২৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
بلال بن ابی موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج نے اپنے بیٹے کو بصرہ کا قاضی مقرر کرنا چاہا تو حضرت انس (رض) نے اس سے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص عہدہ قضا کو طلب کرتا ہے، اسے اس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور جسے زبردستی عہدہ قضا دے دیا جائے، اس پر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَرَادَ الْحَجَّاجُ أَنْ يَجْعَلَ ابْنَهُ عَلَى قَضَاءِ الْبَصْرَةِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ طَلَبَ الْقَضَاءَ وَاسْتَعَانَ عَلَيْهِ وُكِلَ إِلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يَطْلُبْهُ وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَيْهِ أَنْزَلَ اللَّهُ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮২৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ اہل مکہ نے نبی ﷺ سے کوئی معجزہ دکھانے کی فرمائش کی تو نبی ﷺ نے انہیں دو مرتبہ شق قمر کا معجزہ دکھایا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً قَالَ فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮২৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں آپ ﷺ کو کثرت سے یہ کہتا ہوا سنتا تھا کہ اے اللہ ! میں پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮২৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮২৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی ﷺ نے فرمایا عمر ! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَقَالَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَفِيهِ طَيْرٌ كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ تِلْكَ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا يَا عُمَرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) عنہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز (رض) کے متعلق " جب کہ وہ مدینہ منورہ میں تھے " فرماتے تھے کہ میں نے تمہارے اس امام سے زیادہ نبی ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھنے والی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا، حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) طویل قرأت نہ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عُمَرَ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسَاحِقٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ إِمَامًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ وَكَانَ عُمَرُ لَا يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اسے دہراتے تھے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو تین مرتبہ اجازت لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ سَمِعْتُ ثُمَامَةَ بْنَ أَنَسٍ يَذْكُرُ أَنَّ أَنَسًا إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ ثَلَاثًا وَكَانَ يَسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَحَدَّثَنَا بَعْدَ ذَلِكَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَأْذِنُ ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ (رض) میں سے کسی سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، میرے پاس کچھ ہے ہی نہیں کہ جس کی وجہ سے میں شادی کرسکوں، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس " قل ھو اللہ احد " نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، پھر نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس سورت زلزال نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، پھر نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تمہارے پاس آیت الکرسی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا یہ چوتھائی قرآن ہے، نبی ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا پھر شادی کرلو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ رَجُلًا مِنْ صَحَابَتِهِ فَقَالَ أَيْ فُلَانُ هَلْ تَزَوَّجْتَ قَالَ لَا وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا زُلْزِلَتْ الْأَرْضُ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ أَلَيْسَ مَعَكَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ بَلَى قَالَ رُبُعُ الْقُرْآنِ قَالَ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت ام سلیم (رض) کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سو جاتے تھے، وہ وہاں ہوتی تھیں، ایک دن نبی ﷺ حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے انہیں جا کر بتایا کہ نبی ﷺ تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سو رہے ہیں، چناچہ وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی ﷺ پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں اور وہ پسینہ بستر پر بچھے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر گر رہا ہے، انہوں نے اپنا دوپٹہ کھولا اور اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں، نبی ﷺ گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا ام سلیم ! یہ کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ فِي بَيْتِكِ ع َلَى فِرَاشِكِ قَالَ فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ قَالَ فَفَتَحَتْ عَتِيدَهَا قَالَ فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، جو درختوں میں چرتے پھریں گے، حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی ﷺ نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے اور ابوبکر ! مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں کھانے والوں میں سے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ طَيْرَ الْجَنَّةِ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ تَرْعَى فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا قَالَهَا ثَلَاثًا وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَأْكُلُ مِنْهَا يَا أَبَا بَكْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تھے تو مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ابھی ہم تدفین سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں کی حالت کو تبدیل پایا۔
حَدَّثَنَا سَيَّارٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظْلَمَ مِنْ الْمَدِينَةِ كُلُّ شَيْءٍ وَمَا فَرَغْنَا مِنْ دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جہنم سے چار آدمیوں کو نکالا جائے گا، انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ دوبارہ انہیں جہنم میں بھیجنے کا حکم دے دے گا، ان میں سے ایک شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا کہ پروردگار ! مجھے تو یہ امید ہوگئی تھی کہ اگر تو مجھے جہنم سے نکال رہا ہے تو اس میں دوبارہ واپس نہ لوٹائے گا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر تو اس میں دوبارہ واپس نہ جائے گا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ وَأَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ أَرْبَعَةٌ يُعْرَضُونَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْمُرُ بِهِمْ إِلَى النَّارِ فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو إِنْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا فَيَقُولُ فَلَا نُعِيدُكَ فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ پھل پکنے سے پہلے، کشمش (انگور) سیاہ ہونے سے پہلے اور گندم کا دانہ سخت ہونے سے پہلے بیچا جائے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنْ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ذی یزن بادشاہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک جوڑا بھیجا جو اس نے ٣٣ اونٹ یا اونٹنیوں کے عوض لیا تھا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً قَدْ أَخَذَهَا بِثَلَاثَةٍ وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ نَاقَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৩৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ اسلام کے بعد میں نے صحابہ (رض) کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، ہم نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِسْلَامَ مَا فَرِحُوا بِهَذَا مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنَسٌ فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَإِذَا كُنَّا مَعَهُ فَحَسْبُنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی ﷺ کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی ﷺ سے زیادہ نرم نہیں چھوئی، (ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابوحمزہ ! کیا آپ نے نبی ﷺ کو دیکھا یا ان کی آواز نہیں سنی ؟ آپ کا چھوٹا سا خادم حاضر ہے) میں نے مدینہ منورہ میں نبی ﷺ کی دس سال کی خدمت کی ہے، میں اس وقت لڑکا تھا، یہ ممکن نہیں ہے کہ میرا ہر کام دوسرے کی خواہش کے مطابق ہی ہو، لیکن نبی ﷺ نے مجھے کبھی بھی " اف " تک نہیں کہا اور نہ ہی کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا ؟
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ أَنَسٌ مَا شَمِمْتُ شَيْئًا عَنْبَرًا قَطُّ وَلَا مِسْكًا قَطُّ وَلَا شَيْئًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَابِتٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَلَسْتَ كَأَنَّكَ تَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّكَ تَسْمَعُ إِلَى نَغَمَتِهِ فَقَالَ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَقُولَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُكَ قَالَ خَدَمْتُهُ عَشْرَ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ وَأَنَا غُلَامٌ لَيْسَ كُلُّ أَمْرِي كَمَا يَشْتَهِي صَاحِبِي أَنْ يَكُونَ مَا قَالَ لِي فِيهَا أُفٍّ وَلَا قَالَ لِي لِمَ فَعَلْتَ هَذَا وَأَلَّا فَعَلْتَ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا، جب بچے یہ کہتے کہ محمد ﷺ آگئے تو میں اتنا تیز دوڑتا کہ کچھ نہ دیکھتا، دوبارہ بچے یہی جملے کہتے تو میں پھر اتنا تیز دوڑنے لگتا کہ کچھ نہ دیکھتا تھا، حتیٰ کہ نبی ﷺ اور آپ کے رفیق محترم حضرت صدیق اکبر (رض) تشریف لے آئے، ہم اس وقت مدینہ کے کسی علاقے میں تھے، ہم نے ایک دیہاتی آدمی کو انصار کے پاس یہ خبر دے کر بھیجا اور پانچ سو کے قریب انصاری صحابہ (رض) نبی ﷺ کا استقبال کرنے کے لئے نکل پڑے، وہ لوگ جب نبی ﷺ اور حضرت صدیق اکبر (رض) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ آپ دونوں حضرات امن وامان کے ساتھ مطاع بن کر داخل ہوجائیے، نبی ﷺ اور حضرت صدیق اکبر (رض) ان کے آگے آگے چلتے رہے اور سارے اہل مدینہ نکل آئے حتیٰ کہ خواتین بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر نبی ﷺ کو دیکھنے اور آپس میں پوچھنے لگیں کہ نبی ﷺ کون سے ہیں ؟ ہم نے اس دن جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے یہ دن بھی دیکھا کہ جب نبی ﷺ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور وہ دن بھی دیکھا جب آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے، ان دونوں دنوں جیسا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا ثُمَّ يَقُولُونَ جَاءَ مُحَمَّدٌ فَأَسْعَى فَلَا أَرَى شَيْئًا قَالَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ فَكُنَّا فِي بَعْضِ حِرَارِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ بَعَثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لِيُؤْذِنَ بِهِمَا الْأَنْصَارَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا زُهَاءَ خَمْسِ مِائَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَيْهِمَا فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ انْطَلِقَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبُهُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ يَقُلْنَ أَيُّهُمْ هُوَ أَيُّهُمْ هُوَ قَالَ فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا مُشْبِهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ مُشْبِهًا بِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৮৪২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، یہ کہہ کر نبی ﷺ نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ وَقَتَادَةَ وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى
তাহকীক: